اقبال کو نوبل انعام کیوں نہیں ملا ؟

اکمل زیدی

محفلین
علامہ اقبال اور رابندر ناتھ ٹیگور ہندوستان کے دو عظیم ہم عصر شاعر تھے جن کا کلام ایک ہی زمانے میں مشہور ہوا۔

شاعری کی حدود سے نکل کر سیاسی اور سماجی میدان میں بھی دونوں شخصیات بیسویں صدی کے اوائل میں ایک ساتھ نمودار ہوئیں لیکن یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ عمر بھر دونوں کی ملاقات کبھی نہیں ہوئی۔

علامہ اقبالؔ کے مداحوں کو اس بات کا ہمیشہ قلق رہا ہے کہ ہندوستان کے اولین نوبل انعام کا اعزاز اقبال کے بجائے ٹیگور کو حاصل ہوا۔ شاید اس ’’ زیادتی‘‘ کی تلافی ہو جاتی اگر بعد کے برسوں میں اقبال کو بھی اس انعام کا مستحق قرار دے دیا جاتا لیکن 1913ء سے 1938ء تک کے 25 برسوں میں ایک بار بھی نوبل کمیٹی کی توجہ اقبال پر مرکوز نہ ہو سکی۔

چونکہ نوبل کمیٹی کی تمام دستاویزات اور خط و کتابت پر پچاس برس تک اخفاء کی پابندی رہتی ہے اس لئے سن ساٹھ کے عشرے تک یہ محض ایک راز تھا اور اس پر ہر طرح کی چہ می گوئیاں ہوتی تھیں۔ اسے ایک سوچی سمجھی سازش بھی قرار دیا جاتا تھاکہ علامہ اقبالؔ کو نوبل پرائیز سے کیوں محروم رکھا گیا تھا۔

1963ء میں پرانے دستاویزات کے سامنے آنے پر کھلا کہ کمیٹی نے کوئی سازش نہیں کی تھی اور نہ علامہ اقبال کی نامزدگی کا جھگڑا کبھی پیدا ہوا تھا۔ لیکن اگر بنگال کے شاعر رابندر ناتھ کا نام کمیٹی کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے تو اقبال کی نامزدگی میں کیا قباحت تھی؟ پرانے دستاویزات اس سلسلے میں کوئی واضح رہنمائی نہیں کرتے۔

سن 1914ء کے اوائل میں تیار ہونے والی ایک رپورٹ میں نوبل کمیٹی کے چیئرمین ہیرلڈ ہئیارن نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ میں چھڑنے والی جنگ کی ممکنہ تباہ کاری کو دیکھتے ہوئے کمیٹی سوچ رہی تھی کہ نوبل انعام ایسے ہاتھوں میں نہیں جانا چاہئے جو جنگ اور تباہی کے پر چارک ہوں۔

کمیٹی کو احساس تھا کہ نوبل انعام حاصل کرنے والا ادیب راتوں رات شہرت کے آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔ ظاہر ہے ان تحریروں کا اثر دنیا کے سبھی باشندوں پرپڑتا ہے۔

ہیرلڈ ہئیارن نے مختلف ماہرین کے آراء پیش کرنے کے بعد رپورٹ میں خیال ظاہر کیا کہ ادب کا نوبل انعام دیتے وقت اس امر کو بطور خاص مد نظر رکھنا چاہئے کہ یہ انعام کسی قوم پرستانہ مصنف کونہ چلا جائے یعنی کسی ایسے قلم کار کو جو ایک مخصوص قوم کے ملی جذبات کو ابھار کر دنیا پر چھا جانے کی ترغیب دے رہا ہو۔

ظاہر ہے کہ اقبال کی شاعری کا بیشتر حصہ اسلام اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو یاد کرنے اور اسے بحال کرنے کی شدید خواہش کا مظہر ہے۔ اقبال اپنی ملت کو اقوام مغرب سے بالاتر سمجھتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں قوم رسول ہاشمی جن عناصر سے مل کر بنی ہے وہ دنیا کی کسی اور قوم میں نہیں پائے جاتے۔

اگرچہ پہلی جنگ عظیم سے قبل بھی یورپ کے سلسلے میں اقبال کسی خوشی فہمی کا شکار نہیں تھے لیکن جنگ کے بعد یورپ کے بارے میں ان کی تلخی مزید بڑھ گئی۔

1907۔ء کی ایک غزل میں اقبال نے کہا تھا: دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکان نہیں ہے۔

کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہی زر کم عیار ہو گا

نکل کر صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا

سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہو گا

1914ء کی ایک رپورٹ میں نوبل کمیٹی کے چیئر مین خیال ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی اتھل پتھل ایک عارضی مرحلہ ہے۔ ادب کو ان وقتی مصلحتوں سے ماوراء ہو کر عالمی اور دائمی اقدار کا دامن تھامنا چاہیے۔

کم و بیش یہی وہ خیالات تھے جن کی بنیاد پر مہاتما گاندھی کے نوبل پرائز کا راستہ بھی عرصہ دراز تک رکا رہا لیکن گاندھی کے کیس میں کم از کم چار مرتبہ ان کا نام کمیٹی کے سامنے آیا اور اس پر خاص بحث بھی ہوئی بلکہ نئی تحقیق کے مطابق تو 1948ء میں انہیں انعام ملنے ہی والا تھا کہ ان کی ناگہانی موت واقع ہو گئی۔

علامہ اقبال کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ 1913ء میں ٹیگور کو انعام ملنے کے ربع صدی کے بعد تک اقبال زندہ رہے لیکن نوبل کمیٹی نے کبھی ان کے نام پر غور نہیں کیا۔ اقبال کی شہرت کا سورج اس وقت نصف النہار پر تھا اور یہی وہ زمانہ تھا جب اقبال کو حکومت برطانیہ نے ’’سر‘‘ کا خطاب عطا کیا تھا، اگرچہ یہاں بھی ٹیگور انہیں مات دے گئے کیونکہ ٹیگور کو سرکا خطاب سات برس پہلے 1915ء میں ہی مل گیا تھا۔

ٹیگور مادری زبان کو مقدس سمجھتے تھے۔ ایک بار جب وہ اسلامیہ کالج لاہور کے طالب علموں کی دعوت پر پنجاب آئے تو طالب علموں نے ان کے استقبال کے لئے ان کا معروف بنگالی ترانہ گانا شروع کر دیا۔ ٹیگور نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے زیادہ خو شی ہو گی اگر آپ پنجاب کی کوئی سوغات پیش کریں۔ چنانچہ ٹیگور کی خدمت میں ہیر وارث شاہ کے چند بند، ہیر کی روائیتی طرز میں پیش کئے گئے۔ ٹیگور مسحور ہو کر رہ گئے اور محفل کے اختتام پر بولے میں زبان تو نہیں سمجھتا لیکن جتنی دیر ہیر پڑھی جاتی رہی میں مبہوت رہا اور مجھے یوں محسوس ہوتا رہا جیسے کوئی زخمی فرشتہ فریاد کر رہا ہو۔

ٹیگور کو اقبال سے بھی یہی شکوہ تھا کہ اس نے اپنی مادری زبان کے لئے کچھ نہیں کیا۔ بقول ٹیگور اگر اقبال نے فارسی اور اردو کی بجائے پنجابی کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا ہوتا تو آج پنجابی ایک پر مایہ زبان تو ہوتی۔

اقبال کے سلسلے میں ٹیگور کا یہ بیان ایک نوبل انعام یافتہ شاعر کا بیان بھی تھا۔ ایک ایسے شاعر کے بارے میں جو اس اعزاز سے محروم رہا۔

یہ بیان تھا ’سر‘ کا خطاب ٹھکرا دینے والے ایک شخص کا، اس شخص کے بارے میں جس نے انگریزی کے عطا کردہ اس خطاب کو عمر بھر سینت سینت کے رکھا۔

