انٹرنیٹ پروٹوکال

تفسیر نے 'ٹیکنیکل مضامین' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 22, 2008

  1. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    INTERNET PROTOCOL
    DARPA INTERNET PROGRAM
    PROTOCOL SPECIFICATION
    September 1981

    prepared for

    Defense Advanced Research Projects Agency
    Information Processing Techniques Office
    1400 Wilson Boulevard
    Arlington, Virginia 22209

    by
    Information Sciences Institute
    University of Southern California
    4676 Admiralty Way
    Marina del Rey, California 90291


    مترجم

    تفسیراحمد
     
  2. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    انٹرنیٹ پروٹوکال

    انٹرنیٹ پروٹوکال ( آئی پی ) اُن نیٹ ورکڈ کمپیوٹروں کی پروٹوکال ہے جو پیکیٹ سوئچینگ کمیونیکیشن استعمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ پروٹوکال میں سورس ہوسٹ اور ڈیسٹینیشن ہوسٹ کا ایڈریس مقررہ لمبائی کا ہوتا ہے اور انٹرنیٹ پروٹوکال ، ڈیٹا گرام کو سورس ہوسٹ سے ڈیسٹینیشن ہوسٹ بھیجتی ہے۔ ڈیٹا گرام، ڈیٹا کے بلاک کو کہتے ہیں۔ انٹر نیٹ پروٹوکال کا کام میسج کو پیکیٹ سوئچ نیٹ ورک میں ایک جگہ سےدوسری جگہ بھیجنے کے لیے سورس ہوسٹ پر ڈیٹا گرام کوحصہ میں تقسیم ( فریگمینٹیشن ) کرنا اور ڈیسٹینیشن پردوبارہ ایک ( ری اسیمبلی ) کرنا ہے۔

    یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ آئی پی کی بناوٹ ( ڈیزائن ) میں ایک۔جگہ۔دوسری۔جگہ میں ریلائبیلیٹی، فلو کنٹرول، سِکوینسینگ جیسی خصوصیت نہیں مہیا کی گئی ہیں۔ ایسی خصوصیات ہوسٹ۔ٹو۔ہوسٹ پروٹوکال میں پائی جائی ہیں۔ ان سروسیس کے لیے آئی پی، نیٹ ورک پر بھروسہ کرتی ہے۔

    انٹرنیٹ کے ماحول میں ہوسٹ۔ ٹو۔ہوسٹ پروٹوکال، آئی پی سےانٹرنیٹ ڈیٹا گرام کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے میں مدد لیتی ہیں۔ ٹرانسمیشن کنٹرول پروٹوکال (ٹی سی پی) ایسی ہی وسٹ۔ٹو۔ہوسٹ پروٹوکال ہے۔ ٹی سی پی، ریلائبیلیٹی، فلو کنٹرول، سکوینسیگ مہییا کرتی ہے۔ جس کے متعلق ہم بعد میں تفصیل سے بات کریں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    آپریشن

    جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا کہ آئی پی کے دو بنیادی کام ہیں؛

    1۔ ایڈریسینگ
    2۔ فریگمینٹیشن

    آٰئی پی ہیڈر میں ڈیسٹینیشن کے موجود ایڈریس کو استعمال کرکے ڈیٹا گرام کواس کی ڈیسٹینیشن کی طرف لے جاتی ہے۔ اس کے لیے راستہ چننا راوٹینگ کہلاتا ہے۔
    آٰئی پی، انٹرنیٹ ہیڈر میں موجوہ فیلڈ کی انفارمیشن کو فریگمینٹیشن اور ری اسیمبلی کے لیے استعمال کرتی ہے۔

    وہ ہوسٹ اور گیٹ وے جن کے ذریعہ ڈیٹا گرام ایک جگہ سے دوسری جگہ جائےگا، ان کے اپنے آٰئی پی ماجول ( آٰئی پی سافٹوئر ) ہوتےہیں۔ ہر ایک آئی پی ماجول، فریگمینٹیشن اور ری اسمبلی کے لیےایک ہی قسم کا اصول استعمال کرتا ہے۔ گیٹ وے کے آئی پی ماجول میں راستے کو چننے کے اصول بھی موجود ہوتے ہیں۔

    آئی پی کے لیے ہر ایک ڈیٹا گرام اپنے طور پر مکمل ہے۔ اور آئی پی اس کو دوسرے ڈیٹا گرام سے منسلک نہیں سمجھتی۔ آئی پی ان میں منطقی ( لوجیکل) یا حقیقی ( ورچول) تعلق کونہیں سمجھتی۔ ​
     
  4. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    آئی پی چار طریقہ کار مہیا کرتی ہے۔

    ٹائپ آف سروس ( ٹی۔او۔س) فیسیلیٹی
    ٹائم ٹو لیو (ٹی-او-ایل)
    آپشنس
    ہیڈر چیک سم

    ٹائپ آف سروس
    مسیج کو بھیجنے کے لیے انٹرنیٹ پر مختلف راستہ چننے جاسکتے ہیں ان راستوں کی کوالیٹی ایک دوسرے سے مختلف ہوگی۔ ایک راستہ کی کوالیٹی، دوسرے راستہ سے بہتر ہوسکتی ہے۔ بعض میں تیاری (سٹ اپ) یا پیکیٹوں کے مطابق قیمت وصول کی جاتی ہے اور دوسروں میں استعمال کے مطابق قیمت وصول کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک راستے سے دوسرے راستہ کا ( محاصل ( تھروپٹ ) اور تاخیرات ( ڈیلے ) بھی مختلف ہوں گے۔ عموماً ان کی چنائی میں فائدہ اور نقصان ہیں ( ٹریڈ آف) ہیں۔ وہ راستہ جس میں راستہ کا محاصل دوسرے راستوں سے زیادہ ہوسکتا ہے سب سے زیادہ مہنگا ہوگا اور اس میں دوسروں سے زیادہ تاخیرات ہوسکتی ہیں۔ اس لیے ایک یوزر اور اس کی اپلیکیشن کی بنا پر سب سے بہتریں (آپٹیمل) راستہ اس کی ضروریات پر مبنی ہے۔

    کیونکہ انٹرنیٹ کو اس بات کو علم نہیں کہ وہ کسی ایک یوزر کے لیے بہترین راستہ بنائے۔ آئی پی اوپری سطح ( لیئر ) پر موجود پروٹوکال کو فائدہ اور نقصان ( ٹریڈ آفس) چنے کے لیے محدود ہدایت دے سکتی ہے۔ یہ ٹائپ آف سروس فیسیلیٹی ہے

    ٹائم ٹو لیو ( ٹی۔او۔ایل )
    انٹرنیٹ پرایک ڈیٹا گرام کے زندہ رہنے کی ایک میعاد ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ایک راستہ بھولا ہوا ڈیٹاگرام ہمیشہ چکر لگاتا رہےگا۔ بھیجنے والا اس کی قیمت یا تعداد معین کرتا ہے۔ یہ ایک کاونٹر ہے۔ جیسے جیسے ڈیٹاگرام سفر کرتا ہے۔ ہراسٹاپ پر اس کی کاونٹ کم ہوتی جاتی ہے۔ جب یہ کاونٹ صفر بنتی ہے۔ انٹرنیٹ ڈیٹا گرام اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ اگر یہ کاونٹ انٹرنیٹ ڈیٹاگرام کےمنزل پر پہنچنے سے پہلےصفر ہوجائے تو انٹرنیٹ ڈیٹاگرام اپنی موت خود مرجاتا ہے۔

    آپشنس
    بعض دفعہ خاص موقعوں پر اوپر دی ہوئی صورت حال کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان صورتوں میں ٹائم اسٹمپ، سیکیوریٹی اور اسپیشل راوٹینگ کے آپشن موجود ہیں۔

    ہیڈر چیک سم
    ہیڈر چیک سم کی مدد سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ انٹرنیٹ ڈیٹا گرام اپنی اصلی صورت میں اپنی منزل پر پہنچ گیا ہے۔ جیسے ہی اصلی چیک سم اور دوبارہ لی ہوئی چیک سم میں فرق نظر آتا ہے۔ تو غلطی پکڑنے والا کمپیوٹر اس انٹرنیٹ ڈیٹا گرام رد کردتا ہے۔

