انٹر نیٹ سے چنیدہ

٭٭٭٭ ایک مکالمہ٭٭٭٭

کہنے لگا : بخاری کب پیدا ہوئے؟
عرض کیا : 194ھ
کہا : نبی کریم ﷺ کب فوت ہوئے؟
عرض کیا : 11 ھ
کہا : تو کیا ممکن ہے کہ بخاری اتنے عرصے بعد پیدا ہوں اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو جمع کر لیں؟
عرض کیا : مشاری العفاسی کو جانتے ہو آپ؟
کہا : ان کا بخاری سے بھلا کیا تعلق؟
عرض کیا: جو پوچھا ہے اس کا جواب دیجئے ۔
کہا: جانتا ہوں اور سن بھی چکا ہوں
عرض کیا: آخری بار کب سنا تھا آپ نے؟
کہا : کچھ دن ہوتے ہیں۔
عرض کیا : اچھا، یعنی 1438ھ سن 2017 کو سنا؟
کہا : جی ہاں
عرض کیا : کیا آپ کو معلوم کہ مشاری نے قرآن اپنے استاذسے سیکھا ہے، انہوں نے اپنے استاذ سے اور انہوں نے اپنے استاذ سے، حتی کہ یہ سلسلہ نبی کریم ﷺ تک جاپہنچتا ہے؟
کہا : جی ایسا ہی ہے۔
پوچھا کہ مشاری اور نبی کریم ﷺ کے درمیان کتنے انسانوں کا واسطہ ہوگا؟
کہا : ہزاروں انسانوں کا واسطہ تو ہوگا۔
عرض کیا : نہ میاں، مشاری سے لے کر رسول اللہ ﷺ محض 29 انسانوں کا فرق بنتا ہے۔
کہا : ہیں جی؟ وہ بھلا کیسے؟
عرض کیا : دیکھئے، ہجرت کے بعد سے اب تلک 1438 سال گزرے ہیں ۔ اسے 29 پر تقسیم کیجئے تو 50 جواب آئے گا اور ایک شخص کی اوسط عمر پچاس تصور کر لیجئے۔ یعنی یہ 29 واسطے آپ کو بہت بڑے لگتے ہیں تو سوچئے کہ بخاری اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان کتنے واسطے ہوں گے؟
کہا: لیکن پھر بھی 200 سال کی مدت کچھ کم تو نہیں ہے
عرض کیا : حضور صحیح البخاری میں ایسی روایات بھی ہیں جن میں امام بخاری اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان محض تین واسطے ہیں۔ اب صحابہ کا واسطہ سائیڈ پہ رکھئے تو محض ایک واسطہ بچے گا؟ یہ تو ہوا امام بخاری کا قصہ، دوسرے یہ کہ صحیح بخاری کی تمام روایات امام بخاری سے پہلے آنے والے ائمہ حدیث کی کی کتابوں میں بھی بیان ہوچکی ہیں۔ ذرا سوچئے کہ ان میں اور رسول اللہ ﷺ میں کتنا فاصلہ ہوگا؟
کہا : تو کیا بخاری سے پہلے بھی کچھ کتب احادیث موجود تھیں؟
عرض کیا : جانی، عدم علم ہی تو مسئلہ ہے آپ کا۔ امام بخاری سے پہلے تقریبا 25 کتب حدیث لکھی جاچکی تھیں، مثلا : ہمام بن منبہ، ابن جریج، معمر بن راشد، ابن ابی عروبہ، سفیان ثوری، لیث بن سعد، مالک بن انس وغیرہ نے لکھ رکھی تھیں۔
کہا : تو پھر یہ تمام اعتراضات صرف بخاری پر ہی کیوں کئے جاتے ہیں؟
عرض کیا : بخاری پر اعتراض اس لئے کئے جاتے ہیں، کہ امام بخاری نے صرف صحیح احادیث جمع کی ہیں۔ جب صحیح احادیث ہی کو مشکوک بنا دیا جائے گا تو دوسری کتابوں میں تشکیک پیدا کرنا مزید آسان ہوجاوے گا ۔
کہنے لگا : یار سنت تو بجا۔ مگر اعتراض امام بخاری کی جمع کردہ روایات پر ہے۔
عرض کیا : تو پھر صرف امام بخاری پر ہی اعتراض کیوں؟ پہلوں پر کیوں نہیں؟ ان کو مسئلہ سنت ہی سے ہے مگر واردات بخاری کے نام پہ ڈالتے ہیں۔ حالاں کہ بخاری نے تو محض سنت کو جمع کیا ہے۔ اپنی جانب سے سنت ایجاد تو نہیں کی۔ سنئے ! میں اگر آپ سے کہوں کہ آپ کا ناک عجیب بے ڈھنگا سا ہے ، مجھے اچھا نہیں لگتا۔ تو کیا یہ اعتراض ناک پر ہوگا یا کہ خالقِ ناک پر؟ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ جب آپ بخاری پر طعن کرتے ہیں تو بخاری پر نہیں بخاری میں موجود اقوال و افعالِ رسول ﷺ پر کرتے ہیں ۔
کہا : تو پھر حدیث کو حجت ماننے کا فائدہ بھلا کیا ہوا کہ احادیث پر تو شبہات موجود ہیں۔
عرض کیا: اگر یہ استدلال درست مان لیا جاوے تو قرآن کی بعض آیات کو قرآن سے ہٹا دینا چاہئے کہ ان کے معنی کی تعیین میں شبہات کار فرما ہیں؟
کہا : نہیں نہیں، قرآن تو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے ۔
عرض کیا : یہی چیز قاعدہ حدیث پر رکھ لیجئے کہ جو حدیث نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو اسے ہم قبول کرتے ہیں، جیسے قرآن کی ایک آیت کا معنی نہ سمجھ آنے پر آپ کوشش کر کے اس کا معنی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح احادیث کا معاملہ بھی ہے۔ جب ان کا معنی و مفہوم سمجھ نہ آئے تو سمجھنے کی کوشش کیجئے ، نہ کہ اعتراض کیجئے ۔
کہا : تو سنت میں تشکیک پھیلانے اور صرف قرآن کے تمسک کی دعوت کے مقاصد کیا ہیں؟
عرض کیا : گہرے مقاصد ہیں۔ جب آپ سنت کو ٹھکرا دیتے ہیں تو قرآن کو سمجھنا ممکن نہیں رہتا،۔ مثلا : قرآن کی آیت ہے :
الَّذِينَ آمَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُوْلَ۔ئِكَ لَهُمُ الأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ ۔ (الانعام ۔82)
ترجمہ: جو ایماندار اپنے ایمان کو ظلم کا چوغہ نہیں پہناتے وہ امن میں ہیں اور ہدایت یافتہ ہیں۔
تو کیا ہر وہ شخص جو ظلم کرے گا جہنم میں جائے گا؟ تو پھر جنت میں کون جائے گا؟ پھر تکفیری سوچ کو غلط کہنے کا کیا جواز ہے آپ کے پاس؟ ہاں، اس آیت کا معنی رسول اللہ ﷺ نے واضح کیا ہے دوسری آیت پڑھ کر کہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔
اسی طرح کی بیسیوں آیات ہیں جن کا معنی بغیر حدیث کے سمجھ میں آجانا ممکن ہی نہیں ہے۔ تو عجیب ہے کہ آپ لوگ قرآن رسول اللہ ﷺ سے لیتے ہیں۔ مگر قرآن کا معنی ومفہوم رسول اللہ ﷺ سے نہیں لیتے ہیں۔ کیا رسول اللہ ﷺ نے محض قرآن بیان کیا اور دیگر تمام عمر چپ کر کے بیٹھے رہے؟ کیا صحابہ نے قرآن کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ سے کوئی سوال نہیں کئے؟ عقل کہاں چھوڑ آئے میاں؟

