انشاء جی اُٹھو اب کُوچ کرو ۔ اسد امانت علی خان

فہیم ملک جوگی نے 'موسیقی کی دنیا' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 4, 2016

  1. فہیم ملک جوگی

    فہیم ملک جوگی محفلین

    مراسلے:
    207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    انشاء جی اُٹھو اب کُوچ کرو اس شہر میں جی کا لگانا کیا۔
    وحشی کوسکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا۔

    پھر ہجر کی لمبی رات یہاں سنجوگ کی تو بس اک گھڑی۔
    جو دل میں ہے لب پر آنے دو شرمانا کیا گھبرانا کیا۔

    اس دل کے دریدہ دامن میں دیکھو تو سہی سوچو تو سہی۔
    جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا۔

    شب گزری چاند بھی ڈوب گیا زنجیر پڑی دروازے پر۔
    کیوں دیر گئے گھر آئے ہو سجنی سے کرو گے بہانہ کیا۔

    رہتے ہو جو ہم سے دور بہت مجبور ہو تم مجبور بہت۔
    ہم سمجھوں کا سمجھانا کیا ہم بہلوں کا بہلانا کیا۔

    جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کریں۔
    دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا۔

    شاعر:- ابنِ انشاء۔
    آواز :- اسد امانت علی خان ۔
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 4, 2016
  2. فہیم ملک جوگی

    فہیم ملک جوگی محفلین

    مراسلے:
    207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy

اس صفحے کی تشہیر