اسلامی بینکار ی کے فروغ پرمفتی تقی عثمانی کو ایوارڈ دینے کا اعلان

الف نظامی

لائبریرین
اسلامی ترقیاتی بینک نے مفتی تقی عثمانی کی اسلامک بینکاری کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔
عرب ویب سائٹ کے مطابق مفتی تقی عثمانی کے ساتھ ساتھ برطانوی پروفیسر روڈنی ولسن کے لئے بھی اسلامی بینکاری کی فروغ کے لئے خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ”اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس“ ایوارڈ کا اعلان کیا گیا ہے۔ دونوں شخصیات کو یہ ایوارڈ 22 جون کو جدہ میں ہونے والے اسلامی ترقیاتی بینک کے بورڈ آف گورنرز کے 39 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر دیا جائے گا۔

اسلامی ترقیاتی بنک کے صدر احمد محمد علی نے مفتی تقی عثمانی اور برطانوی پروفیسر روڈنی ولسن کو اس حوالے سے مبارک باد دیتے ہوئے اسلامی بنیادوں پر فنانسنگ کے میدان میں ان کی خدمات کو بھی سراہا ہے۔ اسلامی ترقیاتی بینک کے سالانہ ایوارڈ کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی ممتاز اسکالرز اور ماہرین پر مشتمل ہے، کمیٹی نے متفقہ طور پر 2014 کے انعام کے لیے مفتی تقی عثمانی اور پروفیسر روڈنی ولسن کو مشترکہ طور پر حقدار قرار دیا ہے۔
 

x boy

محفلین
اچھی خبر ہے
لیکن بنک کوئی بھی ہو،، وہ سینٹرل سسٹم سے جڑے رہنے کی وجہ سے اسلامی نہیں ہوسکتا،،،
جیسے پینے کا پانی ڈرین میں، کچن میں برتن دھونے کا پنی ڈرین میں، بیت الخلاء کا پانی بھی ڈرین سے گزرتا ہوا سیوریج سسٹم کے ٹینگ میں سب ایک جگہہ جمع ہوتے ہیں۔۔۔
 

x boy

محفلین
اس کی کیا تفصیل ہے ،براہ کرم ارشاد فرمائیے۔
میں اس کی مثال دے چکا ہوں کہ سارے حساب کتاب سینٹرل بنک میں آکر جمع ہوتے ہیں وہ غیر اسلامی ہے اس لئے اسلامی بنک کا نظام
کہہ دینے سے نہیں ہوگا، ڈالر، یورو، ین اور دیگر کرنسی کا جو استعمال ہے جو سودی بنکوں کے ذریعے آتا ہے کیا اسلامی بنک اس کو
بند کرسکتی ہے،،،
 

کاظمی بابا

محفلین
کمال تو کیا ہے تقی عثمانی نے، سود کو حلال کرنے کا شرعی طریقہ بتا دیا۔
امید ہے کہ اس ایوارڈ سے حوصلہ پا کر وہ جلد ہی باقی خبائث کو بھی شریعت کے دائرے میں داخل فرما دیں گے۔
 

آصف اثر

معطل
کمال تو کیا ہے تقی عثمانی نے، سود کو حلال کرنے کا شرعی طریقہ بتا دیا۔
امید ہے کہ اس ایوارڈ سے حوصلہ پا کر وہ جلد ہی باقی خبائث کو بھی شریعت کے دائرے میں داخل فرما دیں گے۔
یہ بات درست نہیں کہ اسلامی بینکوں نے سود کو حلال کردیا ہے۔ یہ ایک لمبی بحث ہے ، اس بابت مفتی تقی عثمانی اور دیگر حامی علماء کی مدلل کتب موجود ہیں۔ آپ ان کا مطالعہ ضرور کریں۔
 

کاظمی بابا

محفلین
یہ بات درست نہیں کہ اسلامی بینکوں نے سود کو حلال کردیا ہے۔ یہ ایک لمبی بحث ہے ، اس بابت مفتی تقی عثمانی اور دیگر حامی علماء کی مدلل کتب موجود ہیں۔ آپ ان کا مطالعہ ضرور کریں۔

خنزیر پر چاہے سات تکبیریں بھی پڑھ لیں صاحب ۔ ۔ ۔
 

x boy

محفلین
بیرون ملک ہم نے پایا بڑے بڑے اسلامک بنکو کے اعلی افسران ہندو یا عیسائی ہیں
سٹی بنک، گرانڈلیس، اسٹنڈرڈ چارٹرڈ بنک اور دیگر بنکو نے بھی اسلامی اکاونٹس سیکشن بنائے ہوئے ہیں جو یہودی چلاتے ہیں
 

آصف اثر

معطل
میں نے شروع ہی میں کہہ دیا تھا کہ مفتی تقی عثمانی صاحب نے سود کو حلال قرار نہیں دیا بلکہ ان کا جس طریقے پر فتویٰ ہے وہ شریعت کی روشنی میں ہے۔ ویسے تو دیگر سینکڑوں نام نہاد اسلامی بینک موجود ہیں حتیٰ کہ ایچ بی ایل، ایم سی ،بی، الفلاح اور دیگر سودی بینک تک ”اسلامی“ بینکاری کا کاروبار چمکا رہے ہیں اس کےمتعلق میں نہیں کہہ رہا میں صرف اس اسلامی بینکاری کی بات کررہاہوں جس کی حلت کے بارے میں مفتی صاحب نے فتویٰ دیا ہے۔ باقی بینکوں میں اللہ جانے کہ کیا کچھ ہورہا ہے۔۔۔
 
آپ سب میں سے کوئی سود کی تعریف قرآن حکیم سے فراہم کرسکتا ہے؟ اور لفظ سود قرآن حکیم کے کس لفظ کا ترجمہ ہے ؟ اور یہ کہ اس قرانی سود کو کس جگہ حرام قرار دیا گیا ہے؟ عنایت ہوگی۔
 
میرا خیال تھا کہ کوئی نا کوئی میرے بنیادی سے سوال کا جواب بتا دے گا۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ جانے بغیر کہ سود کیا ہے ۔ مختلف فلسفے پیش کیے جارہے ہیں۔ صرف اس لئے کہ کسی سے سن لیا ہے کہ "سود" حرام ہے۔

کل صبح تک انتظار کرتا ہوں پھر "سود" پر قرآن حکیم سے حوالے پیش کرتا ہوں کہ اس کے پیچھے نظریہ کیا ہے؟
 

x boy

محفلین
سوال؟
49677: دور حاضر ميں جبكہ سود عام ہو چكا ہے اپنى رقم كہاں ركھيں؟
اس دور ميں جبكہ معاہدے اور ذمہ دارياں ضائع ہو چكى ہيں ان كى پاسدارى نہيں رہى، اور بنك سودى معاملات كے اعتبار سے مشكوك ہو چكے ہيں، اور ہمارے پاس كوئى اسلامى بنك نہيں، اور گھر محفوظ نہيں ہے، ميں بغير كسى گناہ كيےكسى محفوظ اور حلال جگہ پر اپنا مال ركھنا چاہتا ہوں اور اسے تجارت ميں لگا كر سرمايہ كارى كرنے كا ارادہ ہےاور اس كى زكاۃ بھى نكالوں گا، وگرنہ يہ مال صرف ہو جائے گا، اور اس طرح زكاۃ كى مقدار بھى كم ہو گى ؟

الحمد للہ :

سودى بنكوں ميں رقم ركھنى بنك كے ساتھ سودى لين دين ميں تعاون ہے، يہ تو اس وقت ہے جب رقم كرنٹ اكاؤنٹ يعنى بغير كسى فائدہ كے ركھى جائے.

ليكن جب فائدہ كے ساتھ ركھى جائے تو يہ سود ہے جسے اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے حرام قرار ديا ہے، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سود خور اور سود كھلانے والے دونوں پر لعنت فرمائى ہے. سود خور سود لينے والا اور سود كھلانے والے سود دينے والا ہے.

اور جس شخص كے پاس مال ودولت ہو اور وہ اس كى حفاظت كرنا اور اسے تجارت ميں لگانا چاہے تو اسے مباح اور حلال طريقہ اور راہ تلاش كرنا چاہيے، لہذا وہ اپنا مال كسى امين شخص كو دے جو اس كے مال سے تجارت كرے اور اس كا نفع دونوں ميں حسب اتفاق تقسيم ہو گا.

اور اگر اسے مال كى حفاظت كا بنك ميں ركھنے كے علاوہ كوئى اور وسيلہ نہيں ملتا تو ضرورت اور حاجت كے وقت بغير كسى فائدہ كے بنك ميں ركھنے ميں كوئى حرج نہيں.

اور اسے چاہيے كہ وہ ايسے بنك كو اختيار كرے جو شر ميں بہت كم ہو اور شرعى معاملات كے زيادہ قريب ہو.

شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

بنكوں ميں ماہانہ يا سالانہ فائدہ كے ساتھ رقم ركھنا سود ہے جس كى حرمت پر علماء كرام كا اجماع ہے، ليكن بغير كسى فائدہ ( سود ) كے بنكوں ميں رقم ركھنے كے متعلق بھى بہتر يہى ہے كہ جب بنك سودى لين دين كرتے ہوں تو بنكوں ميں بغير ضرورت كےرقم نہ ركھى جائے، كيونكہ بنك ميں رقم ركھنا اگرچہ وہ بغير فائدہ ( سود ) كے ہى كيوں نہ ہو اس ميں سودى لين دين كرنے ميں تعاون ہوتا ہے، لہذا صاحب مال كے ليے خدشہ ہے كہ وہ گناہ اور برائى و زيادتى كے كاموں كے معاونين ميں نہ شامل ہو جائےاگرچہ اس كا ارادہ ايسا نہيں.

لہذا اللہ تعالى كى حرام كردہ اشياء سے اجتناب كرنا اوربچنا ضرورى اور واجب ہے، اور مال ودولت كى حفاظت كے ليے سليم اور صحيح راہ تلاش كرنا چاہيے اور اس كے خرچ كرنے كےليے بھى صحيح راہ تلاش كى جائے.

اللہ تعالى سب مسلمانوں كو ايسے كام كرنے كى توفيق عطا فرمائے جس ميں انكى سعادت و خوشبختى اور ان كى عزت و نجات ہو، اور اللہ تعالى ان كے ليے جلد از جلد اسلامى بنك قائم كرنے ميں آسانى پيدا فرمائے، جو سودى لين دين سے پاك ہوں، بلاشبہ اللہ تعالى اس كا كارساز ہے اوراس پر قادر ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتوں كا نزول فرمائے.

http://islamqa.info/ur/search?key=سود
 

آصف اثر

معطل
میرا خیال تھا کہ کوئی نا کوئی میرے بنیادی سے سوال کا جواب بتا دے گا۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ جانے بغیر کہ سود کیا ہے ۔ مختلف فلسفے پیش کیے جارہے ہیں۔ صرف اس لئے کہ کسی سے سن لیا ہے کہ "سود" حرام ہے۔

کل صبح تک انتظار کرتا ہوں پھر "سود" پر قرآن حکیم سے حوالے پیش کرتا ہوں کہ اس کے پیچھے نظریہ کیا ہے؟


ربا کی تعریف

رِبا عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی زیادتی، بڑھوتری اور اضافہ کے ہیں۔ اُردو زبان میں اس کے لئے سود کا لفظ استعما ل کیا جاتا ہے ،۱ سی سے ہی سودو زیاں ( نفع و نقصان )کالفظ بھی استعمال ہوتاہے۔ انگریزی میں Interest اور Usury ربوا کے ہم معنی ہیں۔

شریعت کی اصطلاح میں سود کی تعریف؍مراد

''وہ مشروط اضافہ ہے جو معاہدئہ لین دین میں بغیر کسی حق کے حاصل کیا جاتا ہے'' (۱)

قرآ نِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿قالوا إِنَّمَا البَيعُ مِثلُ الرِّ‌بو‌ٰا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيعَ وَحَرَّ‌مَ الرِّ‌بو‌ٰا...٢٧٥﴾... سورة البقرة

''سود خور وں نے کہاکہ سود اور تجارت ایک ہی چیز ہیں جبکہ اللہ نے بیع (کے اضافے) کو تو حلا ل کیا ہے اور سود کے اضافہ کو حرام کیا ہے''

تجار ت اور سود میں فرق

اس آیت ِکریمہ کے منشا ومرادتک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ بیع او رسود کے اضافہ میں فرق کا جائزہ لیا جائے کہ آخر کس بنیاد پر بیع کا منافع تو جائز ہے اور سود کا اضافہ جائز نہیں۔ یہ فرق درج ذیل ہیں:

(1) تجارت میں نفع کا حصول یقینی نہیں ہوتا بلکہ نفع کے ساتھ نقصان کا بھی امکان ہوتا ہے جبکہ سود کی صورت میں یہ نفع ؍اضافہ لازمی ہوتا ہے اور سود دینے والے کو اس اضافے کے حصول میں کسی رِسک( خطرے )سے دو چار نہیں ہونا پڑتا۔

(2) تجارت کی صورت میں کسی جنس کو نقدی کے بدلے خریدا یافروخت کیا جاتا ہے اور اس جنس کی تیاری میں انسانی قوتیں صرف ہو کر اس کو قابل فروخت بناتی ہیں اور حاصل ہونے والا نفع دراصل اِن انسانی کاوشوں کا ثمرہ ہوتا ہے۔ جبکہ سود کی صورت میں رقم(Money)کا رقم سے سودا ہوتا ہے اور حاصل ہونے والا فائدہ صرف رقم کو مخصوص مہلت کے عوض دینے پر حاصل کیا جاتا ہے۔

(3) تجارت میں یہ معاہدئہ لین دین عموماًمختصر مدت کے بعد ختم ہوجاتا ہے جبکہ سود کی صورت میں طویل عرصے بلکہ لامحدود مدت کے لئے جاری رہتا ہے۔ (مزید تفصیل کے لئے صفحہ۲۰۱ )

مشروط اِضافہ

شریعت کی نظر میں صرف اسی اضافے کو سود کہاجائے گاجس کے حصول کا قرض دینے والے کو پہلے یقین ہوجائے۔ اور اگر کسی اضافے کی شرط نہیں کی گئی اور مقروض ادائیگی کے وقت مرضی سے کوئی اضافی مال یا تحفہ دے دیتا ہے تو وہ سود میں شمار نہیں ہوگا۔ اصل قرض سے زیادہ دینا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے جبکہ سود کا شبہ پڑنے یا رواج پاجانے کا خطرہ نہ ہو اور اس کو حسن قضاء الدین کہا جاتا ہے جس کی نبی اکرمﷺ نے تعریف کی ہے۔ صحیح بخاری میں مروی ہے کہ

''نبی اکرمﷺ نے ایک شخص سے اونٹ قرض لیا۔ جب وہ شخص اپنا اونٹ واپس لینے آیا تو آپ نے صحابہ ؓ کو وہ اونٹ دینے کو کہا۔ صحابہ ؓ نے فرمایا کہ اس کے دیئے اونٹ کی عمر کا اونٹ تو موجود نہیں، اس سے بڑی عمر کا (بہتر) اونٹ موجود ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ وہی دے دو، کیونکہ تم میں وہ شخص بہتر ہے جو قرض اچھی طرح ادا کرے۔ '' (صحیح بخاری:باب حسن القضاء )

اسی طرح صحیح بخاری کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے جابر بن عبداللہ ؓسے ان کا ایک اونٹ ادھار پرخریدا اور ادائیگی کے وقت مقررہ قیمت سے کچھ زیادہ ادا کیا۔(صحیح بخاری: ایضاً)

٭ بعض لوگوں نے قرض کی ترغیب دینے کے لئے یہ تجویز پیش کی ہے کہ حکومتی اور عوامی سطح پر قرض کی ادائیگی کے وقت تحفہ دینے کو رواج دیا جائے۔ لیکن شریعت کی رو سے اس کی اجازت نہیں ہے بلکہ یہ سود کو جائز کرنے کا حیلہ ہے۔ کیونکہ شرعی قاعدہ ہے کہ المعروف کالمشروط ''وہ شے جس کا رواج بن جائے وہ بھی شرط کے حکم میں ہی ہوتی ہے'' چنانچہ قرض دینے والے کے ذہن میں اگر کسی بھی قسم کا فائدہ حاصل کرنے کا کوئی امکان ہو چاہے قرض دار کی عادت کے طور پر یا رواج کے طور پر تو یہ قرض پر اضافہ کے ضمن میں ہی آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مقروض سے تحفہ وصول کرنے سے منع کرتے ہوئے اسے رِبا قرار دیا ہے۔ حدیث کے الفاظ ہیں:

«اِذَا اَقْرَضَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلاَ یَاْخُذْ ھَدِیَّة» (بخاری في تاریخه)

''جب کوئی شخص دوسرے شخص کو قرض دے تو اُس سے تحفہ قبول نہ کرے''

ایک او رحدیث میں کسی شخص کی دوسرے سے نیکی (مثلاً سفارش) کرنے پراسے تحفہ دینے کو آپ نے سود کاعظیم دروازہ کھولنے کے مترادف قرار دیا ( صحیح سنن أبو داود:باب في الهدیة لقضاء الحاجة)

رسول اللہﷺ نے حضرت جابر کو اونٹ کی ادائیگی میں جو مال زیادہ دیا تھا، اس کا نہ اعلان ہوا تھا اور نہ حضرت جابر ؓکے علم میں یہ تھا کہ مجھے مقررہ قیمت سے زیادہ بطورِ احسان ملے گا۔

٭ بعض لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اضافہ اگر بہت زیادہ ہو تو حرام ہے لیکن اگر مناسب یا کم ہو تو جائز ہے۔ جبکہ شریعت میں قرض پر اضافے کی کمی بیشی کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ یہ اُصول ہے: ما أسکر کثیرہ فقلیله حرام ''جس کا زیادہ حرام ہو، اس کا قلیل بھی حرام ہے'' (جامع ترمذی) شراب کا ایک گھونٹ بھی ویسے ہی حرام ہے جیسا چھلکتا ہوا جام۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:

''سود کا ایک درہم جو آدمی کھاتا ہے اور وہ اس کے سودی ہونے کا جانتا ہے ، گناہ میں زنا سے ۳۶ گنا زیادہ سنگین ہے'' (مسند احمد، دارمی بحوالہ مشکوٰۃ: کتاب البیوع)(۲)

ایک اور حدیث میں نبی اکرم کا یہ فرمان بھی آیا ہے:

''سود کے اگر سو حصے بھی کئے جائیں تو اس کا کمترین حصہ بھی (گناہ میں) اپنی ماں سے زنا کرنے کے برابر ہے'' (ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ: کتاب البیوع)

معروف فقیہ ابن عبد البر مالکی (م ۴۶۳ھ) فرماتے ہیں:

''مسلمانوں کا اپنے نبی کے کہنے پر اس امر پر اجماع ہو چکاہیکہ اُدھارپر اضافے کی شرط لگانا سود ہے اگرچہ وہ اضافہ ایک مٹھی گھاس ہو یا ایک دانہ۔۔ '' (التمہید: ج۴، ص ۶۸)

اِس بحث کی وجہ در اصل یہ ہے کہ اہل مغرب نے اپنے ہاں مناسب شرح سود کو تو جائز قرار دیا ہوا ہے جسے وہ Interest کا نام دیتے ہیں جبکہ زیادہ ؍ظالمانہ شرح سود کو وہ معاشرتی جرم سمجھتے ہیں اور اس کے اِنسداد کے لئے باقاعدہ قوانین موجود ہیں، اس کا نام انہوں نے Usury رکھا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے اہل مغرب کا یہ صرف ایک لفظی دھوکہ ہے ورنہ انٹرسٹ اور یوژری میں کوئی فرق نہیں کیونکہ مناسب شرح سود کا آج تک تعین نہیں کیاجاسکا۔ جس جگہ وہ سود کو جائز قرار دینا چاہیں تو اسے انٹرسٹ کہہ لیتے ہیں اور جہاں سود سے ان کے زور آور طبقات کے مفادات پر زد پڑتی ہو وہاں اسے یوژری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ شرح سود ۲ فیصد بھی ظالمانہ ہوتی ہے اور بعض اوقات ۲۹ فیصد بھی مناسب، اسی طرح ایک ہی وقت میں ایک ہی شہر میں مختلف مقاصد کیلئے حاصل کئے جانے والے قرضوں پر سود کی شرح میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ (دیکھئے ص ۱۷۹ ) اسلامی شریعت کی رو سے شرح سود میں کمی بیشی کا کوئی اعتبار نہیں ۔

٭ بعض لوگ قرآنِ کریم کی آیت ﴿ي۔ٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَأكُلُوا الرِّ‌بو‌ٰا أَضع۔ٰفًا مُض۔ٰعَفَةً...١٣٠﴾... سورة آل عمران" سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ قرآنِ کریم میں سود مرکب کو حرام کیا گیا ہے یعنی سود در سود کو جبکہ سود مفرد حرام نہیں ہے...یہ استدلال درست نہیں ہے ۔۔قرض پر سود کی مختلف شکلیں ہیں:

(1) پہلی شکل یہ ہے کہ مقروض ایک سال کے بعد قرض ادا کردے تو کوئی اضافہ دینا ضروری نہیں ہوگالیکن اگر اس مخصوص مدت کے بعد ادائیگی نہ کی جاسکی تو تب اس پر اضافہ دینا لازمی ہوگا۔

(2) سود مفرد: یعنی مال کو اس شرط پر قرض دیا جائے کہ ادائیگی کے وقت اس میں اضافہ کرنا ہوگا۔

(3) سود مرکب: اگر طے شدہ مدت پر ادائیگی ہوگئی تو اس میں مخصوص اضافہ دینا ہوگا۔ اور اگر طے شدہ مدت پرادائیگی نہ کی جاسکی تو اس رقم میں سود شامل کرکے سرمایہ پر مزید ہر سال یا مخصوص مدت گزرنے پر مخصوص اضافہ مسلسل ہوتا رہے گا۔ یہ سود در سود یا سود مرکب کہلاتا ہے۔

(4) ایک شخص نے دوسرے سے ایک شے ۱۰۰ روپے میں خریدی اور۳ ماہ بعد قیمت کی ادائیگی کا وعدہ کرکے اس کو تحریر وصولی (پوسٹ ڈیٹ چیک یا ہنڈی وغیرہ) لکھ دی۔ اگر بیچنے والا طے شدہ مدت سے پہلے اپنی رقم وصول کرناچاہے تو بنک (یا متعلقہ ذمہ دار) اس کو ۹۰ روپے یا کچھ کٹوتی کرکے ادا کردے۔اس کو 'ڈسکائونٹ ' کا نام دیا جاتا ہے او راس میں معاملہ برعکس ہوتاہے۔

شریعت کی رو سے یہ سب صورتیں اور اس کے علاوہ ہر مشروط اضافہ سود کے ضمن میں آتا ہے، اور سب ہی حرام ہیں،قرآنِ کریم میں اللہ فرماتے ہیں:﴿وَإِن تُبتُم فَلَكُم رُ‌ءوسُ أَمو‌ٰلِكُم...٢٧٩﴾... سورة البقرة ''اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے لئے صرف تمہارے اپنے مال حلال ہیں''

امام بغوی ؒاور قاضی ابن العربی ؒفرماتے ہیں:

''ربا عربوں میں ایک معروف چیز تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص کے ساتھ وقت مقررہ تک قرض کا کوئی معاملہ کرتا، مدت پوری ہونے پر مقروض مزید مہلت طلب کرتا تو اس کے عوض قرض کی مالیت میں اضافے کا وعدہ کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی سود کو حرام کردیا'' (معالم التنزیل:ج۱،ص۳۱۴؍ اَحکام القرآن:ج۱، ص۳۲۰،۳۲۱ )

اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرض دینے یا مال پر ہونے والا ہر ایک اضافہ حرام ہے چاہے وہ سود مفرد کی شکل میں ہو یا مرکب کی صورت ۔ جہاں تک قرآن کریم کی آیت ﴿أَضع۔ٰفًا مُض۔ٰعَفَةً﴾ سے استدلال کا تعلق ہے تو واضح رہے کہ قرآن کریم کی اس آیت میں قرض دینے والوں کی عام عادت کا ذکر کیا جارہا ہے کہ عموماً قرض دینے والے سود در سود کی طرز پر قرض دیتے ہیں نہ کہ اس کو بطورِ شرط بیان کیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر یہی اسلوبِ بیان موجود ہے جیساکہ سورۂ نور:۳۳ میں ﴿وَلا تُكرِ‌هوا فَتَي۔ٰتِكُم عَلَى البِغاءِ إِن أَرَ‌دنَ تَحَصُّنًا﴾ ''اپنی لونڈیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو ،اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں'' میں 'اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں' کا جملہ بطورِ شرط کے نہیں کیونکہ زنا زبردستی سے کروایا جائے یا مرضی سے ، ہر دو کے قبیح جرم ہونے میں کوئی شبہ نہیں،قرآنِ کریم میں ہے: ﴿وَلا تَقرَ‌بُوا الزِّنىٰ ۖ إِنَّهُ كانَ ف۔ٰحِشَةً وَساءَ سَبيلًا ٣٢﴾... سورة الاسراء ''زنا تو کھلی بے حیائی ہے ، اس کے قریب بھی مت جائو، یہ برائی کا راستہ ہے''

ربا کی تعریف میں بعض نکات کی طرف اشارہ

''معاہدئہ لین دین میں بغیر کسی حق کے حاصل کئے جانے والے مشروط اضافے ''کو ربا کہا جاتا ہے

... معاہدئہ لین دین کے ذریعے صرفی قرض کے سود کے ساتھ تجارت کے سود کو بھی شا مل کیا گیا ہے کیونکہ قرآن مجید کی رو سے تجارتی سود بھی حرام ہے(دیکھیں ص ۵۵)

... بغیر کسی حق سے مراد یہ ہے کہ مال میں اضافہ صرف کسی حق کی بنیاد پر لینا درست ہے۔ بعض لوگوں نے یہاں ''بغیر عوض'' کا لفظ بھی استعمال کیا ہے لیکن درحقیقت حق کا لفظ، عوض سے زیادہ جامع ہے کیونکہ کچھ لوگ مال میں اس اضافے کو وقت کا عوض قرار دیتے ہیں کہ'' میں فلاں شخص کو اتنے وقت کے عوض مال دینے کی بنا پر مال میں اس قدر اضافہ کا تقاضا کرتا ہوں''۔ وقت کو عوض قرار دینے کا حیلہ درست نہیں کیونکہ معاوضہ صرف اسی شے کا درست ہے جس کا انسان مالک ہو اور وقت انسان کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اسلام کی نظر میں روشنی،ہوا،اور پانی کی طرح وقت بھی اللہ کی ایک عمومی نعمت ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا:

«لاَ تسبُّوا الدَّھر فإن اللہ هو الدهر»ر( صحیح مسلم : باب النهي عن سبِّ الدهر)

''زمانے (وقت)کو گالی نہ دو ،کیونکہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ زمانہ ہیں''

چنانچہ زریا کسی بھی جنس کو صرف کچھ وقت کے عوض دینے پر اس میں اضافہ حاصل کرنا حرام ہے۔کسی چیز سے فائدہ اٹھانے کا معاوضہ لیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ چیز قابل استعمال ہو ۔اگر کوئی شے قابل استعمال نہیں تو اس کو صرف کچھ عرصہ دوسرے کے پاس رکھنے کے عوض فائدہ حاصل کرنا شریعت کی نگاہ میں حرام ہے۔بظاہر یہ ایک بڑا باریک نکتہ ہے لیکن یہ سود کی حرمت کا اور اسلام کے اقتصادی نظام کااہم ترین نکتہ ہے۔اسی نکتہ کو سمجھ لینے سے سود اور کرائے میں جوہری فرق بھی واضح ہو جائے گا۔بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جس طرح مختلف اشیاء کا کرایہ لینا اسلام میں جائز ہے ، اس طرح سود بھی تو نقدی کا کرایہ ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اسلام اشیاء ؍اجناس کے کرائے کو تو جائز قرار دیتا ہے او رنقدی کے کرائے کو حرام ۔ ذیل میں اسی سوال کی وضاحت پیش کی جاتی ہے:

سود او رکرائے میں فرق

کرایہ وقت گزرنے کا نہیں بلکہ کسی شے سے استفادے کاہوتا ہے:ہرشخص وہی سامان ،جنس یا انسان کی مزدوری کرائے ؍اجرت پر لیتا ہے جس سے اسے کچھ فائدہ اٹھانے کا امکان ہو ۔مثال کے طور پر بے کار گاڑی ،بنجر زمین ،ناقابل رہائش مکان کو کوئی شخص کرایہ پر نہیں لے گا نہ ہی بے ہنر اور نکمّے آدمی کو اُجرت پر حاصل کرے گا ۔ درحقیقت ہر شخص کرایہ شدہ یا اُجرت شدہ چیز کو کسی مفاد یا استعمال کے لئے حاصل کرتا ہے اور وقت کے ذریعے اس استفادے کی پیمائش کرتا ہے ۔چنانچہ آجر اپنے فائدہ ؍ استعمال کے عوض کرایہ ؍ اجرت ادا کرتا ہے نہ کہ وقت کے عوض۔وقت صرف پیمائش کا ایک ذریعہ ہوتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ سارا دن کام کے بجائے فارغ بیٹھ رہنے والے آدمی کو دیہاڑی کی اُجرت نہیں دی جاتی۔اسی طرح اگر کوئی اوزار یا آلہ کرائے پر حاصل کیا جائے اور وہ کسی خرابی کی بنا پر کام نہ کرے تو اگلے دن اَوزار کے مالک کو یہ کہا جاتا ہے (جس کا مشاہدہ ہمیں آئے روز ہوتا رہتا ہے) کہ ''اس آلہ نے کام نہیں کیا'' جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں اس کے کرائے کا پابند نہیں اور ہمیں علم ہے کہ اس امر کی جانچ پڑتال کے بعد اگر واقعتا وہ آلہ کام کے قابل نہ ہو تو اس کا مالک کرایہ وصول نہیں کرتا۔ اس سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ کرایہ ؍اُجرت وقت کے عوض نہیں بلکہ فائدہ کے عوض ہوتی ہے۔ اور جو شے بے فائدہ ہو اس کا کرایہ نہیں ہوتا جبکہ سود کی صورت میں قرض دینے والا اپنے زَرکو کچھ عرصہ دینے کے عوض فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔مزید وضاحت کے لئے سود اور کرائے میں فرق نکات وار درج کئے جاتے ہیں:

(1) روپیہ بذات ِخود قابل استعمال شے نہیں جبکہ باقی اَجناس قابل استعمال ہوتی ہیں۔روپیہ اپنی اصل حیثیت میں رہتے ہوئے کوئی فائدہ دینے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا ،نہ اسے کھایا جاسکتا ہے، نہ پہنا جاسکتا ہے اور نہ اس میں رہائش رکھی جاسکتی ہے۔ کرنسی کا تو ایک ہی مصرف ہے کہ اس سے کچھ خریدا جائے اور اس خریدی ہوئی چیز سے استفادہ کیا جائے۔غرضکرنسی کا بنیادی وظیفہ قابل فائدہ ہونا نہیں بلکہ مفید شے کو خریدنے کی صلاحیت رکھنا ہے ۔(۳) چنانچہ بالفرض اگر سونا چا ندی کی صورت میں کرنسی زیور کی شکل میں آجائے تو زیور سے چو نکہ (زیب وزینت کا) فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے،اس لئے زیور کا کرایہ درست ہوگا۔ مزیدوضاحت کے لئے ہمیں کرنسی ؍مال کے بنیادی وظائف کو سا منے رکھنا ہوگا۔بنیادی طور پر کرنسی تین مقاصد کے لئے رواج پایااور ارتقائی شکل اختیارات کرتے کرتے موجودہ کرنسی کی شکل کو پہنچا۔کرنسی کا تمام ارتقاء بھی انہی تین نکات کے گرد گھو متا ہے:

(i)کسی شے کی حقیقی قدر کے تعین کے لئے

(ii) درمیانی واسطہ کے طور پر: مختلف اجناس میں تبادلہ ہر وقت ممکن نہیں ہوتا،ہر ہر شخص کو اپنی مطلوبہ جنس وقت پر بآسانی میسرنہیں آتی،ایک درمیانی ذریعہ ؍واسطہ ضروری تھا کہ اس کی مدد لیکر اپنی چیز کو فروخت کرکے معاشرہ کی ضروریات کے مجموعی حجم میں شامل کیا جائے او راس کی قیمت وصول کر لی جائے اور اس قیمت کے ذریعے اپنی مطلوبہ جنس سے ضرورت پو ری کر لی جائے۔

(iii) کرنسی کے لئے محفوظ ہونے اور آسان نقل و حمل کی صلا حیت رکھنا بھی ضروری تھا کیونکہ انسانوں کی ضروریات ایک مخصوص علا قہ میں پوری نہیں ہو تیں ،بعض علاقے اگر اچھی فصلیں پیدا کرتے ہیں تو دوسرے مقامات پر بہتر ہنر مند ؍کاریگر دستیاب ہیں ۔ چنانچہ اجناس کو محفوظ صورت میں منتقل کرنے اور آزادانہ نقل وحمل میں آسانی کیلئے کرنسی کا نظام وجود میں آیا ۔(پال اے سیموئل سن)

ان تین مقاصد کے علاوہ کرنسی کا کوئی چوتھا مقصد ابھی تک انسانی شعور نے قبو ل نہیں کیا۔ گوکہ سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے چار بنیادی ذرائع پیداوار میں مال ؍کرنسی کو شامل کر کے اس کوذریعہ پیداوار بنایا او راس کا حاصل سود(۴) کو قرار دیا ہے لیکن یہی سرمایہ دارانہ نظام میں مالیاتی طبقاتی تقسیم کی بنیاد ہے اور آج تک سلیم الذہن انسان اس کو قبول نہیں کر سکے ۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا رقم؍کرنسی بذاتِ خود عامل پیداوارہے یا نہیں؟علم معاشیات کی روسے بھی زر کے بنیادی وظائف میں یہ بات شامل نہیں جیسا کہ معروف ماہر معاشیات پال اے سیموئل سن نے کرنسی کا ذریعہ پیداوار ہونا تسلیم نہیں کیا۔اوراسلام کی نظر میں بھی کسی جنس ؍قابل استعمال شے کا توکرایہ لیا جاسکتاہے جبکہ اشیاء کے حصول کے ایک وسیلہ (زَر) کا کرایہ لینا درست نہیں۔ کیونکہ کرایہ استفادے کا لیا جائے نہ کہ صرف وقت گزرنے کا ! ...معروف فلسفی ارسطو اپنی کتاب السیاسۃ میں لکھتا ہے:

''پیسہ فطری طور پر بنجر ہے۔ اور پیسے کا پیسے کو جنم دینا ایک بالکل غیر فطری عمل ہے۔لہٰذا پیسے پر سود وصول کرنا قابل تحقیر ہے... پیسے کابنیادی مقصد تبادلہ اشیاء ہے نہ کہ سود کے ذریعے بڑھنا۔ سود میں نقد کو استعمال کی شے بنایا جاتاہے جو اس کی طبیعت کے خلاف ہے، نقد اس لئے وجود میں لایا گیاہے کہ وہ مبادلے کا ذریعہ بنے۔'' (بحوث فی الربا از ابو زہرہ مصری)

بعض علماء نے اس لیے سود اور کرائے میں یہ فرق کیا ہے کہ سود کی صورت میں کرایہ شدہ زر کی ماہیت میں تبدیلی لانا ضرور ی ہے جس کے بغیر زَر سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا جاسکتا ۔جبکہ کرایہ کی دوسری صورتوں میں اس کرایہ شدہ جنس میں تبدیلی لانا ضروری نہیں ہوتا۔

(2) قابل استفادہ چیز کے بارے میں یہ بھی اصول ہے کہ وہ استعمال سے کم ہوتی ہے ۔ چنانچہ قابل کاشت زمین، سواریاں ،رہائش ،مشینری میں استعمال کے بعد نقص واقع ہوتا ،جن کی تکمیل ان کا مالک حاصل شدہ فائدے سے کرتا ہے۔ اس طرح جاندار سے کام کروانے کی صورت میں بھی اس کو اپنا خونِ جگر جلانا پڑتا ہے او راپنی ضائع شدہ توانائی کی خوراک او ر جسمانی آرام کے ذریعے تلافی کرنا پڑتی ہے۔ چنانچہ حدیث ِنبویؐ میں ہے : «في کل ذات کبد رطبة أجر»

''ہر تر جگر والے کی محنت کا اَجر (بدلہ) ہے '' (صحیح بخاری: حدیث نمبر ۲۴۶۶)

بعض لوگ قابل کاشت زمین کے بارے میں اعتراض کرتے ہیں کہ ان میں کیا کمی واقع ہوتی ہے۔ تحقیق کی رو سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ فصل کے ساتھ زمین کی پیداواری صلاحیت میں بھی کمی ہوتی رہتی ہے (۵) جبکہ کرنسی چونکہ خود قابل استعمال شے نہیں، اس لیے اسے اپنی مکمل صورت میں ہی قرض دینے والا واپس حاصل کرلیتا ہے ۔ جس کااسے کوئی عوض بھی نہیں دینا پڑتا ۔

(3) کرایہ کی صورت میں کرایہ دار مالکانہ حقوق نہیںبلکہ استفادے کے حقوق رکھتا ہے ۔ ا ور ملکیت اصل مالک سے منسلک رکھتی ہے ۔ جبکہ مال کو کرائے پر دینے کی صورت میں ملکیت میں تبدیلی ہونا لازمی اَ مر ہے۔کیونکہ سود کی صورت میں قرضدار کرنسی میں کلی تصرف کا اختیار رکھتا ہے اور ایک مخصوص عرصے کے بعد ہی وہ کرنسی کی ادائیگی کا پابند ہوتا ہے۔ جبکہ کرایہ کی دوسری صورتوں میں کرایہ شدہ شے کی ملکیت اصل مالک سے منسلک رہتی ہے۔اور کرایہ دار اس شے میں کلی تصرف یا ہر قسم کی تبدیلی کا مجاز نہیں ہوتا۔ ... اس اعتبار سے درج ذیل نکات اس بحث سے نکلتے ہیں :

(1) اسلام کی رو سے سرمایہ ذریعہ پیداوار نہیں ۔

(2) وقت کی اُجرت لینا حرام ہے کیونکہ اللہ کی دوسری نعمتوں روشنی اورہواکی طرح یہ بھی ایک عمومی نعمت ہے جس میں سب بغیر کسی معاوضے کے شریک ہیں۔

(3) کرایہ ؍اجرت کسی قابل فائدہ شے کا ہوتا ہے ،چاہے وہ بے جان چیز سے فائدہ ہو یا جاندار سے !

(4) فائدہ اٹھانے کے عوض شے میں کمی واقع ہوتی ہے جس کے تلافی کے لیے کرایہ ، اجرت حاصل کی جاتی ہے ۔ ( کرائے او راجرت میں تلافی کے علاوہ نفع کاپہلوبھی موجود ہوتا ہے)

(5) سرمائے سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس کی ماہیت بدلنا ضروری ہے ۔

(6) کرایہ میں مالکانہ حقوق مالک کے پاس رہتے ہیں جبکہ سود میں قرضدار مال میں آزادانہ تصرف کا اختیار رکھتا ہے ۔

(7) علم معاشیات کی رو سے بھی کرنسی کے وظائف ؍مقاصد میں ذریعہ پیداوار ہونا شامل نہیں ۔

اس بحث سے اس سوال کا جواب باسانی مل سکتا ہے کہ اسلام نے کرایہ کو کیوں جائز قرار دیا ہے اور سود کو کیوں حرام۔ اور ہر دو میں کون سے وہ بنیادی فرق ہیں جن کا شریعت نے لحاظ رکھا ہے...

ربا الفضل

قرض پر سود (ربا النسیئة) تو ربا کی وہ معروف صورت ہے جس میں قرض پر کوئی مشروط اضافہ حاصل کیا جاتا ہے۔ یہی وہ صورت ہے جو اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب ، معاشروں اور دانشوروں کے ہاں زمانہ قدیم سے حرام سمجھی جاتی رہی ہے۔ یہ ربا کی واضح ترین صورت ہے جبکہ شریعت ِمحمدی ؐنے ربا کی ایک اور صورت بھی متعارف کرائی ہے جسے ربا الفضل کہا جاتا ہے۔ ربا الفضل کے بارے میں نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے: (بروایت ِحضرت ابوسعید خدریؓ) (صحیح مسلم: حدیث نمبر ۱۵۸۴)

''سونا سونا کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے (ان کا سودا)برابربرابر اور نقد و نقد کرنا جائز ہے۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا تو اس نے سودی معاملہ کیا۔ لینے اور دینے والا اس میں برابر ہیں''

ذخیرئہ احادیث میں ربا کی پہلی صورت یعنی ربا النسیئۃ کے حوالے سے تقریباً ڈیڑھ سو احادیث ملتی ہیں جبکہ ربا الفضل کے بارے میں آنے والی احادیث کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے، جس میں اس کی مختلف صورتوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے یہ احادیث متواتر کا درجہ رکھتی ہیں، یاد رہے کہ متواتر حدیث کسی شرعی حکم کو ثابت کرنے میں علما ء کے متفقہ موقف کے مطابق قرآن کی طرح ہی قطعی ہوتی ہے۔

ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ بالا مخصوص اَجناس کااسی جنس سے سودا کیا جائے تو دو شرطیں ملحوظ رکھنا ضروری ہیں:

(1) سودا نقد و نقد ہو۔یعنی ادھار کی صورت میں نہیں بلکہ ہاتھوں ہاتھ ہونا ضروری ہے۔

2) دونوں اَجناس کے وزن میں بھی برابری ضروری ہے۔

٭ اگر ان اجناس میں ایک جنس کا غیرجنس سے سودا ہو تو تب وزن میں کمی و بیشی تو ہوسکتی ہے لیکن نقد ہونا ضروری ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :

«فإذا اختلفت ھذہ الأصناف فبیعوا کیف شئتم إذا کان یدا بید»

''پھر اگر جنس مختلف ہو جائے تو جیسے چاہو لین دین کر لو، بشرطیکہ یہ تبادلہ دست بدست یعنی نقد و نقد ہو'' (صحیح مسلم : حدیث ۱۹۷۰)

اگر دونوں میں سے ایک شرط بھی ساقط ہوجائے تو یہ سود کا معاملہ ہوگا اور سود کی مذمت میں وارد جملہ مناہی کی زد اس پر پڑے گی۔ بعض احادیث میں چاندی کی جگہ ورق (چاندی کا سکہ) اور بعض احادیث میں منقیٰ (ساتویں جنس) کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ اسی طرح بعض روایات میں طَعَام کا لفظ بھی آیا ہے۔

کیا رباالفضل صرف چھ اَجناس میں حرام ہے؟:اس بارے میں فقہاء میں اختلاف ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے صفحہ ۸۶) اگر بنظرعمیق ان اَجناس کا جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں دو جنسیں(سونا چاندی) تو وہ ہیں جو عموماً ثمن کی بنیاد ہوتی ہیں اور باقی تین اَجناس (گندم، کھجور، جو اور بعض احادیث کے مطابق منقیٰ ) وہ ہیں جو قُوت یعنی مختلف معاشروں میں خوراک کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔ جبکہ چھٹی جنس (نمک) وہ ہے جو خوراک کو جزوِبدن بناتا ہے۔ اس اعتبار سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان اَجناس میں ثمن اورقوت ہونے کا عنصر حاوی ہے۔ خوراک ہونے کے غالب عنصر ہونے کو ہی بعض احادیث میں طعام کے مطلق لفظ سے تعبیر کیا گیاہے۔

معلوم ہوتاہے کہ ان کی بیع میں نقد و نقد او ربرابر برابر ہونے کی شرط لگا کر دراصل شریعت ان بنیادی ضرورت کی اَجناس کی دستیابی کو آسان ترکر نا چاہتی ہے۔ یعنی ان کو حاصل کرنے میں نوعِ انسانی کو زیادہ مشکلات اور خرید و فروخت کی پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ان کے سودے کی حدود پہلے ہی معین کردی جائیں۔شریعت کی یہی حکمت اس حدیث سے بھی واضح ہے، نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

«المسلمون شرکاء في ثلاث:الما ء والنار والکلإ» ( أبو داود:باب في منع الماء)

''مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں :پانی، آگ اور گھاس ''

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسی بہت سے بنیادی ضرورت کی چیزوں میں اگر کسی کے پاس فالتو شے ہو تو اسے تجارت کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ بنیادی ضرورت کی حد تک اسے دوسرے کا حق سمجھے ۔

ربا الفضل کے حرام ہونے کی حکمتیں:

(1) الغرض ربا الفضل صرف مخصوص اشیاء میں ہی حرام ہے اور وہ مخصو ص اشیاء (جن کی شریعت نے حد بندی کردی ہے) وہ ہیں جو غالباً ثمن یاقوت کی بنیاد ہوتی ہیں۔اور شریعت اس پابندی کے ذریعے ایسی اشیاء کی خرید وفروخت میں آسانی پیدا کرنا چاہتی ہے۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ربا الفضل فی نفسہٖ بھی حرام ہے ۔جیسا کہ نبی کریم نے اس کو عین سود سے تعبیر کیا ہے۔ دیکھئے گذشتہ صفحے پرحدیث ِ مسلم او راگلے صفحہ پر حدیث ِابی سعید میں خط کشیدہ الفاظ)

(2) حضرت عمر فاروقؓ ان چھ اَجناس میں دو شرطوں کے ضروری ہونے کی یہ حکمت بھی قرار دیتے ہیں کہ ''تم اس کے ذریعے اصل سود میں مبتلا نہ ہوجائو'' چنانچہ شاہ ولی اللہؒ، حافظ ابن قیم ؒاور امام شاطبیؒ وغیرہ نے یہ کہا ہے کہ ''ربا الفضل کے حرام ہونے کی حکمت، دراصل حقیقی ربا کا راستہ بند کرنا ہے''

(3) عقلی طور پر یہ بات بڑی عجیب سی لگتی ہے کہ اعلیٰ قسم کی گندم کو کمتر درجہ کی گندم کے ساتھ برابر وزن میں ہی بیچا جائے ۔ چنانچہ نبی اکرمﷺ سے بھی صحابہ نے یہ سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اس کا حل یہ ہے کہ ان کو پہلے درہم دینار کے عوض بیچ لیا جائے اور اس درہم و دینار کے عوض مطلوبہ گندم کی زیادہ یا کم مقدار حاصل کر لی جائے۔ اس سلسلے میں حضرت ابوسعید خدریؓ کی روایت ہماری رہنمائی کرتی ہے : (صحیح بخاری، کتاب البیوع)

''حضرت بلالؓ رسول اللہﷺ کے پاس برنی کھجور (اعلیٰ قسم) لائے۔ آپؐ نے پوچھا: کہاں سے لائے؟ کہا: ہمارے پاس ناکارہ کھجوریں تھیں، تو میں نے ایک صاع کے بدلے دو صاع کے حساب سے بیچ دیں۔ آپﷺ نے فرمایا: یہ تو خالص سود ہے، یہ تو خالص سود ہے۔ ایسا مت کرو، ہاںجب ایسا ارادہ ہو تو اپنی کھجور الگ بیچو اور اس رقم سے دوسری کھجور خرید لو''

اس سے معلوم ہوا کہ شریعت ان بنیادی ضرورت کی اشیاء میں بالکل کھرے اور واضح لین دین کو رواج دینا چاہتی ہے یعنی اگر کسی جنس کو مال سے بیچ کردوسری جنس کو خریدا جائے گا تو اس سے ہر دو کی حقیقی قدر کا تعین ہوجائے گا اور کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہ رہے گی۔ کیونکہ کرنسی کا بنیادی وظیفہ یہ بھی ہے کہ وہ مال کی حقیقی قدر کا تعین کر دیتی ہے اور ایک جنس کے سودے میں اس کی قدر کا واضح تعین اور شک و شبہ کا کلی اِنسداد دَراصل اس جنس کی خریدوفروخت میں آسانی پیدا کردیتاہے۔ خرید و فروخت میں آسانی کا لازمی نتیجہ ان اَجناس کی آزادانہ اور وسیع تر خریدوفروخت میں نکلے گا۔

کیا ربا صرف اُدھار میں ہی ہوتا ہے؟ اوپر بیان کردہ بحث سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ربا الفضل بھی سود کے زمرے میں شامل ہے۔ احادیث ِنبویہ میں واضح الفاظ میںاس کو ربا شمار کیا گیا ہے (دیکھیں مذکورہ بالا حدیث میں خط کشیدہ الفاظ) ۔ آئندہ صفحات میں ہم واضح کریں گے کہ ربا الفضل کی زد میں کون کون سے سودی لین دین آتے ہیں ...عا م طو ر پر جن دلائل کے ذریعے ربا کو صرف ادھار کے سود تک محدود کیا جاتا ہے ، ذیل میں ان کی وضاحت پیش کی جاتی ہے :

(1) عام طور پر ربا کی تعریف «کلّ قرض جرّ منفعة فھوربا» (ہر ایسا قرض جو نفع کو لائے) کے الفاظ سے کی جاتی ہے اور انہیں حدیث ِنبوی باور کرایا جاتا ہے جبکہ اس کی سند میں سوار بن مصعب نامی راوی ضعیف ہے ۔ اس حدیث کی دیگر شواہد روایات بھی موجود ہیں جن کا جائزہ لینے پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نبی اکرمﷺ کے الفاظ نہیں بلکہ محمد بن سیرین ؒتابعی کا قول ہے یعنی حدیث ِمقطوع ۔ اسی طرح بعض صحابہ مثلاً فضالہ بن عبیدہ سے بھی اسی سے ملتے جلتے الفاظ مروی ہیں۔چنانچہ اس کو زیادہ سے زیادہ صحابی کا قول کہا جاسکتا ہے۔

یہ تو اس حدیث کے فرمان نبوی ہونے کی حقیقت ہے جہاں تک اس کے مفہوم کا تعلق ہے تو یہ ربا کی مکمل تعریف نہیں بلکہ ربا کے ایک حصے صرفی قرض کے سود تک محدود ہے۔

(2) اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عباس ؓکے قول «لاَ رِبَا اِلاَّ فِیْ النَّسِیْئَة» (بخاری: ج۱ ص۱۳۸) سے بھی یہ مغالطہ دیا جاتا ہے کہ آپ ؓصرف بصورت ِادھار سود کے قائل تھے۔ جبکہ عربی زبان میں ایسا اسلوب ِبیان معنی میں قوت پیدا کرنے کے لئے اور بیان کردہ امر کو اہمیت دینے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے﴿وَما مُحَمَّدٌ إِلّا رَ‌سولٌ﴾ محمدﷺ صرف اللہ کے رسول ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگرچہ آپ کی بہت صفات ہیں لیکن آپ کی صفت ِرسالت کا تسلیم کرنا ہی ایمان کا بنیادی تقاضاہے۔ اسی طرح حضرت ابن عباسؓ کے قول کا مطلب بھی یہ ہے کہ عموماً ادھار کی بنا پر لین دین میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ بعض روایات کی رو سے حضرت ابن عباس پہلے صرف ادھار سود کے قائل تھے پھر انہوں نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے مذکورہ بالا حدیث سننے پر ربا الفضل کی حرمت بھی تسلیم کرلی اور اپنے قول سے رجوع کرلیاتھا۔( معجم کبریٰ طبرانی: ج۱ ص۲۷،۲۸؍ اضواء البیان: ج۱، ص۲۹۵ تا ۳۰۹)

إن ألفاظ کل قرض جرّ منفعة فھو ربا اور لا ربا إلا في النسیئة والی حدیث ِموقوف پر بنیا دی اعترا ض یہی واردہوتاہے کہ ان دونوںمیںربا کی صر ف ایک قسم یعنی ربا النسیئۃ یا صرفی قرض پر سودکو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔اگر ان کو ربا کی تعریف تسلیم کر لیا جائے تو ربا الفضل ان کے دائرے میں شامل نہیںہوتا (نہ ہی تجارتی سود اس کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ قَرض کا لفظ صرف ذاتی مقاصد کے لئے حاصل کئے جانے والے اُدھار کے لئے مخصوص ہے)۔ جب کہ نبی اکرم کے فرمان کے بموجب ربا الفضل بھی ربا میں شامل ہے... واضح رہے کہ علماء ِامت میں ان چھ اَجناس میں دو شرطوں کو ملحوظ رکھے بغیر لین دین کو ربا الفضل سمجھتے ہوئے حرا م ہونے پر اتفا ق رہا ہے ۔

ہمیں ربا الفضل کو ربا کی تعریف اور مباحث میں شامل کرنے پر اس لئے اصرار ہے کہ اس کے بغیر ربا کا دائرہ بہت محدود ہوجاتاہے جبکہ شریعت میں اس کا دائرہ کار وسیع اور اس کی ممنوعیت کی حکمتیں بہت زیادہ ہیں۔ جس میں ایک طرف ضرورت کی بنیادی اشیاء کی آسان اور سادہ بیع کی ترویج شامل ہے تو دوسری طرف ثمن یعنی کرنسی کے لین دین بھی اس میں شامل ہیں۔ رباالفضل کو شامل کرنے سے تجارتی سود لازماً ممنوعہ سود میں شامل ہوجاتاہے کہ رباالفضل کا تعلق ہی بیوع یعنی کاروبارسے ہے۔وہ لوگ جو ربا الفضل سے جان چھڑانا چاہتے ہیں ، دراصل وہ اس طرح تجارتی سود کو سند جواز بخشنے کی سعی ٔ نامشکور کا ارتکاب کرتے ہیں۔

بعض لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ربا النسیئۃ (ادھار کا سود) تو ربا القرآن ہے۔ جبکہ ربا الفضل، ربا الحدیث ہے کیونکہ قرآن کریم میں صرف ادھار پر سودکی حرمت موجود ہے اورربا الفضل کی ممانعت صرف حدیث میں آئی ہے۔

یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں کیونکہ قرآن کریم میں ہر دو کی بنیادیں موجود ہیں، اسی طرح ربا النسیئۃ جس کو یہ لوگ رباالقرآن کہتے ہیں،کے بارے میں ڈیڑھ سو احادیث ملتی ہیں۔ قرآن کریم تو ہرقسم کے سود کو حرام قرار دیتا ہے جس میں صرفی (ذاتی ضرورت کے لئے) سود کے ساتھ ساتھ تجارتی سود بھی شامل ہے( دیکھئے ص۵۵)۔اسی طرح ربا الفضل میں بھی پہلی شرط یعنی نقدونقد ہونے کی شرط ربا النسیئۃ کی قبیل سے ہے اور برابر وزن ہونے کی شرط ربا الفضل کی بنیاد پر۔ شریعت قرآن اور حدیث ہر دو میں پھیلی ہوئی ہے اور دونوں ایک دوسرے کی تکمیل و توضیح کرتے ہیں۔ چنانچہ اس طرح کے دعوے صرف من مانی تاویلوں کی گنجائش نکالنے اور سود کے چور دروازے تلاش کرنے کے مترادف ہیں۔ علماء قرآن اور حدیث دونوں کو شرعی حکم کے ثابت کرنے میں برابر کا درجہ دیتے ہیں کیونکہ دونوں ہی شریعت اور وحی الٰہی ہیں۔ بالخصو ص اس وقت جبکہ کوئی حدیث ِنبوی متواتر کے درجے کو پہنچ جائے تو وہ شرعی حکم کے ثبوت میںقرآن کا سا درجہ رکھتی ہے اور قطعی الثبوت ہوتی ہے، جیساکہ پیچھے گزر چکا ہے۔
 
آخری تدوین:

آصف اثر

معطل
میرا خیال تھا کہ کوئی نا کوئی میرے بنیادی سے سوال کا جواب بتا دے گا۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ جانے بغیر کہ سود کیا ہے ۔ مختلف فلسفے پیش کیے جارہے ہیں۔ صرف اس لئے کہ کسی سے سن لیا ہے کہ "سود" حرام ہے۔

کل صبح تک انتظار کرتا ہوں پھر "سود" پر قرآن حکیم سے حوالے پیش کرتا ہوں کہ اس کے پیچھے نظریہ کیا ہے؟

تجارتی سود ( کمرشل انٹرسٹ )

بعض دین بیزار لوگ جب شریعت میں سودکی اس قدر شدید حرمت اور مذمت پاتے ہیں تو عموماً درج ذیل اعتراضات کے ذریعے سود کے بارے میں شبہات پیدا کرتے ہیں:

(1) اسلام نے زیادہ شرح سود کو حرام کیا ہے جس میں قرض لینے والے پر ظلم ہوتاہے، جبکہ مناسب شرح سود (Interest) کو جائز قرار دیا ہے۔