٭٭٭٭منقول ٭٭٭٭٭
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
سنو زرینہ میں شادی سے پہلے یہ بتانا فرضِ عین سمجھتا ہوں کہ تم مجھ سے رن مریدی کی توقع کبھی نہیں کرنا، میں صبح سو کر اٹھوں تو کپڑے استری کیے تیار ملنے چاہئیں، ناشتے میں انڈا پراٹھا پابندی سے ڈائننگ ٹیبل پر ہونا چاہیے، جوتے روزانہ پالش کیے ہی پہنتا ہوں، شام آفس سے آؤں تو میرا کوٹ اپنے ہاتھوں سے اتارنا پھر میرے جوتے اتارکر مجھے لیموں پانی پلانا ہوگا، مجھے تازہ روٹی کھانے کی عادت ہے، کھانے میں مرچ کم کھاتا ہوں اور ہاں روزانہ سونے سے پہلے تمہیں سرسوں کے تیل سے میرے سر کی مالش بھی کرنی ہوگی، اگر تمہیں یہ سب قبول ہے تو میں شادی کے لئے تیار ہوں؛..
زرینہ نے شکیل کا طویل لیکچر بڑے غور سے سنا اور دوپٹہ سر پر لیکر سر نیچے کیے شرماتے ہوئے "قبول ہے"
کہہ کر اپنی رضامندی کا اظہار کردیا.
شکیل میاں خوش ، ایک ماہ بعد شادی ہوئی، تین ماہ بعد زرینہ کا ہاتھ کام میں لگایا گیا تو شکیل میاں اپنے مطالبات پورا ہونے کے خواب دیکھتے سوگئے. صبح اٹھ کر واش روم سے فریش ہوکر آئے تو دیکھا کہ کپڑے تو استری کیے رکھے ہیں لیکن پینٹ کا دایاں پائنچہ جل کر استری کی نذر ہوچکا ہے.
زرینہ یہ کیا کردیا تم نے تین ہزار کی پینٹ جلادی؛..
زرینہ جو کچن میں آٹا گوندھ رہی تھی، دوڑی ہوئی آئی اور معصومیت سے کہنے لگی.
سرتاج کیا کرتی، دودھ چولہے پر چڑھا تھا، دودھ بچانے گئی تو دودھ تو بچالیا پر پینٹ دودھ پر قربان ہوگئی، آپ فکر نہ کریں میں دوسری پینٹ استری کردیتی ہوں ؛..
شکیل میاں بےبسی سے اپنی تین ہزار کی پینٹ کو دیکھتے رہ گئے، خاموشی سے دوسری پینٹ نکال کر خود استری کرنے لگے، زرینہ کی کچن سے آواز آئی.
سرتاج استری اسٹینڈ پر میرا سوٹ بھی پڑا ہے آپ وہ بھی استری کرکے مجھ غریب کی دعائیں لےلیجیے، میں اتنے میں آپ کے لیے پراٹھے تیار کرتی ہوں؛..
شکیل میاں جھنجھلائے تو بہت لیکن درگزر سے کام لیتے ہوئے زرینہ کی دعائیں لینے لگے، تیار ہوکر ڈائننگ ٹیبل پر آئے تو ٹیبل پر رکھے عجوبے کو دیکھ کرحیرت سے پھدکنے لگے.
زرینہ میں پاکستانی پراٹھا انڈا کھاتا ہوں افریقی نہیں؛..
زرینہ سہم کر بولی.سرتاج دراصل آپ کا خوف میری رگ رگ میں سمایا ہوا تھا تو وہ خوف اس انڈے پراٹھے میں بھی منتقل ہوگیا، پلیز اس باندی کو معاف کردیجیے؛..
شکیل میاں کے اندر کا مرد یہ سن کر خوش ہوگیا کہ چلو میری بیوی مجھ سے ڈرتی تو ہے نا، انڈا پراٹھے کا کیا ہے چلو میں ہی بنالیتا ہوں،
چلو کوئی بات نہیں آئندہ دھیان رکھنا؛..
یہ کہہ کر شکیل میاں خود کچن میں جاکر آٹا گوندھنے لگے زرینہ ہاتھ دھوکر سامنے ادب سے کھڑی ہوگئی.
سنیے عالیجاہ، مجھ کنیز کے لیے بھی بنادیجیے، آپ کی یہ کنیز احسان مند رہے گی؛..
شکیل میاں " کنیز" کا لفظ سنتے ہی اپنے آپ کو مغلِ اعظم سمجھنے لگے اور اسی سرشاری میں اپنے اور زرینہ کے لیے پراٹھے بنانے میں مصروف ہو گئے، ناشتہ کرکے فارغ ہوئے تو جوتے دیکھ کر تو چیخ ہی نکل گئی.
زرینہ کم از کم پالش تو صحیح کردیتیں، براؤن شوز پر بلیک پالش کرکے جوتے پہننے لائق نہیں چھوڑے؛..
یہ کہہ کر زرینہ کی طرف دیکھا تو اس کی ٹانگیں خوف سے کپکپارہی تھیں، شکیل میاں کی مردانہ انا کو سکون مل گیا پھر خود ہی جوتے پالش کرکے پہنےاور آفس چل پڑے، آفس سے گھر آئے اور لاؤنج میں کھڑے زرینہ کو آواز دی.
زرینہ میں آگیا ہوں، کوٹ اتارو؛..زرینہ جو آٹا گوندھ رہی تھی دوڑی دوڑی آئی اور کوٹ اپنے ہاتھوں سے اتار دیا، شکیل میاں پہلے تو مسکرائے پھر جب کوٹ دیکھا تو چلائے.
