امریکہ کے کیمیائی ہتھیاروں نے افغان بچوں کے چہرے پگھلا دیئے

dxbgraphics نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 12, 2011

  1. dxbgraphics

    dxbgraphics محفلین

    مراسلے:
    5,249
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,279
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جیو اُمت اخبار
     
  3. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,075
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    یہ تو اوپن سیکرٹ ہے جی کہ امریکہ نے پورے افغانستان میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔ تورا بورا کے غاروں پر گرائے جانے والے بم جو آکسیجن چوس لیتے تھے، اس کی مثال ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. ام نور العين

    ام نور العين معطل

    مراسلے:
    2,026
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. عسکری

    عسکری معطل

    مراسلے:
    18,520
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    Kabul probes use of chemical weapons

    Saturday, 18 June 2011

    http://unitednews.com.pk/en/top-stories/9801-kabul-probes-use-of-chemical-weapons


    کرزئی بھی کہہ سکتا ہے پر کر کچھ نہیں سکتا :brokenheart:

    لیکن وائٹ فارسفورس کے گرنیڈز استمال کرنے میں حقیقیت نہیں ہے کیونکہ اسطرح وہ خود بھی اس سے متاثر ہوتے گرنیڈ بلاسٹ ہوتے ہیں 50 میٹر کے دائر میں اور خود استمال کنندہ بھی ساتھ جاتا ۔ہاں جیسا کہ امریکہ شیطان کا سب جانتے ہیں وہ اسے مارٹرز ہیل فائر میزائلز جی بی یو لیزر گائڈر مزائیلوں آرٹلری شیلز میں استمال کر سکتے ہیں اور یقینا کرتے ہوں گے ورنہ یہ سب نا ہوتا ۔لیکن میرا نہیں خیال کے ایکسر سائز میں سموک گرنیڈز کی بجائے کوئی پاگل ہی وہائٹ فارسفورس ہینڈ گرنیڈ استمال کرے گا یہ ائیر بلاسٹ ہتھیار ہے جو ہوا میں ہی پھٹ جاتا ہے اور پھیل جاتا ہے ۔ ۔وائٹ فارسفورس ہتھیار سب کے پاس ہیں انڈیا اسرائیل امریکہ پاکستان چین روس فرانس برطانیہ وغیرہ
     
  6. عسکری

    عسکری معطل

    مراسلے:
    18,520
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    [​IMG]

    [​IMG]

    اور اپنا بھی مکو ٹھپا جاتا ہے کبھی کبھی ریورس شیلینگ کے دوران

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  7. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    2,163
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    اس وقت افغانستان ميں آئ – ايس – اے – ايف کے 49 اتحادی شراکت داروں کے علاوہ 130000 امريکی اور عالمی افواج مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قريب 60 ممالک سميت بے شمار عالمی تنظيميں افغانستان اور پاکستان کو امداد مہيا کر رہی ہيں۔ افغانستان اور پاکستان سے متعلق قريب 30 خصوصی نمايندے مستقل رابطوں اور ملاقاتوں کے ذريعے پاليسی مرتب کرتے ہیں۔

    يہ ممکن نہيں ہے کہ يہ تمام ممالک اور بے شمار خود مختار عالمی تنظيميں اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے باہم رضامندی سے اس بات کے ليے رضامند ہو جائيں کہ افغانستان ميں دانستہ بے گناہ شہريوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ بچوں پر کيمياوی ہتھياروں کا استعمال بھی کيا جائے جيسا کہ میڈيا کے کچھ عناصر دعوی کر رہے ہيں۔

    ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ امريکی حکومت نے"کیميکل ويپنز کنونشن ٹريٹی" نامی ايک معاہدے پر دستخط کر رکھے ہيں اور اس معاہدے کے تحت امريکہ پوری طرح پابند ہے۔ سی – ڈبلیو – سی دراصل ہتھياروں پر کنٹرول کا معاہدہ ہے جو کيمياوی ہتھياروں کی تياری، ان کے ذخيرے اور استعمال کو غیر قانونی قرار ديتا ہے۔ اس معاہدے پر عمل درآمد "پروہوبيشن آف کيميکل ويپنز"(او – پی – سی – ڈبليو) نامی ايک نجی تنظيم کے ذمے ہے جس کا صدر دفتر ہالينڈ ميں ہے۔

