استادِ محترم الف عین صاحب۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔

استادِ محترم الف عین صاحب اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر اصلاح فرمائیں، آپ کا سپاس گزار ہوں

اس نے چھوڑا ہمیں آزمانے کے بعد
یاد تک نہ کیا اس نے جانے کے بعد

مسکرائے ہوئے ایک مدت ہوئی
پھر خوشی نہ ملی مسکرانے کے بعد

زخم ہی زخم تھے پھر ترا زخم اب
زخمِ دل نہ رہا زخم کھانے کے بعد

روشنی کی ضرورت پڑی جس گھڑی
روشنی مل گئی دل جلانے کے بعد

کل ہمیں خواب میں وہ ملا اس طرح
آن پہنچی خوشی غم اٹھانے کے بعد

توصیف یوسف.....
 

الف عین

لائبریرین
کوئی عروضی یا بھر و اوزان میں تو غلطی نہیں ہے۔ البتہ دو جگہ ’نہ‘بطور ’نا‘ استعمال ہوا ہے جسے میں غلط مانتا ہوں۔

زخم ہی زخم تھے پھر ترا زخم اب
زخمِ دل نہ رہا زخم کھانے کے بعد
۔۔واضح نہیں، الفاظ کا کھیل لگ رہا ہے محض

روشنی کی ضرورت پڑی جس گھڑی
روشنی مل گئی دل جلانے کے بعد
’روشنی‘ کا دہرایا جانا اچھا نہیں لگتا۔
 
کوئی عروضی یا بھر و اوزان میں تو غلطی نہیں ہے۔ البتہ دو جگہ ’نہ‘بطور ’نا‘ استعمال ہوا ہے جسے میں غلط مانتا ہوں۔

زخم ہی زخم تھے پھر ترا زخم اب
زخمِ دل نہ رہا زخم کھانے کے بعد
۔۔واضح نہیں، الفاظ کا کھیل لگ رہا ہے محض

روشنی کی ضرورت پڑی جس گھڑی
روشنی مل گئی دل جلانے کے بعد
’روشنی‘ کا دہرایا جانا اچھا نہیں لگتا۔

بہت شکریہ استادِ محترم بھائی

تیرگی میں ضرورت پڑی جس گھڑی
روشنی مل گئی دل جلانے کے بعد

اب دیکھیں
 
[Qاستادِ محترم ="الف عین, post: 1755213, member: 38"]کوئی عروضی یا بھر و اوزان میں تو غلطی نہیں ہے۔ البتہ دو جگہ ’نہ‘بطور ’نا‘ استعمال ہوا ہے جسے میں غلط مانتا ہوں۔

زخم ہی زخم تھے پھر ترا زخم اب
زخمِ دل نہ رہا زخم کھانے کے بعد
۔۔واضح نہیں، الفاظ کا کھیل لگ رہا ہے محض

روشنی کی ضرورت پڑی جس گھڑی
روشنی مل گئی دل جلانے کے بعد
’روشنی‘ کا دہرایا جانا اچھا نہیں لگتا۔[/QUOTE]

استادِ محترم
زخم ہی زخم تھے پھر ترا زخم اب
زخمِ دل نہ رہا زخم کھانے کے بعد

آپ نے سچ فرمایا
 

ایم اے راجا

محفلین
کوئی عروضی یا بھر و اوزان میں تو غلطی نہیں ہے۔ البتہ دو جگہ ’نہ‘بطور ’نا‘ استعمال ہوا ہے جسے میں غلط مانتا ہوں۔

زخم ہی زخم تھے پھر ترا زخم اب
زخمِ دل نہ رہا زخم کھانے کے بعد
۔۔واضح نہیں، الفاظ کا کھیل لگ رہا ہے محض

روشنی کی ضرورت پڑی جس گھڑی
روشنی مل گئی دل جلانے کے بعد
’روشنی‘ کا دہرایا جانا اچھا نہیں لگتا۔
زخم ہی زخم تھے پھر ترا زخم "اب"
زخم۔ دل نہ رہا زخم کھانے کے بعد
استاد محترم الف عین صاحب میری کم علم رائے کے مطابق اب تو محض بھرتی کا لگ رہا ہے اب اور مصرع ثانی میں بعد عجیب تاثر نہیں دے رہے زمانہ کے حساب سے ؟
بحرحال ایک بہتر صورت یوں ہو سکتی ہے۔۔
زخم ہی زخم تھے ، پھر ترا زخم یہ
زخم ہی کب رہا زخم کھانے کے بعد
یا
زخم۔ دل کب رہا زخم کھانے کے بعد

تیرگی میں ضرورت پڑی جس گھڑی
روشنی مل گئی دل جلانے کے بعد

استاد محترم الف عین صاحب یہ شعر یوں کیا رہے گا ؟
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
زخم ہی زخم تھے پھر ترا زخم "اب"
زخم۔ دل نہ رہا زخم کھانے کے بعد
استاد محترم الف عین صاحب میری کم علم رائے کے مطابق اب تو محض بھرتی کا لگ رہا ہے اب اور مصرع ثانی میں بعد عجیب تاثر نہیں دے رہے زمانہ کے حساب سے ؟
بحرحال ایک بہتر صورت یوں ہو سکتی ہے۔۔
زخم ہی زخم تھے ، پھر ترا زخم یہ
زخم ہی کب رہا زخم کھانے کے بعد
یا
زخم۔ دل کب رہا زخم کھانے کے بعد

تیرگی میں ضرورت پڑی جس گھڑی
روشنی مل گئی دل جلانے کے بعد

استاد محترم الف عین صاحب یہ شعر یوں کیا رہے گا ؟
’اب‘ میری اصلاح تھوڑا ہی ہے!! پہلے مصرع میں ’اب‘ ہو یا ’یہ‘ دونوں چلیں گے۔ دوسرا مصرع اب بہتر ہو گیا ہے۔
اور وہ روشنی والا دوسرا شعر بھی۔
 

ایم اے راجا

محفلین
’اب‘ میری اصلاح تھوڑا ہی ہے!! پہلے مصرع میں ’اب‘ ہو یا ’یہ‘ دونوں چلیں گے۔ دوسرا مصرع اب بہتر ہو گیا ہے۔
اور وہ روشنی والا دوسرا شعر بھی۔
سر میرا یہ مطلب نہیں تھا کہ آپ کی اصلاح ہے میں تو آپ سے مشورہ لے رہا تھا ☺
بہت شکریہ کہ آپ کو میری تجاویز پسند آئیں ☺
 
Top