زرینہ کچھ تو عقل سے کام لیا کرو بغیر ہاتھ دھوئے کوٹ اتارکر آٹا کوٹ میں چپکادیا؛..
سرتاج مجھ کم عقل کی اتنی عقل کہاں، اب آپ ہیں نا مجھے عقل سکھانے والے، پلیز معافی دیدیں؛..
زرینہ کو یوں ہاتھ جوڑے دیکھ کر شکیل میاں کی مردانہ انا کو پھر سے تسکین ملی اور تنبیہہ کرکے فریش ہونے چلے گئے، پندرہ منٹ بعد آواز لگائی.
زرینہ لیموں پانی لاؤ؛..
سرتاج بھول ہوگئی ابھی لائی؛..
زرینہ جو آلو گوشت کا سالن بنارہی تھی یہ کہہ کر ہڑبڑاتی ہوئی فریج کی طرف دوڑی اور لیموں پانی بڑے ادب سے شکیل میاں کو پکڑادیا.
زرینہ یہ لیموں پانی میں پکوان کہاں سے آگیا؟..
شکیل میاں نے یہ کہہ کر اپنی زرینہ کے ہاتھوں کو دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ پکوان لیموں پانی میں کیسے آیا، مزید ڈانٹے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ زرینہ کی کپکپاہٹ دیکھ ان کے سینے میں ٹھنڈ پڑگئی ساتھ غصہ بھی ٹھنڈا ہوگیا، خود جاکر لیموں پانی بنانے لگے، زرینہ پیچھے کھڑی بولی.
میرے حضور آپ کا غصہ دیکھ کر مجھ کمزور کنیز کا دل برداشت نہ کرسکا اور اس کی رفتار سست ہورہی ہے پلیز ایک گلاس اپنی کنیز کے لیے بھی بنادیں؛..
شکیل میاں کی مردانہ عزت نفس آسمان کی بلندی پر پہنچ گئی، دو گلاس لیموں پانی بنایا ایک خود اور دوسرا زرینہ کو پلایا. رات آٹھ بجے کھانے کے لیے ڈائننگ ٹیبل پر آئے تو زرینہ نے ان کے سامنے گرما گرم روٹی سالن رکھ دیا، شکیل میاں روٹی سالن دیکھ کر کرسی چھوڑ کر چھ فٹ پیچھے ہٹ گئے.
زرینہ یہ روٹی ہے یا کشمیر کا نقشہ آدھا کچا آدھا پکا، اور یہ
آلو گوشت کا سالن دیکھ کر کھانے کا نہیں بلکہ اس میں تیرنے کا دل کررہا ہے؛..
شکیل میاں کی دھاڑ سن کر زرینہ خوف سے کپکپانے لگی اور غش کھاکر وہیں کرسی پر لم لیٹ ہوگئی، شکیل میاں کا سارا غصہ یہ دیکھ کر ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر انہوں نے زرینہ کو پانی کے چھینٹے مارکر ہوش دلایا اور کچن میں جاکر انڈا آملیٹ اور گول روٹی بنانے لگا اور ساتھ ہی ساتھ زرینہ کو گول روٹی بنانے کے آداب بھی سکھاتا جا رہا تھا، ایک گھنٹے بعد زرینہ روٹی کھاتے اپنے سگھڑ سرتاج کے قصیدے پڑھنے لگی؛
جسے سن کر شکیل میاں مزید چوڑے ہوگئے، دو گھنٹے بعد رات کمرے میں جاکر بیڈ پر آلتی پالتی مارکر بیٹھ گئے.
زرینہ میرے سر کی مالش کردو؛..
زرینہ فوراً سرسوں کے تیل کی شیشی لے آئی اور آدھی شیشی سر پر انڈیل دی، شکیل میاں کے چہرے پر کڑوا تیل بہتا ہوا آیا تو چلائے.
زرینہ، میں نے مالش کرانی ہے کڑوے تیل سے نہانا نہیں، جلدی سے ہاتھوں سے سر رگڑو؛..
جو حکم میرے آقا؛؛
کہہ کر زرینہ پولے پولے ہاتھ سے مالش کرنے لگی.
شکیل میاں نے اس کے ہاتھ ہٹائے اور خود کسی ماہر مالشیے کی مانند اپنی مالش کرنے لگے.
سرتاج آپ تو ہرفن مولا ہیں، میں بہت نصیب والی ہوں جو آپ جیسا ہنرمند شوہر ملا، پلیز مجھے بھی یہ ہنر سکھادیجیے؛..
شکیل میاں کی مردانگی جھوم اٹھی اور پھر شکیل میاں نے زرینہ کے سر کی اتنی مہارت سے مالش کی کہ زرینہ مالش کراتے کراتے وہیں نیند کی وادیوں میں چلی گئی. شکیل میاں اپنے ہنر کا اتنا بہترین رزلٹ دیکھ کر خوش ہو گئے
بس جناب شکیل میاں کی شادی کو دو سال ہوچکے ان کی مردانہ انا کو یونہی روزانہ پابندی کے ساتھ تسکین ملتی آرہی ہے، ماشاءاللہ سے اب ان کی ایک بیٹی بھی ہے، اور مزید ماشاءاللہ یہ کہ شکیل میاں بچے سنبھالنے میں بھی خوب مہارت رکھتے ہیں -
واقعی شوہر ہو تو ایسا ہو۔۔۔۔!
 