    آی پی میں معتبر کمیونیکیشن کے زرایعے نہیں ہیں۔ انٹرنیٹ ڈیٹا گرام کی منزل ( اینڈ۔ٹو۔اینڈ ) پر یا راستوں پراسٹاپ (ہاپ۔ ٹو۔ہاپ) سے کوئی اطلاع واپس نہیں آتی۔ آئی پی میں صرف ہیڈرچیک سم ہے ۔ ڈیٹا کنٹرول میں غلطی ( ایرر ) یا ڈیٹا گرام دوبارہ بھیجنا ( ری ٹرانسمیشن ) اور ڈیٹا کا بہاؤ ( فلو کنٹرول ) شامل نہیں ہے۔

    آئی پی میں انٹر نیٹ کنٹرول میسج پروٹوکال ( آئی سی ایم پی) کے ذریعہ صرف یہ اطلاع مل سکتی ہے کہ انٹرنیٹ ڈیٹا گرام میں خرابی تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088


    پرٹوکال کا ایک دوسرے سے تعلق

    ایک طرف انٹرنیٹ پروٹوکال ہوسٹ۔ٹو۔ہوسٹ پروٹوکال سے رابطہ قائم کرتی ہیں اور دوسری طرف لوکل ایریا نیٹ ورک پروٹوکال سے

    [​IMG]

    ماڈل اف آپریشن
    [
    ایک ڈیٹا گرام کو ایک اپلیکیشن پروگرام سےدوسرےاپلیکیشن پروگرام میں بھیجنا ؛

    یہاں ہم یہ فرض کریں گے کہ دو اپلیکیشن پروگراموں کے درمیان ایک درمیانی گیٹ وے ہے۔
    بھیجنے والا اپلیکیشن پروگرام اپنے ڈیٹا کوتیار کرتا ہے اور لوکل انٹرنیٹ ماجول سےدرخواست کرتا ہے کہ اس ڈیٹا کا ڈیٹاگرام بناکر جس میں مقامی ( سورس ) ایڈریس اور بھیجنے کی جگہ ( ڈیسٹینیشن) کا ایڈریس اور دوسری ضروری انفارمیشن شامل کر کے بھیج دو۔

    انٹرنیٹ ماجول اس ڈیٹا کے ہیڈراور ٹریلرتیار کرتا ہے۔ اور اس ڈیٹا میں شامل کردیتا ہے۔ اس وقت انٹر نیٹ ماجول مقامی نیٹ ورک کےہوسٹ کا انٹرنیٹ ایڈریس کو بھی حاصل کرلیتاہے۔ انٹرنیٹ ماجول اب ڈیٹا گرام اور انٹر نیٹ ایڈریس کو لوکل نیٹ ورک انٹرفیس کو بھیج دیتا ہے۔

    لوکل نیٹ ورک انٹرفیس ایک لوکل نیٹ ورک ہیڈر بنا کر اس ڈیٹا گرام سےجوڑ دیتا ہے۔ اور لوکل نیٹ ورک کے ذریعہ ڈیسٹینیشن ہوسٹ ( گیٹ وے) کو روانہ کردیتا ہے۔

    جب ڈیٹا گرام ہوسٹ کےگیٹ وے پر پہونچتا ہے تو گیٹ وے پرموجود لوکل نیٹ ورک انٹرفیس اس آنے والےڈیٹاگرام میں سے پچھلے ہوسٹ کا لوکل نیٹ ورک نکال کر رد کردیتا ہے اور اس ڈیٹا گرام کو اپنے (گیٹ وے) کے انٹرنیٹ ماجول کے حوالے کردیتا ہے۔ گیٹ وے کا انٹرنیٹ ماجول ڈیٹا گرام میں سے ڈیسٹینیشن ( اگلی ہوسٹ) کا ایڈریس پڑھتا ہے۔ پھریہ انٹرنیٹ ماجول ڈیسٹینیشن کا انٹر نیٹ ایڈریس دریافت کرتا ہے۔ اور پھر ڈیٹا گرام کو اپنےانٹر نیٹ ایڈریس کو لوکل نیٹ ورک انٹرفیس کو بھیج دیتا ہے۔

    یہ لوکل نیٹ ورک انٹرفیس ایک لوکل نیٹ ورک ہیڈر بنا کر اس ڈیٹا گرام سے جوڑ دیتا ہے۔ اور لوکل نیٹ ورک کے ذریعہ ڈیسٹینیشن ہوسٹ کو روانہ کردیتا ہے۔

    ڈیسٹینشن ہوسٹ پر لوکل نیٹ ورک انٹرفیس ڈیٹا گرام سے لوکل نیٹ ایڈریس نکال کر اپنے انٹرنیٹ ماجول کو بھیج دیتا ہے۔

    انٹرنیٹ ماجول یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہ ڈیٹا گرام اس ہوسٹ میں موجود ایک اپلیکیشن پروگرام کے لیے ہے ۔جب پروگرام اس ڈیٹا کے لیے درخواست کرتا ہے انٹر نیٹ ماجول سورس ایڈریس اور دوسری ضروری انفارمیشن کے ساتھ اپلیکیشن پروگرام کو بھیج دیتا ہے۔


    [​IMG]

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088

    انٹرنٹ پروٹوکال کا کام ڈیٹاگرام کوایک دوسرے سےملے ہوئے نیٹ ورکوں میں سےگزارنا ہے۔ انٹرنیٹ ماجول ایک دوسرے کو ڈیٹاگرام بھیجتے ہیں۔ ایک انٹرنیٹماجول سےدوسرے انٹرنیٹ ماجول تک ڈیٹاگرام اسطرح بھیجنے کا عمل اس وقت جاری رہتا ہے جب تک کہ یہ ڈیٹاگرام اپنی ڈیسٹینیشن تک نہیں پہونچ جاتا۔ ہرہوسٹ اورگیٹ وے میں انٹرنیٹ ماجول موجود ہیں ۔ ڈیٹاگرام کوایک انٹر نیٹ ماجول سے کسی دوسرے انٹرنیٹ ماجول کو بھیجنے کا فیصلہ انٹرنیٹ ایڈریس سے کیا جاتا ہے۔ اس لئےانٹرنیٹ ایڈریس، انٹرنیٹ پروٹوکال کا ایک اہم حصہ ہے۔

    ڈیٹاگرام، ایک انٹرنیٹ ماجول سےدوسرے انٹرنیٹ ماجول کو ایک مقررہ راستہ سےبھیجا جاتا ہے۔ ان راستوں میں موجود نیٹ ورک کے “ پیکٹ سائیز“ کی بالائی حد، اوریجنل ڈیٹا گرام کے پیکٹ سائیزسے کم ہوسکتی ہے اس مشکل کوحل کرنے کے لئے انٹرنیٹ پروٹوکال میں فریگمینٹیشن کا میکانکی جز مہیا کیا گیا ہے۔


    ایڈریسینگ

    نام، ایڈریس اور راؤٹ ( راستہ ) میں امتیاز کیاجاتا ہے۔ نام ظاہر کرتا ہے کے ہم کیا چاہتے ہیں۔ ایڈریس یہ بتاتا ہے کہ جس کی ہمیں تلاش ہے وہ کہاں ہے۔ اور رواٹ ، ہم وہاں کیسے پہونچ سکتے ہیں۔

    انٹرنیٹ پروٹوکال کا کام ایڈریس سےمتعلق ہے۔ او۔ایس ماڈل کی اوپری درجوں کی پروٹوکالوں ( ہوسٹ۔ٹو۔ہوسٹ ) کا کام، نام اور ایڈریس میں تعلق بناناہے۔ انٹرنیٹ ماجول، انٹرنیٹ ایڈریس کو لوکل نیٹ ایڈریس سےنسبت دیتا ہے اور لوکل نیٹ ایڈرییس کو راؤٹ سے نسبت دینا، نچلی درجہ پرموجود لوکل نیٹ اورگیٹ وے کے کام ہیں۔

