انتخابی اصلاحات (انڈیا)

الف نظامی

لائبریرین
انتخابی اصلاحات​
سپریم کورٹ آف انڈیا نے 2001 میں داخل کی گئی دیوانی اپیل نمبر 7178 حکومت ہند بنام ایسوسی ایشن فار ڈیموکر ٹیک ریفارمس اور دیگر کے سلسلے میں 2 مئی 2002 کے اپنے احکامات کے ذریعہ الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کیں کہ وہ پارلیمنٹ یا ریاست کے مقننہ کا انتخاب لڑنے کے خواہش مند امیدواروں کے لیے نامزدگی کا غذات کے ایک لازمی حصے کے طور پر حلف نامہ حاصل کرے۔ اس حلف نامے میں متعلقہ امیدوار کے ذریعہ اگر کوئی مجرمانہ ریکارڈ ہو تو اس کے متعلق معلومات: اس کے اپنے یا شوہر ؍بیوی یا دست نگر کے نام منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد: واجبات؍ سرکاری دین داریاں ہو ں تو اس کی معلومات اور تعلیمی لیاقت کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جانی چاہیے۔

سپریم کورٹ کے درج بالا 2 مئی 2002 کے فیصلے اور احکامات کے ذریعے دی گئی ہدایات کے مطابق الیکشن کمیشن نے 28 جون 2002 کو یہ حکم جاری کیا کہ ہر ایک امیدوار کو اپنی نامزدگی داخل کرتے وقت تحریری طور پر یہ معلومات فراہم کرنی ہوگی کہ اسے ماضی میں کوئی سزا تو نہیں ملی ہے یا اس کے خلاف کوئی معاملہ زیر غور تونہیں ہے اس کے علاوہ جائیداد اور واجبات، تعلیمی لیاقتوں کے بارے میں کمیشن کے مجوزہ حلف نامے کے فارم میں یہ ساری معلومات مہیا کرنی ہوں گی۔
صدر جمہوریہ ہند نے عوام کی نمائندگی ایکٹ 1951 میں ترمیم کے ذریعہ24 اگست2002 کو عوامی نمائندگی (ترمیم) آرڈی نینس 2002 جاری کیا۔اس میں سیکشن 33B شامل کیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن کے ذریعہ مورخہ 28 جون 2002 کو دیے گئے احکامات حقیقتاً غیر موثر ہوں گے۔ مذکورہ آرڈی نینس کے نفاذ کے لیے حکومت نے 3 ستمبر 2002 کو ایک اعلانیہ جاری کرکے انتخابی قواعد وضوابط 1961 میں ترمیم کی۔ عوامی نمایندگی (تیسری ترمیم) قانون 2002 جس میں 24 اگست 2002 کا آرڈی نینس شامل کیا گیا تھا اور 24اگست 2002 کے صدر کے آرڈی نینس کے آئینی جواز کو چیلنج دیتے ہوئے ایسوسی ایشن فار ڈیمو کرٹیک ریفارم، پیلیس یونین فار سول لبرٹیز اور لوک ستا نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں تین الگ الگ رٹ عرضداشت دائر کیں۔ سپریم کورٹ نے 13 مارچ 2003 کو حکم ؍فیصلہ جاری کر کے ترمیم کیے گیے قانون کی دفعہ 33B کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ کمیشن کے ذریعہ جاری کیے گئے امیدواروں کی جائیدا د؍ دین داریوں اور تعلیمی لیاقتوں کے بارے میں اطلاع دیئے جانے کے پہلے کے احکامات بر قرار رہیں گے اور کمیشن کویہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ زیر سماعت معاملے جن میں عدالت کے ذریعہ سماعت کی گئی ہے، عوامی نمایندگی ایکٹ 1951 کے سیکشن 33A کے نفاد کو یقینی بنانے کے لیے ترمیم شدہ ہدایات جاری کرے۔ الیکشن کمیشن نے 13 مارچ 2003 کو متذکرہ بالا احکامات کی تعمیل کی غرض سے آئین کے آرٹیکل 324 کے ذریعہ حاصل اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے 27 مارچ 2003 کو درج ذیل احکامات جاری کیے :