سیما علی

لائبریرین
سرتاج آپ تو ہرفن مولا ہیں، میں بہت نصیب والی ہوں جو آپ جیسا ہنرمند شوہر ملا، پلیز مجھے بھی یہ ہنر سکھادیجیے؛..
شکیل میاں کی مردانگی جھوم اٹھی اور پھر شکیل میاں نے زرینہ کے سر کی اتنی مہارت سے مالش کی کہ زرینہ مالش کراتے کراتے وہیں نیند کی وادیوں میں چلی گئی. شکیل میاں اپنے ہنر کا اتنا بہترین رزلٹ دیکھ کر خوش ہو گئے
بس جناب شکیل میاں کی شادی کو دو سال ہوچکے ان کی مردانہ انا کو یونہی روزانہ پابندی کے ساتھ تسکین ملتی آرہی ہے، ماشاءاللہ سے اب ان کی ایک بیٹی بھی ہے، اور مزید ماشاءاللہ یہ کہ شکیل میاں بچے سنبھالنے میں بھی خوب مہارت رکھتے ہیں -
واقعی شوہر ہو تو ایسا ہو۔۔۔۔!
واہ واہ زرینہ نے تو کمال کر دکھایا ۔👏👏👏👏👏
 

عدنان عمر

محفلین
ریاست اگر اُمت سے برتر ہوتی تو صلیبی جنگوں میں پوری اسلامی دنیا کی نمائندگی کبھی نہ ہوتی اور ہر ریاست یہ سوچتی کہ قبلہ اول جاتا ہے تو جائے، بس ہماری مملکت ہی محفوظ رہے۔
اور اگر ریاست کے مفادات اُمت سے بالاتر ہوتے تو افریقہ کے مسلمان اُندلسی مسلمانوں کی مدد کو کبھی نہ آتے، اور ‏اگر ریاست اور اُمت کے ٹکراؤ میں ریاست اول نمبر پر گردانی جاتی تو مصر سے مسلمان نکل کر صحرائے گوبی سے اُمڈتے ہوئے طوفان کو روکنے کے لیے عراق و شام کا سفرِ صعوبت طے نہ کرتے۔
بھلا سمرقند و بخارا، ترمذ، نساء اور خراسان کا حجاز سے کونسا نسبی، نسلی، علاقائی، لسانی یا سیاسی تعلق ہے کہ ‏آج تک ان علاقوں سے نکلنے والے علماء کی کتب حجازیوں سمیت پوری عرب دنیا کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ کیا کبھی عرب علماءِ اسلام نے صحیح بخاری یا صحیح مسلم یا سنن نسائی یاجامع ترمذی کو اس نظر سے دیکھا ہے کہ یہ عجمیوں کی کتب ہیں؟ اوراس لیے درجہ دوم میں شمار کیا جائے؟ ‏امام ابوحنیفہؒ سمیت فقہاء کی ایک لمبی فہرست ہے جو عجم کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے، لیکن انہیں عرب سمیت پورے عالم اسلام میں جو پزیرائی حاصل ہے، وہ محتاجِ بیان نہیں۔ یہ وہ اَن مٹ ثبوت ہیں جو یہ باور کراتے ہیں کہ مسلمانوں کا خمیر ایک کلمہ کی بنیادپر قائم ہے اور ‏یہی خمیر اُمت کا سرمایہ ہے، جس کا ایک ایک فرد ایک جسم کی مانند ہے کہ اگر ایک عضو بیمار ہو تو سارا جسم بخار اور بے خوابی میں مبتلا ہو جائے۔
 