یہ شبہ تو وہ لوگ پیدا کرتے ہیںجن کے ذہن پر مغرب کی اندھی تقلید کا بھوت سوار ہے۔ چونکہ وہ سود کے بارے میں اہل مغرب کا طرزِ عمل یہی دیکھتے ہیں، اس لئے اسلام سے بھی اس کو ثابت کرنا چاہتے ہیں ، جبکہ اسلام میںزیادہ اور کم شرح سود کے حرام ہونے میں کوئی فرق نہیں۔ اس شبہ کی وضاحت تفصیل سے پیچھے گزر چکی ہے( دیکھیں ص۴۴)

(2) بعض لوگ کہتے ہیں کہ عرب میں تجارتی سود کاوجود نہ تھا، صرف ذاتی حاجات کے لئے قرضے لئے جاتے تھے، اس لئے شریعت میں بھی انہیں ہی حرام کیا گیا ہے اسی طرح موجودہ بنکنگ کا نظام وغیرہ بھی جدید دور کی پیداوار ہے، اسلام میں بنکوں سے لئے جانے والے قرضوں کی حرمت کا کیسے ذکر ہوسکتا ہے؟

(3) قرآن کریم میں صرف ذاتی حاجات کیلئے حاصل کئے جانیوالے قرضے پر سود کی حرمت موجود ہے

اُصولی طور پر یہ اعتراضات ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ سب میں قدرِ مشترک یہی ہے کہ کسی بہانے سے سود کی بعض صورتوں کو حلال کر لیا جائے اور اپنے ضمیر کے علاوہ دوسرے سادہ لوح مسلمانوں کو بھی دھوکہ دے کر سودی لین دین کو رواج دے دیا جائے۔

(1) کیا قرآنِ کریم میں تجارتی سود کا تذکرہ موجود نہیں؟

قرآن کریم میں سورۂ بقرہ (جہاں تفصیل سے سود کے بارے میں آیات موجود ہیں) میں صدقات کی آیات کے فوراً بعد سود کی حرمت اور مذمت والی آیات لائی گئی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم صدقات کے بعد سود کی حرمت ذکر کرکے قرض لینے والے کی ضرورت کو صدقات سے پورا کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ شبہ یہ پیدا کیا جاتا ہے کہ سود کے بالمقابل صدقات کی ترویج کا مطلب یہ ہے کہ صرف وہی سود حرام ہے جو ذاتی حاجات کے لئے لیا جائے کیونکہ صدقات فقراء کیذاتی ضروریات کی تکمیل کے لئے ہی دیئے جاتے ہیں۔

یہ اِستدلال درست نہیں کیونکہ قرآن کریم میں ایک طرف ﴿يَمحَقُ اللَّهُ الرِّ‌بو‌ٰاوَيُر‌بِى الصَّدَق۔ٰتِ﴾( اللہ سود کو مٹاتا اور صدقات کی پرورش کرتاہے) میں سود کے خاتمہ کے لئے صرفی قرضوں کا حل صدقات تجویز کیا گیاہے تو دوسری طرف ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيعَ وَحَرَّ‌مَ الرِّ‌بو‌ٰا﴾ ( اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام) کے ذریعے ربا کو تجارتی معاہدوں کے بالمقابل بھی پیش کیا گیا ہے

یہی وجہ ہے کہ سورۂ بقرہ میں آیات ِسود سے پہلے اگر صدقات کی ترغیب موجو دہے تو آیاتِ سود کے فوراً بعد تجارتی قرضوں کے تفصیلی اَحکام پر مبنی ایک پورا رکوع بھی موجود ہے ۔ جو﴿ي۔ٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا تَدايَنتُم بِدَينٍ﴾ (اے مسلمانو! جب تم تجارتی قرضے دینے لگو تو اسے لکھ لیا کرو) سے شروع ہو کر ان آیات پر ختم ہو تا ہے کہ ﴿وَإِن تُبدوا ما فى أَنفُسِكُم أَو تُخفوهُ يُحاسِبكُم بِهِ اللَّهُ﴾ ''جو تم اپنے اندر چھپاتے ہو یا اسے ظاہر کرتے ہو، اللہ سب کا خوب حساب لینے والا ہے''

اس آخری آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ سود خوروں کو یہ تنبیہ فرما رہے ہیں کہ ''سود خوری کے لئے حیلے، بہانے تلاش نہ کرو، تمہیں علم ہونا چاہئے کہ اللہ دلوں کے بھید خوب جانتا ہے وہ روزِ قیامت ظاہری طرزِ عمل کے ساتھ ساتھ دلوں کے بھید اور پوشیدہ اغراض کا بھی خوب حساب لے گا۔ اس لئے خلوصِ دل کے ساتھ سود سے اجتناب کرو''

چنانچہ آیاتِ سود کے متصل رکوع میں تجارت کے اَحکام موجود ہیں۔ اس کے لئے یہ نکات پیش نظر رہنا چاہئیں:

(i) قرض اور دَین کالفظ عموماً مترادف سمجھا جاتاہے جبکہ عربی زبان میں ان دونوں میں فرق ہے ۔ قرض اس اُدھار پر بولا جاتا ہے جو ذاتی ؍ صرفی مقاصد کے لئے لیا جائے۔ جبکہ دَین کا لفظ ذاتی اور تجارتی ہر دو قسم کے قرضوں پر بولا جاتاہے۔ اس لحاظ سے قرض اور دین میں عام و خاص کی نسبت ہے۔ قرض خاص ہے اور دین عام (مترادفات القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی، ص۱۲۸)

دَین کا درست ترجمہ ذمہ داری یا انگریزی میں Liability (ادائیگی کی ذمہ داری ) ہوگاجس میں کاروباری قرضے بھی شامل ہوتے ہیں۔

(ii) حضرت ابن عباسؓ ﴿إِذا تَدايَنتُم بِدَينٍ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى...٢٨٢﴾... سورة البقرة" کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ''یہ آیت خصوصی طور پر بیع سَلَمکے بارے میں اتری ہے (طبری:ج۳، ص۱۱۶)

قرآنِ کریم اللہ جل شانہ کا کلام ہے اور اس میں ایک ایک لفظ بڑی معنویت کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء نے قرآنِ کریم کے اندازِ بیان ، محاورہ اور الفاظ کے باریک تر انتخاب سے بھی استدلال کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اس آیت میںقرض کی بجائے دین کا لفظ استعمال کرنابڑی معنویت رکھتا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ اس رکوع کو صرفی قرضوں تک محدود کرنا قطعاً غیر درست ہے۔ بلکہ اس میںتجارتی و صرفی ہر دو قسم کے قرضوں کا بیان اور اَحکام موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ نے اس کو بیع سَلَم کے بارے میں مخصوص کیاہے اور ہمیں علم ہے کہ عربی زبان میں بیعتجارتی لین دین کو ہی کہا جاتا ہے۔

(iii) سورۂ بقرہ کی اسی آیت ۱۸۲ میں اَمانت کے اَحکام کا تذکرہ بھی موجود ہے اور کچھ شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اَمانت سے تجارت کرنے کا ثبوت صحابہ کرامؓ کے طرزِ عمل سے ملتا ہے، اِس سے بھی معلوم ہوا کہ اس آیت کے احکامِ تجارت کو بھی شامل ہیں۔ حضرت زبیر ؓبن عوام کا طرزِ عمل اس حدیث میں موجود ہے:

''حضرت زبیر بن عوامؓ کے پاس لوگ بڑی بڑی رقمیں امانت کے لئے رکھا کرتے تھے۔ مگر وہ کہتے کہ میں اَمانت نہیں بلکہ قرض لیتا ہوں جس سے میں تجارت کروں گا۔ چنانچہ ان کی شہادت کے بعد جب ان کے بیٹے نے حساب کیا تو یہ تجارتی قرضے (اَمانتیں) ۲۲ لاکھ درہم تھے جو ان کی جائیداد سے ادا کئے گئے۔'' (بخاري: کتاب الجهاد،باب برکة الغازي في ماله)

قرآن کریم میں تجارتی سود کی حرمت کے مزید دلائل یہ ہیں:

(1) سورۃ البقرہ کی آیت ۲۷۹ میں اللہ تعالیٰ سود خوروں سے اعلانِ جنگ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

﴿وَإِن تُبتُم فَلَكُم رُ‌ءوسُ أَمو‌ٰلِكُم﴾

''اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لئے صرف تمہارے رأس المال (سرمایہ؍اصل مال) حلال ہیں''

جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں کہ قرآنِ کریم میںالفاظ کا انتخاب بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ چنانچہ آیت کریمہ میں اصل مال کے لئے جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ حقیقی یاذاتی مال کے بجائے رأس المال (Capital Investment) کالفظ ہے اورہم جانتے ہیں کہ رأس المال تجارت کی اصطلاح ہے۔ تجارت میں شامل کئے جانے والے اصل مال کو جس کے ذریعے مزید منافع کمانا مقصود ہوتا ہے ، رأس المال کہا جاتا ہے۔

(2) سورئہ روم کی آیت نمبر ۳۹ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَما ءاتَيتُم مِن رِ‌بًا لِيَر‌بُوَافى أَمو‌ٰلِ النّاسِ فَلا يَر‌بوا عِندَ اللَّهِ...٣٩﴾... سورة الروم

''اور جو سودی قرض تم اس لئے دیتے ہو کہ دوسرے کے مال میں پروان چڑھے تو وہ اللہ کے ہاں پروان نہیں چڑھتا''

اس آیت کے الفاظ پر ذ را غور کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ یہ تجارتی قرضوں کو بھی شامل ہے کیونکہ ذاتی مقاصد کے لئے حاصل کئے جانے والے قرض کا مقصد حاجت پوری کرنا ہوتا ہے، مال میں اضافہ کرنا نہیں۔ اگر سود صرف صرفی قرضے تک محدود ہوتا تو اس طرح کے الفاظ ہونے چاہئے تھے کہ ''جو قرض تم لوگوں کی حاجات پوری کرنے کے لئے دیتے ہو یا جو قرض اس لئے دیتے ہو تاکہ تمہارے مال میں اضافہ ہو'' جبکہ یہاں یہ الفاظ ہیں کہ اس ادھارسے دوسرے (منفعت بخش کاروبار کریں اور) اپنے مالوں میں اضافہ کریں... اللہ تعالیٰ تجارتی مقاصد کے لئے دیئے جانے والے قرضوں کے بارے میں بھی فرماتے ہیں کہ اللہ کے ہاں مال میں اس طرح اضافہ نہیں ہوتا ۔اس کاایک مطلب تو یہ ہے کہ یہ اضافہ حاصل کرنا حرام ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ امر واقعہ یہ ہے کہ سود مال میں اضافہ نہیں کرتا جس کی وضاحت آگے آرہی ہے۔

(3) ﴿ي۔ٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَر‌وا ما بَقِىَ مِنَ الرِّ‌بو‌ٰا...٢٧٨﴾... سورة البقرة

''اے ایمان والو! اللہ سے ڈر جائو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو''

مشہور مفسر قرآن حافظ ابن جریرؒ فرماتے ہیں کہ یہ آیت تجارتی سود کے بارے میں نازل ہوئی (تفسیر طبری: ج۳، ص۱۰۷) مزید تفصیل آگے ملاحظہ کریں ۔

تجارتی سود شامل ہونے کے دیگر دلائل

(1) ربا کی تعریف علمائے امت کے ہاں الزیادة في الدین سے کی جاتی ہے نہ کہ الزیادة في القرض سے۔ا س سے معلوم ہوا کہ دَین (یعنی صرفی و تجارتی قرضے ہر دو) میں مشروط اضافے کو رِبا کہا جاتا ہے۔

(2) ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيعَ وَحَرَّ‌مَ الرِّ‌بو‌ٰا﴾ اور ﴿وَذَر‌وا ما بَقِىَ مِنَ الرِّ‌بو‌ٰا﴾ وغیرہ کے قرآنی الفاظ میں ربا کے لفظ پر اَل موجود ہے۔ اور عربی قواعدکی رو سے یہ اَل استغراق کا ہے جوتمام اقسام کو اپنے تحت شامل کرنے کا معنی دیتا ہے۔

یعنی الربوا عام ہے اور اصولِ فقہ میں عَام اسے کہا جاتاہے جو ''ان تمام افراد و اقسام پر صادق آئے جو اس کے مفہوم میں شامل ہوسکتے ہوں'' ...عَام کو پہچاننے کے صیغوں میں اَل استغراقی بھی داخل ہے۔ (اصولِ سرخسی: ج۱،ص۱۵۱)

غرض عربی قواعد کی رو سے الربوا کا لفظ ہر قسم کے سود کو شامل ہے چاہے وہ تجارتی ہو یا صرفی، مرکب ہو یا مفرد۔

ظہورِ اسلام کے وقت عرب میں تجارت

علماء نے اس موضوع پر بڑی تفصیل سے عہد ِنبوی میں تجارت کے وجود پر تفصیلات جمع کی ہیں۔ ذیل میں ان کے چیدہ چیدہ نکات درج کئے جاتے ہیں :

جزیرئہ عرب کرئہ ارضی کے مختلف آباد علاقوں کے وسط میں واقع ہے۔ چنانچہ مشرق و مغرب یعنی ہندوستان اور اس کے اردگرد کے ممالک کی مصر، سوڈان، الجزائر، تیونس (براعظم افریقہ) اور بلادِ شام سے تجارت جزیرئہ عرب کے راستے ہی ہوتی تھی۔ اسی طرح شمال سے جنوب یعنی یمن، جنوبی افریقہ کی عراق، ایران اور بلادِ یورپ سے تجارت بھی جزیرئہ عرب کے واسطے سے ہوتی۔ عرب کی سرزمین پہاڑوں، ناقابل کاشت میدانی علاقوں او ربے آب و گیاہ صحرائوں پر مشتمل ہے اور زراعت کو عرب میں معزز پیشہ بھی خیال نہیں کیا جاتا لہٰذا اہل عرب کی گزر بسر ان تجارتی قافلوں میں اپنا قابل فروخت سامان شامل کرکے ہوتی تھی۔ یا قافلوں کو لوٹ مار کر اپنا دانہ پانی پورا کیا جاتا۔ بعض لوگ انہی قافلوں کو بحفاظت گزارنے کے عوض ٹیکس بھی وصول کرتے۔ گویا جزیرئہ عرب مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں بین ُالاقوامی منڈی بنا ہوا تھا جس میں شہر مکہ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ قرآن کریم کی سورئہ قریش میں انہی تجارتی قافلوں کا ذکرموجود ہے :

﴿لِإيل۔ٰفِ قُرَ‌يشٍ ١ إۦل۔ٰفِهِم رِ‌حلَةَ الشِّتاءِ وَالصَّيفِ ٢ فَليَعبُدوا رَ‌بَّ ه۔ٰذَا البَيتِ ٣ الَّذى أَطعَمَهُم مِن جوعٍ وَءامَنَهُم مِن خَوفٍ ٤ ﴾... سورة قريش ''اس واسطے کہ مانوس رکھا قریش کو، مانوس رکھنا سردی اور گرمی کے سفر میں، انہیں چاہئے کہ اس گھر کے رب کی بندگی کریں جو بھوک میں ان کے کھانے کا بندوبست کرتا اور انہیں خوف سے امن میں رکھتاہے۔''

٭ یاد رہنا چاہئے کہ جنگ ِبدر کا پیش خیمہ بھی ابوسفیان کی سرکردگی میں آنے والا قافلہ ہی بنا تھا جس میں سامان سے لدے ہوئے دو ہزار اونٹ شامل تھے۔

٭ ابوسفیان تجارتی قافلے کے سربراہ کے طور پر ہی شام گیا تھا جب اُس سے ہرقلؔنے سوال وجواب کئے

٭ کئی مؤرخین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ درآمد و برآمد کی تجارت ۵۰ لاکھ دینار یعنی ۴ ؍اَرب روپے سالانہ تک پہنچتی تھی۔

٭ انہی تجارتی قافلوں سے سامان کی خریداری کے لئے قریش میں چار بڑے میلے بھی مشہور ہیں جن میں عکاظ کے میلے کی مناسبت سے بعض واقعات احادیث میں موجود ہیں۔

٭ احادیث میں تجارت کی بیسیوں ایسی اقسام کا تذکرہ ملتا ہے جن میں سے بیشتر آج بھی رائج ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عرب میں تجارتی کاروبار نہایت عروج پر تھا۔

٭ صحابہ کرامؓ میں متعدد لکھ پتی تاجر بھی تھے۔ حضرت عثمانؓ اور دوسرے صحابہ کے اپنے تجارتی سامان کو اللہ کی راہ میں دینے کے واقعات مشہور ہیں۔

ان حالات میں یہ فرض کر لینا کہ عہد ِنبوی میں تجارت نہایت پرخطر تھی لہٰذا برائے نام رہ گئی، ایک بے معنی مفروضہ ہے جس کی مخالفت تاریخ سے بھی ہوتی ہے اور قرآن سے بھی۔ ہم انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مضمون "Banks"کے اس اقتباس پر اپنی بات ختم کرتے ہیں جس کو مولانا مودودیؒ نے اپنی کتاب سُود میں درج کیا ہے:

''جزیرۃ العرب کے آس پاس ملکوں (عراق، مصر، شام، یونان اور روم) میں تجارتی، صنعتی اور ریاستی اَغراض کے لئے دیئے گئے قرضوں پر سود لیا جاتا اور دیا جاتا تھا۔ ان ممالک کے ساتھ عربوں کے تجارتی تعلقات تھے تو یہ کیسے فرض کر لیا گیا کہ عرب تجارتی سود سے باخبر ہی نہیں تھے؟''

صحابہ کرامؓ میں تجارتی قرضے ... اَحادیث کی روشنی میں

(1) حضرت عمر ؓ کے بیٹے عبداللہ ؓاور عبیداللہ ؓایک لشکر میں شام ہو کرعراق گئے۔ واپسی پر بصرہ کے امیر ابوموسیٰ اشعریؓسے ملنے گئے تو انہوں نے کہا کہ ''میرے پاس بیت المال کا کچھ حصہ ہے جسے میں امیرالمؤمنین کو بھیجنا چاہتا ہوں۔تم وہ مال مجھ سے قرض لے کر عراق سے اس کا سامان خرید لواور مدینہ پہنچ کر منافع پر بیچ دینا،اور اصل رقم امیر المومنین کو ادا کرکے منافع خود رکھ لو''حضرت عمرؓ کے بیٹوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ (موطأ امام مالک، باب ماجاء فی القراض)

(2) ہندؓ بنت عتبہ نے حضرت عمرؓ سے بیت المال سے ۴ ہزار درہم کا قرض (تجارت کے لئے) مانگا جو انہوں نے دے دیا۔ ہند ؓبنت عتبہ کو کاروبار میں خسارہ ہوگیا لیکن انہوں نے بیت المال کو پورا قرضہ اداکردیا۔ (تاریخ طبری: ۲۹؍۵)

(3) حضرت زبیر بن عوامؓ کے پاس لوگ بڑی بڑی رقمیں امانت کے لئے رکھا کرتے تھے۔ مگر وہ کہتے کہ میں اَمانت نہیں بلکہ قرض لیتا ہوں۔ جس سے میں تجارت کروں گا۔ چنانچہ ان کی شہادت کے بعد جب ان کے بیٹے نے حساب کیا تو یہ تجارتی قرضے (اَمانتیں) ۲۲ لاکھ درہم تھے جو ان کی جائیداد سے ادا کئے گئے۔ (بخاری: کتاب الجهاد،باب برکة الغازي في ماله)

حرمت ِسود سے قبل سودی تجارتی قرضے

(1) حضرت ابن جریر آیت ﴿وَذَر‌وا ما بَقِىَ مِنَ الرِّ‌بو‌ٰا﴾ کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''دورِ جاہلیت میں بنو عمرو اور بنو مغیرہ کے درمیان سودی قرضوں کا لین دین تھا۔ جب اسلام آیا اور سود حرام ہوا تو بنو مغیرہ کے ذمے بنو عمرو کا بہت سا مال واجب الادا تھا۔ جس کو بنو مغیرہ نے سود کی حرمت نازل ہونے کے بعد ادا کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر بنو عمرو نے عتاب بن اُسیدؓ (امیرمکہ) کے پاس اپنا دعویٰ دائر کردیا۔ حضرت عتاب ؓنے نبی اکرمﷺ سے اس سود کے بارے میں پوچھاتو اللہ نے یہ آیت اتار دی۔ ''اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے، اس کو چھوڑ دو، اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو'' رسولِ اکرمﷺ نے یہ آیت لکھ کر عتابؓ (امیرمکہ) کو بھجوائی اور ساتھ یہ ہدایت کی کہ اگر بنو عمرو سود چھوڑنے پر راضی نہ ہوں تو ان کو جنگ کا الٹی میٹم دے دو'' (تفسیر ابن جریر طبری: ج۳، ص۱۰۷)

ابن جریر نے عکرمہؒ سے یہ بھی روایت کیا ہے کہ

''بنوعمرو کے جو اَفراد بنو مغیرہ کو قرض دیا اور لیا کرتے تھے، ان میں [تین بھائی] مسعود ثقفی عبدیالیل، حبیب [بن عمرو بن عمیر]اورربیعہ وغیرہ شامل ہیں'' (ابن جریر طبری: ج۳، ص۱۰۷)

ان حضرات کا طائف کے سرداروں میں شمار ہوتا تھا او ریہ محتاج اور بھوکے ننگے نہیں بلکہ مالدار لوگ تھے۔ واضح سی بات ہے کہ ان کے یہ قرضے ذاتی اغراض و اِحتیاج کی تکمیل کے لئے نہیں، تجارتی مقاصد کے لئے تھے۔ چنانچہ اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر فرماتے ہیں:«کان ربا یتبا يعون به في الجاهلیة» ''یہ وہ سود تھا جو جاہلیت میں لوگ تجارتی مقصد کے لئے لیتے تھے''

(2) صاحب ِتفسیر خازن مذکورہ بالا آیت (سورۃ البقرہ۲:۲۸۷) کے تحت تجارتی سود کے بعض مزید واقعات درج کرتے ہیں:

''حضرت عباسؓ اور حضرت خالدؓبن ولید زمانہ جاہلیت میں باہمی شراکت سے سودی کاروبار کیا کرتے تھے۔ وہ طائف کے قبیلہ بنو عمیر کو کاروباری مقاصد کے لئے سود دیتے تھے۔ اس آیت کے نازل ہونے پر انہوں نے اپنا کافی زیادہ سود (جو بنوعمیر کے ذمے تھا) چھوڑ دیا۔ یہ وہی سود تھا جس کا تذکرہ نبی کریمﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں ان الفاظ سے کیا:

''جاہلیت کے تمام سود باطل کر دیئے گئے ہیں اور میں سب سے پہلے اپنے خاندان یعنی عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں'' (مسلم :کتاب الحج، باب حجۃ النبیؐ)

سورۃ البقرہ کی یہ آیت ﴿وَذَر‌وا ما بَقِىَ مِنَ الرِّ‌بو‌ٰا﴾ نبی اکرمﷺ کی وفات سے صرف چار ماہ پیشتر نازل ہوئی۔ اسی لحاظ سے حجۃ الوداع اور اس آیت کا زمانہ نزول قریب قریب ہے۔

کاروباری سود کا یہی واقعہ ابن جریر ؒاپنی تفسیر میں سدی ؒکے حوالے سے یوں روایت کرتے ہیں:

''حضرت عباس بن عبدالمطلب اور بنو مغیرہ کا ایک شخص (حضرت خالد ؓبن ولیدبن مغیرہ ) آپس میں کاروباری شریک تھے۔ انہوں نے بنو عمرو( طائف )کو تجارتی قرضے دیئے۔ جب اسلام کا دور آیا تو ان کا بہت سال مال سود میں واجب الادا تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿وَذَر‌وا ما بَقِىَ مِنَ الرِّ‌بو‌ٰا﴾ (تفسیر ابن جریر: ج۳، ص۱۰۷)

مذکورہ بالا واقعات کے علاوہ دیگر بیسیوں ایسے شواہد موجود ہیں جو یہ مفروضہ بالکل غلط ثابت کردیتے ہیں کہ عہد ِنبوی میں تجارتی قرضوں کا کوئی تصور نہ تھا اور صرف ذاتی (صرفی) مقاصد کے لئے (مہاجنی) قرضے لئے جاتے تھے۔ اس زمانہ کی تجارت اور ہمسایہ ممالک میں تجارتی قرضوں وغیرہ کی تفصیلات کے لئے دیکھئے مولانا مودودیؒ کی کتاب سود (ص ۲۰۰ تا ۲۱۵، مطبوعہ ۱۹۹۷ء) اور مولانا عبدالرحمن کیلانی کی تصنیف: تجارت کے اَحکام و مسائل ،باب۵: سود)

سود کے جواز کے لئے مختلف بہانے

سود کو جائز قرار دینے کے لئے مختلف بہانے یوںتراشے جاتے ہیں:

(1) باہمی رضا مندی سے سود لینا جائز ہونا چاہئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں: ﴿ي۔ٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَأكُلوا أَمو‌ٰلَكُم بَينَكُم بِالب۔ٰطِلِ إِلّا أَن تَكونَ تِج۔ٰرَ‌ةً عَن تَر‌اضٍ مِنكُم...٢٩ ﴾... سورة النساء ''اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھائو مگر یہ کہ باہمی رضا مندی سے تجارت کے ذریعے''

(2) سود کے حرام ہونے کی علت ظلم ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں: ﴿وَإِن تُبتُم فَلَكُم رُ‌ءوسُ أَمو‌ٰلِكُم لا تَظلِمونَ وَلا تُظلَمونَ ٢٧٩﴾... سورة البقرة ''اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لئے صرف تمہارے اصل مال لینا حلال ہیں، نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے '' ...چنانچہ اگر سود میں ظلم کا عنصر نہ پایا جائے تو سود حلال ہونا چاہئے۔

(3) جس سود میں ظلم کا عنصر نہ ہواوروہ باہمی رضا مندی سے ہو، اس کے ساتھ منفعت بخش مقاصد (مثلاً تجارت) کے لئے ہو تواس سود کو تو بالا ولیٰ جائز ہونا چاہئے۔ کیونکہ تجارت کا مقصد بھی منافع حاصل کرنا ہی ہوتا ہے اور اسلام میں اس کی تعریف کی گئی اور خوب ترغیب دی گئی ہے۔ اسی طرح ذاتی مقصد کے لئے حاصل کردہ قرض پر سود تو حرام ہے لیکن تجارتی مقصد کے لئے سود کی حرمت سمجھ سے بالا تر ہے۔

ان اعتراضات کے شافی جوابات کے لئے ضرورت تو اس بات کی ہے کہ تفصیل سے ہر ہر نکتہ کو عقل و نقل کی کسوٹی پر رکھ کر پرکھا جائے اور غلط استدلال کی قلعی کھولی جائے۔ لیکن چونکہ ان موضوعات پر مستقل مباحث الگ سے موجود ہیں جن میں سے بعض محدث کے حالیہ شمارے میں بھی شامل ہیں لہٰذا حسب ِضرورت ان کی طرف اشارہ کرنے کے ساتھ بالاختصار ان کا جائزہ لینے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ذیل میں ہم بعض عنوانات کے تحت ان کی وضاحت پیش کرتے ہیں:

(2) کیا باہمی رضا مندی سے سود لینا جائز ہے؟

(1) اس بحث میں پڑنے سے پہلے ہم اس استدلال کا جائزہ لیتے ہیں جو قرآنِ کی آیت سے لیا گیا ہے:

''اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھائو۔ مگر یہ کہ تمہارے درمیان باہمی رضا مندی سے تجارت ہو'' (النساء:۲۹)

اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ اگر سود باہمی رضا مندی سے ہو تو اس وقت سود لینا جائز ہے۔ کیونکہ اس آیت میں باطل طریقوں میں باہمی رضا مندی کے الفاظ سے حلال طریقوں کو مستثنیٰ کیا جارہا ہے۔

(i) اس آیت کے الفاظ پر ہی معمولی غور کرنے سے اس استدلال کا بودا پن معلوم ہوجاتا ہے۔ اس آیت میں سود کے اَحکام کا تذکرہ ہی نہیں بلکہ تجارت اور معاہدے کی شرائط ذکر ہو رہی ہیں او روہ یہ کہ تجارتی معاملہ میں باہمی رضا مندی شرط ہے﴿إِلّا أَن تَكونَ تِج۔ٰرَ‌ةً عَن تَر‌اضٍ مِنكُم﴾ مگر یہ کہ وہ تجارت ہو تمہاری باہمی رضامندی سے۔ ہم پیچھے یہ بحث کر آئے ہیں کہ تجارت اور سود دونوں میں واضح طور پر فرق ہے اور ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيعَ وَحَرَّ‌مَ الرِّ‌بو‌ٰا﴾''اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا ہے'' دونوں میں عمل کے لحاظ سے اگر اتنے واضح فرق نہیں تو نتائج کے اعتبار سے زمین آسمان کا فرق ہے (دیکھئے ص ) یہی وجہ ہے کہ شریعت میں سود کی شدید ترین مذمت آئی ہے تو تجارت کی واضح ترغیبات موجود ہیں۔ اس لئے ﴿إِلّا أَن تَكونَ تِج۔ٰرَ‌ةً﴾ کے الفاظ کو نظر انداز کرنا نری من مانی اور قرآن کے منہ میں اپنی بات ڈالنے کے مترادف ہے۔

