اللہ نور السموات والارض

الف نظامی

لائبریرین
اللہ نور السموات والارض
النور 24-35
ر فیق خاور جسکانی
ہے ذاتِ لم یزل خود روشنی ہفت آسمانوں اور زمینوں کی
( مثال اس روشنی کی )
چراغ اک طاق پر ہو جیسے روشن
اور دل شیشے سے عکسِ خود فروزاں اس کا جھلکے
اور وہ شیشہ ہو مثال انجم تاباں
چراغِ لامثال و بے نظیر ایسا ہے جس میں تیل جلتا ہے ،
نرالے اک شجر کی برکتوں سے
اور شجر کیسا ہے وہ ، زیتون کا ہے
جس کی شاخوں کا جھکاو مشرق و مغرب کی جانب ایک سا ہے
( اور اسے چڑھتے اترتے سورجوں کی اجلی میلی دھوپ کا لمسِ فروزاں یا گریزاں بے اثر معلوم ہوتا ہے )
چراغِ روغنِ زیتون بے آتش سلگتا ہے
یہ اس ارض و سما کی روشنی کا تہ بہ تہ انوار کا
اک معجزہ ہے
وہ ذاتِ لم یزل دیتی ہے اپنی روشنی کی لو جسے چاہے
مثالیں دی ہوئی اس کی
چراغ اس کا ابد پیما شعاعیں ہیں
کہ جن کی لوحِ صد آفاق پر لکھا ہے
وہ خالق علیم و باخبر ہے۔​

( “دائرے” کراچی ۔ جولائی / اگست )
پاکستانی ادب 1991 انتخاب:شعر
اکادمی ادبیات پاکستان ، اسلام آباد
سے لیا گیا۔
@نایاب
 

نایاب

لائبریرین
سبحان اللہ
اللہ النورالسماوات و الارض
الحمد للہ رب العالمین و سلام علی المرسلین
لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ
سبحان ذی الملک و الملکوت
سبحان ذی العزتہ والعظمتہ والھیبتہ والقدرتہ والکبریاء و الجبروت
سبحان المالک الحی الذی لا ینام ولا یموت
سبوح ۔ قدوس ۔ ربنا و رب الملائکتہ والروح
اللھم اجرنا من النار

محترم الف نظامی بھائی
بلا شبہ سچ لکھا لکھنے والے نے
""ہے ذاتِ لم یزل خود روشنی ہفت آسمانوں اور زمینوں کی ""
جزاک اللہ خیراء
میری صبح کو روشن کر دیا آپ کی اس شراکت نے ۔
 

الف نظامی

لائبریرین
قرآن کریم میں کئی آیات خالقِ کائنات کے نور کی وضاحت کرتی ہیں گویا وہ جمال جو ازل سے ابد تک ساری کائنات پر محیط ہو گا اس نور کی شان صحیفۂ ربانی میں یوں بیان کی گئی ہے:
24_35.png


اللہ نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق ہو جس میں ایک چراغ ہو۔ یہ چراغ ایک فانوس میں ہو اور یہ فانوس ایسا ہو جیسے ایک ستارہ موتی کی طرح چمکتا ہوا جو زیتون کے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو، جو نہ شرقی ہے نہ غربی قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اُٹھے خواہ اسے آگ نہ چھوئے۔ نور پر نور۔ اللہ اپنے نور کی جسے چاہے رہنمائی عطا فرمائے۔ یہ مثالیں اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

’’یہ آیۂ نور، جس کی تفسیر و ترجمہ امام غزالیؒ سے عبداللہ یوسف علی تک نہایت حسن و خوبی کے ساتھ کیا ہے، رفیع الشان لفظی و معنوی لطافتوں کا مرقع ہے۔
جناب اسلم انصاری نے ’’حدیثِ نور‘‘ کے عنوان سے اسے نظم کیا ہے۔
جناب اسلم انصاری کی یہ آیۂ نور کی کاوش حسبِ ذیل ہے:

اس جلوہ گاہ میں ہے اسی ایک کا ظہور
اللہ آسمان کا ہے اور زمیں کا نور

اس کی مثال کہ ہے جیسے ایک طاق
روشن ہے اس میں ایک چراغ ابد رواق

خود وہ چراغ جیسے قندیل میں نہاں
قندیل اک ستارہ موتی سا ضوفشاں

روغن سے ایک نخلِ مبارک سے یہ جلے
ایسا نہیں کہ آگ کے جلنے سے جل اُٹھے

زیتون ہے وہ نخلِ مقدس حقیقتاً
روشن ہے جس سے محفلِ آفاق دائماً

مشرق کا ہے وہ نخل نہ مغرب سے انتساب
بے نسبتِ جہات ہے سب اس کی آب و تاب

بے لمسِ نار جلنے کو تیار ہے وہ تیل
خود اپنے آپ ہی سے ضیا بار ہے وہ تیل

ہے روشنی پہ روشنی اور نور پہ ہے نور
اس کی حقیقتوں کو کہاں پا سکے شعور

ایسے ہی وہ دکھاتا ہے اس نور سے خدا
وہ جس کو چاہتا ہے دکھاتا ہے رہنما

یہ سب مثالیں لاتا ہے وہ بہرِ خاص و عام
عالم ہر ایک چیز کا ہے وہ علی الدوام

(اسلم انصاری)
 
Top