سیما علی

لائبریرین
مسلمانوں کا خمیر ایک کلمہ کی بنیادپر قائم ہے اور ‏یہی خمیر اُمت کا سرمایہ ہے، جس کا ایک ایک فرد ایک جسم کی مانند ہے کہ اگر ایک عضو بیمار ہو تو سارا جسم بخار اور بے خوابی میں مبتلا ہو جائے۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
اس شعر میں حرم کی پاسبانی سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ مسلمان خانہ ء کعبہ کو کفار کے غلبہ سے چھڑانے کے لیے ایک ہوجائیں۔ کیونکہ بیت اللہ……
وہ خانہء مقدس ہے جس کی حفاظت اُس گھر کے مالک کی اپنی ذمہ داری جیسے اُس نے ابرہہ کے لشکر سے اپنے گھر کو محفوظ رکھا تھا۔سو اگر اس شعر کے حقیقی مفہوم تک پہنچنا ہے تو ہمیں مسلم اُمہ کی ترکیب کو سمجھنا ہوگا۔ علامہ اقبالؒ نے ہی کہا تھا؀
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
کل فیکے کمہار کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔۔ سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔ جانے کون ملنے آیا تھا۔۔ میں جانتا تھا فیکا پہلی فرصت میں آ کر مجھے سارا ماجرا ضرور سنائے گا۔۔۔ پھر وہی ہوا۔۔ میں شام کو تھلے پر آ کر بیٹھا ہی تھا کہ فیکا چلا آیا۔۔۔ حال چال پوچھنے کے بعد کہنے لگا۔۔۔ صاحب جی کئی سال پہلے کی بات ہے۔ آپ کو یاد ہے ایک ماسی نوراں ہوتی تھی وہ جو بٹّھی پر دانڑیں بھونا کرتی تھی۔۔۔ جس کا اِکو اِک پُتر تھا وقار۔۔۔ میں نے کہا ہاں یار میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔ اللہ آپ کا بھلا کرے صاحب جی، وقار اور میں پنجویں جماعت میں پڑھتے تھے۔۔۔ سکول میں اکثر وقار کے ٹِڈھ میں پیڑ سی ہوتی تھی۔۔۔ صاحب جی وہ اک نُکرے لگا روتا رہتا تھا۔۔۔ ماسٹر جی ڈانٹ کر اسے گھر بھیج دیتے تھے کہ جا حکیم کو دکھا اور دوائی لے۔۔۔ اک دن میں ادھی چھٹی کے وقت وقار کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔ میں نے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا اور اچار کھولا۔۔۔ صاحب جی اج وی جب کبھی بہت بھوک لگتی ہے نا۔۔۔ تو سب سے پہلے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا ہی یاد آتا ھے۔۔۔اور سارے پنڈ میں اُس پراٹھے کی خوشبو کھنڈ جاتی ھے۔۔۔ پتہ نئیں صاحب جی اماں کے ہاتھ میں کیا جادو تھا۔۔۔ صاحب جی وقار نے پراٹھے کی طرف دیکھا اور نظر پھیر لیں ۔۔۔ اُس ایک نظر نے اُس کی ٹِڈھ پیڑ کے سارے راز کھول دیئے۔۔۔ میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کی آنکھوں میں آندروں کو بھوک سے بلکتے دیکھا۔۔۔ صاحب جی وقار کی فاقوں سے لُوستی آندریں۔۔۔ آنسوؤں کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھیں جیسے کہتی ہوں کہ۔۔۔ ایک اتھرو بھی گرا تو بھرم ٹوٹ جائے گا۔۔۔ وقار کا بھرم ٹوٹنے سے پہلے ہی میں نے اُس کی منتیں کر کے اُس کو کھانے میں ساتھ ملا لیا۔۔۔ پہلی بُرکی ٹِڈھ میں جاتے ہی وقار کی تڑپتی آندروں نے آنکھوں کے ذریعہ شکریہ بھیج دیا۔۔۔ میں نے چُپکے سے ہاتھ روک لیا اور وقار کو باتوں میں لگائے رکھا۔۔۔ اس نے پورا پراٹھا کھا لیا۔۔۔ اور فر اکثر ایسا ہونڑے لگا۔۔۔ میں کسی نہ کسی بہانے وقار کو کھانے میں ملا لیتا ۔۔۔ وقار کی بھوکی آندروں کے ساتھ میرے پراٹھے کی پکی یاری ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔ اور میری وقار کے ساتھ۔۔۔ خورے کس کی یاری زیادہ پکی تھی۔۔۔؟ میں سکول سے گھر آتے ہی بھوک بھوک کی کھپ مچا دیتا ۔۔۔ ایک دن اماں نے پوچھ ہی لیا۔۔۔ پُتر تجھے ساتھ پراٹھا بنا کے دیتی ہوں کھاتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔ اتنی بھوک کیوں لگ جاتی ہے تجھے۔۔۔؟ میرے ہتھ پیر پھول جاتے ہیں جب تو آتے ہی بُھوک بُھوک کی کھپ ڈال دیتا ہے ۔۔۔ جیسے صدیوں کا بھوکا ہو ۔۔۔ میں کہاں کُچھ بتانے والا تھا صاحب جی۔۔۔ پر اماں نے اُگلوا کے ہی دم لیا۔۔۔ ساری بات بتائی اماں تو سن کر بلک پڑی اور کہنے لگی۔۔۔ کل سے دو پراٹھے بنا دیا کروں گی۔۔۔ میں نے کہا اماں پراٹھے دو ہوئے تو وقار کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔۔۔ میں تو گھر آ کر کھا ہی لیتا ہوں۔۔۔ صاحب جی اُس دن سے اماں نے پراٹھے کے ول بڑھا دیئے اور مکھن بھی۔۔۔ کہنے لگی وہ بھی میرے جیسی ماں کا پتر ہے۔۔۔ مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی فیکے۔۔۔ مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔؟ میں سوچ میں پڑ گیا۔۔۔ پانچویں جماعت میں پڑھنے والے فیکے کو بھرم رکھنے کا پتہ تھا۔۔۔ بھرم جو ذات کا مان ہوتا ہے۔۔۔ اگرایک بار بھرم ٹوٹ جائے تو بندہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔ ساری زندگی اپنی ہی کرچیاں اکٹھی کرنے میں گزر جاتی ہیں۔۔۔ اور بندہ پھر کبھی نہیں جُڑ پاتا۔۔۔ فیکے کو پانچویں جماعت سے ہی بھرم رکھنے آتے تھے۔۔۔ اِس سے آگے تو وہ پڑھ ہی نہیں سکا تھا۔۔۔ اور میں پڑھا لکھا اعلی تعلیم یافتہ۔۔۔ مجھے کسی سکول نے بھرم رکھنا سکھایا ہی نہیں تھا۔۔۔ صاحب جی اس کے بعد امّاں بہانے بہانے سے وقار کے گھر جانے لگی۔۔۔ “دیکھ نوراں ساگ بنایا ھے چکھ کر بتا کیسا بنا ھے” وقار کی اماں کو پتہ بھی نہ چلتا اور اُن کا ایک ڈنگ ٹپ جاتا۔۔۔ صاحب جی وقار کو پڑھنے کا بہت شوق تھا پھر اماں نے مامے سے کہہ کر ماسی نوراں کو شہر میں کسی کے گھر کام پر لگوا دیا۔۔۔ تنخواہ وقار کی پڑھائی اور دو وقت کی روٹی طے ہوئی۔۔۔ اماں کی زندگی تک ماسی نوراں سے رابطہ رہا۔۔۔ اماں کے جانے کے چند ماہ بعد ہی ماسی بھی گزر گئی۔۔۔ اُس کے بعد رابطہ ہی کُٹ گیا۔۔۔ کل وقار آیا تھا۔۔۔ ولایت میں رہتا ھے جی۔۔۔۔ واپس آتے ہی ملنے چلا آیا۔۔۔ پڑھ لکھ کر بڑا وڈا افسر بن گیا ہے جی۔۔۔ مجھے لینے آیا ہے صاحب جی۔۔۔ کہتا ہے تیرے سارے کاغذات ریڈی کر کے پاسپورٹ بنڑوا کر تجھے ساتھ لینے آیا ہوں اور ادھر میری اماں کے نام پر لنگر کھولنا چاہتا ہے جی۔۔۔ صاحب جی میں نے حیران ہو کر وقار سے پوچھا۔۔۔ یار لوگ سکول بنڑواتے ہیں ہسپتال بنڑواتے ہیں تو لنگر ہی کیوں کھولنا چاہتا ہے اور وہ بھی امّاں کے نام پر۔۔۔؟ کہنے لگا۔۔۔ فیکے بھوک بڑی ظالم چیز ھے، چور ڈاکو بنڑا دیتی ہے۔۔۔۔خالی پیٹ پڑھائی نہیں ہوتی۔۔۔۔ ٹِڈھ پیڑ سے جان نکلتی ہے۔۔۔۔۔۔ تیرے سے زیادہ اس بات کو کون جانتا ہے فیکے ۔۔۔ ہر کوئی آنکھیں پڑھنے والے نہیں ہوتا۔۔۔ اور نہ ہی تیرے ورگے بھرم رکھنے والا۔۔۔ پھر کہنے لگا۔۔۔ یار فیکے تجھے آج ایک بات بتاؤں۔۔۔ جھلیا میں سب جانتا ہوں۔۔۔ چند دنوں کے بعد جب پراٹھے کے ول بڑھ گئے تھے اور مکھن بھی۔۔۔ آدھا پراٹھا کھا کے ہی میرا پیٹ بھر جاتا تھا۔۔۔ اماں کو ہم دونوں میں سے کسی کا بھی بھوکا رہنا منظور نہیں تھا فیکے ۔۔۔ وقار پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔۔ اماں یہاں بھی بازی لے گئی صاحب جی۔۔۔ اور میں بھی اس سوچ میں ڈُوب گیا کہ لُوستی آندروں اور پراٹھے کی یاری زیادہ پکی تھی یا ۔۔۔ فیکے اور وقار کی۔۔۔ بھرم کی بنیاد پر قائم ہونے والے رشتے کبھی ٹوٹا نہیں کرتے۔۔۔ فیکا کہہ رہا تھا مُجھے امّاں کی وہ بات آج بھی یاد ہے صاحب جی۔۔۔ اُس نے کہا تھا۔۔۔ مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی فیکے۔۔۔ مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔ بھرم ھی تو ھے جو رشتے اور دوستیاں قائم رکھتا ھے
 