    انٹرنیٹ پروٹوکال میں ایڈریس کی لمبائی ٣٢ بِٹیں ( bits ) مقرر ہوتی ہے جن کو آسانی کےلئے ٨ بِٹوں کے چار حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔ ٨ بِٹوں کے مجموع کو آکٹیٹ ( octet ) کہتے ہیں ۔ اسلئے٣٢ بِٹوں کے چار آکٹیٹ بنے۔ ایڈریس میں پہلا حصہ نیٹ ورک نمبر ہوتاہےاس کےبعد والا حصہ لوکل ایڈریس ہوتا ہے ۔

    انٹرنیٹ ایڈریس کو تین طریقوں میں بناٹا گیا ہے؛

    جب ہم ٣٢ عداد کا ایک نمبر لکھتے ہیں تو اس نمبر میں الٹے ہاتھ پر بتِسویں بٹ ( Most Significant Bit ) کہلاتی ہے۔ اگرMSB بتِسویں بٹ کو صفر رکھاجائے اور اس کے پہلے آنے والی سات ہائی آرڈر بِٹوں کو نیٹ ورک نمبر کہاجائے اور باقی ٢٤ بِٹوں کو لوکل ایڈریس تو یہ ایڈریس اسکیم کلاس اے نیٹ کے ایڈریس کہلاتی ہے۔ تو انٹرنیٹ میں کلاس اے نیٹ، وہ نیٹ ورک ہیں جن کی ( ایم۔ایس۔بی ) صفر ہوتی ہے اور نیٹ ورک نمبراس سے پہلے کی ٧ بِٹوں سے شمار کئے جاتے ہیں۔ اور لوکل ایڈرس باقی ٢٤ بٹس سےمقرر ہوتے ہیں۔

    انٹرنیٹ کلاس بی، ایڈریس میں ہم بتِسویں بٹ کو “ ایک “ اور اکتیسویں بٹ کو “ صفر“ رکھتے ہیں۔ یعنی کلاس بی نیٹ ورک کی پہچان بتِسویں بٹ “ ایک “ اور اکتیسویں بٹ صفر ہے ۔ کلاس بی نیٹ ورک میں ١٤ بٹیں، نیٹ ورک نمبر کےلئے مقرر کرتے ہیں اور آخری ١٦ بٹوں کو لوکل ایڈریس کے لیے۔

    انٹرنیٹ کلاس سی میں ٣٠، ٣١ اور٣٢ بٹیں صفر ہوتی ہیں۔ اور ان بِٹوں سے پہلے کی ٢١ بٹیں نیٹ ورک نمبر بتاتی ہیں اور باقی ٨بٹیں لوکل ایڈریس ہیں۔

    انٹرنیٹ ایڈرس اور لوکل نیٹ ایڈرس کی نسبت میں یہ خیال رکھنا ضروری ہے کےایک فزیکل ہوسٹ ایک سے زیادہ مفرد ایڈریسس استعمال کرسکے۔ بعض ہوسٹ میں کئی فزیکل انٹرفیس بھی ہوسکتے ہیں۔ یعنی ہرانٹر فیس کو ایک لوجیکل انٹرنیٹ ایڈریس دیا جاسکے۔
     
  7. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088

    فریگمینٹیشن

    انٹرنیٹ ڈیٹاگرام کو تقسیم کرنے کی ضرورت اس لئے پڑتی ہے کے جب یہ اس ڈیٹا گرام ایسی نیٹ میں سے شروع ہوتا ہے جہاں بڑے پیکیٹ سائیز بنانے کی اجازت ہے۔ اور اس کو دوسرے ایسے نیٹ ورکوں میں سےگزر کر ڈیسٹینیشن پر پہنچناہے جوصرف ایک مخصوص لمبائی کے پیکیٹ کوگزرنے کی اجازت دیتےہیں۔

    انٹرنیٹ ڈیٹاگرام پر “ فریگمنٹ مت کرو“ کی نشان دہی لگائی جاسکتی ہے۔ یہ ڈیٹاگرام کسی بھی صورت میں تقسیم نہیں کیاجائےگا۔ اگر ایسے نشان دہی کیےہوئےڈیٹاگرام کو بغیرتوڑے ڈیسٹینیشن تک نہیں پہنچایاجاسکتا تو اس کو رد کردیا جائے گا ۔

    بعض دفعہ فریگمینٹیشن، ٹرانسمیشبن اور ری اسمبلی انٹرنیٹ ماجول سےچھپی ہو تی ہے، یہ فریگمینٹیشن، ٹرانسمیشبن اور ری اسمبلی لوکل ایریا نیٹ ورک کے اندر کی جاسکتی ہے۔ یہ انٹرانیٹ فریگمینٹیشن کہلاتی ہے۔

    انٹرنیٹ فریگمینٹیشن اور ری اسمبلی کےطریقے ڈیٹاگرام کو ایک باقاعدہ حصوں میں بانٹ سکھتےہیں۔ ان حصوں کووصول کرنے والا انٹرنیٹ ماجول ان میں ایک نشانی جسے “ آئیڈنٹیفیکیشن فیلڈ “ (شاخت کی فیلڈ ) کہتے ہیں کوجانچ کر مختلف ڈیٹاگرام کےحصوں کو ایک دوسرے میں گڈمڈ نہیں ہونےدیتا۔ اس طرح “ فریگمینٹیشن آفسٹ فیلڈ“، وصول کرنے والا انٹرنیٹ ماجول کو اس حصہ کی اوریجنل ڈیٹاگرام میں مخصوص جگہ بتاتی ہے۔ فریگمینٹیشن آفسٹ اور ڈیٹاگرام کی لمبائی کی مدد سےاس ایک حصہ کی ڈیٹاگرام میں مخصوص جگہ پتا چل جاتی ہے۔ آخری فریگمنٹ کوظاہر کرنے والی فیلڈ “ مور- فریگمنٹ “ کہلاتی ہے ۔ اسےصفر کردیا جاتا ہے۔ آئیڈنٹیفیکیشن فیلد، فریگمینٹیشن آفسٹ فیلڈ ، اور مور- فریگمنٹ ڈیٹا گرام کی ری اسمبلی کے لئے ضروری ہیں۔

    ایک ڈیٹاگرام کے فریگمنٹ کو دوسرے ڈیٹا گرام کے فریگمنٹ سےعلحیدہ کرنے کے لئے آئیڈنٹیفیکیشن فیلڈ استعمال کی جاتی ہے۔ اوریجنل پروٹوکال ماجول ، انٹرنیت ڈیٹاگرام میں آئیڈنٹیفیکیشن فیلڈ کے عداد کو ایک یکتا “ unique ویلیو “ دےدیتا ہے۔ یہ ویلیو اس انٹرنیٹ سسٹم کے سورس اور ڈیسٹینیشن اور پروٹوکال کی مناسبت سے ہوتی ہے جس میں یہ ڈیٹاگرام سفر کرے گا۔ ایک مکمل ڈیٹاگرام کا اوریجنل پروٹوکال ماجول، اس ڈیٹاگرام میں “ مور- فریگمنٹ “ شناخت کی بِٹوں اور “ فریگمنٹ آفسٹ “ کو صفر بنادیتا ہے۔

    ایک لمبے ڈیٹا گرام کو فریگمنٹ کرنے کےلئے انٹرنیٹ ماجول، ( مثال کے طور پر گیٹ وے ) ڈیٹا گرام کو دوحصوں میں تقسیم کردیتا ہے۔ اور پھردونوں فریگمنٹ میں ایک ایک انٹرنیٹ ہیڈر بناتا ہے اوریجنل مکمل ڈیٹاگرام سے انٹرنیٹ ہیڈر فیلڈ کی انفارمیشن کی نقل کو ان دونوں فریگمنٹ کے نئے ہیڈروں میں شامل کردیتا ہے۔ اوریجنل ڈیٹا گرام کی تقسیم دو حصوں میں اس طرح ہوتی ہے۔