(i) ہر ایک امید وار کو ریاست کی کونسلوں، لوک سبھا، ر یاستوں کی قانون ساز اسمبلی یا ریاستی قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت مجوزہ حلف نامے کے فارم میں سپریم کورٹ کے ذریعہ صراحت کیے گئے درج ذیل امور سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنی ہوگی۔
(a) کیا نامزدگی فائل کرنے سے چھ مہینے قبل متعلقہ امیدوار کے خلاف کوئی ایسا خلاف ورزی قانون کا معاملہ درج ہے یا زیر سماعت ہے جس میں اسے دوسال یا اس سے زیادہ کی سزا ہو سکتی ہو اور عدالت کے ذریعہ اختیار سماعت میں لیا گیا ہو، اگر ہاں تو تفصیل لکھیں۔
(b) امیدوار اور اس کے شوہر ؍بیوی اور دست نگر کی جائیداد (منقولہ یا غیر منقولہ اور بنکوں میں جمع رقم) وغیرہ کی تفصیل ،
(c) اگر کوئی واجبات ہوں تو اس کی تفصیل خاص طور سے سرکاری مالیاتی ادارے کے واجبات ہوں یا سرکاری دین داریاں ہوں،
(i) امیدوار کی تعلیمی لیاقت
(ii) ہر امید وار کو یہ حلف نامہ فرسٹ کلاس مجسٹریٹ یا نوٹری پبلک یا متعلقہ ریاست کے ہائی کورٹ کے ذریعہ مقرر کمشنر کے سامنے داخل کرنا ہو
(iii) اگر کوئی امیدوار حلف نامہ داخل نہیں کرتا ہے تو اسے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی مانی جائے گی اور ریٹرننگ افسر نامزدگی کے کاغذات کی جانچ کرتے وقت متعلقہ امید وار کی نامزدگی مسترد کر سکتا ہے
(iv) ہر امید وار کے ذریعہ دیے گئے مذکورہ حلف نامہ میں دی گئی معلومات کو ریٹرننگ افسر کے ذریعہ اشاعت کرنا ہوگی وہ حلف نامے کی ایک نقل اپنے دفتر کے نوٹس بورڈ پرچسپاں کرے گا اور حلف نامے کی نقول دیگر سبھی امیدواروں، اخبار والوں اور الیکٹرونک میڈیا کو آسانی سے مہیا کرانی ہوں گی
(v) اگر کوئی مخالف امید وار حلف نامہ دے کر مذکورہ معلومات کی تردید کرنے والی کوئی اطلاع دیتا ہے تو اس مخالف امیدوار کے حلف نامے کو بھی متعلقہ امیدوار کے حلف نامے کے ساتھ ساتھ عام کرنا ہوگا جیسا کہ اوپر ہدایت دی گئی ہے۔ حلف نامے میں کوئی غلط معلومات دینا عوامی نمائندگی قانون 1951 کی دفعہ125A کے تحت انتخابی خلاف ورزی ہوگی جس میں چھ مہینے کی سزایا جرمانہ یا دونوں ہو سکتا ہے۔ ترمیمات اگست 1997 میں پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا تھا جو صدارتی اور نائب صدارتی انتخاب(ترمیم) ایکٹ 1997 کہلاتا ہے۔ یہ صدارتی اور نائب صدارتی انتخاب قانون 1952 میں ترمیم کے لیے پاس کیا گیا تھا اس کے تحت تجویز کنندہ (مجوز) اور موید (تجویز کی حمایت کرنے والوں) کی تعداد 10 سے بڑھا کر ہر ایک کے لیئے 50 کردی گئی ہے۔ نائب صدر کا انتخاب لڑنے کے لیے مجوز اور موید کی تعداد پانچ سے بڑھا کر 20 کر دی گئی ضمانت جمع کرنے کی رقم صدر اور نائب صدر کا انتخاب لڑنے کے لیے 2,500 سے بڑھا کر 15,000 روپے کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عوام کی نمایندگی (ترمیم) ایکٹ 1999 ، نومبر1999 میں عوم کی نمایندگی ایکٹ 1951 کے سیکشن60 شق(B) کے بعد نیا شق(C) شامل کرنے کے لیے یہ قانون وضع کیا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں ہندوستان کے الیکشن کمیشن کے ذریعہ حکومت کی صلاح سے کسی بھی طبقے کے اشخاص کو نوٹیفائیڈ کیا جاسکتا ہے اور نوٹیفائیڈ طبقے کے اشخاص اپنے انتخابی حلقے میں ہونے والے انتخاب میں ڈاک کے ذریعہ اپنے حق رائے دہندگی کا استعمال کر سکتے ہیں تاکہ کسی اور طریقے سے بہ لحاظ شرط یہ کہ وہ انتخاب کے قواعدو ضوابط 1961 میں مذکور شرائط کی تکمیل کرتے ہوں۔ اس دفعہ کا مقصد کشمیر کے مہاجروں کوتیر ہویں لوک سبھا کے عام انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی سہولیات مہیا کرنا تھا۔ پارلیمنٹ نے جون 1998 میں عوامی نمایندگی (ترمیم) قانون 1998 بھی پاس کیا، اسے خاص ایکٹ 1951 کے سیکشن 159 میں نیا سیکشن شامل کرنے کے لیے پاس کیا ۔ یہ ایکٹ انتخابی ڈیوٹی کے لیے اسٹاف کی مانگ سے متعلق ہے۔ اس ترمیم شدہ سیکشن 159 کی بنا پر مقامی اتھارٹیوں، یونیورسٹیوں، قومیائے گئے بینکوں، لائف انشورنس کارپوریشن، سرکاری اداروں اور سرکاری امداد یافتہ دیگر اداروں وغیرہ کے ملازمین کو انتخابی ڈیوٹی پر تعیناتی کے لیے بلایا جاسکتا ہے۔ پارلیمنٹ نے اگست 200 میں بہار کی نوتنظیم قانون، 2000 ، مدھیہ پردیش کی نوتنظیم قانون 2000 پاس کیا یہ قوانین بہار، مدھیہ پردیش اور اترپردیش کی ریاستوں کی نوتنظیم کے لیے وضع کیے گئے تاکہ نئی ریاستوں جھارکھنڈ، چھتیس گڈھ اور اترانچل کی تشکیل کی جاسکے۔ اترپردیش (نوتنظیم) قانون 2000 کی تعمیل میں الیکشن کمیشن نے نومبر 2001 میں نئی ریاست اترانچل میں 70 اسمبلی انتخابی حلقوں کے حدود کا تعین کیا۔ اس کے بعد ریاست کے لیے باقاعدہ قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کے لیے فروری مارچ 2001 میں وہاں عام انتخاب کرائے گئے۔ ہر ریاست میں پارلیمانی اور اسمبلی انتخابی حلقوں کی تقسیم 1991 کی مردم شماری کی بنیاد پر کرنے اور اس سے متعلق معاملوں کو پارلیمنٹ نے آئین (84 ویں ترمیم) قانون 2001 اور حد بندی قانون 2002 نافذ کیا ہے۔ پارلیمنٹ نے عوامی نمایندگی قانون 1951 کے سیکشن کے بعض وفعات میں ترمیم کرنے کے لیے 7 جنوری2003 کو عوامی نمایندگی (ترمیم) قانون 2002 بھی نافذ کیا اس میں سزا کی بنیاد پر انتخاب کے لیے نا اہل ہونے کے اعلان کرنے کا بھی اہتمام ہے۔ تادیبی دائرہ اختیار سپریم کورٹ میں دائر رٹ عرضداشت 1993 کی (C )نمبر 606 (الیکشن کمیشن آف انڈیا بنام حکومت ہند اور دیگر ) کے ذریعہ الیکشن کمیشن کے تادیبی دائرہ اختیارکی حد اور اس کے صحیح مقصد کا سوال اٹھایا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس رٹ عرضداشت کا تصفیہ 21 ستمبر2000 کو جاری اپنے حکم کے ذریعہ کیا۔ یہ تصفیہ کمیشن اور حکومت کے درمیان ہوئے تصفیہ کی شرائط کے مطابق کیا گیا۔ سمجھوتے کی شرائط یہ ہیں: الیکشن کے دوران ڈیوٹی پر تعینات کیے گئے افسران، اسٹاف اور پولیس عملہ پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ذریعہ درج ذیل تادیبی کارروائی کیے جانے کا اختیار حاصل ہے۔ (a) کسی بھی افسر؍ملازم؍ پولیس عملہ کے ذریعہ ڈیوٹی پر لاپروائی برتنے یا احکامات کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں اسے معطل کیا جاسکتا ہے۔ (b) کسی بھی افسر؍ملازم؍ پولیس عملے کی جگہ پر دوسرے ملازم کوڈیوٹی پر لگانا اور متبادل ملازم کو اس کی روش کی رپورٹ کرتے ہوئے واپس اس کے کیڈر میں بھیجنا۔