سیما علی

لائبریرین
۔ اماں کو ہم دونوں میں سے کسی کا بھی بھوکا رہنا منظور نہیں تھا فیکے ۔۔۔ وقار پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔۔ اماں یہاں بھی بازی لے گئی صاحب جی۔۔۔ اور میں بھی اس سوچ میں ڈُوب گیا کہ لُوستی آندروں اور پراٹھے کی یاری زیادہ پکی تھی یا ۔۔۔ فیکے اور وقار کی۔۔۔ بھرم کی بنیاد پر قائم ہونے والے رشتے کبھی ٹوٹا نہیں کرتے۔۔۔ فیکا کہہ رہا تھا مُجھے امّاں کی وہ بات آج بھی یاد ہے صاحب جی۔۔۔ اُس نے کہا تھا۔۔۔ مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی فیکے۔۔۔ مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔ بھرم ھی تو ھے جو رشتے اور دوستیاں قائم رکھتا ھے
مائیں ہمیشہ بازی لے جاتی ۔۔اسی لئے پروردگار نے اپنے آپ کو کسی رشتے سے نہیں کہا کہ وہ ستر گنا زیادہ پیار کرتا ۔۔۔بھیا ماں جیسا کوئی نہیں اور عورت کا یہ ممتا کا روپ ہی اُسے ممتاز کرتا ہے ۔۔۔❤️
 

سیما علی

لائبریرین
برطانوی نوجوان چارلس ایڈمنڈ کو گھر والوں اور دوستوں نے بہت سمجھایا کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال بہت خراب ھے ، کسی کی جان و مال محفوظ نہیں - اس لیے وہ اپنے فیس بُکیے دوست کی شادی میں شرکت کا پروگرام کینسل کر دے - چارلس نہ مانا اور راولپینڈی آ پہنچا - شادی کی دلچسپ رسموں کو چارلس پوری طرح انجوائے کر رھا تھا - بڑے شامیانے تلے لوگ بیٹھے ھوئے تھے - باھر سے دیسی ڈھول ڈھمکے کی آواز آ رہی تھی -