    لمبا ڈیٹاگرام کا ڈیٹا ( ٨ آکٹیٹ ) ٦٤ بِٹوں کی حدد پر دو حصوں علحیدہ کیاجاتا ہے۔ یہ ممکن ہے کے ڈیٹا کو ٦٤ بٹوں کی حدد پر علحیدہ کرنے سے یہ آخری حصہ میں ٦٤ بٹ نہ بچیں ۔ اس پہلے ٨ آکٹیٹ کے ڈیٹاسٹ کو این۔ایف۔بی ( نمبر آف فریگمنٹ بلاک) کہتے ہیں۔ ا ب پہلے سٹ کے آٹھ آکٹیٹ ایک نئے بنائے ہوئے ڈیٹاگرام میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ اور اس کی “ مکمل لمبائی کی فیلڈ “ میں پہلے ڈیٹا گرام کی لمبائی کی قیمت رکھ دیتے ہیں۔ اور “ مور - فریگمنٹ “ کی فیلڈ کو “ ون “ ۔

    دوسر ے بنائےہوئے ڈیٹاسٹ کو دوسرے چھوٹے ڈیٹا گرام میں ڈال دیتے ہیں اور اس میں “ مور - فریگمنٹ “ کی فیلڈ کو اوریجنل لمبے ڈیٹا گرام کی “مور - فریگمنٹ“ کی ویلیو دیتے ہیں۔ دوسرے چھوٹےڈیٹا گرام کی “ فریگمنٹ آفسٹ “ کی ویلیو اوریجنل لمبے ڈیٹا گرام کی آفسٹ ویلیو + این۔ایف۔بی ( نمبر آف فریگمنٹ بلاک) کے برابر بنادیتے ہیں۔ یہاں ہم نے ایک لمبے ڈیٹا گرام کو دو چھوٹے ڈیٹا گرام میں منتقل کیا ہے۔ اس طریقہ کو لاتعداد چھوٹے ڈیٹا گرام بنانے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    انٹرنیٹ کے فریگمنٹوں سے ایک اوریجنل انٹرنیٹ ڈیٹاگرام بنانے کے لیے ڈیسٹینیشن کا انٹرنیٹ ماجول ان انٹرنیٹ ڈیٹاگرام جن کی آیڈینٹیفیکیشن، سورس، ڈیسٹینیشن اور پروٹوکال ایک ہیں ان کو ایک ڈیٹاگرام میں جمع کردیتا ہے۔ اسطرح کرنے کے لئےانٹر نیٹ ماجول ان سب ڈیٹا گرام کی “ فریگمنٹ آفسٹ ویلو“ کا معائنہ کرتا ہے۔ اور ان کی مدد سےاس ڈیٹا کو اوریجنل ڈیٹا میں بدل لیتا ہے۔ اس نئے بنائے ڈیٹاگرام کو اوریجنل ڈیٹاگرام بنانے کے لئے پہلے فریگمنٹ “ فریگمنٹ آفسٹ“ فیلڈ کی ویلیو کو صفر کردیتا ہے اور اس کے آخری فریگمنٹ میں “ مور۔فریگمنٹ “ کی فیلڈ کو “ صفر “ ۔
     
  8. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088

    گیٹ وے


    انٹرنیٹ ڈیٹا گرام کو بھیجنے کے لیےگیٹ وے میں بھی انٹرنیٹ پروکوکال شامل ہے ۔اس کےعلاوہ گیٹ وے میں گیٹ وے۔گیٹ وے پروٹوکال ( جی۔جی۔پی ) بھی ہوتی ہے جو رواٹنگ اور دوسری انٹرنیٹ کنٹرول انفارمیشن کومربوط کرتی ہے۔
    گیٹ وے میں اوپری سطح کی پروٹوکال نہیں موجود ہوتیں۔ بلکہ جی۔جی۔پی کےفنکشن، آپی۔پی ماجول ہی میں شامل کردیئےگئے ہیں۔


    [​IMG]
    گیٹ وے پروٹوکال

    اسپیسیفیکیشن

    انٹرنیٹ ھیڈر فارمیٹ

    [​IMG]

    ورژن ؛ 4 بٹیں

    ورژن فیلڈ، انٹرنیٹ ہیڈر کی فارمیٹ بتاتےہیں۔ اس دستاویز میں ورژن 4 بتایا گیا ہے.

    آئی۔ایچ۔ایل؛ 4 بٹیں

    انٹرنیٹ ہیڈر کی لمبائی 32 بٹ ورڈ سےظاہر کی جاتی ہے۔ اور ہیڈر ڈیٹا کےشروع کی طرف اشارہ کرتاہے۔ صحیح ہیڈر کی ویلیو کم سے کم 5 ہے ۔

    ٹائپ آف سروس؛ 8 بٹیں

    ٹائپ آف سروس، ڈیٹا گرام کو انٹر نیٹ میں ایک مخصوص حالت میں سفر کرانے کے استعمال ہوتی ہے۔ایک abstract parameter ہے۔ جب ایک مخصوص نیٹ ورک سے ڈیٹا سفر کرتا ہے تو ان پیرامیٹرز کی مدد سے ایک اصلی پیرامیٹر، سروس کے لیے چنی جاسکتی ہے۔ کئی نیٹ ورک سروس میں اولیت دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ ڈیٹا ٹرافیک جس میں اولیت کی ویلیو بڑی ہو۔ اس چنی ہوئی ویلیو اور اس سے بڑی ویلیو کے ٹرافیک کو عام ٹرا فیک سے پہلےگزرنےدیا جاتاہے ۔ کم ویلیو اور زیادہ ویلیو کےٹرافیک میں تین صورتوں کوچنا جاسکتا ہے۔
    [​IMG]
     
  9. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088


    آیڈینٹیفیکیشن ۔ 16بٹیں ( Identification )

    بھیجنے والے کی طرف سے وہ ایک شناختی ویلیو جو ڈیٹاگرام کی ری اسمبلی میں مدد کرے۔


    فلیگ ۔ 3 بٹیں ( Flag (

    مختلف کنٹرول فلیگ۔
    بٹ 0 : آئیندہ کے استعال کے لئے ۔ ہمشیہ صفر ہوناچاہیے۔
    بٹ 1: ( ڈی ایف) 0 = شاید فریگمنٹ 1 = فریگمینٹ مت کرو
    بٹ 2 ؛ ( ایم ایف) 0 = آخری فریگمنٹ 1 = اور فریگمینٹ بھی ہیں

    0 | 1 | 2
    0 | MF | DF |

    فریگمنٹ آفسٹ۔ 13 بٹیں(Fragment offset)

    یہ ایک ڈیٹا گرام میں سے ایک فریگمنٹ کی پوزیشن بتاتی ہے۔

    ٹائم ٹو لیو 8۔بٹیں (Time to live)

    اس فیلڈ کی ویلیو بتاتی ہے کہ اس سے پہلے کے ڈیٹا گرام کو کب رد کردیا جائے وہ انٹرنیٹ پر کتنی دیر تک رہ سکتا ہے۔ اگر اس فیلڈ کی ویلیو صفر ہوجائےتو ڈیٹا گرام کو رد کرنا ضروری ہے۔ انٹرنیٹ ہیڈر کی جانچ کےدوران اس کی ویلیوطتبدیل کرتے ہیں۔ وقت سیکنڈ میں گنا جاتا ہے۔ ہر پی آئی پروٹوکال ماجول ٹی ٹٰی ایل کی ویلیو کومیں سےایک کم کردیتا ہے۔ چاہیے ڈیٹا گرا م کو ایک سیکنڈ سے کم وقت میں گزارہ گیا ہواس وجہ یہ ہے کےجو ڈیٹا گرام ڈیسٹینیشن تک نہیں پہنچائےجاسکتے وہ ان کو رد کیا جاسکے۔ اور ڈیٹا گرام کی زندگی کو کنٹرول کی جائے۔

    پروٹوکال - 8 بٹیں۔ Protocol

    یہ فیلڈ بتاتی ہے کے ڈیٹا گرام کے ڈیٹا والےحصہ میں کونسی اوپری پروٹوکال استعمال ہوگی۔ پروٹوکال مخصوص نمبروں سے پہجانی جاتی ہیں۔

    ہیڈرچیک سم - 16 بٹیں ( Checksum )

