ابن انشا انشا جی کیا بات بنے گی -ابنِ انشا

پیاسا صحرا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 16, 2009

  1. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    انشا جی کیا بات بنے گی


    انشا جی کیا بات بنے گی ہم لوگوں سے دور ہوئے
    ہم کس دل کا روگ ہوئے ، کس سینے کا ناسور ہوئے
    بستی بستی آگ لگی تھی ، جلنے پر مجبور ہوئے
    رندوں میں کچھ بات چلی تھی شیشے چکنا چور ہوئے
    لیکن تم کیوں بیٹھے بیٹھے آہ بھری رنجور ہوئے
    اب تو ایک زمانہ گزرا تم سے کوئی قصور ہوئے


    اے لوگو کیوں بھولی باتیں یاد کرو ، کیا یاد دلاؤ
    قافلے والے دور گئے ، بجھنے دو اگر بجھتا ہے الاؤ
    ایک موج سے رک سکتا ہے طوفانی دریا کا بہاؤ
    سمے سمے کا اک راگ ہے ، سمے سمے کا اپنا بھاؤ
    آس کی اجڑی پھلواری میں یادوں کے غنچے نہ کھلاؤ
    پچھلے پہر کے اندھیارے میں کافوری شمعیں نہ جلاؤ


    انشا جی وہی صبح کی لالی ۔ انشا جی وہی شب کا سماں
    تمہی خیال کی جگر مگر بھٹک رہے ہو جہاں تہاں
    وہی چمن وہی گل بوٹے ہیں وہی بہاریں وہی خزاں
    ایک قدم کی بات ہے یوں تو روپہلے خوابوں کا جہاں
    لیکن دور افق دیکھو لہراتا گھنگھور دھواں
    بادل بادل امڈ رہا ہے سہج سہج پیچاں پیچاں


    منزل دور دکھے تو راہی رہ میں بیٹھ سستائے
    ہم بھی تیس برس کے ماندے یونہی روپ نگر ہو آئے
    روپ نگر کی راج کماری سپنوں میں آئے بہلائے
    قدم قدم پہ مدماتی مسکان بھیرے ہاتھ نہ آئے
    چندرما مہراج کی جیوتی تارے ہیں آپس میں چھپائے
    ہم بھی گھوم رہے ہیں لے کر کاسہ انگ بھبھوت رمائے
    جنگل جنگل گھوم رہے ہیں رمتے جوگی سیس نوائے


    تم پریوں کے راج دلارے تم اونچے تاروں کے کوی
    ہم لوگوں کے پاس یہی اجڑا انبر ، اجڑی دھرتی
    تو تم اڑن کھٹولے لے کر پہنچو تاروں کی نگری
    ہم لوگوں کی روح کمر تک دھرتی کی دلدل میں پھنسی
    تم پھولوں کی سیجیں ڈھونڈو اور ندیا سنگیت بھری
    ہم پت جھڑ کی اجڑی بیلیں زرد زرد الجھی الجھی


    ہم وہ لوگ ہیں گنتے تھے تم کل تک جن کو پیاروں میں
    حال ہمارا سنتے تھے تو لوٹتے تھے انگاروں میں
    آج بھی کتنے ناگ چھپے ہیں دشمن کے بمباروں میں
    آتے ہیں نیپام اگلتے وحشی سبزہ زاروں میں
    آہ سی بھر کے رہ جاتے ہو بیٹھ کے دنیا داروں میں
    حال ہمارا چھپتا ہے جب خبروں میں اخباروں میں


    اوروں کی تو باتیں چھوڑو ، اور تو جانے کیا کیا تھے
    رستم سے کچھ اور دلاور بھیم سے بڑھ کر جودھا تھے
    لیکن ہم بھی تند بپھرتی موجوں کا اک دھارا تھے
    انیائے کے سوکھے جنگل کو جھلساتی جوالا تھے
    نا ہم اتنے چپ چپ تھے تب، نا ہم اتنے تنہا تھے
    اپنی ذات میں راجا تھے ہم اپنی ذات میں سینا تھے
    طوفانوں کا ریلا تھے ہم بلوانوں کی سینا تھے

    ابنِ انشا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ جناب ابنِ انشا کی خوبصورت نظم شیئر کرنے کیلیے!
     

اس صفحے کی تشہیر