اتنے میں باھر سے ایک ادمی اندر آیا اور اس نے اونچی آواز میں کچھ کہا - ایک دم ہی وھاں ھڑبونگ مچ گیؑی ، لوگ منہ اٹھا کر بھاگنے لگے - چارلس کو احساس ھوا کہ اس کے دوست اور گھر والے ٹھیک کہتے تھے ، حملہ ھو گیا ھے ، اسے پاکستان نہیں آنا چاھیے تھا - تھوڑی دیر میں شامیانہ خالی ھو گیا اور اکیلا چارلس ایک صوفے کے پچھے چھپا ھوا سوچ رھا تھا کہ اب تک کوئی دھماکہ نہیں ھوا اور نہ ہی فائرنگ کی اواز آیؑی ھے ؟ چارلس نے صورتحال کا جایؑزہ لینے کا فیصلہ کیا - اس نے صوفے سے تھوڑا سا سر باھر نکال کر دیکھنا چاہا تو سامنے سے اس کا دوست اسے ڈھونڈتا ہوا سامنے سے آ رہا تھا - اس نے چارلس کو دیکھتے ہی کہا

" Come on friend ! food is ready
روٹی کُھل گٸ جے 😂😂😂😅😅
 

سید عمران

محفلین
سنو زرینہ میں شادی سے پہلے یہ بتانا فرضِ عین سمجھتا ہوں کہ تم مجھ سے رن مریدی کی توقع کبھی نہیں کرنا، میں صبح سو کر اٹھوں تو کپڑے استری کیے تیار ملنے چاہئیں، ناشتے میں انڈا پراٹھا پابندی سے ڈائننگ ٹیبل پر ہونا چاہیے، جوتے روزانہ پالش کیے ہی پہنتا ہوں، شام آفس سے آؤں تو میرا کوٹ اپنے ہاتھوں سے اتارنا پھر میرے جوتے اتارکر مجھے لیموں پانی پلانا ہوگا، مجھے تازہ روٹی کھانے کی عادت ہے، کھانے میں مرچ کم کھاتا ہوں اور ہاں روزانہ سونے سے پہلے تمہیں سرسوں کے تیل سے میرے سر کی مالش بھی کرنی ہوگی، اگر تمہیں یہ سب قبول ہے تو میں شادی کے لئے تیار ہوں؛..
زرینہ نے شکیل کا طویل لیکچر بڑے غور سے سنا اور دوپٹہ سر پر لیکر سر نیچے کیے شرماتے ہوئے "قبول ہے"
کہہ کر اپنی رضامندی کا اظہار کردیا.
شکیل میاں خوش ، ایک ماہ بعد شادی ہوئی، تین ماہ بعد زرینہ کا ہاتھ کام میں لگایا گیا تو شکیل میاں اپنے مطالبات پورا ہونے کے خواب دیکھتے سوگئے. صبح اٹھ کر واش روم سے فریش ہوکر آئے تو دیکھا کہ کپڑے تو استری کیے رکھے ہیں لیکن پینٹ کا دایاں پائنچہ جل کر استری کی نذر ہوچکا ہے.
زرینہ یہ کیا کردیا تم نے تین ہزار کی پینٹ جلادی؛..
زرینہ جو کچن میں آٹا گوندھ رہی تھی، دوڑی ہوئی آئی اور معصومیت سے کہنے لگی.
سرتاج کیا کرتی، دودھ چولہے پر چڑھا تھا، دودھ بچانے گئی تو دودھ تو بچالیا پر پینٹ دودھ پر قربان ہوگئی، آپ فکر نہ کریں میں دوسری پینٹ استری کردیتی ہوں ؛..
شکیل میاں بےبسی سے اپنی تین ہزار کی پینٹ کو دیکھتے رہ گئے، خاموشی سے دوسری پینٹ نکال کر خود استری کرنے لگے، زرینہ کی کچن سے آواز آئی.
سرتاج استری اسٹینڈ پر میرا سوٹ بھی پڑا ہے آپ وہ بھی استری کرکے مجھ غریب کی دعائیں لےلیجیے، میں اتنے میں آپ کے لیے پراٹھے تیار کرتی ہوں؛..
شکیل میاں جھنجھلائے تو بہت لیکن درگزر سے کام لیتے ہوئے زرینہ کی دعائیں لینے لگے، تیار ہوکر ڈائننگ ٹیبل پر آئے تو ٹیبل پر رکھے عجوبے کو دیکھ کرحیرت سے پھدکنے لگے.
زرینہ میں پاکستانی پراٹھا انڈا کھاتا ہوں افریقی نہیں؛..
زرینہ سہم کر بولی.سرتاج دراصل آپ کا خوف میری رگ رگ میں سمایا ہوا تھا تو وہ خوف اس انڈے پراٹھے میں بھی منتقل ہوگیا، پلیز اس باندی کو معاف کردیجیے؛..
شکیل میاں کے اندر کا مرد یہ سن کر خوش ہوگیا کہ چلو میری بیوی مجھ سے ڈرتی تو ہے نا، انڈا پراٹھے کا کیا ہے چلو میں ہی بنالیتا ہوں،
چلو کوئی بات نہیں آئندہ دھیان رکھنا؛..
یہ کہہ کر شکیل میاں خود کچن میں جاکر آٹا گوندھنے لگے زرینہ ہاتھ دھوکر سامنے ادب سے کھڑی ہوگئی.
سنیے عالیجاہ، مجھ کنیز کے لیے بھی بنادیجیے، آپ کی یہ کنیز احسان مند رہے گی؛..
شکیل میاں " کنیز" کا لفظ سنتے ہی اپنے آپ کو مغلِ اعظم سمجھنے لگے اور اسی سرشاری میں اپنے اور زرینہ کے لیے پراٹھے بنانے میں مصروف ہو گئے، ناشتہ کرکے فارغ ہوئے تو جوتے دیکھ کر تو چیخ ہی نکل گئی.
زرینہ کم از کم پالش تو صحیح کردیتیں، براؤن شوز پر بلیک پالش کرکے جوتے پہننے لائق نہیں چھوڑے؛..