(ii) قرآن وحدیثسے مسائل اَخذکرنے کا مسلمہ اُصول یہ ہے کہ ایک موضوع پر میسر آنے والے تمام اَحکام کو یکجا کرکے ان سے مشترکہ اَحکام نکالے جائیں۔ کسی مقام پر موجود کسی ایک لفظ کو سیاق و سباق سے جدا کرکے اپنے مطلب میں استعمال کر لینا اِلحاد و زندقہ کا طور طریقہ تو ہوسکتا ہے، اسلام کا نہیں۔ قرآنِ کریم اور احادیث میں جو متعددبار سود کی واضح ترین حرمت اور مذمت آئی ہے حتیٰ کہ قرآن میں اسے اللہ سے جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے تو باہمی رضا مندی سے سود کو حلال کرنے والوں کی نگاہوں سے یہ آیات اور احادیث کیوں اوجھل ہیں۔ جو انہیں اس آیت کی اِتباع کا اس قدر شوق چرایا ہے۔ یہ تو صریحاً اس آیت کے مصداق ہے :

﴿أَفَتُؤمِنونَ بِبَعضِ الكِت۔ٰبِ وَتَكفُر‌ونَ بِبَعضٍ ۚ فَما جَزاءُ مَن يَفعَلُ ذ‌ٰلِكَ مِنكُم إِلّا خِزىٌ فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا ۖ وَيَومَ القِي۔ٰمَةِ يُرَ‌دّونَ إِلىٰ أَشَدِّ العَذابِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغ۔ٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ ٨٥ ﴾... سورة البقرة ''کیا تم شریعت کاکچھ حصہ لے لیتے ہو اور کچھ کو چھوڑ دیتے ہو، ایسا کرنے والوں کی اس کے سوا کیا جزا ہے کہ دنیا میں انہیں رسوائی ہو اور آخرت میں برے عذاب کے سپرد کیا جائے۔جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے قطعا ً غافل نہیں''

(2) شریعت کا مطلب ہی ''بنائی ہوئی چیز'' کے ہیں۔ یعنی یہ زندگی گزارنے کا ایسا طریقہ ؍ راستہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کے ذریعے اپنی مخلوق کے لئے جس طرزِ حیات کو ان کی زندگی بہتر گزارنے کے لئے مناسب اور موزوں سمجھا ہے، وہ اس نے ہم پرناز ل کی اورہم مسلمان (فرمانبردار) ہونے کے ناطے اس کو قبول کرچکے ہیں اور اب اس طریقے کے پابند ہیں۔ اللہ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے فلاح کے راستے کا تعین انسانوں پر نہیں چھوڑا بلکہ اس کا تعین اپنی حکمت ِبالغہ سے خود فرما دیا۔اس طریقے میں کسی تبدیلی کے مجاز نہ ہم خود ہیں، نہ ہی نبی کریمﷺ کی ذاتِ بابرکات تھی۔ قرآنِ کریم میں ہے:

﴿وَلَو تَقَوَّلَ عَلَينا بَعضَ الأَقاويلِ ٤٤ لَأَخَذنا مِنهُ بِاليَمينِ ٤٥ ثُمَّ لَقَطَعنا مِنهُ الوَتينَ ٤٦ فَما مِنكُم مِن أَحَدٍ عَنهُ ح۔ٰجِزينَ ٤٧﴾... سورة الحاقة

''اے نبی! اگر آپ بھی کوئی بات اپنی طرف سے گھڑ کر ہم سے منسوب کریں گے تو ہم آپ کو اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑ لیں گے اور آپ کی شہ رگ کاٹ ڈالیں گے، اور تم میں سے کوئی ہمیں اس (سزا دینے) سے روک نہیں سکتا''

نبی کریمﷺ کا فریضہ صرف تبلیغ و رسالت ہے خواہ وہ وحی جلی کی صورت میں ہو یا خفی (حدیث وسنت )کی صورت میں: ﴿وَما مُحَمَّدٌ إِلّا رَ‌سولٌ﴾ ''محمدﷺ تو صرف پہنچانے والے ہیں'' چنانچہ اگر نبی اکرمﷺ کی ذات پر شارِع کا لفظ کبھی بولا جاتا ہے تو وہ مجازی معنی میں ہے، حقیقی میں نہیں کہ آپ شریعت کو پہنچانے والے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک امر کو اللہ تعالیٰ کے حرام قرار دینے کے بعد مسلمان باہمی رضا مندی سے حلال کرسکتے ہیں۔ بعض ایسے مسلمان جو سود کی اَندھی وکالت کرتے ہوئے باہمی رضا مندی سے سود کھانے کے جواز کا فتویٰ دینا چاہتے ہیں، ہم ان سے پوچھتے ہیںکہ کیا خیال ہے باہمی رضا مندی سے زنا کے بھی حلال ہوجانے کے بارے میں یا شراب اور قتل کے جائزہونے کے بارے میں ؟...کیا کوئی مسلمان یہ تسلیم کرسکتا ہے کہ اسلام کے اَحکام اس گنجائش کے متحمل ہیں۔ اس لئے ذرا کھلی آنکھوں کے ساتھ بصیرت سے اپنے دعویٰ کی زد میں آنے والے دیگر اَحکام کو بھی ایک نظر دیکھ لینا ضروری ہے۔

(3) مندرجہ بالا دلائل تو لفظی اور شرعی نوعیت کے تھے۔ لیکن ذرا واقعاتی طور پر اس کا جائزہ لیں کہ آیا کوئی شخص خوشدلی سے سود دینے پر راضی ہوسکتا ہے۔ زیادہ گہرے غوروفکر کی ضرورت نہیں، اگر ایک شخص کو ایک لاکھ روپے قرض درکار ہے اور اس کو سود بلکہ کم شرح سود کے ساتھ ساتھ دوسری جگہ سے بغیر کسی شرط کے بلا سود بھی ایک لاکھ مل سکتے ہوں تو کون ایسا شخص ہے جو بغیر کسی وجہ کے سود ادا کرنا پسند کرے۔

یہ تو یوں ہی ایک فریب اور ڈھکوسلا ہے کہ قرضدار اپنی رضا مندی سے سود ادا کرتے ہیں۔ اگر انہیں بلا سود قرض دستیاب ہوسکے تو وہ کبھی سود پر قرض حاصل نہ کریں۔ یہ تو ان کی مجبوری کو رضا مندی سے تعبیر کرنے کا محض ایک فریب ہے۔ اسلام ہی وہ خدمت ِانسانی کا جذبہ، باہمی ایثارو محبت اور خلوص کے وہ جذبات پیدا کرتا ہے جو ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی ضرورت نہ صرف قرض بلکہ قرضِ حسنہ (جس میں ادائیگی کی مدت کا بھی تعین نہ ہو) کی صورت میں پوری کرتا ہے کیونکہ مسلمان کا تصورِ فلاح اپنے رب کی اطاعت اور حصولِ درجات سے جڑا ہوتا ہے اور وہ اُخروی مقاصد کے تحت ایسا کرتا ہے۔ (مزید تفصیل کے لئے صفحہ۲۲۰)

بہت کم صورتوں میں ایسا ہوتا ہے کہ سودی معاہدہ فریقین کی رضا مندی سے ہو لیکن ایسا اکثر اس سے بڑے شر کے حصول کے لئے اور ہوس پرستانہ مقاصد کے تحت ہوتا ہے۔ جس طرح بنکوں میں بچتیں جمع کرانے والے لالچ اور ہوسِ زر میں سودی اکائونٹ کھول لیتے ہیں اور بنک اس لئے سود ادا کرنے پر راضی ہوجاتا ہے کہ وہ اس رقم سے اس سے زیادہ شرحِ سود وصول کرے گا۔ بالفرض اگر رضامندی سے سودی معاہدہ ہوبھی جائے تو اس سے نفس مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ سود کی حرمت کی بنیاد شریعت کے اَحکام ہیں نہ کہ باہمی رضامندی جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے

(3) کیا سود کی حرمت کی علت' ظلم' ہے؟

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ي۔ٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَر‌وا ما بَقِىَ مِنَ الرِّ‌بو‌ٰاإِن كُنتُم مُؤمِنينَ ٢٧٨ فَإِن لَم تَفعَلوا فَأذَنوا بِحَر‌بٍ مِنَ اللَّهِ وَرَ‌سولِهِ ۖ وَإِن تُبتُم فَلَكُم رُ‌ءوسُ أَمو‌ٰلِكُم لا تَظلِمونَ وَلا تُظلَمونَ ٢٧٩﴾... سورة البقرة

''اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو۔ اگر واقعی تم مؤمن ہو تو جو سود باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ ہے اور اگر سود سے توبہ کر لو تو تم اپنے اصل سرمایہ کے حق دار ہو، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے''

اِن آیات میں سود کی حرمت اور مذمت کرتے ہوئے ، سود چھوڑنے کا طریقہ بیان کیا گیا اور آخر میں نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے، کے الفاظ سے سود کی حکمت بیان کی گئی ہے۔ بعض حضرات یہ بات کہتے ہیں کہ سود کی حرمت کی بنیادی وجہ ظلم کا ہونا ہے۔ چونکہ قرض لینے والا محتاج اور فقیر ہوتا ہے اور اپنی ضرورت کی تکمیل کے لئے قرض کا تقاضا کرتا ہے لہٰذا قرض دینے والا اس کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اس پر ظلم کرتا ہے۔ سود در سود (سود مرکب) کی شکل میں یہ ظلم شدید ترہوتا جاتا ہے۔ بالفرض اگر کسی صورت میں قرض لینے پر ظلم کا اِ رتکاب نہ ہوتا ہو اور سود سے منفعت بخش کاروبار کرنا چاہے تو سود لینا جائز ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے بھی اپنے فیصلہ مقدمہ سود کے پیرا ۴۲ میں سود کی حرمت کی علت ظلم کو قرار دیا ہے۔

والد ِگرامی حافظ عبدالرحمن مدنی نے اپنے عدالتی بیان میں اس نکتہ کی خوب وضاحت کی ہے۔ یہ عدالتی بیان محدث میں بھی شائع ہو رہا ہے۔ جس کے صفحات ۷۸ تا ۸۱ خصوصیت سے قابل توجہ ہیں۔

علت اور حکمت اُصولِ فقہ کی اصطلاح میں دو مختلف چیزیں ہیں۔ علت تو اس بنیاد کو کہا جاتا ہے جس پر کوئی شرعی حکم موقوف ہوتا ہے۔ اگر وہ علت باقی نہ رہے تو وہ شرعی حکم بھی ساقط ہوجاتا ہے۔ جبکہ حکمت سے مراد و ہ مصلحت ہے جس کو شارع اس حکم کی تشریع کے ذریعے پورا کرنا چاہتاہے، یہ مصلحتیں متعدد بھی ہوسکتی ہیں ۔ یاد رہے کہ شرعی حکم کسی حکمت کے وجود یا عدمِ وجود پر موقوف نہیں ہوتا۔ بسااوقات کسی حکمت کے ساقط ہونے پر شریعت بعض دیگر ذرائع سے اس مقصد ؍ حکمت کو حاصل کر لیتی ہے لہٰذا اس حکمت کے ختم ہونے پر شرعی حکم کو ساقط نہیں کیا جاسکتا...واضح رہے کہ علت کی تلاش ایک مشکل او رپیچیدہ اَمر ہے کہ شارع نے کسی شرعی حکم کو کیوں لاگو کیا ہے۔ علت کے لئے متعدد شرطیں بھی ضروری ہیں جو اُصولِ فقہ کی کتب میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ظلم سود کی حرمت کی حکمت ہے یا علت؟ سود کے مفاسد کا بنظر غائر جائزہ لیں تو ظلم کو اس کی علت قرار دینا درست نظر نہیں آتا۔ ہماری رائے میں ظلم کا وجود سود کی حرمت کی ایک اہم حکمت ہے ،کیونکہ سود کی حرمت صرف اس کی بنا پر نہیں ہے۔ بعض ایسی صورتیں بھی ہوسکتی ہیں جہاں بظاہر ظلم نہ ہورہا ہو لیکن سود حرام ہو۔

(4) منفعت بخش مقاصد کے لئے سود کی حرمت؟

یہ گذشتہ اعتراض کا ہی ایجابی پہلو ہے... جیسا کہ ذکر ہوا ہے کہ سود کی حرمت صرف ظلم کے وجو دپر ہی موقوف نہیں، علماء نے سود کے بے شمار مفاسد گنوائے ہیں ۔بعض اس کو تکنیکی وجوہ کی بنا پر حرام سمجھتے ہیں اور بعض علماء اس کے اَخلاقی اورمعاشرتی مفاسد کو اس کی حرمت کی وجہ بتاتے ہیں۔ مولانا عبدالرحمن کیلانی ؒلکھتے ہیں : (تجارت اور لین دین کے احکام :ص ۷۸)

''سود اسلامی تعلیمات کا نقیض اور اس سے براہِ راست متصادم ہے ۔اس کا حملہ بالخصوص اسلام کے معاشرتی اور معاشی نظام پرہوتا ہے ۔اسلام ہمیںایک دوسرے کا بھائی بن کر رہنے کی تلقین کرتا ہے۔وہ آپس میں مروّت ،ہمدردی ،ایک دوسرے پر رحم اور ایثار کا سبق سکھلاتا ہے ۔ اللہ نے مسلمانوں پر آپس کے بھائی چارے کو اپنا خاص اِحسان قرار دیا (آل عمران :۱۰۳)اور یہی چیز رسولِ اکرم ﷺکی زندگی بھر کی تربیت کا ماحاصل تھا جبکہ سود انسان میں ان سے بالکل متضاد صفات یعنی بخل،حرص ،لالچ،مفاد پرستی اور شقاوتِ قلبی پیدا کرتا ہے جو اسلامی تعلیمات کی عین ضد ہے ...اسلام کے معاشی نظام کا ما حاصل یہ ہے کہ دولت گردش میں رہے اور اس گردش کا بہائو امیر سے غریب کی طرف ہو ،اسلام نے نظامِ زکوۃ و صدقات کو اس لئے فرض کیا ہے ،قانونِ میراث اور حقوقِ باہمی اسی کی تائید کرتے ہیں جبکہ سودی معاشرہ میں دولت کا بہائو ہمیشہ غریب سے امیر کی طرف ہوتا ہے ۔اس لحاظ سے بھی سود اسلام کے معاشی نظام کی عین ضد ہے''

ان سب باتوں سے اتفاق کے ساتھ ساتھ ہم ان پر یہ اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ دراصل سود منفعت بخش ہوتا ہی نہیں۔ کیونکہ اوّل تو سود کے ذریعے تخلیق مال (تخلیق منافع) ہوتا ہی نہیں بلکہ یہ صرف ناروا تقسیم مال (اغتصابِ مال) کا ایک ہتھکنڈا ہے ۔سود میں 'انسانی محنت ' کا وہ بنیادی عنصر ہی موجود نہیں جس سے منافع تخلیق ہوتا ہے ۔ یہ صرف نقد کے ذریعے دوسرے کی کمائی کو غصب کرنے کا ایک بہانہ ہے ۔

دوسرے ،سود میں اگر ذاتی سطح پر ظلم ، اَذیت اور ضرر موجود نہ بھی ہو تو قومی معاشرتی سطح پر سود کے ذریعے آخر کار ان کاوجود ضرور پایا جاتاہے۔ معاشرتی سطح پر اذیت اور ظلم انفرادی اور شخصی اذیت سے کہیںزیادہ تباہ کن اور دور رَس ہوتا ہے ۔ہمارے معاشرے میں بھی رونما ہونے والی قومی اور معاشرتی مشکلات کے پیچھے سود کا ظالمانہ عنصرضرور کار فرما ہے ۔چونکہ سود ہر حال میں مقروض کو ادا کرنا ہوتا ہے، اس لیے شرحِ سود سے زیادہ نفع کمانے کے لیے مقروض کو ہر جائز او رناجائز حربہ استعمال کرناضرور ی ہو جاتا ہے جس کے لیے وہ کاروبار میں ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور ناجائز وحرام ذرائع استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا ۔نفع کو شرحِ سود سے بلند تررکھنے کے لیے کارکنوں کی اُجرت کم سے کم تر رکھ کر او روقت سے زیادہ کام لیکر ان کا استحصال کیا جاتا ہے ،اور ان تمام ناروا ہتھکنڈوں سے ناجائزمنافع کما کر قرض دینے والے کو صرف اس لیے ادا کر دیا جاتا ہے کیونکہ اس نے سود پر پیسے دئیے تھے ۔جب کہ اس اضافے کی تحصیل میں اس نے نہ کوئی محنت صرف کی ، نہ کسی قسم کے رِسک سے دوچار ہوا او رنہ کاروباری مشکلات اور تقاضوں میں اس نے کوئی حصہ ڈالا۔صرف اپنے پیسے کی بنیاد پر مال میں اضافہ وصول کرنا اس کا استحقاق ٹھہرا ۔ دوسری طرف مظلوم یا خون پسینے کی محنت سے معمولی اُجرت حاصل کرنے والا طبقہ جب اس طرح اپنی محنت کا حقیقی معاوضہ وصول نہیں کرپا تا ، اور اپنی محنت کے بل بوتے پر دوسرے کو عیش وعشرت کرتا اورگلچھر ے اڑاتا دیکھتا ہے تو مایوسی ، بیچارگی اور افسردگی کا شکار ہو کر ناروا طریقوں سے اور اپنے زورِ بازو سے اپنا حصہ خودوصول کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے ۔جب مزدروں کا حق غصب ہوتا ہے تو ردّ عمل کے طور پر وہ معاشرہ کی ہر چیز اور فرد سے بددل ہو کر انتقام کی ٹھان لیتے ہیں ۔ ان رویوں او رقانون شکنیوں کا معاشرہ پر جو اثر پڑتا ہے اس کی تصویر آج ہم کھلی آنکھوں اپنے معاشرے میں بھی دیکھ رہے ہیں۔اختصار کی غرض سے اشارہ کرنے پر ہی اکتفا کیاجاتا ہے ( تفصیل کیلئے ص ۲۰۷) اس کے بعد کیا یہ دعویٰ کرنا درست دکھائی دیتا ہے کہ منفعت بخش مقاصد کے لیے سود جائز ہونا چاہیے۔

سود کو اللہ نے حرام کیا ہے اور اس کی شدید ترین مذمت کرتے ہوئے اس کو اپنے سے جنگ کے مترادف قرار دیا، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ سود شرمحض ہے ۔ سود کی بناپر ہونے والے کسی معاہدے یا معاملے میں خیر کا وجود محال ہے ،اگر سود میں ایسی کوئی گنجائش ہوتی تو اس کی وضاحت شریعت ِمطہر ہ میں ضرور کردی جاتی ۔ قرآنِ کریم اور فرامین نبویہ ؐ میں نہ صرف سود کو مطلقاًحرام کیا گیابلکہ اس پر گواہی دینے والے اور اس کو لکھنے والے سب کو گناہ میں برابر کا شریک قراردیا گیاہے ۔شریعت میں ہر قسم کا سود حرام ہے چاہے وہ صرفی ہو یا تجارتی ،نیک مقاصد کیلیے یا ناروا مقاصد کے لیے ۔ سود ہر لحاظ سے حرام ہے اور اسلام کا بنیاد ی تقاضا بھی یہی ہے کہ ہر طرح کے سود سے کلی نفرت اور مکمل اجتناب کیا جائے اور سود کو ختم کرنے کی ہر ممکن سعی کی جائے ۔
 

آصف اثر

معطل
میرا خیال تھا کہ کوئی نا کوئی میرے بنیادی سے سوال کا جواب بتا دے گا۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ جانے بغیر کہ سود کیا ہے ۔ مختلف فلسفے پیش کیے جارہے ہیں۔ صرف اس لئے کہ کسی سے سن لیا ہے کہ "سود" حرام ہے۔

کل صبح تک انتظار کرتا ہوں پھر "سود" پر قرآن حکیم سے حوالے پیش کرتا ہوں کہ اس کے پیچھے نظریہ کیا ہے؟

اسلام نے سود کوکیوں حرام قرار دیا ہے؟

یوں تو مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے لئے اس سوال کی زیادہ اہمیت نہیں رہ جاتی بلکہ مسلمان کا تو کام یہ ہے کہ اگر اسے کسی شے کے بارے میں شرعی حکم کا یقینی دلائل سے علم ہوجائے تو دل و جان سے اس کو قبول کرے کہ یہی تقاضائے مسلمانی ہے۔ اس کے باوجود بعض ضعیف ُالاعتقاد مسلمانوں کی تشفی کے لئے علماء اور ماہرین معیشت نے ان متعدد وجوہات کو درج کیا ہے جو اسلام کے اس حکم کی تائید کرتی ہیں۔ حسن اتفاق کہئے کہ نہ صرف مسلمان بلکہ تمام الہامی مذاہب ، فلاسفہ اور دانشوروں کے ہاں سود قدیم سے حرام چلا آرہا ہے۔ عیسائیوں کے ہاں بھی سود نہ صرف مذہبی بلکہ معاشرتی بنیادوں پر حرام تھاجسے وہ Usury کا نام دیتے۔ Usury کی مذمت میںاس قدر زیادہ لٹریچر پھیل چکا ہے او راس لفظ کے تاریخی استعمال نے اس شدت سے سامعین کے ذہنوں کو جکڑ رکھا ہے کہ وہ Usury کی تائید میں کوئی اچھا کلمہ سننے کو تیار نہیں۔ چنانچہ من چاہے مقاصد کے حصول کے لئے اہل یورپ کے بااثر طبقہ نے سود کو رواج دینا چاہا تو اس کے لئے انہیں Usury کے بجائےInterest کا لفظ تخلیق کرنا پڑا۔ اور اب تک Interest ایسے معصوم لفظ کے لبادے میں Usury کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ حقیقت اور امر واقعہ آج بھی وہی ہے کہ ہر دو میں کوئی خط ِامتیاز اور حد ِفاصل سرے سے ہی نہیںہے۔ یہ صرف ایک لفظی کھیل ہے جو Usury کے نفرت آمیز پس منظر سے چھٹکارا حاصل کرنے کو شروع ہوا۔ (تفصیل کے لئے ص:۱۸۰)

یوں تو معاشیات میرا موضوع نہیں ہے اور فنی طور پر میں اس کی بیشتر اصطلاحات سے ناواقف ہوں لیکن ایک عام سی سمجھ بوجھ رکھنے والے فرد ہونے کے ناطے اور اس موضوع پر مطالعہ کے بعد درج ذیل نتائج کو پہنچا ہوں:

(1) سود صرف مال کی ظالمانہ تقسیم کرتا ہے، مال میں واقعاتی اضافہ نہیں کرتا: اسلام نے سود کے بالمقابل تجارت کو قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تجارت میں فی الواقع مال میں نشوونما ہوتی ہے۔ جبکہ سود صرف مال کی ناروا تقسیم کا کھیل ہے۔ جس میں متعددمحتاج ہاتھوں سے پیسہ آہستہ آہستہ چند مقتدر ہاتھوں کی طرف جمع ہوتا رہتا ہے۔ سود کے اس چکر میں بعض نچلے طبقوں کی رقم آہستہ آہستہ طبقہ امرا کو منتقل ہوتی رہتی ہے۔ کیونکہ سود میں صرف زَرکو ذریعہ پیداوار تسلیم کرکے کچھ مال سے مزید مال جمع کرنے (نہ کہ پیدا کرنے) کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ مال دار کو چونکہ اپنے اصل مال میں کمی کا کوئی امکان نہیں بلکہ اضافے کا یقین ہوتا ہے لہٰذا آہستہ آہستہ وہ اس مال سے مزید مالدار ہوتا چلا جاتا ہے۔ کیونکہ سود کی صورت میں پیسہ ، پیسے کو کھینچتا ہے۔

اس صورت میں معاشرے سے متوسط طبقہ آہستہ آہستہ ختم ہو کر صرف دو طبقات باقی رہ جاتے ہیں، ایک توبے شمار وسائل و ذرائع رکھنے والے امراء کا طبقہ اور دوسرا انتہائی ناکس، مجبور اور مظلوم طبقہ۔ ٹھیک یہی تصویر سرمایہ دارانہ نظام پیداکرتا ہے کیونکہ اس میں مال کو ذریعہ پیداوار تسلیم کیا گیا ہے اور اس کا حاصل سود قرار دیا گیا ہے۔ سود کی ترویج میں طبقاتی نظام پیدا ہونا ایک لازمی تقاضا ہے۔ دولت کا صرف چند ہاتھوں میں جمع ہونے کا یہ مفروضہ حقیقت کا روپ یوں دھارتا ہے کہ قرض دینے والوں کا تو سود کی صورت میں مال میں اضافہ یقینی ہے اور یہ بات ہم جانتے ہیں کہ سود کے ذریعے مال میں اضافہ نشوونما کے ذریعے نہیں بلکہ ناروا تقسیم کے ذریعے ہوتا ہے۔ لازمی سی بات ہے کہ نسبتاً کم تر وسائل رکھنے والے افراد کے مال ہی سود کی صورت میں بڑے مالدار وںکی طرف جمع ہوتے جائیں گے ۔اس سرکل کو جس طرح بھی بیان کر لیا جائے، نتیجہ ایک ہی رہتاہے۔

اس کے بدلے میں سود معاشرے کے نچلے طبقوں میں مایوسی، چڑچڑاپن، ناداری اور محتاجی کو رواج دیتا ہے جس کے نتیجے میں پسا ہوا طبقہ اپنی محنت سے نہیں بلکہ غیر قانونی ہتھکنڈوں سے مال و دولت کے حصول کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً چوربازاری، ڈاکہ اور لوٹ مار کے واقعات عام ہوجاتے ہیں۔ذرا تفصیل میں جائیں تو اس کے مفاسد مزید کھلتے ہیں۔ اگر کوئی سرمایہ دار تجارتی قرضہ حاصل کرتا ہے تو اسے یقینی طور پر سود کی ادائیگی کے لئے مصارف پر کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔ جس کے لئے وہ ملازمین کی تنخواہوں میںکمی، اِستعداد سے زیادہ کام اور اپنی مصنوعات کاحق سے زیادہ منافع وصول کرتا ہے۔ نتیجتاً استحصال، ذخیرہ اندوزی اور دھوکہ دہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ لیکن تنخواہوں میں کمی، استعداد سے زیادہ کام، ذخیرہ اندوزی اور دھوکہ دہی سے قیمتوں میں گرانی کا سارا اثر صارف پرپڑتا ہے۔ نتیجتاً سود کا تمام بوجھ آخر کار ایک طبقہ پر آن پڑتا ہے اور دوسرا طبقہ مال دار سے مال دار ہوتا چلا جاتا ہے۔ اسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ معاشرے میں متوسط طبقہ ختم ہو کر صرف دو طبقے باقی رہ جاتے ہیں۔

مصر کے نامور عالم ،معروف دانشور اور شیخ الازہر شیخ محمد عبدہ ؒفرماتے ہیں:

''جب نقد بجائے خود ذریعہ پیداوار بن جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دولت ان لوگوں کے پاس جمع ہوجائے گی، جن کا کام ہی یہ ہوتاہے کہ نقد سے نقد کمایا جائے'' (تفسیر المنار :ج۳، ص ۱۰۹)

(2) تجارت سے مال میں نشوونما ہوتی ہے: سود کی صورت میں صرف مال، مال سے ٹکڑا کر مزید مال اکٹھا کرنے کا وسیلہ بنتا ہے ۔یہی بات صدیوں پہلے ارسطو نے بھی کہی تھی:

''سود ایسا طریقہ کسب ہے جس میں نقد سے نقد کمایا جاتا ہے ...دولت حاصل کرنے کے طریقوں میں یہ سب سے بدترین ہے۔'' (بحوث فی الربا از مصری فقیہ ابو زہرہ م ۱۹۷۴ئ)