    صرف ہیڈر کی چیک سم کی جاتی ہے۔ کیونکہ ہیڈر کی بعض فیلڈ جیسے ٹائم ٹو لیو بدلتی رہتی ہیں اس لیے ہر آئی پی ماجول پر اس کی ویلیو پھرسےمعلوم کی جاتی ہے۔

    چیک سم کا algorithm یہ ہے:
    پہلے ہیڈر کی تمام 16 بٹ ورڈس کو جمع کیاجاتا ہے پھر انکا one's complement بنایا جاتا ہے اور پھر اس one's complement کا بھی one's complement بناتے ہیں اور اس ویلیو کو چیک سم فیلڈ میں رکھتے ہیں۔

    یہ آسانی سے بنایا جاسکتا ہے اور استعمال میں یہ پتہ چلا ہے کہ یہ طریقہ واجبی ہے۔ مگر اس کو algorithm کی Cyclic Rudenancy ( سی آر سی) استعمال کی جا سکتی ہے۔

    سورس ایڈریس - 32 بٹیں ( Source Address)

    اس کا ذکر پہلےگیا ہے۔

    ڈیسٹینیشن ایڈریس - 32 بٹیں ( Destination address )

    اس کا ذکر پہلے گیا ہے
    ۔​
     
  10. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088


    آپشن : غیرمعین لمبائی ( Option: Variable )

    آپشنوں کا ڈیٹاگرام میں موجود ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ مگر تمام آئی پی ماجولوں ( ہوسٹ اور گیٹ وے ) میں ان کو امپلیمنٹ کرتے ہیں۔ ان کا منتقل کرنا لازم نہیں لیکن ان کی امپلیمنٹیشن لازمی ہے۔

    بعض صورتوں میں ڈیٹا گرام میںسیکیورٹی آپشن کا موجود ہونا ‌

    آپشن بٹوں کی لمبائی متغیر ہوتی ہے۔ ان میں یا تو “ صفر “یا “اور آپشن“ کی سلیکشن ہے۔

    آپشن فارمٹ کے دو صورتیں:

    1 ۔ ایک آٹھ بٹ ( آکٹیٹ ) کا “ آپشن۔ٹائپ“
    2 ۔ ایک “ آپشن۔ٹائپ آکٹیٹ“ ، “ایک آپشن۔لینتھ آکٹیٹ“ ، اور “ایک آپشن۔ڈیٹا آکٹیٹ“ ۔

    ایک آپشن۔لینتھ آکٹیٹ گنتی کرتا ہے جس میں آپشن۔ ٹائپ آکٹیٹ کو آپشن۔ ڈیٹا آکٹیٹ اور وہ خود بھی گینتی میں ہوتا ہے۔

    آپشن۔ٹایپ آکٹیٹ تین فیلڈ کا ہے۔

    1 ۔ بٹ کاپی کیا ہوا “ فلیگ“
    2 ۔ بٹ آپشن “ کلاس“
    3 ۔ بٹ آپشن “ نمبر“

    بٹ کاپی کیا ہوا فلیگ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ آپشن تمام فریگمنٹیشن کےتمام فریگمنٹ میں کاپی کیا گیا ہے۔

    0 = کاپی کیا۔
    1 = کاپی نہیں کیا۔

    آپشن کلاسس

    0 = کنٹرول
    1 = آئندہ کے استعمال کے لیے۔
    2 = تخقیق تفشیش اور اعداد شمار کے لیے
    3 = آئندہ کےاستعمال کے لیے۔​
     
  11. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088

    کلاس | نمبر | لینتھ | بیان

    0 | 0 | -- | آپشن لسٹ کا خاتمہ
    0 | 1 | -- | نو آپریشن ۔ یہ صرف ایک آکٹیٹ ہے ۔ اس میں لینتھ آکٹیٹ نہیں ہوتا۔ یہ سیکوریٹی انفارمیشن لے جاتا ہے
    0 | 2 | 11 | کمپارٹمنٹیشن، یوزرگروپ ( ٹی سی سی) اور ہنڈلینگ کوڈ ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفینس کی وجہ سے
    0 | 3 | متغیر | کمزور سورس راؤٹینگ - سورس سے ملی ہوئی انفارمیشن کی بنا پر ڈیٹا گرام کو راؤٹ کرتی تھی
    0 | 9 | متغیر | پابند سورس راؤٹینگ - سورس سےملی ہوئی انفارمیشن کی بنا پر ڈیٹا گرام کو راؤٹ کرتی تھی
    0 | 7 | متغیر | ریکارڈ راؤٹ
    0 | 8 | 4 | اسٹریم آئی ڈی ۔ اسٹریم آئیڈینٹیفائر کو لےجاتی تھی۔
    2 | 4 | متغیر | انڑنیٹ ٹائم اسٹیمپ

    آپشن لسٹ کا آخر
    00000000
    Type=0

    یہ آپشن لسٹ کا خاتمہ ظاہر کرتی ہے ۔ یہ ضروری نہیں کے انٹر نیٹ ہیڈر کی لمبائی سےمتفق ہو۔ یہ تمام آپشن کا خاتمہ بتاتی ہے ۔ ہرایک آپشن کا انفرادی طور پرنہیں۔ ایسےاس وقت استعمال کرتے ہیں جب آپشن کا آخرانٹر نیٹ ہیڈر کی لمبائی سے متفق نہ ہو۔

    اس کی فریگمینٹیشن میں کاپی، شامل، یا کسی اور وجہ بناء پر خارج کیا جاسکتا ہے

     
  12. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088

    نو آپرشن
    00000001
    Type=0

    یہ آپشن دو آپشنوں کےدرمیان استعمال کیا جاسکتا ہے۔تاکہ 32 بٹ کی مقرر حدود پر آنے والے آپشن سے صف بندی کی جائے۔

    اس کی فریگمینٹیشن میں کاپی، شامل، یا کسی اور وجہ بناء پر خارج کیا جاسکتا ہے۔

    سیکیورٹی

    یہ آپشن ہوسٹ کوسیکیورٹی کے درجوں میں بانٹنے، پابندیاں اور ٹی سی سی ( بند کئے ہوئے یوزر گروپ) کے لیے ہے۔ اس کی فارمیٹ یہ ہے۔

    10000010 |0001011 | ایس ایس ایس --/ متغیر/-- ایس ایس ایس | سی سی سی --/ متغیر/-- سی سی سی| ایچ ایچ یچ --/ متغیر/-- ایچ ایچ یچ | ٹی سی سی|

    Type=130 Length=11

    سیکیوریٹی ( S-field) ۔ 16 بیٹیں

    سیکیوریٹی کے 16 درجات ( ان میں سے 8 مستقبل کے استعمال کے لیے ہیں)

    00000000 00000000 - بلا جماعت بندی
    00110101 11110001- معتبر
    10011010 01111000 - ای ایف ٹی او
    01001101 10111100 - ایم ایم ایم ایم
    00100110 01011110 - پروگرام
    00010011 10101111 - حد بند
    10001000 11010111 - خفیہ
    11000101 01101011 - حد سے زیادہ خفیہ
    11100010 00110101 - ( مستقبل کے استعمال کے لیے )
    11110001 10011010 - ( مستقبل کے استعمال کے لیے)
    01111000 01001101 - ( مستقبل کے استعمال کے لیے )
    10111101 00100100 - ( مستقبل کے استعمال کے لیے )
    01011110 00010011 - ( مستقبل کے استعمال کے لیے )
    10101111 10001001 - ( مستقبل کے استعمال کے لیے )
    11010110 11000100 - (مستقبل کے استعمال کے لیے )
    01101011 11100010- ( مستقبل کے استعمال کے لیے )
     
  13. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088

    کمپارٹمنٹ ( C-Field) - 16 بٹیں

    اس صورت میں جب کےانفارمیشن کی درجہ بندی نہیں کی جاتی اس فیلڈ میں تمام بٹیں کی ویلیو صفر ہوتی ہے۔ کمپارٹمنٹ فیلڈ کی دوسری ویلیو ڈیفینس انٹیلیجنس ایجینسی سےحاصل کی جاسکتی ہیں۔