یہ کہہ کر زرینہ کی طرف دیکھا تو اس کی ٹانگیں خوف سے کپکپارہی تھیں، شکیل میاں کی مردانہ انا کو سکون مل گیا پھر خود ہی جوتے پالش کرکے پہنےاور آفس چل پڑے، آفس سے گھر آئے اور لاؤنج میں کھڑے زرینہ کو آواز دی.
زرینہ میں آگیا ہوں، کوٹ اتارو؛..زرینہ جو آٹا گوندھ رہی تھی دوڑی دوڑی آئی اور کوٹ اپنے ہاتھوں سے اتار دیا، شکیل میاں پہلے تو مسکرائے پھر جب کوٹ دیکھا تو چلائے.
زرینہ کچھ تو عقل سے کام لیا کرو بغیر ہاتھ دھوئے کوٹ اتارکر آٹا کوٹ میں چپکادیا؛..
سرتاج مجھ کم عقل کی اتنی عقل کہاں، اب آپ ہیں نا مجھے عقل سکھانے والے، پلیز معافی دیدیں؛..
زرینہ کو یوں ہاتھ جوڑے دیکھ کر شکیل میاں کی مردانہ انا کو پھر سے تسکین ملی اور تنبیہہ کرکے فریش ہونے چلے گئے، پندرہ منٹ بعد آواز لگائی.
زرینہ لیموں پانی لاؤ؛..
سرتاج بھول ہوگئی ابھی لائی؛..
زرینہ جو آلو گوشت کا سالن بنارہی تھی یہ کہہ کر ہڑبڑاتی ہوئی فریج کی طرف دوڑی اور لیموں پانی بڑے ادب سے شکیل میاں کو پکڑادیا.
زرینہ یہ لیموں پانی میں پکوان کہاں سے آگیا؟..
شکیل میاں نے یہ کہہ کر اپنی زرینہ کے ہاتھوں کو دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ پکوان لیموں پانی میں کیسے آیا، مزید ڈانٹے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ زرینہ کی کپکپاہٹ دیکھ ان کے سینے میں ٹھنڈ پڑگئی ساتھ غصہ بھی ٹھنڈا ہوگیا، خود جاکر لیموں پانی بنانے لگے، زرینہ پیچھے کھڑی بولی.
میرے حضور آپ کا غصہ دیکھ کر مجھ کمزور کنیز کا دل برداشت نہ کرسکا اور اس کی رفتار سست ہورہی ہے پلیز ایک گلاس اپنی کنیز کے لیے بھی بنادیں؛..
شکیل میاں کی مردانہ عزت نفس آسمان کی بلندی پر پہنچ گئی، دو گلاس لیموں پانی بنایا ایک خود اور دوسرا زرینہ کو پلایا. رات آٹھ بجے کھانے کے لیے ڈائننگ ٹیبل پر آئے تو زرینہ نے ان کے سامنے گرما گرم روٹی سالن رکھ دیا، شکیل میاں روٹی سالن دیکھ کر کرسی چھوڑ کر چھ فٹ پیچھے ہٹ گئے.
زرینہ یہ روٹی ہے یا کشمیر کا نقشہ آدھا کچا آدھا پکا، اور یہ
آلو گوشت کا سالن دیکھ کر کھانے کا نہیں بلکہ اس میں تیرنے کا دل کررہا ہے؛..
شکیل میاں کی دھاڑ سن کر زرینہ خوف سے کپکپانے لگی اور غش کھاکر وہیں کرسی پر لم لیٹ ہوگئی، شکیل میاں کا سارا غصہ یہ دیکھ کر ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر انہوں نے زرینہ کو پانی کے چھینٹے مارکر ہوش دلایا اور کچن میں جاکر انڈا آملیٹ اور گول روٹی بنانے لگا اور ساتھ ہی ساتھ زرینہ کو گول روٹی بنانے کے آداب بھی سکھاتا جا رہا تھا، ایک گھنٹے بعد زرینہ روٹی کھاتے اپنے سگھڑ سرتاج کے قصیدے پڑھنے لگی؛
جسے سن کر شکیل میاں مزید چوڑے ہوگئے، دو گھنٹے بعد رات کمرے میں جاکر بیڈ پر آلتی پالتی مارکر بیٹھ گئے.
زرینہ میرے سر کی مالش کردو؛..
زرینہ فوراً سرسوں کے تیل کی شیشی لے آئی اور آدھی شیشی سر پر انڈیل دی، شکیل میاں کے چہرے پر کڑوا تیل بہتا ہوا آیا تو چلائے.
زرینہ، میں نے مالش کرانی ہے کڑوے تیل سے نہانا نہیں، جلدی سے ہاتھوں سے سر رگڑو؛..
جو حکم میرے آقا؛؛
کہہ کر زرینہ پولے پولے ہاتھ سے مالش کرنے لگی.
شکیل میاں نے اس کے ہاتھ ہٹائے اور خود کسی ماہر مالشیے کی مانند اپنی مالش کرنے لگے.
سرتاج آپ تو ہرفن مولا ہیں، میں بہت نصیب والی ہوں جو آپ جیسا ہنرمند شوہر ملا، پلیز مجھے بھی یہ ہنر سکھادیجیے؛..
شکیل میاں کی مردانگی جھوم اٹھی اور پھر شکیل میاں نے زرینہ کے سر کی اتنی مہارت سے مالش کی کہ زرینہ مالش کراتے کراتے وہیں نیند کی وادیوں میں چلی گئی. شکیل میاں اپنے ہنر کا اتنا بہترین رزلٹ دیکھ کر خوش ہو گئے
بس جناب شکیل میاں کی شادی کو دو سال ہوچکے ان کی مردانہ انا کو یونہی روزانہ پابندی کے ساتھ تسکین ملتی آرہی ہے، ماشاءاللہ سے اب ان کی ایک بیٹی بھی ہے، اور مزید ماشاءاللہ یہ کہ شکیل میاں بچے سنبھالنے میں بھی خوب مہارت رکھتے ہیں -
واقعی شوہر ہو تو ایسا ہو۔۔۔۔!
آپ کو سرعام ایسی رسوا کن ٹپس خواتین کو ہرگز نہیں دینی چائییں تھیں!!!
:nailbiting::nailbiting::nailbiting:
 
Top