اردو لغت میں تلفّظ کی غلطیاں

ۃ کی شکل ہائے ملفوظی کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ بلکہ یہ رائج بھی ہے۔ صلوٰۃ کا درست تلفظ میرا خیال ہے کہ /s^la:h/ ہی ہے۔
لیکن ریحان میرے خیال میں ۃ تو اردو میں بھی ت کی آواز رکھتی ہے اس کو ہ میں بدلنا عربی ہی کا طریقہ ہے اردو نہیں (کلمے کے آخر میں سکون کے شکل میں) اردو میں اس کو ت سے بد دیا جاتا ہے ۔جیسے قدرۃ کو قدرت ،فطرۃ کو فطرت ،حرارۃ کو حرارت اور ضرورۃ کو ضرورت وغیرہ ۔

علاوہ ازیں ہم صلوۃ کو نماز کہتے ہیں ۔لیکن اگر صلوٰۃ کہیں بھی تو اردو میں صلات ہی کہتے ہیں ۔ ( صلاہ ۔ کا یہ تلفظ اردو میں عرب ممالک ہی میں محدود ہے کیوں کہ عرب ماحول اور مخاطبین کا خیال رکھنا ہوتا ہے اور بس ) ۔ اسی طرح معاملہ زکوٰۃ کا ہے ۔ ہم کبھی زکاہ نہیں کہتے ہمیشہ زکات ہی کہتے ہیں ۔ جبکہ لکھتے ہم اردو میں بھی زکوٰۃ ہی ہیں ہمیشہ ۔ اور صلوٰۃ بھی ۔

ذرا اردو میں ۃ کی کچھ مثالیں بتائیے میرے ذہن میں ہی نہیں آ رہیں فی الحال ۔ یہ بات دلچسپ لگتی ہے ۔

عاطف بھائی ، اس سلسلے میں املا کمیٹی کی سفارش یہ ہے کہ جن الفاظ کا چلن صدیوں سے "ۃ" کے امال کے ساتھ ہے انہیں برقرار رکھنا چاہئے ۔ مثلاً صلوٰۃ ، زکوٰۃ ، مشکوٰۃ وغیرہ ۔ دوسری بات یہ کی ان الفاظ کی تراکیب بناتے وقت تو "ۃ" کا استعمال ناگزیر ہے ۔ مثلاً صلوٰۃ الجنازہ کو صلات الجنازہ اور زکوٰۃ الفظر کو زکات الفظر لکھنا عجیب و غریب لگے گا ۔ مختصر یہ کہ اردو میں "ۃ" کا استعمال محدود سہی لیکن وجود تو رکھتا ہے ۔ "ۃ" کو کسی اور آواز کے لئے استعمال کرنا تو مزید مسائل اور مشکلات پیدا کردے گا ۔
 
یہ لڑی اردو لغت کے تلفظ کی اغلاط کے حوالے سے تھی جو کہ املا وغیرہ کے مباحث کی نذر ہوتی جا رہی ہے۔۔۔۔
بات تو آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ غلط تلفظ کا مسئلہ بعض اوقات غلط املا سے بھی پیدا ہوسکتا ہے ۔ گمان غالب ہے کہ لفظ "مینہ" کو مِینا پڑھنے کی غلطی بی بی مقتدرہ نے املا ہی کی وجہ سے کی ہے ۔ سو اس ذیل میں جو بحث ہوئی وہ اس مسئلے کے ممکنہ حل کے بارے میں تھی ۔ بہرحال یہ بحث تو اب ختم ہوئی ۔ :)
آپ کا تعلق بھی چونکہ لغت نویسی سے ہے اس لئے آپ سے درخواست ہے کہ آنلائن لغت میں موجود اغلاط کی نشاندہی اور ممکنہ حل کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار فرمائیں ۔ ان اغلاط کا پس منظر کیا ہے اور ان کی تصحیح کس طرح کی جاسکتی ہے؟
 