علامہ اقبالؔ کی شعری کائنات یقیناً ٹیگور کے شعری احاطے سے بہت بڑی تھی کیونکہ شعر اقبال کا ایک سرا اگر بطون ذات میں تھا تو دوسرا وسعت کائنات میں تھا۔
http://www.bbc.com/urdu/regional/story/2006/11/061107_jiqbal_nobel_prize_ih.shtml
 
آخری تدوین:
اقبال کے ہاں کائناتی فلسفلے ملتے ہیں۔ ایسی سچائیاں بھی موجود ہیں جن کی بنیاد پر انہوں نے آئن سٹائن جیسے سائنسدان کے نظریات کو للکارا۔ جہاں تک میں نے اقبال کا مطالعہ کیا ہے یہ بات درست ہے کہ وہ مسلمانوں کو نشاۃ الثانیہ پر کمر کستے ہیں لیکن ان کا نام تک کمیٹی کے سامنے پیش نہ کرنا ، یا جان بوجھ کر انہیں نظر انداز کرنا، یہ قابلِ قبول نہیں۔ رہا دوسرا مسئلہ پنجابی کا، تو علامہ اقبال کو اردو اور فارسی میں ابلاغ نسبتا آسان لگتا تھا اسی لیے انہوں نے اسکا استعمال کیا۔ ان کے ایک دوست فقیر صاحب (شاید فقیر محمد نام تھا، مجھے صحیح طرح یاد نہیں آرہا) اکثر علامہ سے پنجابی شاعری کی بابت ایسے ہی سوال کیا کرتے تھے ۔ ایک بار علامہ نے ایک مصرعہ کہا "زلفِ تابدار کو اور بھی تابدار کر"اور کہا کہ اگر وہ پنجابی کو اتنا ہی اچھا اور مستند ذریعہ اظہار سمجھتے ہیں تو اس کو پنجابی میں کہہ کر دکھائیے۔ فقیر صاحب نے جواب دیا "لشکن والی زلفاں نوں ہور ذرا لشکائی جا"۔ علامہ صاحب مسکرا کر رہ گئے(اور کیا بھی کیا جا سکتا تھا)۔ اہم بات یہ ہے کہ علامہ صاحب گو شاعری اردو اور فارسی میں کرتے تھے لیکن ان کا لہجہ کسی حد تک پنجابی تھا (اس حوالے سے مسعود حسین صاحب کا مضمون بہت شاندار ہے جس میں انہوں نے اقبال کے ہاں ک اور ق سے بحث کرتے ہوئے ان کی ایک نظم کا جائزہ لیا ہے)۔ رہی بات نوبل پرائز کی تو یہ گوروں کی پالیسی ہے کہ جو ان کے مفاد کی بات کرے گا، یا کم از کم جو ان کے نا حق میں نہ ہو ، وہ اسے ہی پسند کریں گے۔ اسے نوازیں گے اور اسی کا دم بھریں گے، انہیں بھلا اقبال کہاں نظر آسکتا تھا؟ اس حوالے سے ماہرِ اقبالیات حضرت ڈاکٹر پروفیسر آصف اعوان صاحب نے بہت ہی خوبصورت اور جامع لیکچرز دیے ہیں، آپ اقبالیات کے حوالے سے کسی بھی سوال کاجواب جاننا چاہتے ہوں تو میرا حوالہ دیتے ہوئے ان سے رابطہ کر سکتے ہیں

https://www.facebook.com/Dr-Muhammad-Asif-Awan-789569014451718/
 
آخری تدوین:

فرقان احمد

محفلین
نوبل انعام ایسی ایسی 'بابرکت' ہستیوں کو مل چکا ہے کہ اب اس کی اہمیت کچھ زیادہ نہ رہی ہے۔ ستر اسی برس سے عبدالستار ایدھی انسانیت کی خدمت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، ان کو نوبل انعام سے نوازا نہ گیا تو ایسے انعام کی کریڈیبلیٹی تو یوں بھی اک ذرا مشکوک ہو جاتی ہے۔ اور جہاں تک علامہ اقبال کا تعلق ہے تو شایدانہی وجوہ کے باعث انہیں یہ انعام نہ دیا گیا کہ جن کی طرف آپ اس پوسٹ میں اشارہ فرما چکے ہیں۔ تاہم نوبل پرائز کی کسی حد تک اہمیت برقرار ضرور ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے بحث کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
 

bilal260

محفلین
اس سچے پکے مسلمان کو نوبل انعام نہیں مل سکا شاید یہی وجہ ہو گی۔
اللہ عزوجل نوبل انعام دینے والوں کو ہدایت دے آمین۔
 