دولت کمانے کے اس طریقے میں انسان کی کاوِش کو توکوئی تحفظ حاصل نہیں ہوتا جبکہ مال ہر طرح محفوظ ہوتا ہے۔ جبکہ کائنات میں ہر شے انسان کے دم بدم سے قائم اور اس کے لئے ہی تیار کی گئی ہے۔ انسان کی محنت و صلاحیت ہی وہ حقیقی جوہر ہے جو زمین سے لہلہاتے کھیت اور فصلیں، درختوں سے خوبصورت فرنیچر، مٹی سے بلند و بالا عمارتیں او رمادے سے اپنے کام کی بے شمار چیزیں بناتا ہے۔ اگر ان میں سے انسان کی ہنرمندی اور محنت و مشقت کو نکال دیا جائے تو کوئی شے بھی وہ صورت اختیار نہ کرسکے جو آج ہمیں ہردم نظر آتی ہے۔

تجارت کی صورت میں دراصل انسان کی محنت کو ہی تحفظ میسر آتا ہے۔ اسلام نے مضاربت کی صورت میں نقصان ہونے پر ایک طرف محنت کرنے والے کی محنت کے ضیاع کو قبول کیا ہے اور دوسری طرف سرمایہ والے پر سرمائے کا تمام نقصان برداشت کرنا لازمی ٹھہرایا ہے۔ اس لئے وہی نظام حقیقی معنوں میں انسان کی مشکلات کا مداوا کرسکتا ہے جو انسان کی جہدوکاوش کا پوری طرح محافظ ہو۔

سود کی صورت میں دونوں طرف مال کا عنصر ہوتاہے، تیسرا عنصر کوئی نہیں جس سے مال میں نشوونما نہیں ہوسکتی، ہاں ظالمانہ طور پر مزید مال کا حصول ضرور ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ جبکہ تجارت میں تیسرا اہم ترین عنصر انسانی محنت کا ہے جس سے مال میں حقیقی نشوونما ہوتی ہے اور قومی معیشت ترقی کرتی ہے ۔ انسان کی محنت کا صحیح بدلہ میسر آنے پر معاشرے میں محنت کو فروغ ملتا اور ہنرمندی و لیاقت کی قدر دانی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اسلامی اصولِ تجارت یعنی مضاربت ومشارکت وغیرہ میں کوئی شخص ضرورت پڑنے پر اپنا سرمایہ فوراً علیحدہ نہیں کرسکتا بلکہ اس کا نقصان وابستہ ہونے کی بنا پر اسے کاروبار کے حالات ملحوظِ خاطر رکھنا پڑتے ہیں۔ جبکہ سود خور کو صرف اپنے پیسے سے دلچسپی ہوتی ہے اور وہ عین ایسے وقت اپنے پیسے کا تقاضا کر بیٹھتا ہے جب کاروبار کے لئے اس کے بغیرجاری رہنا ممکن نہیں ہوتا۔کیونکہ سود خور کا مفاد تو محفوظ ہوتا ہے اور وہ اسے ہر صورت مل کر رہتا ہے۔ بلکہ ایسے حالات میںپیسے کا تقاضا اس کے سودی کاروبار کو (سود در سود یا دوبارہ سودی معاہدے کی شکل میں) مزید ترویج دینے کا باعث بنتا ہے ۔اس سے مطلب پرستی اور سنگدلی کے جذبات معاشرے میں فروغ پاتے ہیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں سود کی حرمت نہ صرف اقتصادی اور تکنیکی بنیادوں پر قائم ہے بلکہ اخلاقی اور معاشرتی وجوہات کی بنا پر بھی سود حرام ہے کیونکہ سود کی ترویج کی صورت میں معاشرہ میں انتشار ،ظلم ،بخل،مطلب پرستی، اسرف ،مایوسی اور لوٹ مار پروان چڑھتے ہیں۔۔

(ii) اگر تجارت سود سے زیادہ نفع بخش نہ ہو تو سوال پیداہوتا ہے کہ بنکوں سے سود پر تجارتی قرضے لینے والے کیونکر یہ قرضے حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ سرمائے سے انسانی محنت کو شامل کرکے اس قدر زیادہ منافع کمانے میں کامیاب ہوجائیں گے جس سے وہ بنک کا سود بھی ادا کرلیں گے اور خود بھی خوشحال اور مالدار بن سکیں گے۔

(3) سود ایک مخصوص شرح تک نفع بخش ہوسکتا ہے ، اس کے بعد تجارت کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ بات عملی تجربے کے بعد پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ چونکہ سود مال میں نشوونما نہیں کرتا بلکہ ایک طرف تو معاشرتی ناہمواری پیدا کرتا ہے ۔ دوسری طرف ایک مخصوص سطح تک پہنچنے کے بعد سودی کاروبار میں مزید اضافے اور ترقی کے امکانات نہیں رہتے۔ وہ ممالک جن کی معیشت ترقی پذیر ہے، وہاں سود سے فائدہ اٹھانے کے مواقع موجود ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں سود کا مستقبل روشن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ نصف دہائی میں ایک طرف یورپ کے بے شمار بڑے بنک دیوالیہ ہوکر صفحہ ٔہستی سے مٹ چکے ہیں تو دوسری طرف کافی بنک دوسرے بنکوں سے اِدغام کرنے پر مجبور ہیں۔ حتیٰ کہ بعض بنک بڑی علامتی شرح سود کے ذریعے اپنا کاروبار جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔ اس کے بجائے وہاں بھی تجارتی بنیادوں پر سرمایہ کاری کا رجحان فروغ پا رہا ہے کیونکہ اس میں انہیں زیادہ شرح منافع میسر آتی ہیں۔( تفصیل کے لئے صفحہ۱۸۸)

(4) سود میں پیسے کو بند اور جمع کرنے کا رجحان ہے: جبکہ گردشِ دولت سے ہی معیشت میں ترقی ہوتی ہے۔ معاشیات کا مسلمہ اصول ہے کہ گردشِ دولت معیشت میں خوشحالی لاتی ہے۔ دولت جتنے زیادہ ہاتھوں سے ہو کر گزرے گی، اتنے زیادہ طبقات اس پر اپنی محنت صرف کرکے اس سے اپنا حصہ وصول کریں گے۔ معاشیات میں یہی بات ایک اور انداز سے یوں بھی کہی جاتی ہے کہ ایک شخص کا خرچ دوسرے کی آمدنی ہوتا ہے۔ ایک شخص جتنی زیادہ اشیاء خریدتا ہے، اتنے زیادہ لوگ اس سے مختلف سودوں کی وجہ سے آمدنی حاصل کریں گے۔ ہم بھی اپنے روز مرہ تجربے کی بنا پر خوب سمجھتے ہیں کہ ایک سامان جتنے زیادہ واسطوں سے ہم تک پہنچے گا، ا س قدر زیادہ مہنگا ہوگا، یعنی اس قدر زیادہ لوگ اس میں اپنا حصہ وصول کریں گے۔ ان سب مثالوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ گردشِ دولت کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا، اتنے ہی لوگ اس سے اپنا کام و دہن کا سامان کرسکیں گے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوں گے۔ تجارت انہی بنیادوں پر ہوتی ہے۔ جبکہ سود میں ذخیرہ اندوزی اور جمع کرنے کا رجحان غالب ہے۔ کیونکہ سود پر پیسہ دینے والا یہ یقین رکھتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ رقم اس کے پاس موجود ہو تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ قرض دے کر سود جمع کرسکے۔ اگر وہ تجارت میں رقم لگائے گا تو اس کو نقصان کا خطرہ رہے گا۔ جبکہ یہی نقصان کا خطرے اسے سود سے زیادہ اضافے کا حقدار بناتاہے۔ لیکن سود خوری ایک مزاج تشکیل دیتی ہے اور وہ ہے بغیر کسی محنت و کاوش کے مال جمع کرنے کی ہوس۔یہی وہ لوگ ہیں جو ہر وقت اپنا مال گنتے رہتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں ہے ﴿وَيلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ ١ الَّذى جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ ٢﴾... سورة الهمزة

'' ہرچغلی خور اورغیبت کرنیوالے پر افسوس ہے جو مال جمع کرتا رہتا اور اسے گن گن کر رکھتا ہے' '

سودی لین دین کا ایک بنیادی عنصر بچت ہے جو سرمایہ دارانہ نظام میں حیات بخش خون کہلاتی ہے سود کی جو صورتیں ہمارے معاشرے میں مروّج ہیں، ان میں لوگ اپنی بچتیں بنکوں میں جمع کروا دیتے ہیں ۔ اس طرح بھی صنعت کاری وتجارت کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے...کاروباری معیشت کی بنیاد ایسے اُصول پر ہے جہاں ایک کی ضرورت دوسرے کے لئے رسد کی فراہمی کا ذریعہ اور ایک کی آمدنی دوسرے کا خرچ ہے۔ اگر یہ دائرہ کار درست گردش کرتا ہے تو معیشت کی ترقی اورفروغ یقینی ہے لیکن اگر گردشِ سرمایہ محدود ہو اور طلب ورسد میں رکاوٹ حائل ہو تو بے روز گاری، مہنگائی ، قرض وغیرہ کو رواج ملتا ہے۔

بنک انٹرسٹ کے بارے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سودی قرض لینے کا اہل وہی شخص ہے جو اس کے مقابل کوئی اور اسی قیمت کا اثاثہ رہن رکھوا سکے لہٰذا قرضے کی گردش امراء تک محدود رہتی ہے جبکہ علم معاشیات کا مسلمہ اصول ہے کہ گردشِ دولت کی رفتار جتنی تیز اور جتنے وسیع دائرہ کار ہوگی، معاشرہ کی معیشت بھی اسی رفتار سے ترقی کرے گی۔

مولانا عبدالرحمن کیلانی ؒ مرحوم (راقم کے نانا مرحوم) نے اپنی کتاب میں بڑی خوبصورتی سے اسلام میں گردشِ دولت کے فلسفے کو واضح کیا ہے جس میں سے ایک نکتہ کی وضاحت بڑی مفید ہوگی۔ آپ کہتے ہیں کہ ۱۰۰۰ روپے اگر کسی امیر شخص کے پاس ہوں تو دوسرے مال کی موجودگی میں اس کے خرچ کی نوبت دیر سے آئے گی اور وہ کچھ عرصہ محفوظ پڑا رہے گا۔ جبکہ یہ ۱۰۰۰ روپے اگر کسی غریب شخص کے پاس ہوں تو وہ ایک دو روز میں اس کو خرچ کرنے (گردش میں لانے) پر مجبور ہوگا۔ اسی طرح اسلام زکوٰۃ و صدقات کے ذریعے امراء کو اپنا مال فقراء او رمساکین میں تقسیم کرنے کے احکام اور ترغیبات دے کر گردشِ دولت کی رفتار کو تیز تر کر دیتا ہے۔

(5) سود افراطِ زر پیدا کرتا ہے: سودی نظام کا ایک نتیجہ بے روز گاری کی صورت نکلتا ہے۔ ملک میں جتنی بھی صنعت کاری کی جائے گی یا تجارتی معاملات میں جو روپیہ استعمال ہوگا، صنعت کار یا تاجر اس پر بنکوں کو سود ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ صنعت کار یا تاجر سود کی اس رقم کو اپنی جیب سے نہیں دیتا بلکہ اس سود کو بھی اپنی Product کی قیمت میں شامل کر دیتا ہے لہٰذا اس اضافی رقم کے باعث قیمت ِخرید میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کا اثر براہ ِراست صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ سود کی شرح کے تناسب سے ہی قیمت ِخرید میں اضافہ ہوگا اور گرانی ٔاشیاء کا تناسب بھی معاشی مشکلات کا باعث بنے گا۔ جس تناسب سے اشیاء کی قیمت ِخرید میں اضافہ ہوگا، اسی تناسب سے صارفین کی تعداد میں کمی واقع ہوگی جس کے باعث طلب ورسد میں کمی واقع ہوگی جس کے نتیجے میں صنعت وتجارت نقصان کا سامنا کرنے کے بعد بند ہو جائے گی اور اس کا منفی اثر ملکی معیشت پر پڑے گا۔

افراط ِزر جو اس وقت ہماری ملکی معیشت کا سنگین ترین مسئلہ ہے، کا تعلق سود سے بھی ہے۔ حکومتیں عوام سے رقم حاصل کرنے کے لئے بنکوں میں زیادہ شرح سود پر قرض جمع کرانے کی ترغیب دیتی ہیں۔ جبکہ ملکی معیشت میںمندی کے باعث تجارت کرکے بھی اس قدر اضافہ حاصل کرنامشکل ہوتاہے۔ چنانچہبنک اس شرح سود کی ادائیگی میں اپنا خسارہ پورا کرنے کے لئے سٹیٹ بنک سے تقاضا کرتے ہیں ۔ بنکوں کے خسارے سے سٹیٹ بنک اور حکومت متاثر ہوتی ہے، چنانچہ اس خسارے کو کرنسی کی قیمت گرا کر، دوسرے لفظوں میں زیادہ نوٹ چھاپ کر حکومت پورا کرلیتی ہے۔

معاشی ماہرین یہ بات بخوبی سمجھتے ہیں کہ زیادہ شرح سود ، ایک ناکام معیشت کی علامت ہوا کرتی ہے۔وہ حکومتیں جو مالی مشکلات کا شکار ہوں ، عوام کو بنکوں کے ذریعے زیادہ شرح سود کا لالچ دے کر فوری طور پر تو سٹیٹ بنک کے دائرہ اختیار میں کافی رقم جمع کرلیتی ہیں لیکن یہ صورتحال در اصل ناکام معیشت کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے۔عین یہی صورتحال ان دنوں وطن عزیز میں بھی حکومت نے آمدن جمع کرنے کے لئے اپنا رکھی ہے۔

یورپی ممالک میں یہی وجہ ہے کہ کچھ برسوں سے بہت کم شرح سود متعارف کرائی جارہی ہے۔ہمارے ہاں اگر یہ شرحِ سود ۱۵ فی صد کے لگ بھگ ہے تو جاپان اور یورپ میں بعض بنک ایک فیصد شرح سود پر بھی قرضے دے رہے ہیں۔ او ر وہ ا س سے بھی زیادہ کم کرنا چاہتے ہیں۔ جدید دنیا آج معیشت کی کامیابی کے لئے شرح سود کو ختم کرنے یا بالکل کم کرنے کے درپے ہے ، اورتجربات کے بعد اسے کامیاب معیشت کی ضمانت قرار دے رہے ہیں اور ہم اسلام کے نام لیوا ، اللہ کے واضح احکامات اور سود کے مفاسد خوب جاننے کے باوجود سود میں گھٹنے گھٹنے دھنسے ہوئے ہیں،ہمارے لئے یہ مقامِ فکر ہے!٭نوٹ

(۱) ربا کی مختلف تعریفات میں امام سرخسیؒ کی تعریف ''هوالفضل الخالي عن العوض المشروط إذا دخل في البیع'' سب سے جامع ہے لیکن دورِ حاضر میں اٹھائے جانے والے بعض شبہات کی وجہ سے اس میں معمولی سی وضاحت کی ضرورت ہے۔چنانچہ تعریف میںعوض کی بجائے 'بغیر کسی حق' کا لفظ استعمال کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ (دیکھئے صفحہ۴۶،۸۳)

(۲) حافظ ہیثمی فرماتے ہیں: اسے احمد بن حنبلؒ نے روایت کیا ہے کہ اور سند کے راوی صحیح حدیث کے رواۃ کی شرط پر پورے اترتے ہیں (مجمع الزوائد:ج۴، ص۱۱۷) علامہ ابن جوزیؒ نے راوی حسین بن محمد کی وجہ سے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے لیکن حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ حسین بن محمد بخاری و مسلم دونوں کے نزدیک قابل استدلال ہے( القول المسدد)

(۳) جب میں نے ابتدا میں اس دعویٰ پر غور کیا تو ذہن نے فوری طور پر اسے قبول نہ کیا کیونکہ یہ کہنا بڑی عجیب سی بات ہے کہ کرنسی بے فائدہ چیز ہے۔ ہمارا روزمرہ کا تجربہ ہے کہ بیسیوں خواہشات کی تکمیل صرف نقدی کی ہی محتاج ہوتی ہے۔ لیکن جب اس نکتہ پر غور کرتا گیا تو بات کھلتی گئی۔ آپ بھی اس مثال سے اس کو سمجھ سکتے ہیں:فرض کریں کہ ایک شخص کسی ویرانے یا جزیرے میں اکیلا جا پہنچتا ہے اور اسے چند دن وہاں گزارنے ضروری ہیں۔ اس شخص کے پاس سوئے اتفاق سے کوئی جنس تو موجود نہیں لیکن ایک لاکھ ڈالر موجود ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک لاکھ ڈالر اس کو کیا فائدہ دے سکتے ہیں۔ کیا وہ انہیں کھا سکتاہے یا ان میں حفاظت؍پناہ لے سکتا ہے یا ان کی کشتی ؍ سواری بنا کر اس جگہ سے جلد چھٹکاراپاسکتا ہے۔ اس امر پر غور کریں تو یہ بات کھل جائے گی۔ دراصل کرنسی کو ہمارے موجودہ معاشرتی سسٹم نے ایک اہمیت ؍ افادیت دے رکھی ہے اور اشیاء کے حصول کا وسیلہ بنا رکھا ہے۔ کرنسی اپنی ذات کے اعتبار سے قابل فائدہ نہیں اور یہی ہمارا موقف ہے۔ جو شے اپنی بنیاد کے اعتبار سے قابل فائدہ نہ ہو، اس سے کرایہ کا فائدہ اٹھانا درست نہیں۔ ضروری ہے کہ کسی قابل فائدہ جنس میں تبدیل کرکے اس سے کرایہ کا فائدہ حاصل کیا جائے۔ اِس طرح اس کرنسی کا اس قدر ہی کرایہ لیا جاسکے گاجس قدر کرنسی سے متبدل جنس کی حیثیت ہے۔ کیونکہ زرفی ذاتہ کچھ نہیں، اسکا اعتبار اپنی قوت ِتبدیل کی بنا پر ہے

(۴) سرمایہ دارنہ نظام میں ذرائع پیداوار چار ہیں: زمین، محنت ، سرمایہ اور انتظام جس کے حاصل بالترتیب کرایہ، اُجرت سود اورمنافع ہیں۔ اس نظام میں روپے کو ذریعہ پیداوار تسلیم کرکے سود کو اس کا حاصل قرار دیا گیاہے۔

(۵) جدید زرعی تحقیقات سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی ہے کہ کسی زمین میں مسلسل ایک ہی فصل کی پیداواراس میں مخصوص نمکیات کی قلت پیدا کردیتی ہے چنانچہ اس کی تلافی کے لئے ماہرین زراعت وہاں ایسی فصلوں کو تجویز کرتے ہیں جن کے ذریعے کم ہونے والے نمکیات کو دوبارہ پیداکیا جاتاہے۔ انہی مقاصد کے لئے کھادوں او رزرعی دوائیوں کو بھی استعمال میں لایا جاتاہے، جس سے معلوم ہوتاہے کہ زمین میں بھی استعمال سے کمی واقع ہوتی ہے، لیکن اس کمی کے تناسب میں فرق ضرور ممکن ہے۔
 

آصف اثر

معطل
میرا خیال تھا کہ کوئی نا کوئی میرے بنیادی سے سوال کا جواب بتا دے گا۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ جانے بغیر کہ سود کیا ہے ۔ مختلف فلسفے پیش کیے جارہے ہیں۔ صرف اس لئے کہ کسی سے سن لیا ہے کہ "سود" حرام ہے۔

کل صبح تک انتظار کرتا ہوں پھر "سود" پر قرآن حکیم سے حوالے پیش کرتا ہوں کہ اس کے پیچھے نظریہ کیا ہے؟

(1) سورۃ البقرۃ:
﴿الَّذينَ يُنفِقونَ أَمو‌ٰلَهُم بِالَّيلِ وَالنَّهارِ‌ سِرًّ‌ا وَعَلانِيَةً فَلَهُم أَجرُ‌هُم عِندَ رَ‌بِّهِم وَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ ﴿٢٧٤﴾الَّذينَ يَأكُلونَ الرِّ‌بو‌ٰالا يَقومونَ إِلّا كَما يَقومُ الَّذى يَتَخَبَّطُهُ الشَّيط۔ٰنُ مِنَ المَسِّ ۚ ذ‌ٰلِكَ بِأَنَّهُم قالوا إِنَّمَا البَيعُ مِثلُ الرِّ‌بو‌ٰا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيعَ وَحَرَّ‌مَ الرِّ‌بو‌ٰا ۚ فَمَن جاءَهُ مَوعِظَةٌ مِن رَ‌بِّهِ فَانتَهىٰ فَلَهُ ما سَلَفَ وَأَمرُ‌هُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَن عادَ فَأُول۔ٰئِكَ أَصح۔ٰبُ النّارِ‌ ۖ هُم فيها خ۔ٰلِدونَ ﴿٢٧٥﴾ يَمحَقُ اللَّهُ الرِّ‌بو‌ٰاوَيُر‌بِى الصَّدَق۔ٰتِ ۗ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ كُلَّ كَفّارٍ‌ أَثيمٍ ﴿٢٧٦﴾ إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّ۔ٰلِح۔ٰتِ وَأَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ وَءاتَوُا الزَّكو‌ٰةَ لَهُم أَجرُ‌هُم عِندَ رَ‌بِّهِم وَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ ﴿٢٧٧﴾ ي۔ٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَر‌وا ما بَقِىَ مِنَ الرِّ‌بو‌ٰاإِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴿٢٧٨﴾ فَإِن لَم تَفعَلوا فَأذَنوا بِحَر‌بٍ مِنَ اللَّهِ وَرَ‌سولِهِ ۖ وَإِن تُبتُم فَلَكُم رُ‌ءوسُ أَمو‌ٰلِكُم لا تَظلِمونَ وَلا تُظلَمونَ ﴿٢٧٩﴾ وَإِن كانَ ذو عُسرَ‌ةٍ فَنَظِرَ‌ةٌ إِلىٰ مَيسَرَ‌ةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقوا خَيرٌ‌ لَكُم ۖ إِن كُنتُم تَعلَمونَ ﴿٢٨٠﴾ وَاتَّقوا يَومًا تُر‌جَعونَ فيهِ إِلَى اللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفّىٰ كُلُّ نَفسٍ ما كَسَبَت وَهُم لا يُظلَمونَ ﴿٢٨١﴾ي۔ٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا تَدايَنتُم بِدَينٍ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكتُبوهُ ۚ وَليَكتُب بَينَكُم كاتِبٌ بِالعَدلِ ۚ وَلا يَأبَ كاتِبٌ أَن يَكتُبَ كَما عَلَّمَهُ اللَّهُ ۚ فَليَكتُب وَليُملِلِ الَّذى عَلَيهِ الحَقُّ وَليَتَّقِ اللَّهَ رَ‌بَّهُ وَلا يَبخَس مِنهُ شَي۔ًٔا ۚ فَإِن كانَ الَّذى عَلَيهِ الحَقُّ سَفيهًا أَو ضَعيفًا أَو لا يَستَطيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَليُملِل وَلِيُّهُ بِالعَدلِ ۚ وَاستَشهِدوا شَهيدَينِ مِن رِ‌جالِكُم ۖ فَإِن لَم يَكونا رَ‌جُلَينِ فَرَ‌جُلٌ وَامرَ‌أَتانِ مِمَّن تَر‌ضَونَ مِنَ الشُّهَداءِ أَن تَضِلَّ إِحدىٰهُما فَتُذَكِّرَ‌ إِحدىٰهُمَا الأُخر‌ىٰ ۚ وَلا يَأبَ الشُّهَداءُ إِذا ما دُعوا ۚ وَلا تَس۔َٔموا أَن تَكتُبوهُ صَغيرً‌ا أَو كَبيرً‌ا إِلىٰ أَجَلِهِ ۚ ذ‌ٰلِكُم أَقسَطُ عِندَ اللَّهِ وَأَقوَمُ لِلشَّه۔ٰدَةِ وَأَدنىٰ أَلّا تَر‌تابوا ۖ إِلّا أَن تَكونَ تِج۔ٰرَ‌ةً حاضِرَ‌ةً تُدير‌ونَها بَينَكُم فَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ أَلّا تَكتُبوها ۗ وَأَشهِدوا إِذا تَبايَعتُم ۚ وَلا يُضارَّ‌ كاتِبٌ وَلا شَهيدٌ ۚ وَإِن تَفعَلوا فَإِنَّهُ فُسوقٌ بِكُم ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَىءٍ عَليمٌ ﴿٢٨٢﴾وَإِن كُنتُم عَلىٰ سَفَرٍ‌ وَلَم تَجِدوا كاتِبًا فَرِ‌ه۔ٰنٌ مَقبوضَةٌ ۖ فَإِن أَمِنَ بَعضُكُم بَعضًا فَليُؤَدِّ الَّذِى اؤتُمِنَ أَم۔ٰنَتَهُ وَليَتَّقِ اللَّهَ رَ‌بَّهُ ۗ وَلا تَكتُمُوا الشَّه۔ٰدَةَ ۚ وَمَن يَكتُمها فَإِنَّهُ ءاثِمٌ قَلبُهُ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ عَليمٌ ﴿٢٨٣﴾ لِلَّهِ ما فِى السَّم۔ٰو‌ٰتِ وَما فِى الأَر‌ضِ ۗ وَإِن تُبدوا ما فى أَنفُسِكُم أَو تُخفوهُ يُحاسِبكُم بِهِ اللَّهُ ۖ فَيَغفِرُ‌ لِمَن يَشاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَىءٍ قَديرٌ‌ ﴿٢٨٤﴾.... سورة البقرة


ترجمہ

جو لوگ دن رات، کھلے اور چھپے اپنے مال[۳۹۱]خرچ کرتے ہیں۔ انہیں اپنے پروردگار سے اس کا اَجر ضرور مل جائے گا۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے(۲۷۴) (ان لوگوں کے برعکس)جو لوگ سود کھاتے ہیں۔ وہ یوں کھڑے ہوں گے۔ جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر اُسے مخبوط ُالحواس بنا دیا ہو۔ اس کی وجہ ان کا یہ قول (نظریہ)ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود ہی کی طرح ہے۔[۳۹۲]حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ [۳۹۳] اب جس شخص کو اس کے پروردگار سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک گیا تو پہلے جو سود وہ کھا چکا ،سو کھا چکا،[۳۹۴] اس کا معاملہ اللہ کے سپرد۔ مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ اہل دوزخ ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے(۲۷۵)اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کی پرورش[۳۹۵]کرتا ہے۔ اور اللہ کسی ناشکرے[۳۹۶]بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا (۲۷۶)البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے، [۳۹۷] نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے ان کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ہے۔ انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے(۲۷۷)اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر واقعی تم مؤمن ہو تو جو سود باقی رہ گیا ہے اُسےچھوڑ دو(۲۷۸) اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ ہے[۳۹۸]اور اگر (سود سے) توبہ کر لو تو تم اپنے اصل سرمایہ کے حقدار ہو۔ [۳۹۹] نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے(۲۷۹) اور اگر مقروض تنگ دست ہے تو اُسے اس کی آسودہ حالی تک مہلت دینا چاہیے۔ اور اگر (راس ُالمال بھی)چھوڑ ہی دو تو یہ تمہارے [۴۰۰]لیے بہت بہتر ہے۔ اگر تم یہ بات سمجھ سکو(۲۸۰) اور اس دن سے ڈر جائو جب تم اللہ کے حضور لوٹائے جائو گے۔ پھر وہاں ہر شخص کو اس کے اَعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا(۲۸۱)اے ایمان والو! جب تم کسی مقررہ مدت کے لیے اُدھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔ [۴۰۱]اور لکھنے والا فریقین کے درمیان عدل و انصاف سے تحریر کرے۔اور جسے اللہ تعالیٰ نے لکھنے کی قابلیت بخشی ہو اُسے لکھنے سے انکار [۴۰۲]نہ کرنا چاہئے۔ اور تحریر وہ شخص کروائے جس کے ذمہ قرض ہے۔ [۴۰۳] وہ اللہ سے ڈرتا رہے اور لکھوانے میں کسی چیز کی کمی نہ کرے (کوئی شق چھوڑ نہ جائے) ہاں اگر قرض لینے والا نادان ہو یا ضعیف ہو یا لکھوانے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو پھر اس کا وَلی انصاف کے ساتھ اِملا کروا دے۔ اور اس معاملہ پر اپنے (مسلمان) مردوں میںسے [۴۰۴] دو گواہ بنا لو۔ اور اگر دو مرد میسر نہ آئیں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بنائو کہ ان میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد[۴۰۵] دلا دے۔ اور گواہ ایسے ہونے چاہئیں جن کی گواہی تمہارے ہاں مقبول ہو۔ اور گواہوں کو جب (گواہ بننے یا)گواہی دینے کے لیے بلایا جائے تو انہیں انکار نہ کرنا[۴۰۶] چاہیے اور معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا مدت کی تعیین کے ساتھ اسے لکھوا لینے میں کاہلی نہ کرو [۴۰۷]تمہارا یہی طریق کار اللہ کے ہاں بہت منصفانہ ہے جس سے شہادت ٹھیک طرح قائم ہو سکتی ہے اور تمہارے شک و شبہ میں پڑنے کا اِمکان بھی کم رہ جاتا ہے۔ ہاں جو تجارتی لین دین تم آپس میں دست بدست کر لیتے ہو، اسے نہ بھی لکھو تو کوئی حرج نہیں۔اور جب تم سودا بازی کرو تو گواہ بنا لیا کرو[۴۰۸]نیز کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے[۴۰۹]اور اگر ایسا کرو گے تو گناہ کا کام کرو گے اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ ہی تمہیں یہ احکام و ہدایات سکھلاتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے(۲۸۲) اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے کو کوئی کاتب نہ مل سکے تو رہن با قبضہ[۴۱۰](پر معاملہ کر لو) اور اگر کوئی شخص دوسرے پر اعتماد کرے (اور رہن کا مطالبہ نہ کرے)تو جس پر اعتماد کیا گیا ہے اسے قرض خواہ کی امانت [۴۱۱] ادا کرنا چاہئے۔ اور اپنے پروردگار سے ڈرنا چاہیے۔ اور شہادت کو ہرگز نہ چھپائو۔ جو شخص شہادت کو چھپاتا ہے بلاشبہ اس کا دل گنہ گار ہے[۴۱۲] اور جو کام بھی تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے(۲۸۳)جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے [۴۱۳]سب اللہ ہی کا ہے۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خواہ تم اسے چھپائو یا ظاہر کرو، اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے (۲۸۴)