(c) الیکشن ڈیوٹی کے دوران اپنے فرائض میں کوتا ہی کرنے پر یا کسی بھی طرح کی لاپروائی برتنے پر تادیبی کارروائی کرنے کے لیے مجاز افسر کو سفارش کرنا۔ اس طرح کی سفارش پر تادیبی کارروائی کرنے والی اتھارٹی کو فوری کارروائی کرنی ہوگی اور جو بھی کارروائی کی گئی ہے اس کی اطلاع الیکشن کمیشن کو دینی ہوگی۔ (d)حکومت ہند، ریاستی حکومتوں کو بھی صلاح دے گی کہ وہ درج بالا ضوابط اور فیصلوں کی پابندی کرے کیونکہ کافی بڑی تعداد میں الیکشن عملہ انھیں کی انتظامی نگرانی میں رہتے ہیں۔ الیکشن کے دوران انتخابی ڈیوٹی کے لیے تعینات پولیں عملہ اور ملازمین کی انتظام پذیری اب حکومت ہند اور الیکشن کمیشن کے درمیان ہونے والے اتفاق اور سپریم کورٹ آف انڈیا کے ذریعہ مندرج اصولوں اور فیصلوں کے مطابق کی جاتی ہے۔ رائے دہندگان کی لازمی شناخت فروری 2002 میں ہوئے ہریانہ کی قانون سازاسمبلی کے لیے عام انتخاب کے دوران کمیشن نے کچھ دستاویزی شہادت کے حوالے کے ساتھ ووٹروں کی لازمی شناخت کے لیے تاریخی فیصلہ لیااور یہ ہدایت دی کہ ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن پر اپنا انتخابی فوٹو شناختی کارڈ (EPIC) پیش کرنا ہوگا۔ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا تاکہ فرضی /بوگس ووٹنگ پر روک لگائی جاسکے اور یہ یقینی بنایا جاسکے کہ انتخاب میں صرف اصل ووٹر ہی ووٹ دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا گیا کہ کوئی بھی حقیقی ووٹر جس کا نام ووٹرلسٹ میں ہے اپنی حق رائے دہندگی سے محروم نہ ہو اب اس کے لیے کمیشن نے حقیقی ووٹروں کے لیے متبادل وموزوں شناختی دستاویز کی تجویز پیش کی ہے جو کسی جائز وجہ سے اپنا انتخابی فوٹو شناختی کارڈ نہیں پیش کر پائے۔ ریاست میں ساتھ ستھرے انتخاب کو یقینی بنانے کے لیے اس قدم کی کافی پذیر ائی ہوئی۔ کمیشن تبھی سے ووٹروں کی شناخت لازمی کرنے کے اپنے فیصلے کو ملک بھر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں نافذ کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔ جموں وکشمیر ریاست میں ہوئے انتخاب کے دوران ووٹروں کی شناخت لازمی کرنے کا عمل ستمبر اکتوبر 2002 میں بھی لاگو کیا گیا۔ سیاسی پارٹیوں کا رجسٹریشن عوامی نمایندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 29A کے تحت الیکشن کمیشن کے ذریعہ سیاسی پار ٹیوں کا رجسٹریشن ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ پارٹی کو انتخاب میں اس کے انتخابی کار کردگی کو دیکھتے ہوئے بعض شرائط کی تکمیل کی بنیاد پر قومی یا ریاستی سطح کی پارٹی کے طور پربھی تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کو ریاستی سطح کی پارٹی کے طور پر تبھی تسلیم کیا جاسکتا ہے اگر وہ یا تو لوک سبھا یا متعلقہ ریاست کی اسمبلی میں پچھلے عام انتخاب کے دوران کھڑے کیے گئے اس کے امیدواروں نے کل جائزووٹوں میں سے کم سے کم چھ فی صدووٹ حاصل کیے ہوں؟ اور اس کے علاوہ اسمبلی کے لیے پچھلے عام انتخاب کے دوران کم سے کم اس کے دو ممبر اسمبلی کے لیے منتخب کیے گئے ہوں، یا ریاستی اسمبلی کی کل سیٹوں کی تعداد میں کم سے کم اسے تین فی صد سیٹیں حاصل ہوں۔ (کوئی بھی کسر جو نصف سے زیادہ ہو تو ایک مانا جائے گا ۔ یا اس کو عام انتخاب میں اسمبلی کی کم سے کم تین سیٹیں ملی ہوں، اس عام انتخاب میں جو بھی زیادہ ہو کسی بھی سیاسی پارٹی کو قومی سطح کی پارٹی کے طور پر تبھی تسلیم کیا جا سکتا ہے جب پچھلے عام انتخاب میں لوک سبھا یا ریاستوں کی اسمبلی کے لیے چاریا اس سے زیادہ ریاستوں میں کھڑے کیے گئے اس کے امیدواروں نے عام انتخاب کے دوران متعلقہ ریاست میں پڑے کل جائز ووٹوں میں کم سے کم چھ فی صد ووٹ حاصل کیے ہوں اور اس کے علاوہ مذکورہ عام انتخاب میں کسی بھی ریاست یا ریاستوں سے اس کے کم سے کم چار امیدوار لوک سبھا کے لیے منتخب کیے گئے ہوں؟ یا پچھلے عام انتخاب میں لوک سبھا کے لیے منتخب اس کے امیدواروں کی تعداد ہندوستان کے کل پارلیمانی انتخابی حلقے کی کم سے کم دو فیصد ہو، کوئی کسر جو نصف سے زیادہ ہو وہ ایک مانا جائے گا اور مذکورہ امیدوار اس ہائوس میں کم سے کم تین ریاستوں سے منتخب ہو کر آنے چاہئیں۔ قومی پارٹی کے لیے پورے ملک میں مخصوص چنائو نشان محفوظ ہوتا ہے اور ریاستی پارٹی کے لیے ان کی ریاست یا ریاستوں میں چنائو نشان محفوظ ہوتا ہے، جہاں اسے بطور ریاستی پارٹی تسلیم کر لیا گیا ہو۔ یہ محفوظ نشانات صرف انھیں پارٹیوں کے امیدواروں کے لیے دئیے جاتے ہیں جن کے لیے وہ محفوظ ہوتے ہیں سال 1999 میں عام انتخابات کے دوران کمیشن کے ذریعہ تسلیم شدہ چھ قومی پارٹیاں اور 48 ریاستی پارٹیاں تھیں۔ مثالی قواعد وضوابط انتخاب کے قواعد وضوابط کے بارے میں حکومت ہند اور الیکشن کمیشن کے درمیان ایک مفاہمت ہوئی جس میں درج ذیل امور شامل کیے گئے ہیں(a) مثالی قواعد وضوابط انتخاب کے اعلان کی تاریخ سے نافذ ہو جائیں گے نہ کہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کی تاریخ سے، (b ) عام طور پر انتخاب کی تاریخ کا اعلان نوٹیفکیشن جاری ہونے کی تاریخ سے تین ہفتہ کی زیادہ مدت سے قبل نہیں کیا جائے گا۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں کمیشن نے بھارت الیکٹرانکس کارپوریشن (BEL) ‘ بنگلور اور الیکٹرانکس کارپوریشن آف انڈیا حیدر آباد سے 1,50,000 الیکٹرانک ووٹنگ مشینین(EVMs) خریدی تھیں۔ عوامی نمایندگی قانون 1951 اور انتخابی اصولوں کے ضوابط 1961 میں علی الترتیب 1989 اور 1992 میں ترمیم کر کے انتخاب میں الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر اہتمام کیا گیا۔ لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر 1998 سے قبل ان مشینوں کا استعمال انتخابات میں نہیں ہوسکا۔ کمیشن نے نومبر 1998 میں چھوٹے پیمانے پر ان مشینوں کا استعمال کرنے کا فیصلہ لیا۔ جیسا کہ بتایا گیا کہ ان مشینوں کا استعمال کامیاب رہا اور اس کے بعد انتخابات میں بڑے پیمانے پر ان کا استعمال کیا گیا۔ لوک سبھا کے اگلے عام انتخاب کے لیے جو کہ بالعموم ستمبر- اکتوبر 2004 میں ہونا ہے کمیشن نے سبھی پارلیمانی انتخابی حلقوں میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں استعمال کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے لیے تقریباً 10 لاکھ مشینوں کی ضرورت ہوگی۔ کمیشن انھیں حاصل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کررہا ہے۔
بحوالہ:
اردو پیڈیا انڈیا
 
آخری تدوین:
Top