اکمل زیدی

محفلین
اقبال کے ہاں کائناتی فلسفلے ملتے ہیں۔ ایسی سچائیاں بھی موجود ہیں جن کی بنیاد پر انہوں نے آئن سٹائن جیسے سائنسدان کے نظریات کو للکارا۔ جہاں تک میں نے اقبال کا مطالعہ کیا ہے یہ بات درست ہے کہ وہ مسلمانوں کو نشاۃ الثانیہ پر کمر کستے ہیں لیکن ان کا نام تک کمیٹی کے سامنے پیش نہ کرنا ، یا جان بوجھ کر انہیں نظر انداز کرنا، یہ قابلِ قبول نہیں۔ رہا دوسرا مسئلہ پنجابی کا، تو علامہ اقبال کو اردو اور فارسی میں ابلاغ نسبتا آسان لگتا تھا اسی لیے انہوں نے اسکا استعمال کیا۔ ان کے ایک دوست فقیر صاحب (شاید فقیر محمد نام تھا، مجھے صحیح طرح یاد نہیں آرہا) اکثر علامہ سے پنجابی شاعری کی بابت ایسے ہی سوال کیا کرتے تھے ۔ ایک بار علامہ نے ایک مصرعہ کہا "زلفِ تابدار کو اور بھی تابدار کر"اور کہا کہ اگر وہ پنجابی کو اتنا ہی اچھا اور مستند ذریعہ اظہار سمجھتے ہیں تو اس کو پنجابی میں کہہ کر دکھائیے۔ فقیر صاحب نے جواب دیا "لشکن والی زلفاں نوں ہور ذرا لشکائی جا"۔ علامہ صاحب مسکرا کر رہ گئے(اور کیا بھی کیا جا سکتا تھا)۔ اہم بات یہ ہے کہ علامہ صاحب گو شاعری اردو اور فارسی میں کرتے تھے لیکن ان کا لہجہ کسی حد تک پنجابی تھا (اس حوالے سے مسعود حسین صاحب کا مضمون بہت شاندار ہے جس میں انہوں نے اقبال کے ہاں ک اور ق سے بحث کرتے ہوئے ان کی ایک نظم کا جائزہ لیا ہے)۔ رہی بات نوبل پرائز کی تو یہ گوروں کی پالیسی ہے کہ جو ان کے مفاد کی بات کرے گا، یا کم از کم جو ان کے نا حق میں نہ ہو ، وہ اسے ہی پسند کریں گے۔ اسے نوازیں گے اور اسی کا دم بھریں گے، انہیں بھلا اقبال کہاں نظر آسکتا تھا؟ اس حوالے سے ماہرِ اقبالیات حضرت ڈاکٹر پروفیسر آصف اعوان صاحب نے بہت ہی خوبصورت اور جامع لیکچرز دیے ہیں، آپ اقبالیات کے حوالے سے کسی بھی سوال کاجواب جاننا چاہتے ہوں تو میرا حوالہ دیتے ہوئے ان سے رابطہ کر سکتے ہیں

https://www.facebook.com/Dr-Muhammad-Asif-Awan-789569014451718/
بہت خوب . . .
 

ابن عادل

محفلین
اس عنوان کو اگر یوں کردیا جاتا کہ " اقبال کو نوبل انعام کیوں ملتا؟" تو مختلف جہات سے دلچسپ پہلو سامنے آتے ۔ میرا خیال ہے کہ اقبال کا مقام نوبل سے بلند ہے ۔ ذرا انیسویں صدی کے اس دورانیے پر نظر دوڑائیے جو اقبال کی ہے اور اس کے بعد کی دنیا پر بھی ۔ مسلم امہ میں اس کے بعد کی جو بیداری بھی نظر آتی ہے بلامبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جہاں اقبال کے اثرات نہ پہنچے ہوں اور اس نے تحریک پیدا نہ کیا ہو۔ میں سمجھتا ہو کہ ادب برائے تفکر و تدبر اور تفریح و تفنن کے قائلین و حاملین کی کمی نہ ہوگی لیکن ادب برائے تحرک و تعامل کا جو کارنامہ علامہ اقبال نے انجام دیا ہے وہ بتائیے کس کے حصہ میں آیا ہے ۔محسوس ہوتا ہے گویا یہ شاعر آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے ۔
 
اس عنوان کو اگر یوں کردیا جاتا کہ " اقبال کو نوبل انعام کیوں ملتا؟" تو مختلف جہات سے دلچسپ پہلو سامنے آتے ۔ میرا خیال ہے کہ اقبال کا مقام نوبل سے بلند ہے ۔ ذرا انیسویں صدی کے اس دورانیے پر نظر دوڑائیے جو اقبال کی ہے اور اس کے بعد کی دنیا پر بھی ۔ مسلم امہ میں اس کے بعد کی جو بیداری بھی نظر آتی ہے بلامبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جہاں اقبال کے اثرات نہ پہنچے ہوں اور اس نے تحریک پیدا نہ کیا ہو۔ میں سمجھتا ہو کہ ادب برائے تفکر و تدبر اور تفریح و تفنن کے قائلین و حاملین کی کمی نہ ہوگی لیکن ادب برائے تحرک و تعامل کا جو کارنامہ علامہ اقبال نے انجام دیا ہے وہ بتائیے کس کے حصہ میں آیا ہے ۔محسوس ہوتا ہے گویا یہ شاعر آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے ۔

میں بھی مضمون نگار کی اس بات سے اختلاف کرتا ہوں کہ:
لیکن ٹیگور کے مقابل نوبیل انعام سے محرومی یقیناً ان کے سینے کا ایک داغ بن گئی تھی جس کی کسک انہوں نے آخری دم تک محسوس کی ہوگی۔

اقبال نے شاعری ان مقاصد کے لئے نہ کی تھی۔
 

arifkarim

معطل
ہم ایک عجیب قوم ہیں۔ جب ملالہ یوسف زئی یا ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبیل انعام ملتا ہے تو شور مچاتے ہیں کہ کس مغربی سازش کے تحت ایسا ہوا۔ اور جب اقبال، ایدھی یا دیگر ہستیوں کو نوبیل انعام نہیں ملتا تو تب بھی وہی اغیار کی سازشوں کا شور۔
مطلب ہمیں نوبیل انعام سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔ تکلیف ہے تو صرف اس چیز کی کہ "ہماری" پسندیدہ شخصیات کو کیوں نہیں ملا۔ اور اوپر سے ستم ظریفی دیکھیے کہ ہماری ناپسندیدہ ترین شخصیات کو کیسے مل گیا :)
 

arifkarim

معطل
تاہم نوبل پرائز کی کسی حد تک اہمیت برقرار ضرور ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے بحث کا سلسلہ جاری رہتا ہے
بحیثیت قوم یہودیوں کو سب سے زیادہ نوبل انعامات ملے ہیں۔ صرف یہی شے کافی ہے اسے سازشی اور مشکوک قرار دینے کیلئے۔
 

arifkarim

معطل
رہی بات نوبل پرائز کی تو یہ گوروں کی پالیسی ہے کہ جو ان کے مفاد کی بات کرے گا، یا کم از کم جو ان کے نا حق میں نہ ہو ، وہ اسے ہی پسند کریں گے۔ اسے نوازیں گے اور اسی کا دم بھریں گے، انہیں بھلا اقبال کہاں نظر آسکتا تھا؟
پتا نہیں ملالہ اور ڈاکٹر عبدالسلام نے ان غاصب گوروں کے مفاد میں ایسا کیا کچھ کیا تھا جو انہیں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ وہ تو صرف سائنس اور تعلیم کے فروغ کی بات کرتے تھے۔
 