(391) یہ آیت دراصل صدقات و خیرات کے احکام کا تتمہ ہے۔ یعنی آخر میں ایک دفعہ پھر صدقہ کی ترغیب دی جارہی ہے۔ اب اس کی عین ضد سود کا بیان شروع ہو رہا ہے... صدقات و خیرات سے جہاں آپس میں ہمدردی، مروّت، اُخوت، فیاضی پیدا ہوتی ہے وہاں طبقاتی تقسیم بھی کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس سود سے شقاوتِ قلبی، خود غرضی، منافرت، بے مروّتی اور بخل جیسے اخلاقِ رذیلہ پرورش پاتے ہیں اور طبقاتی تقسیم بڑھتی چلی جاتی ہے جو بالآخر کسی نہ کسی عظیم فتنہ کا باعث بن جاتی ہے۔ اشتراکیت دراصل ایسے ہی فتنہ کی پیداوار ہے۔

(392) یہ دراصل سود خور یہودیوں کا قول ہے اور آج کل بہت سے مسلمان بھی اسی نظریہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ سودی قرضے دراصل دو طرح کے ہوتے ہیں :

(1) ذاتی قرضے یا مہاجنی قرضے یعنی وہ قرضے جو کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کے لئے کسی مہاجن یا بنک سے لیتا ہے ، (2) اور دوسرے تجارتی قرضے جو تاجر یا صنعت کار اپنی کاروباری اغراض کے لئے بنکوں سے سود پر لیتے ہیں۔ اب جو مسلمان سود کے جواز کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ یہ کہتے ہیں کہ جس سود کو قرآن نے حرام کیا ہے وہ ذاتی یا مہاجنی قرضے ہیں جن کی شرح سود بڑی ظالمانہ ہوتی ہے اور جو تجارتی سود ہے وہ حرام نہیں۔ کیونکہ اس دور میں ایسے تجارتی سودی قرضوں کا رواج ہی نہ تھا۔ نیز ایسے قرضے چونکہ رضا مندی سے لئے دیئے جاتے ہیں اور ان کی شرحِ سود بھی گوارا اور مناسب ہوتی ہے اور فریقین میں سے کسی پر ظلم بھی نہیں ہوتا، لہٰذا یہ تجارتی سود اس سود سے مستثنیٰ ہے جنہیں قرآن نے حرام قرار دیا ہے۔

یہاں ہم مجوزین تجارتی سود کے تمام دلائل بیان کرنے اور ان کے جوابات دینے سے قاصر ہیں۔ (جس کو تفصیلات درکار ہوں وہ میری تصنیف ''تجارت اور لین دین کے مسائل و اَحکام'' میں سود سے متعلق دو اَبواب ملاحظہ کرسکتا ہے) لہٰذا چند مختصر دلائل پر ہی اکتفا کریں گے:

1- دورِ نبویﷺ میں تجارتی سود موجود تھے اور سود کی حرمت سے پیشتر صحابہ میں سے حضرت عباس ؓ اور خالد بن ولید ؓایسے ہی تجارتی سود کا کاروبار کرتے تھے۔ اس دور میں عرب اور بالخصوص مکہ اور مدینہ میں لاکھوں کی تجارت ہوا کرتی تھی۔ علاوہ ازیں ہمسایہ ممالک میں تجارتی سود کا رواج عام تھا۔

2- قرآن میں ربوا کا لفظ علیٰ الاطلاق استعمال ہوا ہے جو ذاتی اور تجارتی دونوں قسم کے قرضوں کو حاوی ہے۔ لہٰذا تجارتی سود کو اس علیٰ الاطلاق حرمت سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔(دیکھئے میری تصنیف مترادفات القرآن :ص )

3- قرآن نے تجارتی قرضوں کے مقابل یہ آیت پیش کی ہے: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيعَ وَحَرَّ‌مَ الرِّ‌بو‌ٰا﴾''اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام'' جبکہ ذاتی قرضوں کے مقابل یوں فرمایا:﴿يَمحَقُ اللَّهُ الرِّ‌بو‌ٰاوَيُر‌بِى الصَّدَق۔ٰتِ﴾"اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے سود کے خاتمہ کے لئے ذاتی قرضوں کا حل ''صدقات'' تجویز فرمایا ہے اور تجارتی قرضوں کے لئے شراکت اور مضاربت کی راہ دکھلائی ہے جو حلال اور جائز ہے۔

4- جہاں تک کم یا مناسب شرحِ سود کا تعلق ہے تو یہ بات آج تک طے نہیں ہوسکی کہ مناسب شرحِ سود کیا ہے؟ کبھی تو ۲ فیصد بھی نامناسب شرح سمجھی جاتی ہے۔ جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے لگ بھگ زمانے میں ریزروبنک آف انڈیا ڈسکائونٹ ریٹ مقرر ہوا اور کبھی ۲۹ فیصد شرحِ سود بھی مناسب اور معقول سمجھی جاتی ہے (دیکھئے: اشتہار انوسٹمنٹ بنک مشتہرہ نوائے وقت مؤرخہ اا؍اگست ۱۹۷۷ئ) شرحِ سود کی مناسب تعیین نہ ہوسکنے کی غالباً وجہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد ہی متزلزل اور کمزور ہے۔ مناسب اور معقول شرح سود کی تعیین تو صرف اس صورت میں ہوسکتی ہے جب یہ معلوم ہوسکے کہ قرض لینے والا اس سے کتنا یقینی فائدہ حاصل کرے گا اور اس میں سے قرض دینے والے کا معقول حصہ کتنا ہونا چاہئے۔ مگر ہمارے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ قرض لینے والے کو اس مقرر مدت میں کتنا فائدہ ہوگا، یا کچھ فائدہ ہوگا بھی یا نہیں بلکہ الٹا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ ثانیاً ایک ہی ملک اور ایک ہی وقت میں مختلف بنکوں کی شرحِ سود میں انتہائی تفاوت پایا جاتا ہے اور اگر سب کچھ مناسب ہے تو پھر نامناسب کیا بات ہے؟ ثالثا اگر شرحِ سود انتہائی کم بھی ہو تو بھی یہ سود کو حلال نہیں بنا سکتی کیونکہ شریعت کا یہ اُصول ہے کہ حرام چیز کی قلیل مقدار بھی حرام ہی ہوتی ہے۔ شراب تھوڑی بھی ایسے ہی حرام ہے جیسے زیادہ مقدار میں (ترمذي: أبواب الأشربة، باب ما أسکر کثیرہ فقلیله حرام )

5- جہاں تک باہمی رضا مندی کا تعلق ہے تو یہ شرط صرف حلال معاملات میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حلال اور جائز معاملات میں بھی اگر فریقین میں سے کوئی ایک راضی نہ ہو تو وہ معاملہ حرام اور ناجائز ہوگا۔ جیسے تجارت میں مال بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کی رضا مندی ضروری ہے ورنہ بیع فاسد اور ناجائز ہوگی۔ اسی طرح نکاح میں بھی فریقین کی رضا مندی ضروری ہے۔ لیکن یہ رضا مندی حرام کاموں کو حلال نہیں بناسکتی۔ اگر ایک مرد اور ایک عورت باہمی رضا مندی سے زنا کریں تو وہ جائز نہیں ہوسکتا اور نہ ہی باہمی رضا مندی سے جوا جائز ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سود بھی باہمی رضا مندی سے حلال اور جائز نہیں بن سکتا۔

علاوہ ازیں سود لینے والا کبھی سود دینے پر رضا مند نہیں ہوتا۔ خواہ شرحِ سود کتنی ہی کم کیوں نہ ہو بلکہ یہ اس کی مجبوری ہوتی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اسے کہیں سے قرضِ حسنہ مل جائے تو وہ کبھی سود پر رقم لینے کو تیار نہ ہو۔

6- رہی یہ بات کہ تجارتی سود میں کسی فریق پر ظلم نہیں ہوتا۔ گویا یہ حضرات سود کی حرمت کی علت یا بنیادی سبب ظلم قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ تصور ہی غلط ہے۔ آیت کے سیاق و سباق سے واضح ہے کہ یہ الفاظ سودی معاملات اور معاہدات کو ختم کرنے کی ایک اَحسن صورت پیش کرتے ہیں یعنی نہ تو مقروض قرض خواہ کی اصل رقم بھی دبا کر اس پر ظلم کرے اور نہ قرض خواہ مقروض پر اَصل کے علاوہ سود کا بوجھ بھی لاد دے۔ ان الفاظ کا اِطلاق ہمارے ہاں اس وقت ہوگا جب ہم اپنے معاشرہ کو سود سے کلیتاً پاک کرنا چاہیں گے، یا نجی طور پر قرضہ کے فریقین سود کی لعنت سے اپنے آپ کو بچانے پر آمادہ ہوں گے۔ سود کی حرمت کا بنیادی سبب ظلم نہیں بلکہ بیٹھے بٹھائے اپنے مال میں اضافہ کی وہ ہوس ہے جس سے ایک سرمایہ دار اپنی فاضل دولت میں طے شدہ منافع کی ضمانت سے یقینی اضافہ چاہتا ہے اور جس سے زر پرستی، سنگ دلی اور بخل جیسے اخلاقِ رذیلہ جنم لیتے ہیں

(393) اب ایک مسلمان کا کام تو یہی ہونا چاہئے کہ جب اللہ نے سود کو حرام کر دیا تو اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ خواہ اسے سود اور تجارت کا فرق اور ان کی حکمت سمجھ آئے یا نہ آئے تاہم جو لوگ یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے۔ اللہ نے انہیں انتہائی بدھو اور مخبوط الحواس قرار دیا ہے۔ جنہیں کسی جن نے آسیب زدہ بنا دیا ہو اور وہ اپنی خود غرضی اور زر پرستی کی ہوس میں خبطی ہوگئے ہوں کہ انہیں تجارت اور سود کا فرق نظر ہی نہیں آرہا۔ چونکہ وہ اس زندگی میں بائولے ہو رہے ہیں،لہٰذا وہ قیامت کے دن بھی اسی حالت میں اپنی قبروں سے اُٹھیں گے۔ اب ہم ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لئے سود اور تجارت کا فرق بتلاتے ہیں :

1- سود ایک طے شدہ شرح کے مطابق یقینی منافع ہوتا ہے جبکہ تجارت میں منافع کے ساتھ نقصان کا احتمال بھی موجود ہوتا ہے۔ خواہ کوئی شخص اپنے ذاتی سرمایہ سے تجارت کرے یا یہ مضاربت یا شراکت کی شکل ہو۔

2- مضاربت کی شکل میں فریقین کو ایک دوسرے سے ہمدردی، مروّت اور مل جل کر کاروبار چلانے کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کا مفاد مشترک ہوتا ہے اور اس کا قومی پیداوار پر خوشگوار اثر پڑتاہے۔ جبکہ تجارتی سود کی صورت میں سود خوار کو محض اپنے مفاد سے غرض ہوتی ہے۔ بعض دفعہ وہ ایسے نازک وقت میں سرمایہ کی واپسی کا تقاضا کرتا اور مزید فراہمی سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے جبکہ کاروبار کو سرمایہ کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح سود خوار تو اپنا سرمایہ بمعہ سود نکال دیتا ہے مگر مقروض کو سخت نقصان پہنچتا ہے اور قومی معیشت بھی سخت متاثر ہوتی ہے۔

3- مضاربت اور سود میں تیسرا فرق یہ ہے کہ مضاربت سے اخلاقِ حسنہ پرورش پاتے ہیں۔ جس سے معاشرہ میں اُخوت اور خیر و برکت پیدا ہوتی ہے اور طبقاتی تقسیم مٹتی ہے۔ جبکہ سود سے اخلاقِ رذیلہ مثلاً خود غرضی، مفاد پرستی، بخل اور سنگدلی پیدا ہوتے ہیں۔ سود کی حرمت کی علت یہی اخلاقِ رذیلہ اور ہوسِ زر پرستی ہے۔ سودی نظام معیشت نے صرف ایک ہی شائی لاک (ایک سنگ دل یہودی کا مثالی کردار جس نے بروقت ادائیگی نہ ہونے کی بنا پر اپنے مقروض کی ران سے بے دریغ گوشت کا ٹکڑا کاٹ لیا تھا) پیدا نہیں کیا بلکہ ہر دور میں ہزاروں شائی لاک پیدا ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔

(394) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو سود کھا چکا وہ معاف ہے بلکہ یوں فرمایا کہ اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے تو بخش دے، چاہے تو سزا دے۔ لہٰذا محتاط صورت یہی ہے کہ وہ سود کی حرام کمائی خود استعمال نہ کرے بلکہ جس سے سود لیا تھا، اسے ہی واپس کردے تو یہ سب سے بہتر بات ہے ورنہ محتاجوں کو دے دے یا رفاہِ عامہ کے کاموں میں خرچ کر دے۔ اس طرح وہ سود کے گناہ سے تو شاید بچ جائے مگر ثواب نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام مال کا صدقہ قبول نہیں کرتا۔

(395) اگرچہ بنظر ظاہر سود لینے سے مال بڑھتا اور صدقہ دینے سے گھٹتا نظر آتا ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ سود کے مال میں برکت نہیں ہوتی اور مالِ حرام بود بجائے حرام رفت، والی بات بن جاتی ہے اور صدقات دینے سے اللہ تعالیٰ ایسی جگہ سے اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے جس کا اسے خود بھی وہم و گمان نہیں ہوتا اور یہ ایسی حقیقت ہے جو بارہا کئی لوگوں کے تجربہ میں آچکی ہے تاہم اسے عقلی دلائل سے ثابت کیا جاسکتا ہے اور دوسری صورت کو علم معیشت کی رُو سے ثابت بھی کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے جس معاشرہ میں صدقات کا نظام رائج ہوتا ہے اس میں غریب طبقہ (جو عموماً ہر معاشرہ میں زیادہ ہوتا ہے) کی قوتِ خرید بڑھتی ہے اور دولت کی گردش کی رفتار بہت تیز ہوجاتی ہے جس سے خوشحالی پیدا ہوتی ہے اور قومی معیشت ترقی کرتی ہے اور جس معاشرہ میں سود رائج ہوتا ہے وہاں غریب طبقہ کی قوتِ خرید کم ہوتی ہے اور جس امیر طبقہ کی طرف دولت کو سود کھینچ کھینچ کر لے جارہا ہوتا ہے۔ اس کی تعداد قلیل ہونے کی وجہ سے دولت کی گردش کی رفتار نہایت سست ہوجاتی ہے جس سے معاشی بحران پیدا ہوتے رہتے ہیں، امیراور غریب میں طبقاتی تقسیم بڑھ جاتی ہے اور بعض دفعہ غریب طبقہ تنگ آکر اَمیروں کو لوٹنا اور مارنا شروع کر دیتا ہے، آقا و مزدور میں، امیر اور غریب میں ہر وقت کشیدگی کی فضا قائم رہتی ہے جس سے کئی قسم کے مہلک نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔

(396) یہاں ناشکرے سے مراد وہ سود خور ہے جس کے پاس اپنی ضروریات سے زائد رقم موجود ہے جسے وہ اپنے کسی محتاج بھائی کی مدد کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا، نہ اسے صدقہ دینا چاہتا ہے، نہ قرضِ حسنہ دیتا ہے بلکہ اُلٹا اس سے اس کے گاڑھے پسینے کی کمائی سود کے ذریعہ کھینچنا چاہتا ہے۔ حالانکہ یہ زائد روپیہ اس پر محض اللہ کا فضل تھا اور صدقہ یا قرض دے کر اسے اللہ کے اس فضل کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا مگر اس نے زائد رقم کو سود پر چڑھا کر اللہ کے فضل کی انتہائی ناشکری کی۔ لہٰذا اس سے بڑھ کر بدعملی اور گناہ کی بات اور کیا ہوگی۔

(397) یہ آیت درمیان میں اس لئے آئی ہے کہ سود خور کے مقابلہ میں متقی لوگوں کا حال بیان کر دیا جائے جیسا کہ قرآنِ کریم میں جابجا یہی دستور آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ جہاں اہل دوزخ کا ذکر آیا تو ساتھ اہل جنت کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ اس کے بعد سود کے مضمون کا تسلسل جاری رکھا گیا ہے۔ اس مقام پر بھی مؤمنوں کی دو انتہائی اہم صفات کا ذکر فرمایا: ایک اقامت ِصلٰوۃ کا جو بدنی عبادات میں سے سب سے اہم ہے۔ دوسرے ایتائے زکوٰۃ کا جو مالی عبادات میں سے سب سے اہم بھی ہے اور سود کی عین ضد بھی۔ اسلام کے معاشی نظام کو اگر انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کیا جائے تو اس کے دو ہی اجزاء ہیں: ایک سلبی دوسرا ایجابی۔ سلبی پہلو نظام سود کا استیصال ہے اور ایجابی پہلو نظامِ زکوٰۃ کی ترویج۔

(398) یہاں ہم سود سے متعلق چند اَحادیث بیان کرتے ہیں:

(1) حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے سود لینے والے، دینے والے، تحریر لکھنے والے اور گواہوں، سب پر لعنت کی اور فرمایا وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں (مسلم: کتاب البیوع، باب لعن آکل الربوا و مُوکِله) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سود لینے اور دینے والوں کے علاوہ بنکوں کا عملہ بھی اس گناہ میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔

(2) آپﷺ نے فرمایا:''(سود کے گناہ کے) اگر ستر حصے کئے جائیں تو اس کا کمزور حصہ بھی اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے'' (ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ: کتاب البیوع، باب الربا، فصل ثالث)

(3) آپﷺ نے فرمایا: ''سود کا ایک درہم جو آدمی کھاتا ہے اور وہ اس کے سودی ہونے کو جانتا ہے تو وہ گناہ میں چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے'' (مسند احمد، دارمی، بحوالہ مشکوٰۃ: کتاب البیوع، باب الربا ،فصل ثالث)

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے کئی گناہ ایسے ہیں جو سود سے بھی بہت بڑے ہیں۔مثلاً شرک، قتل ناحق اور زنا وغیرہ لیکن اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ کی وعید اللہ تعالیٰ نے صرف سود کے متعلق سنائی ہے اور خود رسول اللہﷺ نے بھی ایسے سخت الفاظ استعمال فرمائے ہیں جو کسی اور گناہ کے متعلق استعمال نہیں فرمائے تو آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ سود اسلامی تعلیمات کا نقیض اور اس سے براہِ راست متصادم ہے اور اس کا حملہ بالخصوص اسلام کے معاشرتی اور معاشی نظام پر ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں ایک دوسرے کا بھائی بن کر رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ وہ آپس میں مروّت، ہمدردی، ایک دوسرے پر رحم اور ایثار کا سبق سکھلاتا ہے۔ آپﷺ نے ساری زندگی صحابہ کرام ؓکو اُخوت و ہمدردی کا سبق دیا اور ایک دوسرے کے جانی دشمن معاشرے کی، وحی الٰہی کے تحت اس طرح تربیت فرمائی کہ وہ فی الواقع ایک دوسرے کے بھائی بھائی اور مونس و غمخوار بن گئے۔ اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے ایک احسانِ عظیم شمار کرتے ہوئے قرآن میں دو مقامات پر اس کا تذکرہ فرمایا ہے: (سورئہ آل عمران کی آیت ۱۰۳ میں اور سورئہ انفال کی آیت ۶۳ میں) اور یہ چیز رسول اللہﷺ کی زندگی کا ماحصل تھا۔ جبکہ سود انسان میں ان سے بالکل متضاد رذیلہ صفات مثلاً بخل، حرص، زرپرستی اور شقاوت پیدا کرتا ہے۔ اور بھائی بھائی میں منافرت پیدا کرتا ہے جو اسلامی تعلیم کی عین ضد ہے۔

دوسرے یہ کہ اسلام کے معاشی نظام کا تمام تر ماحصل یہ ہے کہ دولت گردش میں رہے اور اس گردش کا بہائو امیر سے غریب کی طرف ہو۔ اسلام کے نظامِ زکوٰۃ و صدقات کو اسی لئے فرض کیا گیا ہے اور قانونِ میراث اور حقوقِ باہمی بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں۔ جبکہ سودی معاشرہ میں دولت کا بہائو ہمیشہ غریب سے امیر کی طرف ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی سود اسلام کے پورے معاشی نظام کی عین ضد ہے

(4) آپﷺ نے فرمایا کہ '':لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جب ہر کوئی سود کھانے والا ہوگا۔ اگر سود نہ کھائے تو بھی اس کا بخار (اور ایک دوسری روایت کے مطابق) اس کا غبار اسے ضرور پہنچ کے رہے گا'' (نسائي : کتاب البیوع، باب اجتناب الشبهات في الکسب)

اور آج کا دور بالکل ایسا ہی دور ہے۔ پوری دنیا کے لوگوں اور اسی طرح مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں بھی سود کچھ اس طرح سرایت کر گیا ہے، جس سے ہر شخص شعوری یا غیر شعوری طور پر متاثر ہو رہا ہے، آج اگر ایک مسلمان پوری نیک نیتی سے سود سے کلیتاً بچنا چاہے بھی تو اسے کئی مقامات پر اُلجھنیں پیش آتی ہیں۔ مثلاً آج کل اگر کوئی شخص گاڑی، سکوٹر، کار، ویگن، بس یا ٹرک خریدے گا تو اسے لازماً اس کا بیمہ کرانا پڑے گا۔ اگرچہ اس قسم کے بیمہ کی رقم قلیل ہوتی ہے اور یہ وہ بیمہ نہیں ہوتا جس میں حادثات کی شکل میں بیمہ کمپنی نقصان ادا کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ تاہم ہمارے ہاں قانون یہ ہے کہ جب تک نئی گاڑی کا بیمہ نہ کرایا جائے وہ استعمال میں نہیں لائی جاسکتی اور اس قلیل رقم کی قسم کا بیمہ ہر سال کرانا پڑتا ہے۔ اور بیمہ کا کاروبار شرعاً کئی پہلوئوں سے ناجائز ہے جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔

اسی طرح تاجر پیشہ حضرات بنک سے تعلق رکھے بغیر نہ مال برآمد کرسکتے ہیں اور نہ درآمد۔ ان کے لئے آسان راہ یہی ہوتی ہے کہ وہ بنک سے ایل سی ((Letter of Credit یا اعتماد نامہ حاصل کریں۔ اس طرح تمام درآمد اور برآمد کردہ مال سودی کاروبار سے متاثر ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ تجارتی سود یا کمرشل انٹرسٹ Intrest) (Commercialکو جائز سمجھنے والے اور حمایت کرنے والے حضرات یہ حجت بھی پیش کیا کرتے ہیں کہ جب تمہارے گھر کی بیشتر اشیاء سودی کاروبار کے راستہ سے ہو کر تم تک پہنچی ہیں تو تم ان سے بچ کیسے سکتے ہو؟ تو اس قسم کے اعتراضات کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کے سود کو ختم کرنا یا اس کی متبادل راہ تلاش کرنا حکومت کا کام ہے اور اگر حکومت یہ کام نہیں کرتی تو ہر مسلمان انفرادی طور پر جہاں تک سود سے بچ سکتا ہے، بچے اور جہاں وہ مجبور ہے وہاں اس سے کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا کیونکہ شریعت کا اُصول ہے کہ'' مؤاخذہ اس حد تک ہے جہاں تک انسان کا اختیار ہے اور جہاں اضطرار ہے وہاں مؤاخذہ نہیں''

٭ اسی طرح آج کے دور میں ایک اہم مسئلہ اپنی بچت یا زائد رقم کو کہیں محفوظ رکھنے کا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ اس غرض کے لئے گھروں سے بنک محفوظ تر جگہ ہے۔ اور بنکوں میں تین طرح کے کھاتے چلتے ہیں : (i)چالو کھاتے Account Currentجن میں بنک لوگوں کی رقوم جمع کرتے ہیں، لیکن جمع کرنے والوں کو سود نہیں دیتے، (ii) بچت کھاتے Saving Account جن پر بنک سود دیتا ہے لیکن تھوڑی شرح سے، (iii) میعادی کھاتے Account Fixed Deposit یعنی ایسی رقوم کے کھاتے جو طویل اور مقررہ مدت کے لئے جمع کرائی جاتی ہیں۔ ان پر بنک سود دیتا ہے۔ اب ایک سود سے پرہیز کرنے والا شخص زیادہ سے زیادہ یہی کرسکتا ہے کہ وہ اپنی رقوم چالو کھاتہ میں جمع کرائے اور سود نہ لے۔ لیکن اس میں ایک اور اُلجھن پیش آتی ہے کہ بنک اس چالو کھاتہ کی رقوم کو بھی سود پر دیتا ہے اور سودی کاروبار کرتا ہے۔ لہٰذا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بنک کے پاس سود کی رقم کیوں چھوڑی جائے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:﴿وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ﴾''یعنی گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کیا کرو'' لہٰذا بنک سے یہ رقم ضرور وصول کر لینی چاہئے مگر اسے اپنے استعمال میں نہ لایا جائے۔ بلکہ اسے محتاجوں اور غریبوں کو دے دیا جائے یا رفاہِ عامہ کے کاموں میں خرچ کردیا جائے اور اس سے ثواب کی نیت بھی نہ رکھی جائے۔ کیونکہ حرام مال کا صدقہ قابل قبول ہی نہیں۔ان کی دلیل یہ ہے کہ تبدیل ید سے احکامِ شریعت بدل جاتے ہیں۔ مثلاً زید کے پاس جو سود کی رقم ہے وہ اگر بکرکو صدقہ کر دے یا ویسے بلانیت ثواب دے تو وہ اس کے لئے حرام مال نہیں ہوگا۔ لہٰذا روپیہ چالو کھاتے کے بجائے سودی کھاتے میں رکھنا چاہئے اور بنک سے سود بھی ضرور وصول کرنا چاہئے جو محتاجوں یا رفاہِ عامہ کے کاموں میں خرچ کردینا چاہئے یا(ii) کبھی بنک سے قرضہ لینے کی ضرورت پڑے تو اس سود کی جگہ یہ رقم ادا کردی جائے یا (iii)گورنمنٹ جو ناجائز ٹیکس عائد کرتی ہے ایسی مدات میں یہ سود کی رقم صرف کردی جائے۔