    ہینڈلینگ پابندیاں ( H-Field) 16 ۔ بٹیں

    کنٹرول اور ریلیز کی مارکینگ alphanumeric digraphs ہیں اور ڈیفینس انٹیلیجنس ایجینسی کے Manual DIAM 65-19 میں اسٹینڈرڈ سیکیورٹی مارکینگ کے عنوان سےدرج ہیں۔

    ٹرانسمیشن کنٹرول کوڈ (TCC) ۔ 24 بیٹیں

    ٹرافیک کو علحیدہ کرتا ہے اور سبسکرائبرس کے درمیان ان کی پسند کی کنٹرول کیمیونٹیاں بناتا ہے ٹی۔سی۔سی کی ویلیو trigraphs ہیں۔ اور HQ DCA Code 530 میں درج ہیں۔

    اس کو فریگمنٹیشن پر کاپی کیا جانا ضروری ہے۔ یہ آپشن ڈیٹا گرام میں ایک دفعہ ظاہر ہوتا ہے۔

    کمزور سورس اور ریکارڈ راؤٹ۔ Loose Source and Record Route

    راؤٹ ڈیٹا --/ متغیر /-- | پوائنٹر | لمبائی |10000011|

    Type=131

    کمزور ( loose ) سورس اور ریکارڈ راوٹ ( LSRR)

    کمزور ( loose ) سورس اور ریکارڈ راوٹ ( ایل ایس آرآر ) آپشن کا کام انٹرنیٹ ڈیٹاگرام کےسورس کو وہ انفارمیشن مہیا کرے جوگیٹ وے کو ڈیٹا گرام کو ڈیسٹینیشن پر روانہ کرنے کے لیےاستعمال ہو اور اس کا کام راؤٹ کی انفارمیشن کو ریکارڈ کرنا بھی ہے۔

    آپشن کی شروعات آپشن ٹائپ کوڈ ٹائپ سےہوتی ہے۔ دوسرا آکٹیٹ آپشن کی لمبائی ہے جس میں آپشن ٹائپ کوڈ اور آکٹیت کی لمبائی، آکٹیٹ کا پوائنٹر اور لمبائی۔3 راؤٹ ڈیٹا کے آکٹیٹ۔ تیسرا آکٹیٹ راؤٹ ڈیٹا کا پوئینٹر ہےجوآنے والا سورس ایڈریس کی نشان دہی کرتا ہے جس کا ڈیٹا پروسس ہوگا۔
    یہ پوائنٹر اس آپشن پر منحصر ہے اور اس کی چھوٹی جائز ویلیو 4 ہے۔

    ایک راؤٹ ڈیٹا انٹرنیٹ ایڈریس سے مل کر بنتا ہے جو مسلسل (لگاتار ) ہوتے ہیں۔ ہرایک انٹرنیٹ ایڈریس 32 بٹیں یا 4 آکٹیٹ ہیں۔ اگر پوئینٹراس لمبائی سے بڑا ہے، سورس راؤٹ خالی ( اور ریکارڈیڈ راؤٹ بھرا ہے ) تو راوٹینگ، ڈیسٹینیشن فیلڈ کی بناء پرہوتی ہے۔


    اگرڈیٹا گرام ڈییسٹینیشن فیلڈ میں جو ایڈریس ہے تک پہونچ گیا ہے اور پوئینٹر لمبائی سے بڑا نہیں ہے، سورس راؤٹ میں کا اگلا ایڈریس، ڈیسٹینیشن فیلڈ کے ایڈریس کی جگہ لے لیتا ہے ۔اور ریکارڈیڈ راوٹ ایڈریس سورس ایڈریس کی جگہ لے لیتا ہے جو ابھی استعمال میں آیا ہے اور پوئینٹر میں 4 جمع کردیتے ہیں

    یہ ریکارڈیڈ راوٹ ایڈریس انٹرنیٹ ماجول کا اپنا ایڈیس ہے جو اس نیٹ ورک میں پہچانا جاتا ہے جس میں یہ ڈیٹاگرام بھیجا جارہا ہے۔

    یہ طریقہ جس میں سورس راوٹ کی جگہ ریکارڈیڈ راوٹ رکھ دیتے ہیں ( اگرچہ اس کی ترتیب سورس راؤٹ کی الٹ ہوتی ہے ) اس طریقہ میں آپشن ( اور مکمل آئی آرڈر ہیڈر ) کی لمبائی تبدیل نہیں ہوتی۔

    اگلےنیٹ ورک ایڈریس تک پہنچنے کے لیے گیٹ وے یا ہوسٹ آئی پی کو کسی بھی درمیانی گیٹ وے یا ان کے کسی بھی راؤٹوں کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔اس لئےیہ آپشن “ کمزور (loose) سورس راؤٹ“ کہلاتا ہے۔

    اس کو فریگمنٹیشن پر کاپی کرنا لازمی ہے۔ یہ ڈیٹا گرام میں ایک سےدفعہ ظاہر ہوتا ہے۔
     
  14. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088

    پابند سورس اور ریکارڈ راؤٹ۔ Strict Source and Record Route

    راؤٹ ڈیٹا --/ متغیر/-- | پوائنٹر | لمبائی |10001001|
    Type=137

    پابند ( strict )سورس ریکارڈ راوٹ (SSRR) آپشن کا کام انٹرنیٹ ڈیٹاگرام کےسورس کو وہ انفارمیشن مہیا کرے جوگیٹ وے کو ڈیٹاگرام کو ڈیسٹینیشن پر روانہ کرنے کے لیےاستعمال ہواور اس کا کام راؤٹ کی انفارمیشن کو ریکارڈ کرنا بھی ہے۔

    آپشن کی شروعات آپشن ٹائپ کوڈ ٹائپ سےہوتی ہے۔ دوسرا آکٹیٹ آپشن کی لمبائی ہے جس میں آپشن ٹائپ کوڈ اور آکٹیت کی لمبائی، آکٹیٹ کا پوائنٹر اور لمبائی۔3 راؤٹ ڈیٹا کے آکٹیٹ۔ تیسرا آکٹیٹ راؤٹ ڈیٹا کا پوئینٹر ہےجوآنے والا سورس ایڈریس کی نشان دہی کرتا ہے جس کا ڈیٹا پروسس ہوگا۔
    یہ پوائنٹر اس آپشن پر منحصر ہے اور اس کی چھوٹی جائز ویلیو 4 ہے۔

    ایک راؤٹ ڈیٹا انٹرنیٹ ایڈریس سے مل کر بنتا ہے جو مسلسل (لگاتار ) ہوتے ہیں۔ ہرایک انٹرنیٹ ایڈریس 32 بٹیں یا 4 آکٹیٹ ہیں۔ اگر پوئینٹراس لمبائی سے بڑا ہے، سورس راؤٹ خالی ( اور ریکارڈیڈ راؤٹ بھرا ہے ) تو راوٹینگ، ڈیسٹینیشن فیلڈ کی بناء پرہوتی ہے۔

    اگرڈیٹا گرام ڈییسٹینیشن فیلڈ میں جو ایڈریس ہے تک پہونچ گیا ہے اور پوئینٹر لمبائی سے بڑا نہیں ہے، سورس راؤٹ میں کا اگلا ایڈریس، ڈیسٹینیشن فیلڈ کے ایڈریس کی جگہ لے لیتا ہے ۔اور ریکارڈیڈ راوٹ ایڈریس سورس ایڈریس کی جگہ لے لیتا ہے جو ابھی استعمال میں آیا ہے اور پوئینٹر میں 4 جمع کردیتے ہیں.