یاز

محفلین
نوبل انعام ایسی ایسی 'بابرکت' ہستیوں کو مل چکا ہے کہ اب اس کی اہمیت کچھ زیادہ نہ رہی ہے۔ ستر اسی برس سے عبدالستار ایدھی انسانیت کی خدمت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، ان کو نوبل انعام سے نوازا نہ گیا تو ایسے انعام کی کریڈیبلیٹی تو یوں بھی اک ذرا مشکوک ہو جاتی ہے۔
میں نے کہیں سنا تھا کہ ایدھی فاؤنڈیشن آڈٹ کرانے پہ راضی نہیں، اس لئے نوبیل کی دوڑ سے باہر ہے۔ ویلفیئر تنظیمات کے آڈٹ نہ کرانے کی ممکنہ وجوہات عطیہ جات کے ذرائع وغیرہ ہوتے ہیں۔

نوٹ: اس بات سے ایدھی صاحب پہ تنقید یا ان کو غلط ثابت کرنا مقصد نہیں ہے۔ ایدھی صاحب بہت نیک کام کر رہے ہیں۔ اللہ ان کو جزائے خیر اور صحت دے۔
یہ ایک بات تھی جو کہیں سنی تھی۔ سوچا کہ شیئر کرتا چلوں۔
 
آخری تدوین:

arifkarim

معطل
مسلم امہ میں اس کے بعد کی جو بیداری بھی نظر آتی ہے بلامبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جہاں اقبال کے اثرات نہ پہنچے ہوں اور اس نے تحریک پیدا نہ کیا ہو۔
مسلم اُمّہ میں بیداری تو سید قطب، مولانا مودودی، امام خمینی، اسامہ بن لادن اور خلیفہ البغدادی جیسی نامور شخصیات نے بھی پیدا کی تھی لیکن ان سب کو تو نوبیل انعام نہیں دیا جا سکتا نا۔
 

تجمل حسین

محفلین
ہم ایک عجیب قوم ہیں۔ جب ملالہ یوسف زئی یا ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبیل انعام ملتا ہے تو شور مچاتے ہیں کہ کس مغربی سازش کے تحت ایسا ہوا۔ اور جب اقبال، ایدھی یا دیگر ہستیوں کو نوبیل انعام نہیں ملتا تو تب بھی وہی اغیار کی سازشوں کا شور۔
ملالہ یوسف زئی نے کونسا ایسا کارنامہ ہائے سرانجام دیا ہے جو اسے نوبیل پرائز کا حقدار سمجھا جائے ؟
 

arifkarim

معطل
ملالہ یوسف زئی نے کونسا ایسا کارنامہ ہائے سرانجام دیا ہے جو اسے نوبیل پرائز کا حقدار سمجھا جائے ؟
Later in 2014, Yousafzai was announced as the co-recipient of the 2014 Nobel Peace Prize, along with Kailash Satyarthi, for her struggle against the suppression of children and young people and for the right of all children to education. Aged 17 at the time, Yousafzai became the youngest-ever Nobel Prize laureate.​
بچوں اور بچیوں کی تعلیم کیلئے جد و جہد کی بنیاد پر ملا۔
 

حسیب

محفلین
Later in 2014, Yousafzai was announced as the co-recipient of the 2014 Nobel Peace Prize, along with Kailash Satyarthi, for her struggle against the suppression of children and young people and for the right of all children to education. Aged 17 at the time, Yousafzai became the youngest-ever Nobel Prize laureate.​
بچوں اور بچیوں کی تعلیم کیلئے جد و جہد کی بنیاد پر ملا۔
مجھے کسی کو نوبل انعام ملنے یا نہ ملنے کے بارے میں کوئی ایشو نہیں یہ نوبل انعام کے منتظًمین کی پسند کا ہی فیصلہ ہے
لیکن یہ وجہ تو ایک لطیفہ ہی ہے:D
 
Top