مگر جب ہم اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکام پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ ساری مصلحتیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ لہٰذا اس گندگی سے ہر صورت پرہیز لازمی ہے اور ایسے نظریہ کی تہ میں یہی بات نظر آتی ہے کہ انسان چونکہ فطرتاً حریص واقع ہوا ہے لہٰذا مال کسی راہ سے بھی آتا نظر آئے اسے چھوڑنے کو اس کا جی نہیں چاہتا۔ مندرجہ بالا تین صورتوں میں سے پہلی صورت بظاہر مستحسن نظر آتی ہے مگر ہم ایسی مصلحت کے قائل نہیں جس کی دو وجوہ ہیں: پہلی یہ کہ جو شخص سود لینا شروع کر دے گا اس گندگی سے کلیتاً کبھی پاک صاف نہ رہ سکے گا۔ بلکہ کچھ وقت گزرنے پر اس کے نظریہ میں لچک آنا شروع ہوجائے گی اور وہ خود "ومن وقع في الشبهات فقد وقع في الحرام" بن جائے گا۔ پس اس کا یہی رویہ اس کی اولاد میں منتقل ہوگا اور دوسری یہ کہ ہم اپنی ذات کی حد تک سود سے بچنے کی فکر کریں تو بھی بڑی بات ہے۔ ہمارا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ ہم بنک میں رقم اس لئے جمع کرائیں کہ بنک اس سے سود کمائے بلکہ ہمارا مقصد صرف رقم کی حفاظت ہے اور وہ پورا ہوجاتا ہے۔

٭ ایک اور اہم مسئلہ سرکاری، نیم سرکاری اور بعض تجارتی اداروں کے ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ کا ہے، اس فنڈ میں کچھ رقم تو ملازموں کی اپنی تنخواہ سے ماہوار وضع ہوتی اور جمع ہوتی رہتی ہے، ساتھ ہی سود در سود کے حساب سے جمع ہوتا رہتا ہے اور ملازمت سے سبکدوشی کے وقت اسے یہ ساری رقم یکمشت مل جاتی ہے، اس مسئلہ کو عموماً اضطراری سمجھا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ یہ حکومت یا اداروں کا یکطرفہ فیصلہ ہوتا ہے اور اسی بنا پر بعض علماء نے اسے ملازمت کی شرط اور اسے ملازم کے حق محنت میں شامل کرکے اس کے جواز کا فتویٰ بھی دیا ہے۔ حالانکہ یہ بات محض لاعلمی کی بنا پر کہی جاتی ہے اگر کوئی سود نہ لینا چاہے تو اسے کوئی مجبور نہیں کرتا۔ پراویڈنٹ فنڈ کے معاہدہ فارم کی پشت پر جو شرائط لکھی ہوتی ہیں ان میں سے شق نمبر ۱۶ میں یہ بات وضاحت سے درج ہے کہ جو شخص سود نہ لینا چاہے اُسے کوئی مجبوری نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ضیاء الحق مرحوم نے اس کے متبادل حل کو قانونی شکل دے دی ہے۔ جو یہ ہے کہ جو شخص سود نہ لینا چاہے نہ لے اور اس کے عوض اسے کسی وقت بھی اپنی جمع شدہ رقم کا ۸۰ فیصد بطورِ قرضِ حسنہ مل سکتا ہے۔ جسے وہ بعد میں بالاقساط اپنی تنخواہ سے کٹوا دیا کرے گا۔

٭ تیسرا اہم مسئلہ بنک کے شراکتی کھاتوں کا ہے جو صدر ضیاء الحق کی سود کو ختم کرنے کی کوشش کے نتیجہ میں معرضِ وجود میں آیا۔ بنک کی اصطلاحی زبان میں انہیں پی ایل ایسPLS یعنی (Profit Shares and Loss) کہتے ہیں۔ جس سے دیندار طبقہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ایسے لوگوں نے پی ایل ایس کھاتوں میں حساب منتقل کروالیا۔ مگر تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ بھی بیع عینہ ہی کی ذرا وسیع پیمانے پر صورت اختیار کی گئی ہے۔ بیع عینہ میں حیلہ سازی کے ذریعہ سود کو بیع کی شکل دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مثلاً اگر کسی کو نقد رقم کی ضرورت ہے اور وہ سود میں بھی ملوث نہیں ہونا چاہتا تو وہ ''ب'' سے کوئی چیز مثلاً گھوڑا پانچ ہزار روپے میں ایک سال کے وعدہ پر خریدتا ہے پھر ایک دو دن بعد ''الف'' وہی گھوڑا ''ب'' کے پاس ساڑھے چار ہزار روپے نقد میں فروخت کر دیتا ہے اور سال بعد ''الف'' کو پانچ ہزار روپے ادا کر دیتا ہے۔ اس طرح ''الف'' کو فوراً ساڑھے چار ہزار روپے میسر آگئے اور ''ب'' کو ایک سال بعد ساڑھے چار ہزار روپے پر پانچ سو منافع مل گیا۔ جو دراصل اس رقم کا ایک سال کا سود ہے اور گھوڑے کی بیع کو درمیان میں لاکر اس سود کو حلال بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ بیع عینہ کہلاتی ہے۔ (موطأ إمام مالك: کتاب البیوع،باب العینة) یہ خالص سود ہے اور ''الف'' اور ''ب'' دونوں گنہگار ہیں۔

شراکتی کھاتوں میں بھی ایسی ہی کاروائی کی جاتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شراکتی کھاتوں میں سود اور ڈسکائونٹ (Discount) کے بجائے مارک اَپ اور مارک ڈائون کی اصطلاحیں رائج کی گئی ہیں۔ شرح سود تو فیصد سالانہ ہوتی ہے جبکہ مارک اَپ فی ہزار فی یومیہ ہوتی ہے۔ جو مضارِب اور بنک کے درمیان سمجھوتے سے طے پاتی ہے اور یہ شرح تقریباً وہی بن جاتی ہے جو بنکوں میں فیصد سالانہ رائج ہوتی ہے مثلاً زید مشینری کی خرید کے لئے بنک سے پچاس ہزار روپے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اب بنک یہ کرے گا کہ اس رقم کے عوض کاغذوں میں مشینری خود زید سے خرید لے گا اور اس پر متوقع منافع کا اندازہ کرکے ''مارک اَپ'' لگا کر زید سے یہ مارک اَپ بطورِ کرایہ اور ماہوار قسط ہر ماہ وصول کرتا رہے گا اور اگر زید مقررہ مدت کے اندر اصل زر بمعہ مارک اَپ بالاقساط ادا نہیں کرسکتا تو بنک کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ مشینری کو فروخت کرکے اپنا سب کچھ کھرا کر لے۔ باقی جو بچے گا، وہ زید کا ہوگا۔ بنک کو مشینری کے حصول، اخراجات کے حصول، حصول کے دوران تلفی کا خطرہ، اس کی نگہداشت، اور وقت سے پہلے ناکارہ ہونے کی چنداں فکر نہیں ہوتی اور وہ ایسے تمام خطرات کی ذمہ داری زید پر ڈال دیتا ہے۔ اب آپ خود دیکھ لیجئے کہ مضاربت کی اس شکل کو اسلامی نظریہ بیع سے کس قدر تعلق ہے؟

معاملہ دراصل یہ ہے کہ ہمارے بنک اپنے بنیادی ڈھانچہ کے لحاظ سے مالیاتی توسط کے ادارے ہیں، تجارتی اِدارے نہیں ہیں۔ وہ اپنا حق محنت سود یا یقینی منافع کی شکل میں وصول کرتے ہیں لیکن کاروباری خطرات کی ذمہ داری کسی قیمت پر لینا گوارا نہیں کرتے اور یہی بات سود اور تجارت کا بنیادی فرق ہے۔ لہٰذا جب تک ذہنی طور پر اس بنیادی ڈھانچہ میں تبدیلی گوارا نہیں کریں گے، سود اپنی نئی نئی شکلوں میں جلوہ گری کرتا رہے گا۔

٭ چوتھا اہم مسئلہ بیمہ کا ہے، سود کی طرح بیمہ نے بھی ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ پاکستان میں ۱۹۷۳ء سے پہلے بیمہ کا کاروبار پرائیویٹ کمپنیاں کرتی تھیں تاہم انہیں حکومت کی سرپرستی حاصل تھی۔ ۱۹۷۳ء میں حکومت نے ان کو اپنی تحویل میں لے لیا اور سب کمپنیوں کو مدغم کرکے سٹیٹ لائف انشورنس کے نام سے اس کاروبار کو مزید فروغ بخشا۔ آج ہر سرکاری و نیم سرکاری ملازم نیز ہر صنعتی اور تجارتی ادارے کے ملازم کا بیمہ ٔزندگی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کی موت یا حادثے کی صورت میں مقررہ رقم اس کے ان ورثاء کو ملتی ہے جو وہ خود تجویز کرتا ہے اور وہ رقم حکومت یا متعلقہ ادارہ ادا کرتا ہے۔ بیمہ پہلے تو صرف جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کا ہوتا تھا، پھر زندگی کا بیمہ ہونے لگا۔ پھر انسان کے ایک ایک عضو کا الگ الگ بیمہ ہونے لگا اور آج کل تو بعض ذمہ داریوں مثلاً بچوں کی تعلیم اور شادی وغیرہ کا بھی بیمہ کیا جاتا ہے۔

بیمہ پالیسی کی وضاحت کا یہ موقع نہیں۔ مختصراً یہ بتلا دینا ضروری ہے کہ اس میں سود کا عنصر بھی پایا جاتا ہے، جوئے کا بھی اور بیع غرر کا بھی کیونکہ بیمہ کی شرائط طے کرتے وقت نہ بیمہ دار کو یہ پتا ہوتا ہے کہ وہ کیا کچھ ادا کرسکے گا اور نہ بیمہ کمپنی کو یہ پتا ہوتا ہے کہ اسے کیا کچھ لینا پڑے گا۔ گویا عوضین میں سے کسی ایک عوض کی بھی تعیین نہیں ہوسکتی اور ایسی بیع ناجائز ہے۔ علاوہ ازیں یہ اسلام کے قانون میراث میں گڑبڑ پیدا کر دیتی ہے۔

بیمہ کمپنیوں کی طرف سے اکثر باہمی ہمدردی اور تکافل، تعاون کا خوبصورت اور بھرپور پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ ایک خالص کاروباری ادارہ ہے جو سودی کاروبار سے بھی کئی گنا زیادہ منافع بخش ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ ۱۹۷۸ء میں امریکہ کی بیمہ کمپنیوں کو اپنے بیمہ داروں سے ۹۸ ؍ارب ڈالر کی رقم وصول ہوئی اور اس رقم میں سے صرف ۴؍ ارب ڈالر اپنے بیمہ داروں کو ادا کئے۔ اس طرح ایک سال کے اندر ۹۴ ارب ڈالر کی رقم اپنے پاس جمع کر لی (روزنامہ ''جنگ'' مورخہ ۱۰ ؍مئی ۱۹۷۹ئ)

اس کا حل یہی ہے کہ ہر شخص کو ہر طرح کے بیمہ سے بچنا لازم ہے، اور جہاں انسان مجبور ہو، وہاں ممکن ہے اللہ اسے معاف فرما دے۔
 

آصف اثر

معطل
میرا خیال تھا کہ کوئی نا کوئی میرے بنیادی سے سوال کا جواب بتا دے گا۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ جانے بغیر کہ سود کیا ہے ۔ مختلف فلسفے پیش کیے جارہے ہیں۔ صرف اس لئے کہ کسی سے سن لیا ہے کہ "سود" حرام ہے۔

کل صبح تک انتظار کرتا ہوں پھر "سود" پر قرآن حکیم سے حوالے پیش کرتا ہوں کہ اس کے پیچھے نظریہ کیا ہے؟

٭ پانچواں اہم مسئلہ انعامی بانڈزBonds) (Price کا ہے۔ اس کاروبار کا بھی اور اس میں ملنے والے انعامات کا بھی آج کل عوام میں خوب چرچا ہے۔ یہ دراصل سود اور قمار کی مرکب شکل ہے اور یہ کاروبار حکومتی سطح پر کیا جاتا ہے۔ حکومت کو جب سرمایہ کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ اس ذریعہ سے سود کا نام لئے بغیر عوام سے روپیہ حاصل کرتی ہے۔ طریقہ کار یہ ہے کہ مثلاً آج کل حکومت ِاسلامی جمہوریہ پاکستان نے ۵۰ روپے، ۱۰۰ روپے، ۵۰۰ روپے اور ۱۰۰۰ روپے کے بانڈ (سرکاری تمسکات) چھاپ رکھے ہیں جو کسی وقت بھی کسی بھی بنک سے کیش کرائے جاسکتے ہیں۔ اور عوام میں بھی ان کا لین دین ایسے ہی چلتا ہے جیسے کرنسی نوٹوں کا ۔ ان پر نمبر بھی کرنسی نوٹوں کی طرح ہی طبع کئے جاتے ہیں۔اب مثلاً جنوری ۱۹۹۵ء میں ۵۰ روپے والے بانڈ فروخت ہوتے رہتے ہیں تو فروری میں ۱۰۰ روپے والے فروخت ہوں گے، علیٰ ہذا القیاس پھر ہر دو ماہ بعد ان کی قرعہ اندازی ہوتی ہے۔ ۵۰ روپے والوں کی مارچ میں اور ۱۰۰ روپے والوں کی اپریل میں ہوگی۔ اب جو نمبر قرعہ اندازی میں آئیں گے وہ جس شخص کے پاس ہوں گے وہ دکھا کر سٹیٹ بنک آف پاکستان یا قومی بچت کے کسی مرکز سے اعلان شدہ انعام حاصل کرے گا۔

یہ کاروبار چونکہ حکومت خود چلا رہی ہے۔ لہٰذا اسے خاصا فروغ حاصل ہوا ہے اور جن لوگوں کو حرام حلال کی کچھ تمیز نہیں وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہر دو ماہ بعد جو انعامات تقسیم ہوتے ہیں وہ دراصل اس جمع شدہ رقم کا دو ماہ کا سود ہوتا ہے۔ جوسب حقداروں میں تقسیم کرنے کے بجائے بذریعہ قرعہ اندازی چند افراد کو دے دیا جاتا ہے اور عوام کو دھوکا دینے کی خاطر اس کاروبار میں سود کا نام انعام رکھ دیا گیا ہے اور بذریعہ قرعہ اندازی یہ انعام کسی کو عطا کرنا ہی میسر (جوا یا قمار) ہے۔ اور یہی کچھ لاٹری میں ہوتا ہے۔

یہ سودی کاروبار انہیں مشاغل میں منحصر نہیں۔ اگر بنک سودی کاروبار کرتے ہیں تو ڈاک خانہ والے بھی کرتے ہیں اور قومی بچت کے مراکز بھی ۔پھر اور بھی بہت سے سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ادارے ہیں جو سود پر رقم لے کر اپنا کاروبار چلاتے ہیں اور لوگوں سے مختلف شکلوں میں سود وصول کرتے ہیں۔ آج کل اقساط پر اشیاء کی فروخت کا کاروبار بھی بہت رواج پا چکا ہے۔ اور یہ بات مال بیچنے والا اور لینے والا سب جانتے ہیں کہ ان اَقساط میں سود کی رقم شامل ہوتی ہے اور اگر سرکاری واجبات یا بلوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوجائے تو سرکاری اور نیم سرکاری ادارے جبراً اس پر سود وصول کرتے ہیں الغرض ہر طرف ہی فضا سود کے اثرات سے مسموم ہوچکی ہے۔

بایں ہمہ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر آج بھی کوئی شخص سود سے بچنے کا پختہ عزم کر لے تو وہ سود سے بچ سکتا ہے۔ البتہ اگر کوئی ناقابل علاج چیز ہے تو وہ انسان کی ہوس ہے۔ اگر ایک تاجر دوسروں کی دیکھا دیکھی ایک لاکھ کے سرمایہ سے بنک کی ملی بھگت سے چار لاکھ کا کاروبار کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے اِضطرار کا نام کیوں دیتا ہے۔ اور اگر کوئی چیز درآمد کرتا ہے تو وہ پوری رقم پیشگی جمع کرا کر سود کے دھندے سے بچ بھی سکتا ہے۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ اضطرار کہیں بھی نہیں ہوتا بلکہ بات صرف اتنی ہے کہ حلال طریقے سے کمائی کم ہوتی ہے۔ صرف زیادہ کمائی کی خاطر سود میں ملوث ہونا، پھر اسے اضطرار کا نام دینا ڈھٹائی نہیں تو اور کیا ہے اور ایسے حیلوں بہانوں سے کمائی ہوئی ساری کی ساری دولت حرام ہوجاتی ہے۔ اور اگر حقیقتاً انسان کسی وقت مجبور ہوجائے تو وہ گناہ نہیں اور اللہ تعالیٰ وہ معاف فرمادے گا اور ایسا اضطرار صرف سود دینے میں ہی ہوسکتا ہے۔ لینے میں کبھی نہیں ہوسکتا۔

پھر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر سودی دھندا کرنے والے ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں تو بعض ادارے ایسے بھی موجود ہیں جو مضاربت اور شراکت کی بنیادوں پر لوگوں سے سرمایہ اکٹھا کرتے ہیں۔ مثلاً جائنٹ سٹاک کمپنیاں اور کوآپریٹو سوسائٹیاں خالص تجارتی بنیادوں پر کاروبار کرتی ہیں۔ ان کے حصص کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔اور کھلے بازار یہ حصص فروخت ہوتے رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں آج بھی کئی ایسے دیانت دار اور دیندار تاجر موجود ہیں جو مضاربت کی شرائط پر رقم قبول کرتے ہیں اور وقت ِمقررہ پر طے شدہ شرائط کے مطابق منافع بھی ادا کرتے ہیں اور بوقت ِضرورت اصل رقم بھی واپس کر دیتے ہیں۔ البتہ ایسے لوگوں کو تلاش ضرور کرنا پڑتا ہے مگر ناپید نہیں ہیں۔ لہٰذا ہر شخص کو لازم ہے کہ وہ بہرصورت اس جرمِ عظیم سے اجتناب کرے۔

(399) اللہ تعالیٰ نے معاشرہ کو سودی نظام سے نجات حاصل کرنے کی بہترین ترکیب خود ہی بتا دی جو یہ تھی کہ اس حکم کے نزول کے بعد کوئی سود پر قرض دینے والا صرف اپنا اصل زر ہی وصول کرنے کا حقدار ہوگا اور سود کا مطالبہ کرکے مقروض پر ظلم نہیں کرے گا۔ اسی طرح مقروض کو اصل زر ضرور قرض خواہ کو ادا کرنا ہوگا۔ وہ اصل زر بھی یا اس کا کچھ حصہ دبا کر قرض خواہ پر ظلم نہیں کرے گا۔

یہ ہیں وہ آیات جنہیں آیاتِ ربا کہا جاتا جن کے مطابق سود کو کلیتاً حرام قرار دیا گیا اور یہ سورئہ بقرہ میں سب سے آخر میں بلکہ آپﷺ کی وفات سے صرف چار ماہ پیشتر نازل ہوئی تھیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ''جب سورئہ بقرہ کی سب سے بعد نازل ہونے والی آیات سود کے بارے میں نازل ہوئیں تو نبی اکرمﷺ نے مسجد میں جاکر ان آیتوں کو سنایا۔ پھر شراب کی سوداگری بھی حرام کردی'' (بخاری: کتاب التفسیر زیر آیاتِ مذکورہ) اور حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ''آیاتِ ربا قرآن کی ان آیات سے ہیں، جو آخر زمانہ میں نازل ہوئیں اور رسول اللہﷺ کی وفات ہوگئی۔ پیشتر اس کے کہ تمام اَحکام ہم پر واضح فرماتے۔ لہٰذا تم سود کو بھی چھوڑ دو اور ہر اس چیز کو بھی جس میں سود کا شائبہ ہو'' (ابن ماجہ، دارمی، بحوالہ مشکوٰۃ: کتاب البیوع، باب الربا، فصل ثالث)

ان آیات کے نزول کے چند ہی دن بعد آپﷺ نے حجۃالوداع ادا کیا اور اس حکم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں یوں اعلان فرمایاکہ '':جاہلیت کے تمام سود باطل قرار دیئے جاتے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا سود یعنی عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں'' (مسلم: کتاب الحج،باب حجة النبيﷺ)

شراب کی طرح سود بھی دراصل عرب معاشرہ کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا اور اس کا استیصال بھی بتدریج ہوا۔ سود کی مذمت میں سب سے پہلی نازل ہونے والی آیت سورئہ روم کی آیت نمبر ۳۹ ہے جس میں یہ بتلایا گیا کہ ''جو رقم تم سود پر دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اَموال بڑھ جائیں تو ایسا مال، اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا'' دوسری آیت سورئہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۳۰ ہے جس میں کہا گیا کہ: اے ایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھائو'' (یعنی سود مرکب) پھر اس کے بعد سورئہ بقرہ کی مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں۔ جن کے بعد سود ایک فوجداری جرم بن گیا اور عرب کے سود خور قبیلوں کو آپﷺ نے عمال کے ذریعے آگاہ فرمایاکہ اگر وہ سودی لین دین سے باز نہ آئے تو ان کے خلاف جنگ کی جائے گی۔

(400) مقروض کو مہلت دینے یا اسے معاف کر دینے میں جو بہتری ہے وہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتی ہے؟

(1) حضرت ابو قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ: '' جس شخص کو یہ بات محبوب ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی سختیوں سے نجات دے، اسے چاہئے کہ تنگدست کو مہلت دے یا پھر اسے معاف کردے'' (مسلم: کتاب المساقاة والمزارعة، باب فصل إنظار المعسر)

(2) آپﷺ نے فرمایا کہ: ''جس شخص کے ذمہ کسی کا قرضہ ہوا اور مقروض ادائیگی میں تاخیر کرے تو قرض خواہ کے لئے ہر دن کے عوض صدقہ ہے'' (احمد بحوالہ مشکوٰۃ: کتاب البیوع، باب الافلاس والا نظار، فصل ثالث)

(3) آپﷺ نے فرمایا: ''جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا معاف کردے، قیامت کے دن اللہ اسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا'' (طویل حدیث سے اقتباس) (مسلم :کتاب الزھد، باب حدیث جابر و قصة أبي بسیر)

اور اگر مقروض تنگدست ہو اور قرض خواہ زیادہ ہوں تو اسلامی عدالت قرض خواہ یا قرض خواہوں سے مہلت دلوانے یا قرض کا کچھ حصہ معاف کرانے کی مجاز ہوتی ہے۔ (اس صورت حال کو ہمارے ہاں دیوالیہ کہتے ہیں اور عربی میں اِفلاس اور تفلیس) چنانچہ حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ دورِ نبویﷺ میں ایک شخص کو پھل کی خرید وفروخت میں نقصان ہوا اور اس کا قرضہ بہت بڑھ گیا۔ آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا: ''اس پر صدقہ کرو'' لوگوں نے صدقہ کیا، پھر بھی اتنی رقم نہ ہوسکی جو قرضے پورے کرسکے۔ آپﷺ نے قرض خواہوں سے فرمایا: جو کچھ (قرضہ کی نسبت سے) تمہیں ملتا ہے لے لو اور تمہارے لئے یہی کچھ ہے'' (مسلم: کتاب المساقاة والمزارعة، باب وضع الجوائع)

اور عبداللہ بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ (میرے باپ) کعب ؓ بن مالک نے عبداللہ بن ابی حدرد سے مسجد ِنبوی میں اپنے قرض کا تقاضا کیا۔ دونوں چلانے لگے۔ آپﷺ اپنے حجرہ میں تھے۔ ان دونوں کی آوازیں سنیں تو آپﷺ حجرے کا پردہ اٹھا کر برآمد ہوئے اور کعب کو پکارا۔ کعب ؓ نے کہا: ''حاضر یارسول اللہﷺ! آپؐ نے اشارے سے فرمایا'':آدھا قرض چھوڑ دو'' کعب کہنے لگے: یارسول اللہﷺ! میں نے چھوڑ دیا۔ پھر آپﷺ نے ابوحدرد سے فرمایا: اٹھ اور اس کا قرض ادا کر'' (بخاری: کتاب الخصومات، باب کلام الحضوم بعضهم في بعض نیز کتاب الصلوٰۃ، باب التقاضي والملازمة في المسجد)

ہاں اگر کوئی قرض خواہ مقروض کے ہاں اپنی چیز (جس کی مقروض نے قیمت ابھی اَدا نہ کی تھی) بجنسہ پالے تو وہ اس کی ہوگی۔ (بخاری: کتاب في الاستقراض، باب من وجد ماله عند مفلس نیز مسلم: کتاب المساقاة والمزارعة، باب من اَدرک ماله...)

دیوالیہ کی صورت میں اسلامی عدالت مقروض کی جائداد کی قرقی کرسکتی ہے۔ چنانچہ حضرت کعب بن مالک اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو اپنے مال میں تصرف کرنے سے روک دیا تھا اور وہ مال ان کے قرض کی ادائیگی کے لئے فروخت کیا گیا۔ (رواہ دارقطني و صحّحه الحاکم و أخرجه، أبوداود مرسلاً)

البتہ درج ذیل اشیاء قرقی سے مستثنیٰ کی جائیں گی: (1) مفلس کے رہنے کا مکان، (2) اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پہننے والے کپڑے، (3) اگر تاجر ہے تو بار دانہ اور محنت کش ہے تو اس کے کام کرنے کے اَوزار، (4) اس کے اور اس کے اہل خانہ کے کھانے پینے کا سامان اور گھر کے برتن وغیرہ (فقہ السنۃ، ج۳ ص۴۰۸)

(401) یہ قرآن کی سب سے لمبی آیت ہے جس میں اُدھار سے تعلق رکھنے والے معاملات کو ضبط ِتحریر میں لانے کی ہدایات دی جارہی ہے۔مثلاً جائیدادوں کے بیع نامے، بیع سلم کی تحریر یاایسے تجارتی لین دین کی تحریر جس میں پوری رقم یا اس کا کچھ حصہ ابھی قابل ادائیگی ہو۔ تاکہ بعد میں اگر کوئی نزاع پیدا ہو تو یہ تحریر شہادت کا کام دے سکے اور یہ حکم استحباباً ہے، واجب نہیں۔ چنانچہ اگر فریقین میں باہمی اعتماد اتناد زیادہ ہو کہ باہمی نزاع کی صورت کااِمکان ہی نہ ہو یا محض قرض کا معاملہ ہو اور اس طرح موثق تحریر سے کسی فریق کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہو تو محض یادداشت کے لئے کوئی فریق اپنے پاس ہی لکھ لے تو یہ بھی کافی ہوسکتا ہے۔

(402) ہمارے ہاں آج کل ایسی تحریروں کے سند یافتہ ماہرین موجود ہیں جنہیں وثیقہ نویس کہا جاتا ہے۔ وثیقہ نویس تقریباً انہی اصولوں کے تحت سرکاری کاغذات پر ایسے معاہدات لکھ دیتے ہیں اور چونکہ یہ ایک مستقل فن اور پیشہ بن چکا ہے۔ لہٰذا ان کے انکار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ الا یہ کہ معاملہ میں کوئی قانونی سقم ہو۔

(403) یعنی معاہدہ کی اِملا اس شخص کو کروانی چاہئے جو مقروض ہو کیونکہ ادائیگی کا بار اس کے سر پر ہے۔ ہاں اگر وہ لکھوانے کی پوری سمجھ نہیں رکھتا تو اس کا ولی (سرپرست) اس کے وکیل کی حیثیت سے اس کی طرف سے لکھوا سکتا ہے۔ یہ ولی اس کا کوئی رشتہ دار بھی ہوسکتا ہے اور غیر رشتہ دار بھی۔ جو سمجھدار ہو اور مقروض کا خیر خواہ ہو یا معروف معنوں میں وکیل بھی ولی کی حیثیت سے املا کروا سکتا ہے۔

(404) تحریر کے بعد اس تحریر پر دو ایسے مسلمان مردوں کی گواہی ہونا چاہئے جو معاشرہ میں قابل اعتماد سمجھے جاتے ہوں۔ اور اگر معاملہ ذمیوں کے درمیان ہو تو گواہ ذمی بھی ہوسکتے ہیں۔ اور اگر بوقت تحریر دو مسلمان قابل اعتماد گواہ میسر نہ آئیں تو ایک مرد اور دو عورتیں بھی گواہ بن سکتی ہیں۔ اور اگر ایک بھی مرد میسر نہ آئے تو چار عورتیں گواہ نہیں بن سکتیں۔ اور گواہی کا یہ نصاب صرف مالی معاملات کے لئے ہے...مثلاً زنا اور قذف کے لئے چار مردوں ہی کی گواہی ضروری ہے۔ چوری اور نکاح و طلاق کے لئے دو مردوں ہی کی گواہی ہوگی۔ اِفلاس (دیوالیہ) کے لئے اس قبیلے کے تین مردوں کی، رئویت ہلال کے لئے صرف ایک مسلمان کی اور رضاعت کے ثبوت کے لئے صرف ایک متعلقہ عورت (دایہ) ہی گواہی کے لئے کافی ہوتی ہے۔

