امام حسین(رضي اللہ عنہ) کی کرامات (رسالہ

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

رضا

معطل
بسم اللہ الرحمن الرحیم ط

امام حسین(رضي اللہ عنہ) کی کرامات (رسالہ)
امیر اہلسنّت(مدظلہ) کی نئی تحریر

title-lit-293.jpg

p1.gif

p2.gif

p3.gif

p4.gif

p5.gif

p6.gif

p7.gif

p8.gif

p9.gif

p10.gif

p11.gif

p12.gif

p13.gif

p14.gif

p15.gif

p16.gif

p17.gif

p18.gif

p19.gif

p20.gif

p21.gif

p22.gif

p23.gif
 

شمشاد

لائبریرین
ایک بات کی وضاحت فرما دیں :

حدیث کس کو کہتے ہیں؟
کس کس کا کہنا حدیث کہلاتا ہے؟
اس کا زمانہ کب سے کب تک ہے؟
یہ کب موقوف ہوئی؟

اللہ آپ کو جزا دے۔
 

رضا

معطل
شمشاد نے کہا:
ایک بات کی وضاحت فرما دیں :

حدیث کس کو کہتے ہیں؟
کس کس کا کہنا حدیث کہلاتا ہے؟
اس کا زمانہ کب سے کب تک ہے؟
یہ کب موقوف ہوئی؟

اللہ آپ کو جزا دے۔
حدیث:
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل حال اور تقریر کو کہتے ہیں۔بعض حضرات اس میں تعمیم کرتے ہیں کہ صحابی اور تابعی کے اقوال و افعال و تقریرات بھی،حدیث ہیں۔لیکن عام شائع ذائع پہلا ہی محاورہ ہے۔لفظ حدیث سے اول وہلہ میں ذہن اسی طرف جاتا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا قول یا فعل یا تقریر ہے۔
تقریر سے مراد یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی صحابی نے کچھ کیا یا کہا ۔اور حضور نے سکوت اختیار فرمایا۔یہ تقریر ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
جزاک اللہ رضا بھائی آپ کی وضاحت کا۔

اب آپ نے اوپر تصویری شکل میں جو مواد دیا ہے اس میں ایک واقعہ “ ابن زیاد کی ناک میں سانپ“ کا ہے جو واقعہ کربلا کے 6 سال بعد پیش آیا۔ اس میں آپ نے “ صحیح حدیث میں عمارہ بن عمیر ۔۔۔۔۔۔“ لکھا ہوا ہے، اس کی وضاحت فرمائیں گے کہ اس کو آپ نے “ حدیث “ کیسے لکھ دیا؟ بقول آپ کے حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا قول یا فعل ہے اور یہی بات درست بھی ہے۔ اصحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی کے قول و افعال حدیث نہیں کہلاتے، “ روایت “ کہہ سکتے ہیں۔ جبکہ ابن زیاد والا واقعہ تو بہت ہی بعد کا ہے۔
 

رضا

معطل
شمشاد نے کہا:
جزاک اللہ رضا بھائی آپ کی وضاحت کا۔

اب آپ نے اوپر تصویری شکل میں جو مواد دیا ہے اس میں ایک واقعہ “ ابن زیاد کی ناک میں سانپ“ کا ہے جو واقعہ کربلا کے 6 سال بعد پیش آیا۔ اس میں آپ نے “ صحیح حدیث میں عمارہ بن عمیر ۔۔۔۔۔۔“ لکھا ہوا ہے، اس کی وضاحت فرمائیں گے کہ اس کو آپ نے “ حدیث “ کیسے لکھ دیا؟ بقول آپ کے حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا قول یا فعل ہے اور یہی بات درست بھی ہے۔ اصحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی کے قول و افعال حدیث نہیں کہلاتے، “ روایت “ کہہ سکتے ہیں۔ جبکہ ابن زیاد والا واقعہ تو بہت ہی بعد کا ہے۔
بعض حضرات اس میں تعمیم کرتے ہیں کہ صحابی اور تابعی کے اقوال و افعال و تقریرات بھی،حدیث ہیں۔
حوالہ ساتھ درج ہے ملاحظہ فرما لیں۔۔۔
(سنن ترمذی ج 5 ص431 حدیث 3805 دارالفکر بیروت)
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top