    یہ ریکارڈیڈ راوٹ ایڈریس انٹرنیٹ ماجول کا اپنا ایڈیس ہے جو اس نیٹ ورک میں پہچانا جاتا ہے جس میں یہ ڈیٹاگرام بھیجا جارہا ہے۔

    یہ طریقہ جس میں سورس راوٹ کی جگہ ریکارڈیڈ راوٹ رکھ دیتے ہیں ( اگرچہ اس کی ترتیب سورس راؤٹ کی الٹ ہوتی ہے ) اس طریقہ میں آپشن ( اور مکمل آئی آرڈر ہیڈر ) کی لمبائی تبدیل نہیں ہوتی۔

    یہ آپشن پابند (strict ) سورس راؤٹ اس لیے کہلاتا ہے کیونکہ اگلے نیٹ ورک ایڈریس تک پہنچنے کے لیے گیٹ وے یا ہوسٹ آئی پی ماجول ڈیٹا گرام کو اگلے ایڈڑیس پر بھیجنے کے سورس راؤٹ میں د یئے گیٹ وے یا ہوسٹاستعمال کر کےdirectly connected نیٹ ورک کو directly بھیجتا ہے۔

    اس کو فریگمنٹیشن پر کاپی کرنا لازمی ہے۔ یہ ڈیٹا گرام میں ایک سے دفعہ ظاہر ہوتا ہے۔

     
  15. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088


    ریکارڈ راؤٹ ( Recod Route)

    راؤٹ ڈیٹا --/ متغیر /-- | پوائنٹر | لمبائی |00000111|
    Type=7

    ریکارڈ راوٹ آپشن، انٹرنیٹ ڈیٹاگرام کےراؤٹ کو ریکارڈ کرنے کےوسائل مہیا کرتا ہے۔

    اس آپشن کےشروعات آپشن ٹائپ کوڈ سےہوتی ہے۔ دوسرا آکٹیٹ آپشن لینتھ ہے جس میں آپشن ٹائپ کوڈ اور لینتھ کوڈ ، پوئینٹر آکٹیٹ اور راؤٹ ڈیٹا کا راؤٹ ڈیٹا لینتھ -3 آکٹیٹ شامل ہوتا ہے۔ تیسرا آکٹیٹ راؤٹ ڈیٹا پوئینٹر ہے جو وہ آکٹیٹ میں وہ جگہ بتاتا ہے جہاں راؤٹ ایڈریس کوشامل کیا جائےگا۔ یہ پوئینٹراس آپشن پرمنحصرہے۔ اور اسکی سب سے چھوٹی ویلیو 4 ہے۔

    ایک راؤٹ ڈیٹا مسلسل(series ) انٹرنیٹ ایڈریس سےمل کر بنتا ہے۔ ہرایک انٹر نیت ایڈریس 32 بٹیں یا 4 آکٹیٹ ہیں۔ اگر پوئینٹر ان کی لمبائی سےبڑا ہےاور ریکارڈیڈ راؤٹ بھرا ہے تو اوریجنل ہوسٹ اس آپشن کو اتنا بڑا بنائےگا کہ راؤٹ دیٹا کی جگہ میں آنے والے ایڈریسوں کوسماسکے۔ ایڈریس بڑھنےسے آپشن کا سائز تبدیل نہیں ہوتا۔ راؤٹ ایریا کوابتداً صفر کردیتےہیں۔

    جب ایک انٹرنیٹ ماجول ڈیٹاگرام کی راؤٹینگ کرتا ہے تو وہ یہ دیکھتا ہے کےریکارڈ راؤٹ آپشن موجود ہے۔اگر ریکارڈ راؤٹ آپشن موجود ہے تو وہ اپنا انٹرنیٹ ایڈریس ڈیٹاگرام میں شامل کردتا ہے۔ جہاں یہ ڈیٹا گرام جارہا ہے وہاں اس انٹر نیٹ ماجول کا انٹرنیٹ ایڈریس پہچاناجاتا ہے۔ یہ ایڈریس ریکارڈ راؤٹ کے اس آکٹیٹ شروع میں شامل ہوتا ہے جس کی پوئینٹر نےنشاندہی کی ہے اور پوئینٹر میں چار جمع کردیتا ہے۔

    اگر راؤٹ ڈیٹا ایریا پہلےسے ہی بھرا ہے ( پوئینٹر بھرچکا ہے) ڈیٹا گرام بغیرانٹرنیٹ ماجول کے ایڈریس کے اضافہ کے آگے روانہ کردیا جاتا ہے۔ اگر راؤٹ ڈیٹا ایریا مکمل نہیں بھرا اور کچھ جگہ باقی ہے مگر اتنی نہیں کہ پورا ایڈیس شامل کیا جا سکے تواوریجنل ڈیٹا گرام میں خامی قرار دے کراس کو رد کردیا جاتا ہے۔
    دونوں صورتوں میں ایک Problem indicator in ICMP سورس ہوسٹ کو بھیج سکتے ہیں۔

    فریگمنٹ پرکاپی نہیں کرتے۔ یہ صرف پہلےفریگمنٹ میں شامل ہوتا ہے اورصرف ایک دفعہ ڈیٹا گرام میں ظاہر ہوتا ہے۔

     
  16. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088

    اسٹریم آئیڈینٹیفائر ( Stream Identifier)

    |10001000|00000010| اسٹریم آئیڈینٹیفائر |
    Type=136 Length=4

    وہ نیٹ ورک جن میں اسٹریم کے لیےسہولتیں نہیں ہیں۔ ان نیٹ ورک میں یہ آپشن 16 بٹ SATNET اسٹریم آئیڈینٹیفائر کو بھیجنے کی سہولت مہیا کرتا ہے۔
    اس کو فریگمنٹیشن پر کاپی کرنا ضروری ہے۔ ڈیٹا گرام میں ایک دفعہ نظر آتا ہے۔

     
  17. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088


    انٹرنیٹ ٹائم اسٹیمپ ( Internet time Stamp )

    |01000100| لمبائی| پوئینٹر| اورفلو: فلیگ|
    | انٹرنیٹ ایڈریس |
    | ٹائم اسٹیمپ |
    | . |
    .
    .
    Type = 68

    آپشن لینتھ ، آپشن میں موجود آپشن کا مجموع ہے۔ جس میں لیتنھ، پوئینٹر، اور فلو/ اورفیلیگ آکٹیٹ شامل ہیں۔ ( بڑی لینتھ 40 ہے) ۔

    یہاں پوئینٹراس آپشن کےشروع سےلیکر ٹائم اسٹیمپ کے آخر تک کے آکٹیٹ اوراس میں جمع ایک (1+) کے برابرہوتا ہے۔ ( یعنی یہ آگےوالے ٹائم اسٹیمپ کی شروعات کےحصہ کی طرف اشارہ کرتا ہے )۔ اس کی جائز چھوٹی ویلیو5 ہے۔ اگر پوئینٹر، لینتھ سے بڑا ہے تو ٹائم اسٹیمپ بھرا ہوا ہے۔

    اورفلوبٹ ( oflw) [چار بٹیں] ، ان آئی ماجولوں کی تعداد ہے جو جگہ کی کمی کی وجہ سے ٹائم اسٹیمپ میں درج نہیں ہوسکے

    فیلیگ ( flg ) [چار بٹیں] کی ویلیو یہ ہیں۔

    صفر = صرف ٹائم اسٹیمپ۔ یہ یک بعد دیگرے 32 بٹ ورڈ میں درج کیا جاتا ہے۔

    ایک = ٹائم اسٹیمپ ہرایک Registering entity کےانٹرنیٹ ایڈریس سے پہلے آتی ہے۔

    تین = انٹر نیٹ ایڈریس فیلڈ پہلے سے ہی تعین ہوتے ہیں۔ آئی پی ماجول اس کی ٹائم اسٹیمپ درج کرتا ہے۔ جب کے وہ آئی پی ماجول کے ایڈریس کے برابرہوتی ہے اور یہ اگلے ایڈریس کو بتاتی ہے۔

    ٹائم اسٹیمپ، سیدھے ہاتھ کیطرف سےپڑھی جاتی ہے۔ یہ 32 بٹ ٹائم اسٹیمپ میلی سیکنڈ میں ہوتی ہے اور ٹائم رات کے بارہ بجے سےشروع ہوتا ہے۔ یہ یو۔ٹی ( یونیورسل) ٹائم میں ہوتی ہے۔ اگر یو۔ٹی کےمطابق وقت میلی سیکنڈ میں وقت ظاہرنہیں کیا جاسکےتو اس 32 بٹ ٹائم اسٹیمپ کی سب سے بڑی بٹ کو ایک کردیتے ہیں۔ اسے یہ ظاہرہوتا ہے کہ وقت یوٹی کےمطابق ، وقت میلی سیکنڈ میں نہیں ہے۔