(405) اس سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر رکھی گئی ہے اور حدیث کی رو سے یہ عورتوں کے نقصانِ عقل کی بنا پر ہے۔ اور دوسرے یہ کہ زبانی گواہی کی ضرورت اس وقت پیش آئے گی جب اس معاملہ کی ایسی جزئیات میں نزاع پیدا ہوجائے جنہیں تحریر میں نہ لایا جاسکا ہو اور معاملہ عدالت میں چلا جائے۔ ورنہ تحریر تو کی ہی اس لئے جاتی ہے کہ بعد میں نزاع پیدا نہ ہو۔ اور شہادتیں پہلے سے ہی اس تحریر پر ثبت کی جاتی ہے۔

جب سے اہل مغرب نے مساواتِ مرد و زن کا نعرہ لگایا ہے اور جمہوری نظام نے عورت کو ہر معاملہ میں مرد کے برابر حقوق عطا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت سے اس آیت کے اس جملہ کو بھی مسلمانوں ہی کی طرف سے تاویل و تضحیک کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ دو عورتوں کی شہادت کو ایک مرد کے برابر کرکے اسلام نے عورتوں کے حقوق کی حق تلفی کی ہے۔ پاکستان میں اَپوا کی مغرب زدہ مہذب خواتین نے بڑی دریدہ دہنی سے کام لیا اور اس کے خلاف ان عورتوں نے جلوس نکالے اور بینر لکھوائے گئے کہ اگر عورت کا حق مرد سے نصف ہے تو فرائض بھی نصف ہونے چاہئیں۔ عورتوں پر اڑھائی نمازیں، پندرہ روزے اور نصف حج فرض ہونا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ طبقہ اڑھائی نمازیں تو درکنار ایک نماز بھی پڑھنے کا روادار نہیں۔ وہ خود اسلام سے بیزار ہیں ہی، ایسے پراپیگنڈے سے ایک تو وہ حکومت کو مرعوب کرنا چاہتی ہیں کہ وہ ایسا کوئی قانون نہ بنائے جس سے عورت کی حق تلفی ہوتی ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ دوسری سادہ لوح مسلمان عورتوں کو اسلام سے برگشتہ کرسکیں۔

حالانکہ یہاں حقوق و فرائض کی بحث ہے ہی نہیں۔آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری عورت اسے یاد دلا دے۔ اس میں نہ عورت کے کسی حق کی حق تلفی ہوتی ہے اور نہ اس کی تحقیر ہوتی ہے۔ بات صرف نسیان کی ہے اور وہ بھی اس جزئیات میں جو تحریر میں آنے سے رہ گئی ہوں۔ اب یہاں سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عورت بھول سکتی ہے تو کیا مرد نہیں بھول سکتا۔ تو اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ اسلامی قانون عام حالات کے مطابق وضع کئے گئے ہیں اور ان کا واضع خود اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق کی خامیوں اور خوبیوں سے پوری طرح واقف ہے۔ عورت پر حیض، نفاس اور حمل اور وضع حمل کے دوران کچھ ایسے اوقات آتے ہیں جب اس کا دماغی توازن برقرار نہیں رہ سکتا۔ اور حکمائے قدیم و جدید سب عورت کی ایسی حالت کی تائید و توثیق کرتے ہیں۔ ان مغرب زدہ خواتین کا یہ اعتراض بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہ کہہ دے کہ مرد اپنی جسمانی ساخت اور قوت کے لحاظ سے عورت سے مضبوط ہوتا ہے۔ لہٰذا حمل اور وضع حمل کی ذمہ داریاں مرد پر ڈالنا چاہئے تھیں نہ کہ عورت پر جو پہلے ہی مرد سے کمزور ہے۔

اور اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ عورت اپنی اصل کے لحاظ سے ایسی عدالتی کاروائیوں سے سبکدوش قرار دی گئی ہے۔ اب یہ اسلام کا اپنا مزاج ہے کہ وہ عورت کو گھر سے باہر کھینچ لانے کو پسند نہیں کرتا۔ جبکہ موجودہ مغربی تہذیب اور نظامِ جمہوریت اسلام کے اس کلیہ کی عین ضد ہے۔عورت کی گواہی کو صرف اس صورت میں قبول کیا گیا ہے جب کوئی دوسرا گواہ میسر نہ آسکے اور اگر دوسرا گواہ میسر آجائے تو اسلام عورت کو شہادت کی ہرگز زحمت نہیں دیتا۔

عورت کے اسی نسیان کی بنا پر فوجداری مقدمات میں اس کی شہادت قابل قبول نہیں کیونکہ ایسے مقدمات میں معاملہ کی نوعیت سنگین ہوتی ہے۔ مالی معاملات میں عورت کی گواہی قبول تو ہے لیکن دو عورتوں کو ایک مرد کے برابر رکھا گیا ہے۔ اور عائلی مقدمات میں چونکہ زوجین ملوث ہوتے ہیں اور وہ ان کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے جہاں نسیان کا امکان بہت ہی کم ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسے مقدمات میں میاں بیوی دونوں کی گواہی برابر نوعیت کی ہوگی اور وہ معاملات جو بالخصوص عورتوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ وہاں عورت کی گواہی کو مرد کے برابر ہی نہیں بلکہ معتبر قرار دیا گیا ہے مثلاً مُرضعہ اگر رضاعت کے متعلق گواہی دے تو وہ دوسروں سے معتبر سمجھی جائے گی،خواہ یہ دوسرے کوئی عورت ہو یا مرد ہو۔

ان تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں نہ عورت کی تحقیر بیان ہوئی ہے اور نہ کسی حق کی حق تلفی کی گئی ہے بلکہ رزّاقِ عالم نے جو بھی قانون عطا فرمایا ہے وہ کسی خاص مصلحت اور اپنی حکمت کاملہ سے ہی عطا فرمایا ہے اور جو مسلمان اللہ کی کسی آیت کی تضحیک کرتا یا مذاق اڑاتا ہے اسے اپنے ایمان کی خیر منانا چاہئے اور ایسے لوگوں کو اسلام سے منسلک رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ دل سے تو وہ پہلے ہی اللہ کے باغی بن چکے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو اسلام کو کافروں سے بھی زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔

(406) یعنی جب نزاع کی صورت پیدا ہو کر معاملہ عدالت میں چلا جائے اور انہیں زبانی گواہی دینے کے لئے بلایا جائے تو انہیں انکار نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ یہ بات کتمانِ شہادت کے ذیل میں آتی ہے جو گناہِ کبیرہ ہے۔

(407) اس جملہ میں انسان کی ایک فطری کمزوری کو واضح کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ فریقین خواہ کس قدر قابل اعتماد ہوں اور ان میں نزاع کی توقع بھی نہ ہو اور معاملہ بھی خواہ کوئی چھوٹا سا ہو تاہم بھول چوک اور نسیان کی بنا پر فریقین میں نزاع یا بدظنی پیدا ہوسکتی ہے۔ لہٰذا باقاعدہ دستاویز نہ سہی فریقین کو یا فریقین میں سے کسی ایک کو یادداشت کے طور پر ضرور لکھ لینا چاہئے۔

(408یہ حکم صرف اس صورت میں ہے جبکہ لین دین کا کوئی اہم معاملہ ہو اور لین دین کرنے کے بعد بھی اس میں نزاع کا احتمال موجود ہو۔

(409) اس کی کئی صورتیں ممکن ہیں ...مثلاً ایک یہ کہ کسی شخص کو کاتب بننے یا گواہ بننے پر مجبور نہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ کاتب یا گواہ کی گواہی اگر کسی فریق کے خلاف جاتی ہے تو انہیں تکلیف نہ پہنچائے جیسا کہ آج کل مقدمات میں اکثر ایسا ہوتا ہے اور فریق مخالف گواہوں کو یا وثیقہ نویس کو اس قدر دھمکیاں اور تکلیفیں دینا شروع کر دیتا ہے کہ وہ گواہی نہ دینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں یا پھر غلط گواہی دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اور تیسری صورت انہیں نقصان پہنچانے کی یہ ہے کہ انہیں عدالت میں بلایا تو جائے لیکن انہیں آمدورفت اور کھانے پینے کا خرچہ تک نہ دیا جائے۔

(410) رہن کے مطالبہ کی چار ممکنہ صورتیں ہیں... مثلاً سفر ہو یا حضر ہو اور کاتب نہ مل رہا ہو، دو تو یہ ہوئیں اور دو یہ ہیں کہ سفر یا حضر دونوں جگہ کاتب مل سکتا ہے مگر قرض دینے والا محض تحریر پر اعتماد نہیں کرتا اور اپنے قرضہ کی واپسی کی ضمانت کے طور پر رہن کا بھی مطالبہ کرتا ہے اور یہ کہ رہن خواہ تحریر کے ساتھ ہو یا تحریر کے بغیر صرف رہن ہو۔ جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک یہودی (ابوشحم) سے ادھار اناج خریدا(تیس صاع جَو، اپنی خانگی ضرورت کے لئے) اور آپﷺ نے اپنی زرہ بطورِ رہن اس کے پاس رکھی تھی (بخاری: کتاب الرہن، باب فی الرہن فی الحضر) اور یہ رہن حضر میں تھا اور بلا تحریر تھا۔ چنانچہ ان چاروں صورتوں میں رہن جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو ان میں سے صرف ایک صورت کا ذکر فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام اپنے پیروئوں کو فیاضی کی تعلیم دینا چاہتا ہے اور یہ بات بلند اخلاق سے فروتر ہے کہ ایک آدمی مال رکھتا ہو اور وہ دوسرے ضرورت مند کی کوئی چیز رہن رکھے بغیر اسے قرض نہ دے۔

رہن سے متعلق درج ذیل مسائل سمجھ لیجئے:

1- مرہونہ چیز کے نفع و نقصان کا ذمہ دار راہن (اصل مالک) ہی ہوتا ہے اور مرتہن (جس کے پاس رہن رکھی گئی ہو) کے پاس وہ چیز بطورِ امانت ہوتی ہے مثلاً زید نے بکر کے پاس گائے رہن رکھی تھی۔ وہ گائے مر گئی یا چوری ہوگئی تو یہ نقصان زید کا ہوگا، بکر کا نہیں۔ اسی طرح اگر گائے نے بچہ جنا تو گائے اور بچہ دونوں زید کے ہوں گے، بکر کے نہ ہوں گے۔ چنانچہ سعید بن مسیب ؒسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ: ''گروی رکھنا کسی مرہونہ چیز کو اس کے اصل مالک سے نہیں روک سکتا۔ اس کا فائدہ بھی اسی کے لئے ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے'' (مشکوٰۃ: کتاب البیوع، باب السّّلم والرہن، فصل ثانی)

2- چونکہ مرہونہ چیز مرتہن کے پاس بطورِ امانت ہوتی ہے، اس لئے وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ مثلاً مکان ہے تو اس میں رہ نہیں سکتا نہ کرایہ پر دے سکتا ہے، زمین ہے تو اس میں کاشت نہیں کرسکتا وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ یہ سود ہوگا۔ الا یہ کہ وہ ایسا فائدہ راہن کے حوالہ کردے یا اصل قرضہ کی رقم سے وضع کرتا جائے۔

3- مگر جن چیزوں پر مرتہن کو کچھ خرچ بھی کرنا پڑے تو ان سے فائدہ اٹھانے کا بھی حقدار ہوگا۔ مثلاً مرہونہ چیز گائے ہے تو اسے چارہ وغیرہ ڈالنے کے عوض اس کا دودھ بھی استعمال کرسکتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: '' مرہونہ جانور کی پیٹھ سواری کے لئے شیردار مرہونہ جانور کا دودھ پینے کے لئے، اس کے اخراجات کے عوض جائز ہے۔ اور جو شخص سواری کرتا یا دودھ پیتا ہے تو اسی کے ذمہ اس کا خرچہ ہے'' (بخاری: کتاب الرہن، باب الرہن مرکوب و محلوب)

(411) یعنی قرض خواہ کا قرضہ یا جو چیز اس نے لی ہو۔

(412) رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا: سن لو! ''بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ایسا ہے کہ جب وہ درست ہو تو سارا جسم ہی درست ہوتا ہے اور وہ بگڑ جائے تو سارا جسم ہی بگڑ جاتا ہے۔ یاد رکھو! وہ ٹکڑا (انسان کا) دل ہے'' (بخاری: کتاب الإیمان، باب فضل من استبرأ لدینه) اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب انسان کوئی گناہ کا کام کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑ جاتاہے پھر اگر انسان توبہ کر لے تو وہ نقطہ دُھل جاتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے بلکہ مزید گناہ کئے جائے تو وہ نقطہ بڑھتا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے سارے دل کو گھیر لیتا ہے اور اسے سیاہ کر دیتا ہے۔ (مسلم: کتاب الإیمان،باب رفع الأمانة والإیمان من بعض الذنوب... )

گویا پہلے گناہ دل پر اثر انداز ہوتے ہیں اور نیت میں فتور آتا ہے پھر وہ گناہ کا کام صادر ہوتا ہے۔ پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب انسان کا دل پوری طرح سیاہ ہوجاتا ہے اس وقت انسان کا دل اس کی سوچ اور فکر پر اثرانداز ہوتا ہے پھر وہ جو بات بھی سوچے گا غلط اور معصیت کی بات ہی سوچے گا۔ دل کی ایسی حالت کو اللہ تعالیٰ نے آثِم قلبہٗسے تعبیر کیا ہے اور شہادت کو چھپانے والے ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں۔

(413) اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر ہوا ہے: (i) ملک، یعنی وہ ہر چیز کا مالک ہے، (ii) علم، یعنی اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ دلوں کے راز تک جانتا ہے، (iii)قدرت، یعنی اسے سزا دینے اور معاف کر دینے کے کلی اختیارات حاصل ہیں اور یہی تین صفات ذرا تفصیل کے ساتھ آیت ُالکرسی میں بیان کی گئی ہیں جس سے مقصود یہ ہے کہ عبادات اور معاملات سے متعلق جو بے شمار اَحکام دیئے گئے ہیں۔ مسلمان کو اس کی تعمیل میں نہ حیلوں بہانوں سے کام لینا چاہئے اور نہ سینہ زوری اور ظلم و زیادتی سے۔ بلکہ اللہ سے ڈر کر اس کی مرضی کے مطابق عمل کرناچاہئے۔ کیونکہ کسی بھی ظاہری یا پوشیدہ اَمر میں انسان اس کی نافرمانی کرکے نجات نہیں پاسکتا۔

(2) سورۂ آلِ عمران
﴿ي۔ٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَأكُلُوا الرِّ‌بو‌ٰاأَضع۔ٰفًا مُض۔ٰعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿١٣٠﴾ وَاتَّقُوا النّارَ‌ الَّتى أُعِدَّت لِلك۔ٰفِر‌ينَ ﴿١٣١﴾ وَأَطيعُوا اللَّهَ وَالرَّ‌سولَ لَعَلَّكُم تُر‌حَمونَ ﴿١٣٢﴾وَسارِ‌عوا إِلىٰ مَغفِرَ‌ةٍ مِن رَ‌بِّكُم وَجَنَّةٍ عَر‌ضُهَا السَّم۔ٰو‌ٰتُ وَالأَر‌ضُ أُعِدَّت لِلمُتَّقينَ ﴿١٣٣﴾... سورة آل عمران
ترجمہ

اے ایمان والو! دگنا چوگنا کر کے سود[۱۱۸] مت کھائو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم (آخرت میں) نجات پاسکو(۱۳۰) اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے(۱۳۱) اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے(۱۳۲) اور اپنے پروردگار کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑ کر چلو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ ان خدا ترس لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے(۱۳۳)

(11سود کی حرمت کا ذکر سورئہ بقرہ کی آیات ۲۷۸۔۲۷۹ میں گزر چکا ہے۔ یہ آیت اس سے پہلے کی نازل شدہ ہے۔ جبکہ مسلمانوں کو سود کی قباحتوں سے متعارف کرانا اس سے نفرت دلانا اور اس کو یکسر چھوڑ دینے کے لیے ذہنوں کو ہموار کرنا مقصود تھا۔ اس مقام پر سود کے ذکر کی وجہ ٔمناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جنگ ِاُحد میں ابتداء ً مسلمان جو شکست سے دوچار ہوئے تو اس کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمانوں کا وہ دستہ جو حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ کی سرکردگی میں درّہ کی حفاظت پر مامور تھا، اس نے جب فتح کے آثار دیکھے تو مال کے طمع سے مغلوب ہوگئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے میں لگ گئے۔اللہ تعالیٰ نے اس صورتِ حال کی اصلاح کے لیے زرپرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا کیونکہ سود کا خاصہ یہ ہے کہ وہ سود خور میں حرص و طمع، بخل و بزدلی، خود غرضی اور زر پرستی جیسی رذیل صفات پیدا کر دیتا ہے اور سود ادا کرنے والوں میں نفرت، غصہ، بغض و حسد جیسی صفات پیدا ہوجاتی ہیں، اور ایسی صفات ایک اسلامی معاشرہ کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں اور جہاد کی روح کے منافی ہیں اور آخرت میں اُخروی عذاب کا سبب بنتی ہیں۔ انہیں وجوہ کی بنا پر سود کو بالآخرمکمل طور پر حرام قرار دیا گیا۔

(3) سورۃ النساء
﴿فَبِظُلمٍ مِنَ الَّذينَ هادوا حَرَّ‌منا عَلَيهِم طَيِّب۔ٰتٍ أُحِلَّت لَهُم وَبِصَدِّهِم عَن سَبيلِ اللَّهِ كَثيرً‌ا ﴿١٦٠﴾ وَأَخذِهِمُ الرِّ‌بو‌ٰاوَقَد نُهوا عَنهُ وَأَكلِهِم أَمو‌ٰلَ النّاسِ بِالب۔ٰطِلِ ۚ وَأَعتَدنا لِلك۔ٰفِر‌ينَ مِنهُم عَذابًا أَليمًا ﴿١٦١﴾... سورة النساء
ترجمہ

یہودیوں کے اسی ظلم کی وجہ سے اور بہت سے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کی وجہ سے ہم نے ان پر کئی پاکیزہ چیزیں حرام کر دیں جو پہلے ان کے لئے حلال تھیں(۱۶۰) اور اس لئے بھی کہ وہ سود[۲۱۱] کھاتے تھے حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا نیز وہ لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھا جاتے تھے اور ایسے کافروں کیلئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے (۱۶۱)

(211) سود یہودیوں پر بھی حرام کیا گیا تھا۔ لیکن ان کے فقہاء نے کچھ اس طرح موشگافیاں اور نکتہ آفرینیاں کیں جن کی رو سے انہوں نے غیر یہود سے سود وصول کرنا جائز قرار دے لیا تھا( جیسا کہ آج کل مسلمانوں میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو فقہی موشگافیاں پیدا کرکے حربی کافروں سے سود لینا جائز سمجھتا ہے) پھر ان کی یہ سود خوری کی عادت فقط سود تک محدود نہ رہی بلکہ وہ کہتے تھے غیر یہودی کا مال جس طریقے سے ہڑپ کیا جاسکے، جائز ہے۔ یہود کی اس طرح کی حرام خواری کا ذکر اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر فرمایا ہے۔ گویا اس طرح وہ دوہرا جرم کرتے تھے: ایک حرام خواری ،دوسرے اسے شریعت سے مستنبط مسئلہ قرار دے کراسے جائز سمجھنا۔ گویا وہ اپنی اختراع کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے تھے۔ سود خوری سے انسان کی طبیعت پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ ہیں خود غرضی، سنگ دلی، بخل اور مال سے غیر معمولی محبت اور اس کے بعد حرام طریقوں سے مال جمع کرنے کی فکر، سورئہ آل عمران کی آیت نمبر ۷۵ ﴿وَمِنهُم مَن إِن تَأمَنهُ بِدينارٍ‌ لا يُؤَدِّهِ إِلَيكَ إِلّا ما دُمتَ عَلَيهِ قائِمًا...٧٥ ﴾... سورة آل عمران" میں اللہ تعالیٰ نے جو ایسے شخص کی مثال دی ہے کہ اگر اسے ایک دینار بھی دے بیٹھیں تو اس سے واپس لینا مشکل ہوجاتا ہے تو وہ اسی قسم کے مال کی محبت میں گرفتار آدمی کی مثال ہے۔ رہی دیانتدار آدمی کی مثال تو وہ ہر قوم اور ہر اُمت میں کچھ اچھے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ اگرچہ وہ کم ہی ہوتے ہیں۔ یہودیوں میں ایسے لوگ وہ تھے جو سود خوری اور دوسرے ناجائز طریقوں کو فی الواقع حرام سمجھتے تھے۔ عبداللہ بن سلام ؓایسے ہی شخص تھے۔ کسی نے ان کے پاس بارہ اوقیہ سونا بطورِ امانت رکھا تھا اور جب مالک نے اپنی امانت طلب کی تو فوراً ادا کردی۔ اب ان کے مقابلہ میں ایک فحاص نامی یہودی تھا۔ کسی نے ایک اشرفی اس کے پاس امانت رکھی ہوئی تھی، جب اس نے اس سے امانت طلب کی تو وہ مکر ہی گیا۔

(4) سورۃ الروم
﴿وَما ءاتَيتُم مِن رِ‌بًا لِيَر‌بُوَافى أَمو‌ٰلِ النّاسِ فَلا يَر‌بوا عِندَ اللَّهِ ۖ وَما ءاتَيتُم مِن زَكو‌ٰةٍ تُر‌يدونَ وَجهَ اللَّهِ فَأُول۔ٰئِكَ هُمُ المُضعِفونَ ﴿٣٩﴾ اللَّهُ الَّذى خَلَقَكُم ثُمَّ رَ‌زَقَكُم ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يُحييكُم ۖ هَل مِن شُرَ‌كائِكُم مَن يَفعَلُ مِن ذ‌ٰلِكُم مِن شَىءٍ ۚ سُبح۔ٰنَهُ وَتَع۔ٰلىٰ عَمّا يُشرِ‌كونَ ﴿٤٠﴾... سورة الروم
ترجمہ

اور جو کچھ تم بطورِ سود دیتے ہو کہ لوگوں کے اموال سے تمہارا مال بڑھتا رہے تو ایسا مال اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا [۴۴] اور جو کچھ تم اللہ کی رضا چاہتے ہوئے بطورِ زکوٰۃ دیتے ہو تو ایسے ہی لوگ اپنے مال کو دگنا چوگنا کر رہے ہیں(۳۹) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، روزی دی، پھر تمہیں موت دے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی بھی کام کرسکتا ہو۔ وہ پاک ہے اور جو کچھ وہ شرک ٹھہراتے ہیں اُن سے بالاتر ہے(۴۰)

(44) یہ پہلی آیت ہے جو سود کی مذمت کے سلسلہ میں نازل ہوئی، پھر سورئہ آلِ عمران کی آیت نمبر ۱۳۰ کی رو سے مسلمانوں کو سود در سود سے روک دیا گیا۔ پھر آپ ﷺکی وفات سے چار ماہ پیشتر سورئہ بقرہ کی آیات نمبر۲۷۵ تا ۲۸۱ کی رُو سے مکمل طور پر حرام قرار دے دیا گیا۔ چونکہ شراب کی طرح سود بھی اہل عرب کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا۔ لہٰذا ایسی برائیوں کا کلی استیصال بتدریج ہی ممکن تھا۔

اب اصل مسئلہ کی طرف آئیے ،بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ سود سے مال بڑھتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کسی بھی معاشرہ میں دولت مندوں کی تعداد غریبوں کی تعداد کی نسبت بہت قلیل ہوتی ہے اور سود لینے والے دولت مند ہوتے ہیں اور دینے والے غریب اور محتاج۔ اب سود سے فائدہ تو ایک شخص اُٹھاتا ہے اور نقصان سینکڑوں غریبوں کا ہوجاتا ہے اور اللہ کی نظروں میں اس کی سب مخلوق یکساں ہے بلکہ اسے دولتمندوں کے مفاد سے غریبوں کے مفادات زیادہ عزیز ہیں۔ اور سود خور سود کے ذریعہ بے شمار غریبوں کا مال کھینچ کر انہیں مزید مفلس اور کنگال بنانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ تو اسی حقیقت کو اللہ نے ان الفاظ میں بیان فرمایاکہ سود کے ذریعہ مال بڑھتا نہیں بلکہ گھٹتا ہے۔ یہ اس مسئلہ کا ایک پہلو ہوا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ علم معیشت کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جس معاشرہ میں دولت کی گردش جتنی زیادہ ہوگی، اتنا ہی وہ معاشرہ خوشحال ہوگا اور اس کی قومی دولت میں اضافہ ہوگا۔ اور اگر دولت کا بھائو غریب سے امیر کی طرف ہوگا تو یہ گردش بہت کم ہوجائے گی۔ کیونکہ امیر طبقہ کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے بھی سود قومی معیشت پر تباہ کن اثر ڈالتا ہے۔ اور اگر دولت کا بہائو امیر سے غریب کی طرف ہو اور یہ بات صرف زکوٰ ۃ و صدقات کی صورت میں ہی ممکن ہوتی ہے، تو دولت کی گردش میں تیزی ہوجائے گی کیونکہ ایک تو غریبوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے، دوسرے ان کی ضروریات محض پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے اَٹکی ہوتی ہیں۔ لہٰذا دولت کی گردش میں تیزی آنے کی وجہ سے ایک تو سارا معاشرہ خوشحال ہوتا جائے گا دوسری قومی معیشت پر بھی خوشگوار اثر پڑے گا۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا:﴿يَمحَقُ اللَّهُ الرِّ‌بو‌ٰاوَيُر‌بِى الصَّدَق۔ٰتِ...٢٧٦﴾... سورة البقرة" یعنی جس معاشرہ میں سود کا رواج ہوگا، اس میں برکت نہیں رہے گی ،وہ بالآخر قلاش ہوجائے گا۔ غریب طبقہ کی تعداد دن بدن بڑھتی جائے گی اور وہ اپنا پیٹ پالنے کی خاطر امیر طبقہ پر جائز اور ناجائز طریقوں سے حملہ آور ہو کر ان کا مال ان سے چھین لے گااور اس غرض کے لئے اگر اس کا کام چوری اور ڈاکہ، لوٹ مار سے چلتا ہے تو ٹھیک ورنہ وہ قتل و غارت سے بھی کبھی دریغ نہ کرے گا۔

اسلامی اِقتصادیات یا اسلامی نظامِ معیشت پر بڑی لمبی چوڑی تصانیف بازار سے دستیاب ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اسلامی نظامِ معیشت کے بنیادی اُصول صرف دو ہی ہیں: ایک ملک سے سود کا خاتمہ اور دوسرے اس کے بجائے نظامِ زکوٰ ۃ و خیرات کی ترویج۔ سود ہی وہ لعنت ہے جو نظامِ سرمایہ داری کی جان ہے۔ اس کے خاتمہ سے نظامِ سرمایہ داری کی جان اَز خود نکل جاتی ہے۔ رہی سہی کسر اسلام کا قانونِ میراث نکال دیتا ہے۔ سود کے خاتمہ کے بعد جب نظامِ زکوٰۃ و صدقات اس کی جگہ لے لیتا ہے تو طبقاتی تقسیم از خود ختم ہوجاتی ہے اور معاشرہ خوشحال بن جاتا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے معاشیات کی کتابیں پڑھنے اور اس کے اُصول سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ صرف تجربہ کی ضرورت ہے اور تجربہ ہر انسان کم از کم اپنے خاندان میں کرکے اس کے ثمرات و برکات کو بچشم خود ملاحظہ کر سکتا ہے۔ اگرچہ اتنے چھوٹے پیمانے پر سود کے خاتمہ اور زکوٰ ۃ و خیرات کی ترویج سے پورے ثمرات تو حاصل نہیں ہوسکتے۔ تاہم ایسے خاندان کی حالت پہلے سے بدرجہا بہتر ہوسکتی ہے۔ غریب کی امیر سے نفرت، حسد اور کینہ وغیرہ جیسے قبیح جذبات ماند پڑ جاتے ہیں۔ اور ان کی جگہ مروّتؑ، ہمدری اور اُخوت جیسی اعلیٰ قدریں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ جس سے ایک طرف تو معاشرہ میں کشیدگی کے بجائے محبت کی فضا پیدا ہوجاتی ہے۔ دوسرے دولت کی ناہموار تقسیم میں خصوصی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ جس سے معاشرہ کے ہر فرد کو کم از کم بنیادی ضروریات ضرور مہیا ہوتی رہتی ہیں۔تفسیر تیسیر القرآن سے انتخاب
 
Top