ایسا کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا لیکن نون غنہ پر غنہ کی علامت لگانے سے مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ نون غنہ کے بعد کا حرف چونکہ ہمیشہ ہی ساکن ہوتا ہے اس لئے اس حرف پر جزم کی ضرورت نہیں ۔ اگر نون پر غنہ کی علامت نہ لگائی جائے تو مینہ کو مینا پڑھنے کا خدشہ برقرار رہتا ہے ۔
فہد بھائی ، یہ میری کوتاہی ہے کہ اپنی بات واضح طور پر نہیں لکھ سکا ۔ دراصل لفظ مینہ کے بارے میں بات ہورہی تھی اور میرا مراسلہ اسی تسلسل میں تھا کہ اس قسم کے الفاظ میں چونکہ نون غنہ کے بعد ساکن حرف ہوتا ہے اس لئے جزم کی ضرورت نہیں ۔
 
البتہ زبان میں مستقبل کی سائنٹفک تجزیہ کاری اور آٹومیشن کے لیے ہر چھوٹی سے چھوٹی کتابتی قدر کا ایک سٹینڈرڈ ہونا بھی وقت کا ایک تقاضا معلوم ہوتا ہے ۔

زبردست بات کی ہے عاطف بھائی آپ نے!
مجھے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت مزید سفارشات کے لئے ایک اور املا کمیٹی کی ضرورت ہے ۔ اور اس کمیٹی میں کمپیوٹر کے کچھ ماہرین کا ہونا بیحد ضروری ہے ۔ خاص طور پر لغت میں کسی لفظ کے درست تلفظ کو تحریری شکل میں لکھنے کے لئے کچھ علامات ایجاد کرنے کی ضرورت ہے ( جیسا کہ انگریزی لغت میں ہوتا ہے)۔
 

وصی اللہ

محفلین
بات تو آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ غلط تلفظ کا مسئلہ بعض اوقات غلط املا سے بھی پیدا ہوسکتا ہے ۔ گمان غالب ہے کہ لفظ "مینہ" کو مِینا پڑھنے کی غلطی بی بی مقتدرہ نے املا ہی کی وجہ سے کی ہے ۔ سو اس ذیل میں جو بحث ہوئی وہ اس مسئلے کے ممکنہ حل کے بارے میں تھی ۔ بہرحال یہ بحث تو اب ختم ہوئی ۔ :)
آپ کا تعلق بھی چونکہ لغت نویسی سے ہے اس لئے آپ سے درخواست ہے کہ آنلائن لغت میں موجود اغلاط کی نشاندہی اور ممکنہ حل کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار فرمائیں ۔ ان اغلاط کا پس منظر کیا ہے اور ان کی تصحیح کس طرح کی جاسکتی ہے؟
جب یہ لغت تیار ہوئی تو اس وقت لغت بورڈ کے ذمہ عقیل عباس جعفری صاحب سے میں نے اس کی اغلاط کی طرف چند ایک بار توجہ دلائی لیکن وہ کسی اور ہی موڈ میں تھے۔۔۔ اس لغت کی ٹائپنگ اور پروف ریڈنگ ادارے نے خود نہیں کی بلکہ اس پراجیکٹ کو آوٹ سورس کیا گیا جس کی وجہ "کک بیکس" تھیں۔۔ جس کمپنی کو یہ پراجیکٹ آوٹ سورس کیا گیا اُس کمپنی نے جن سے یہ ٹائپ کروائی وہی ٹائپسٹ اس کی پروف خانی کرتے رہے۔۔۔۔ جس کی وجہ سے یہ سارا کام کوڑے کا ڈھیر بن چکا ہے۔۔ اس میں ایسی ایسی فاش اور فاحش قسم کی غلطیاں ہیں کہ الامان الحفیظ۔۔۔۔
 
