اقتباسات اسبابِ مسرت کی دستیابی

عاطف بٹ نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 12, 2014

  1. عاطف بٹ

    عاطف بٹ محفلین

    مراسلے:
    5,527
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    ہمارے مسائل کا علاج یہ ہے کہ لوگوں کو معقول بنایا جائے اور انھیں معقول بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی تعلیم معقول طور پر ہو۔ اس وقت تک ہم جن عوامل پر غور کرتے رہے ہیں ان سب کا رجحان تباہی کی طرف ہے۔ توہم پرستی، حماقت اور حقیقت کے ناکافی احساس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ جنسی تعلیم اکثر اعصابی عارضے پیدا کرتی ہے اور جہاں یہ ظاہراً ایسا نہ کرے وہاں بھی اکثر لاشعور میں پریشانی کا بیج بو دیتی ہے، جس سے بالغ زندگی کی خوشی ناممکن ہوجاتی ہے۔ مدارس میں جس قومیت کی تعلیم دی جاتی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ نوجوان کا نہایت اہم فرض انسانوں کا قتل ہے۔ طبقاتی احساس سے اقتصادی بےانصافی پر رضامندی روز بروز بڑھتی ہے اور مقابلے سے سماجی کشمکش میں سنگ دلی کا اضافہ ہوتا ہے۔ کیا یہ بات قابلِ تعجب ہے کہ وہ دنیا جس میں ریاست کی سب طاقتیں نوجوانوں میں ویوانگی، حماقت، قتلِ انسان کے لیے مستعدی، اقتصادی بےانصافی اور سنگ دلی پیدا کرنے میں مصروف ہوں، وہ دنیا خوش نہیں ہے؟ کیا ایسے آدمی کو بدکردار اور مخربِ اخلاق ہونے کا مجرم قرار دیا جاسکتا ہے جو عہدِ حاضر کی اخلاقی تعلیم میں ان برائیوں کی جگہ عقل، شفقت اور احساسِ انصاف کو جگہ دینا چاہتا ہے؟ دنیا میں اس قدر ناقابلِ برداشت حد تک کشیدگی ہے، وہ اس قدر نفرت سے لبریز ہے، یوں بدبختیوں اور تکلیفوں سے اٹی پڑی ہے کہ انسان اس متوازن قوتِ فیصلہ کو کھو بیٹھے ہیں جو اس دلدل سے نکلنے کے لیے ضروری ہے، جس میں انسانیت لڑکھڑا رہی ہے۔ ہمارا زمانہ اتنا پُر اضطراب ہے کہ بہت سے بہترین انسان بھی مایوس ہوگئے ہیں۔ لیکن مایوسی کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ انسانی نسل کی مسرت کے اسباب موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انسانیت ان کے استعمال کو پسند کرے۔

    برٹرنڈ رسل کی مشہور تصنیف ’Education and the Social Order‘ کے اردو ترجمہ ’نظامِ معاشرہ اور تعلیم‘ کا فلیپ۔ مترجم جی آر عزیز ہیں اور یہ کتاب مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور نے آخری بار فروری 1988ء میں شائع کی تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
  2. عاطف بٹ

    عاطف بٹ محفلین

    مراسلے:
    5,527
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    برائے اطلاع
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. سید زبیر

    سید زبیر محفلین

    مراسلے:
    4,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    یعنی یہ حالات یورپ میں بھی سو سال سے ہیں ۔ غالبآ انسانی فطرت ہی کچھ ایسی ہے ۔
     
    • متفق متفق × 1
  4. ساجد

    ساجد محفلین

    مراسلے:
    7,113
    موڈ:
    Question
    بہت اعلی شراکت کی ہے عاطف بھائی ۔ مصنف نے چونکہ بات کو فلسفیانہ انداز میں تحریر کیا ہے لہذا اسے آسان اردو میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ خوشی کے اسباب ہمارے اپنے اختیار میں ہیں لیکن ہم کو دوسروں تک پہنچمے نہیں دیتے ۔
    مزید آسان کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ پہلے تو دعوتی کارڈ پر لکھے"نوید مسرت " کے الفاظ بھی مسرت بخش دیتے تھے لیکن اب ایسا کوئی کارڈ ملے تو سوچنا پڑتا ہے کہ اس " نوید " اور " مسرت" کے بیچ میں ہمارا کیا کام ؟ ۔ مہنگائی اور 99 کے چکر :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر