انورشعُور ::::: نہ ہوں آنکھیں تو پیکر کچھ نہیں ہے ::::: Anwer Shaoor

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 14, 2015

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    غزل
    [​IMG]

    نہ ہوں آنکھیں تو پیکر کچھ نہیں ہے
    جو ہے باہر، تو اندر کچھ نہیں ہے

    محبّت اور نفرت کے عِلاوہ
    جہاں میں خیر یا شر کچھ نہیں ہے

    مجھے چھوٹی بڑی لگتی ہیں چیزیں
    یہاں شاید برابر کچھ نہیں ہے

    حقِیقت تھی، سو میں نے عرض کردی
    شِکایت بندہ پَروَر کچھ نہیں ہے

    نہ ہو کوئی شریکِ حال اُس میں
    تو اِنساں کے لِیے گھر کچھ نہیں ہے

    دریچہ کھول کر دیکھا تھا میں نے
    قریب و دُور منظر کچھ نہیں ہے

    انورشعُور
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 14, 2015

اس صفحے کی تشہیر