    اس معاہدے کے تحت سب سے اہم ذمہ داری تمام تر کيمياوی ہتھياروں کو تلف کرنے اور ان کے استعمال سے اجتناب کے ساتھ ساتھ ان کی تياری کی روک تھام کے حوالے سے ہے۔ ان ہتھياروں کو تلف کرنے کے عمل کی تصديق او – پی – سی – ڈبليو کی جانب سے کی جاتی ہے۔ اسی معاہدے ميں کيمياوی اور عسکری کارخانوں کی مرحلہ وار درجہ بندی کے حوالے سے بھی شقیں موجود ہيں۔ اس کے علاوہ معاہدے میں موجود دیگر رياستوں کی نشاندہی پر کيمياوی ہتھياروں کی تياری اور ان کے استعمال کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کی تحقيق بھی کی جاتی ہے۔

    اگست 2010 تک امریکہ سميت کل 188 رياستيں سی – ڈبليو – سی کے معاہدے ميں شامل ہيں۔ ہم اپنے عالمی معاہدوں اور جنگی قواعد و ضوابط کے تحت معصوم شہريوں کی زندگيوں کو محفوظ کرنے اور انھيں ہر ممکن تحفظ مہيا کرنے کے حوالے سے پابند ہيں۔ انھی قواعد وضوابط کا اطلاق ان عسکری آپريشنز اور باہمی تعاون سے جاری مہمات پر بھی ہوتا ہے جو ہم اپنے اتحاديوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کرتے ہيں۔

    حقیقت يہی ہے کہ امريکہ دنيا ميں کہيں بھی ممنوعہ ہتھياروں کے استعمال ميں قطعی طور پر ملوث نہيں ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  8. عسکری

    عسکری معطل

    مراسلے:
    18,520
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    لعنت بھیجو فواد کی پوسٹ پراور آگے بولو :rollingonthefloor: یہ اسی کا چمچہ ہے جس نے ہیروشیما ناگا ساگی جاپان میں ایٹم بم ۔ ایجنٹ اورنج ویت نام میں فاسفورس بم افغانستان میں اور ان گنت انسان مار کے بھی فرشتے بن کر پوسٹ کراتے ہیں ان کرائے کے ٹٹوؤں سے :mad:
     
  9. اظفر

    اظفر محفلین

    مراسلے:
    782
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ہیروشیما ناگا ساگی جاپان میں ایٹم بم

    دیکھو فواد ابھی ثابت کر دے گا کہ ایٹم بم گرانا اچھا فیصلہ تھا
     
  10. najmi

    najmi محفلین

    مراسلے:
    40
    موڈ:
    Angelic

    گرائے ہی کب گئے تھے
    وہ تو میڈیا ہائپ ہے کیا آپ نے اپنی آنکھوں سے گراتے دیکھا؟ جاپان کا اپنے ہی شہروں پہ ایٹم بم پھاڑ کر شور ڈالنا بھی عین ممکن ہے۔ اور جو پائلٹ انٹرویو دئیے انہیں کیا علم وہ جناتی سائز کے فوڈ کنٹینر ہوں۔ کیوں فواد صاحب؟
    اصل میں میڈیا شروع دن سے امریکہ کے خلاف ہے۔ جیسے ہم لوگ خوامخواہ زرداری صاحب کو رگیدتے رہتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. اظفر

    اظفر محفلین

    مراسلے:
    782
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    مجھے تو پہلے ہی شک تھا :grin:
     
  12. طالوت

    طالوت محفلین

    مراسلے:
    8,353
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Bashful
    جنگوں میں گلدستے تو کوئی گرائے گا نہیں ، جب جب جو جو تگڑا ہوا وہ یہی کچھ کرتا آیا ، ۔۔ یہ دنیا الو کے پٹھوں سے بھری ہوئی ہے جس کا جہاں تک بس چلتا ہے وہ کوئی کسر نہیں چھوڑتا ۔اس دنیا کے چھ ارب نام نہاد انسانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فی الحال ایک ہی دنیا ہے اور اسی میں سب کو جینا ہے تو بندے کے پتروں کی طرح کیوں نہیں رہتے ہو ۔
    بہرحال مغرب کے نوجوانوں نے ان تمام خرابیوں کی ماں "سرمایہ داری" کو قابو کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے اور ہم ابھی بھی جادو کی چھڑی کے منتظر ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. محمد مسلم

    محمد مسلم محفلین

    مراسلے:
    222
    واقعی جنگ میں گلدستے تو کوئی نہیں گرائے گا، مگر غاصب کو غاصب کہنے اور ظالم کو ظالم کہنے کا حوصلہ ہمارے اندر ہونا ضروری ہے۔ اور ایمان کا کمزور ترین درجہ یہ ہے کہ ظلم کو برا تو سمجھیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,279
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بس کہنے کا ہی حوصلہ ہے ناں تو وہ تو ہم کہتے ہی رہتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    جنگ کا مطلب ہی دجل ہے۔ یا آپ جنگیں بین کر دیں یا جنگ میں ہونے والے مظالم پر رونا دھونا بند کر دیں۔
     

اس صفحے کی تشہیر