    جس ہوسٹ سےڈیٹاگرام شروع ہوتا ہے اس ہوسٹ کو اس آپشن کےلیے ٹائم اسٹیمپ آکٹیٹ حصہ کو اتنا بڑا رکھناہوتا ہے کہ وہ ان تمام ٹائم اسٹیمپ کو شامل کرسکے جن کی امید ہو۔ ٹائم اسٹیمپ کو شامل کرنےسے آپشن کی لمبائی میں اضافہ نہیں ہوتا۔ ابتدا میں ٹائم اسٹیمپ میں کچھ موجود نہیں ہونا چاہیے یعنی صفر یا پھر انٹرنیٹ ایڈریس/ صفر کا جوڑا۔

    اگرٹائم اسٹیمپ کی جگہ پہلے سےبھر چکی ہے ( یعنی پوئینٹر لینتھ سے بڑا ہے ) تو ڈیٹاگرام میں بغیرٹائم اسٹیمپ جمع کئے اگے روانہ کردیتےہیں۔ لیکن اورفلو میں ایک جمع کردیاجاتا ہے

    اگر جگہ موجود ہے مگراتنی نہیں کہ ایک مکمل ٹائم اسٹیمپ کوشامل کیا جاسکے۔ تواس اوریجینل ڈیٹاگرام میں خامی سمجھ کراس کو رد کردیتے ہیں۔

    دونوں صورتوں میں ایک Problem indicator in ICMP سورس ہوسٹ کو بھیج سکتے ہیں۔

    ٹائم اسٹیمپ کے آپشن کو فریگمنٹیشن پر کاپی نہیں کرتے ۔ یہ پہلےفریگمیٹ میں ہوتا ہے۔ اور ایک دفعہ ڈیٹاگرام میں ظاہر ہوتا ہے۔ ​
     
  18. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    متغیر ( Padding)

    انٹرنیٹ ہیڈر پیڈینگ اس لے استعمال ہوتی ہے تاکہ انٹرنیٹ ہیڈر 32 بٹ مکمل کرنے کے لیےاستعمال کرتے ہیں۔ پیڈینگ صفر ہوتی ہے۔
     
  19. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088

    تبادلہٴ خیال
    -------------------------------------------------------------------------​



    پروٹوکال کو روبسٹ ہونا ضروری ہے۔ ہرحصہ دوسرے حصوں کے ساتھ کام کرناچاہیئے۔ اگرچہ اس پرٹوکال پرمباحثہ کرنے کا مقصد اس کو واضع کرنا ہے۔ لیکن پھربھی اس کو سمجھنےمیں اختلافات آسکتےہیں۔ اس پروٹوکال کواستعمال کرکےانفارمیشن کوبھیجنےمیں احتیاط لازمی ہے اورانفارمیشن کو وصول کرنے یں وساعت ہونی ضروری ہے۔ دوسرے الفاظ میں بھیجنے والےڈیٹاگرام احتیاط سےبنائیں جائیں مگر آنےوالےڈیٹاگرام کو وصول کیا جائےاگر انفارمیشن کا حصہ مکمل اور اس کا مطلب واضع ہو۔ اگرتکنیکی خامی ہوتواس کو نظرانداز کیا جاسکے

    انٹرنیٹ کی بنیادی سروس ڈیٹاگرام سےمخصوص ہے جس میں گیٹ وے پرڈیٹاگرام کوفریگمینٹ میں توڑ کربھیجتےہیں۔ ڈیسٹینیشن میں موجود انٹرنیٹ پروٹوکال ماجول ان فریگمینٹ کو پھر سےجوڑ کرایک بناتی ہے۔ نیٹ ورک کےاندریا دونیٹ ورک کےگیٹ وے کےدرمیان کے فریگمنٹیشن اور ری اسمبلی کے باہمی عہد میں انٹرنیٹ پروٹوکال یا ہائی لیول پروٹوکال حصہ نہیں لیتیں۔ اس قسم کی فریگمنٹیشن اور ری اسمبل کونیٹ ورک ڈیپینٹینٹ یا انٹرانیٹ فریگمنٹیشن کہا جاتا ہے۔ اس کا ذکر یہاں نہیں کیا جائےگا۔

    انٹرنیٹ ایڈریسس ہوسٹ کےلیول پر، سورس اورڈیسٹینیشن میں امتیاز کرتے ہیں اور پروٹوکال فلیڈ بھی مہیا کرتے ہیں۔ یہاں یہ سمجھا گیا ہے کہ ہوسٹ میں اندرونی چھانٹ بین ہوسٹ کی اپنی ذمہ داری ہے

     
  20. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088

    ایڈریسنگ
    ---------------------


    نیٹ ورکس کوایڈریس دینےمیں سہولت پیدا کرنے لےلیےاور بڑی تعداد میں چھوٹےاور درمیانی نیٹ ورک بنانے کے لئے ایسی اسکیم استعمال کی گئی ہے جس میں ایڈریس فیلڈ ایک چھوٹی تعداد کےبڑے نیٹ ورکوں کو بڑی تعداد میں ہوسٹ ایڈریس بنانےدیتی ہے۔ اوردرمیانی سائز کےنیٹ ورکوں کودرمیانی مقدار میں ہوسٹ بنانےدیتی ہے اور ایک بڑی تعداد میں نیٹ ورک کوچھوٹی تعداد میں ہوسٹ بنانےدیتی ہے۔
    اس کےعلاوہ اور ایڈریسنگ کو بڑھانے کےلیےاسکیپ کوڈ بھی دیا گیا ہے

    ایڈریس فارمٹس

    کلاس ہائی آرڈر بٹیں

    0 ۔۔۔۔۔۔۔ 7 بٹیں نیٹ کے لیے اور 24 بٹیں ہوسٹوں کے لیے
    10 ۔۔۔۔۔ 12 بٹیں نیٹ کے لیے اور 16 بٹیں ہوسٹوں کے لیے
    110 ۔۔۔ 21 بٹیں نیٹ کے لیے اور 8 بٹیں ہوسٹوں کے لیے
    111 ۔۔۔ ایڈریسنگ موڈ کو بڑھانے کے لیے اسکیپ کوڈ

    اگرایڈیس فیلڈ میں دی گئی ویلیوصفر ہے تو اس نیٹ ورک کو“ یہ نیٹ ورک“ یعنی جس نیٹ ورک میں اس وقت موجود ہیں۔ یہ ایڈریس صرف آئی۔سی۔ایم۔پی میسیج میں استعمال ہوتا ہے۔ فی الحال ایڈریسنگ موڈ کو بڑھانے کےلیےاسکیپ کوڈ کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ یہ دونوں خصوصیت مستقبل میں استعمال کےلیے رکھی گئی ہیں۔
    استعمال ہونےوالی ویلیو کو اپینڈیکس میں بتایاجائےگا۔

    لوکل نیٹ ورک میں لوکل ایڈریس میں یہ سہولت ہونی چاہیے کہ وہ ایک فزیکل ہوسٹ کو کئی مختلف انٹرنیٹ ہوسٹ ظاہر کرسکے۔ دوسرے الفاظ میں ہوسٹ میں موجود انٹرفیس کارڈ اپنےایک انٹرنیٹ ایڈریس کی میپینگ ( نقشہ کشی ) کئی انٹرنیٹ ایڈریس میں کرسکے۔ اس کےعلاوہ کئی انٹرنیٹ ایڈریس کی میپینگ ایک انٹرنیٹ ایڈریس میں ظاہر کرسکے۔ ایک ہوسٹ میں کئی فزیکل انٹرفیس ہوسکیں اور ان میں سےآئے ہوئےڈیٹاگراموں کو ایک ڈیٹاگرام سمجھ سکے جیسے وہ سب ایک ہوسٹ کےلیےہیں۔

    ارپانیٹ، سٹنیٹ، پرنیٹ اوردوسرے نیٹ ورک کےایڈریسوں اور انٹرنیٹ ایڈریس میں میپینگ کو اپینڈیکس میں بتایاجائےگا۔
     

اس صفحے کی تشہیر