الواداعی بوسہ

میں ابھی پاکستان سے آیا تو یہ تحریر خود با خود لکھی گئی کیسی ہے کیا ہے اور اس کو کیا نام دوں وہ آپ لوگوں پر چھوڑتا ہوں خوب لکھئے گا
 

الف عین

لائبریرین
اچھی نظم اور اچھے جذبات ہیں،۔
لیکن اصلاح سخن میں ہے تو اس ضمن میں کوئی بات کہنا ضروری بھی ہے۔
اس کی بحر میں فاعلاتن کے کچھ ارکان کے بعد فاعلن پر مصرع ختم ہوتا ہے۔۔ اور اس بحر کے مطابق پیشِ نظر ہے ’طرح‘ کا استعمال۔۔ دو جگہ یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور دونوں جگہ غلط۔ طرح کے دو تلفظ اور اوزان جائز ہیں۔ ’ر‘ پر فتح (زبر) اور ح ساکن، اور ’ر‘ اور ’ح‘ دونوں ساکن۔ لیکن یہاں اس کا تلفظ ’طرحا‘ ہو رہا ہے، جو غلط ہے۔۔
پہلے مصرع میں تو اس کی جگہ ’کچھ ایسے‘ کر دو تو بات اور بھی بہتر ہو جاتی ہے۔
یعنی
اپنے ہونٹ اس طرح رکھے
کی جگہ اپنے ہونٹ کچھ ایسے رکھے۔
دوسری طرح کو محض ’جیسے‘ کیا جا سکتا ہے۔
اور اس کے علاوہ "مانند‘ کا تلفظ بھی غلط باندھا گیا ہے۔
 
عبید صاحب آپ نے جس کی نشاندہی کی واقعہ ہی کچھ خامیاں ہیں اس میں لیکن اس کی ایک نئی شکل بھی سامنے آ گئی ہے تھوڑا وقت نکال کر ایک الگ دھاگے میں عرض کرتا ھوں لگتا ہے م م مغل بھائی کچھ ناراض ہیں ہم سے؟
 

زینب

محفلین
الواداعی بوسہ

تپتے صحرا کے سفر پر گھر سے جب نکلا تھا میں
تو مری ماں نے مرے ماتھے پہ اپنے ہونٹ اس طرح رکھے
جیسے اپنا پیار سار ا اس نے میرے
روح و جاں میں موجزن سا کر دیا
ہونٹ اس کے تپتے صحرا کی سلگتی ریت کی طرح گرم
اور آنکھیں وسعت صحرا کی مانند خشک اور ویراں
اس نے اپنے ضبط کی قوت سے آنسو سب اپنے چھپا رکھے تھے یوں
جیسے میری رخصتی کے بعد
ان سے مل کے گھنٹوں میری باتیں ذکر میرا
لمحہ لمحہ کر کے وہ روتی رہے گی​

ایموشنل کر دیا آپ نے تو۔۔۔۔۔۔۔۔اصلاح تو شاعر حضرات کریں گے
 

مغزل

محفلین
لگتا ہے م م مغل بھائی کچھ ناراض ہیں ہم سے؟

صاحب میرا کیا قصور جو مجھے کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں ۔ اور میں آپ سے کیوں ناراض ہونے لگا، میں یہاں محبتیں سمیٹنے اور سیکھنے کے لیے آیا تھا۔ بحیثیت شاعر اور طالب میری کوشش ہوتی ہے کہ شعر پر بات کی جائے ، تجربات کیے جائیں ( کامیابی و ناکامی اور قصہ ہے) میں نے اپنے بزرگوں سے یہی سیکھا ہے اب کسی کے نذدیک میرے بزرگ جاہل ہیں تو میں کیا کرسکتا ہوں سوائے توبہ کرنے کے ۔۔ لیکن یہاں اپنے سینئرز کو دیکھا کہ محض واہ اور لاجواب کہہ کر ہمیں علم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں تو ڈرتے ڈرتے کچھ سوال کرتے ہوئے اختلاف بھی کیا ۔ تاکہ بات چل نکلے ایک عرصہ یہ سلسلہ جار ی بھی رہا مگر جب میں نے دیکھا کہ میری دال گلنے نہیں تو میں بھی اپنی ہنڈیا اٹھائے الگ کھڑا ہوگیا۔ کہ کسی کو یہ خیال نہ گزرے کہ میں یہاں دوستوں کے بگاڑ کیلیے کوشاں ہوں یا ان کی اہمیت کم ہونے لگی ہے ۔ سو یہ روش اپنالی ، اس میں گو کہ میرا نقصان ہے مگر کوئی ناراض تو نہ ہوگا نا۔۔ یہی وجہ ہے خاموشی اختیار کرنے کی ۔ آپ یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ مغل کسی سے ناراض ہے ۔ میں اگر ناراض بھی ہوتا ہوں تو میری ناراضگی محض 2 چار منٹ کی ہوتی ہے ۔ خیر قصہ کوتاہ ۔ آپ کی نظم نظر نواز ہوئی موضوع خوب ہے ، فنی اسقام کے بارے میں بابا جانی نے نشاندہی کردی ہے ۔ سو اس کے بعد ہی کوئی صورت سامنے آئے گی ۔،۔ میری طرف سے اس خوبصورت کوشش پر مبارکباد او ر دعائیں۔گر قبول افتد زہے عز و شرف
 

ایم اے راجا

محفلین
بہت خوب جاذب صاحب، ماں کی محبت اور اس لمحہ کو جو آپ نے نظم میں پیش کیا وہی سمجھ سکتا ہے جو ماں سے دور ہو پردیس میں۔
 
صاحب میرا کیا قصور جو مجھے کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں ۔ اور میں آپ سے کیوں ناراض ہونے لگا، میں یہاں محبتیں سمیٹنے اور سیکھنے کے لیے آیا تھا۔ بحیثیت شاعر اور طالب میری کوشش ہوتی ہے کہ شعر پر بات کی جائے ، تجربات کیے جائیں ( کامیابی و ناکامی اور قصہ ہے) میں نے اپنے بزرگوں سے یہی سیکھا ہے اب کسی کے نذدیک میرے بزرگ جاہل ہیں تو میں کیا کرسکتا ہوں سوائے توبہ کرنے کے ۔۔ لیکن یہاں اپنے سینئرز کو دیکھا کہ محض واہ اور لاجواب کہہ کر ہمیں علم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں تو ڈرتے ڈرتے کچھ سوال کرتے ہوئے اختلاف بھی کیا ۔ تاکہ بات چل نکلے ایک عرصہ یہ سلسلہ جار ی بھی رہا مگر جب میں نے دیکھا کہ میری دال گلنے نہیں تو میں بھی اپنی ہنڈیا اٹھائے الگ کھڑا ہوگیا۔ کہ کسی کو یہ خیال نہ گزرے کہ میں یہاں دوستوں کے بگاڑ کیلیے کوشاں ہوں یا ان کی اہمیت کم ہونے لگی ہے ۔ سو یہ روش اپنالی ، اس میں گو کہ میرا نقصان ہے مگر کوئی ناراض تو نہ ہوگا نا۔۔ یہی وجہ ہے خاموشی اختیار کرنے کی ۔ آپ یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ مغل کسی سے ناراض ہے ۔ میں اگر ناراض بھی ہوتا ہوں تو میری ناراضگی محض 2 چار منٹ کی ہوتی ہے ۔ خیر قصہ کوتاہ ۔ آپ کی نظم نظر نواز ہوئی موضوع خوب ہے ، فنی اسقام کے بارے میں بابا جانی نے نشاندہی کردی ہے ۔ سو اس کے بعد ہی کوئی صورت سامنے آئے گی ۔،۔ میری طرف سے اس خوبصورت کوشش پر مبارکباد او ر دعائیں۔گر قبول افتد زہے عز و شرف

السلام علیکم مغل بھائی ایک عرصہ قبل آپ نے یہ پوسٹ کیا کچھ مصروفیات رہیں جس وجہ سے جواب نہیں دے پایا معزرت قبول فرمائیں امید ہے دیر آئے درست آئے
 

مغزل

محفلین
مفاہیم پر بات کی جائے کہ تخیل پر دونوں ہی کمال ہیں مگر کہیں کہیں نظم کے مصرعے کمزوری کاشکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔ باقی رائے اور نقد و نظر اساتذہ کا حصہ ہے میں دخل نہیں دے سکتا، میری جانب سے ایک بار پھر اس خوبصورت نظم پر صمیمِ قلب سے مبارکباد ، گر قبول افتد زہے عز و شرف۔والسلام
 
الواداعی بوسہ

میں تپتے صحرا
کے جب سفر پر
میں گھر سے نکلا
تو میری ماں نے
یوں میرے ماتھے پہ ہونٹ رکھے تھےاس نے ایسے دیا تھابوسہ
کہ میرے سارے بدن میں بوسے نےپیار امرت سا بھر دیا تھا
مجھے تو سرشار کر دیاتھا
فضا میں خاموش سی دعا سے
عجیب سا رنگ بھر دیا تھا
عجب خوشی تھی ،عجیب دکھ تھا
کہ تپتے صحرا کی ریت جیسے تھے ہونٹ اس کے
اوراس کی آنکھیں سلگ رہی تھیں
لبوں پہ چپ اورکلام کرتی سی گفتگو تھی
مجھے تھا معلوم اور اسے بھی
مرے نگاہوں سے دور ہوتے ہی ٹوٹ جائیں گے بند سارے
کڑے سہارے بھی ضبط کے اب
نہ روک پائیں گے صحراآنکھوں کی بارشوں کو
وہ بات بے بات رو پڑے کرے گی
 
Top