جب یہ لغت تیار ہوئی تو اس وقت لغت بورڈ کے ذمہ عقیل عباس جعفری صاحب سے میں نے اس کی اغلاط کی طرف چند ایک بار توجہ دلائی لیکن وہ کسی اور ہی موڈ میں تھے۔۔۔ اس لغت کی ٹائپنگ اور پروف ریڈنگ ادارے نے خود نہیں کی بلکہ اس پراجیکٹ کو آوٹ سورس کیا گیا جس کی وجہ "کک بیکس" تھیں۔۔ جس کمپنی کو یہ پراجیکٹ آوٹ سورس کیا گیا اُس کمپنی نے جن سے یہ ٹائپ کروائی وہی ٹائپسٹ اس کی پروف خانی کرتے رہے۔۔۔۔ جس کی وجہ سے یہ سارا کام کوڑے کا ڈھیر بن چکا ہے۔۔ اس میں ایسی ایسی فاش اور فاحش قسم کی غلطیاں ہیں کہ الامان الحفیظ۔۔۔۔
آپ کی بات سے اختلاف ممکن نہیں ۔ واقعی بے تحاشہ ٹائپو ہیں اس میں ۔ اس لغت کا اسی صورت میں آنلائن موجود رہنا اردو کے حق میں تو اچھا معلوم نہیں ہوتا ۔ اس مسئلے کا تدارک لغت بورڈ کے علاوہ کسی اور کے پاس تو نظر نہیں آتا۔
 
اس لغت کا اسی صورت میں آنلائن موجود رہنا اردو کے حق میں تو اچھا معلوم نہیں ہوتا

کہتے تو آپ ٹھیک ہی ہیں مگر اس حالت میں بھی بہت سے لوگ اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ صرف اتنا کر لیا جائے کہ صفحہ کی پیشانی پر ایک انتباہ چسپاں کر دیا جائے کہ یہ ابھی beta مراحل میں ہے، اور typos اور غلطیاں موجود ہو سکتی ہیں۔

دوسری اور اہم بات یہ کی جائے کہ ہر entry کے ساتھ ایک report کا بٹن ہو جس پر پہلے سے مندرجہ ذیل options دیے ہوئے ہوں:-
  • تلفظ کی غلطی
  • املا کی غلطی
  • معنی کی غلطی
  • کتابت کی غلطی یا ٹائپو
اس سے بہت کم عرصے میں پروف کا کام ہو جائے گا، جو اردوداں طبقہ استعمال کرتے کرتے ہی کر دے گا۔ اور لغت کے مدیران کے لیے صرف اس کی نظر ثانی کا کام رہ جائے گا۔ اس طرح یہ مسئلہ نہ صرف حل ہوسکتا ہے بلکہ انشاءاللہ بہت جلد حل ہو سکتا گا۔
 
مختصر یہ کہ اردو میں "ۃ" کا استعمال محدود سہی لیکن وجود تو رکھتا ہے ۔ "ۃ" کو کسی اور آواز کے لئے استعمال کرنا تو مزید مسائل اور مشکلات پیدا کردے گا ۔
ح کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ح اردو میں ہائے ملفوظی ہی ہے کوئی منفرد آواز نہیں۔ لیکن مسئلہ وہی ہے کہ ایسی کسی بھی تبدیلی سے اصل عربی اور فارسی املا برقرار نہیں رہے گا۔ اسے برقرار رکھنے کا کیا فائدہ ہے یہ معلوم نہیں۔

اس لیے اعراب زندہ باد ہی کہا جا سکتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ رائج نہ ہو سکیں گے اور اردو کے تمام واؤلز کے لیے فی الحال ناکافی ہیں۔ دوڑ اور موڑ میں فرق کرنے کے لیے کسرہ، فتحہ، ضمہ، جزم وغیرہ کہاں ڈالیں؟
 
ح کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ح اردو میں ہائے ملفوظی ہی ہے کوئی منفرد آواز نہیں۔ لیکن مسئلہ وہی ہے کہ ایسی کسی بھی تبدیلی سے اصل عربی اور فارسی املا برقرار نہیں رہے گا۔ اسے برقرار رکھنے کا کیا فائدہ ہے یہ معلوم نہیں۔

اس لیے اعراب زندہ باد ہی کہا جا سکتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ رائج نہ ہو سکیں گے اور اردو کے تمام واؤلز کے لیے فی الحال ناکافی ہیں۔ دوڑ اور موڑ میں فرق کرنے کے لیے کسرہ، فتحہ، ضمہ، جزم وغیرہ کہاں ڈالیں؟
ریحان بھائی ، آپ کا سوال دراصل دو مختلف مسائل سے متعلق ہے ۔
ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ غیر اردو دان اردو الفاظ کا درست تلفظ کیسے ادا کرے گا؟ عرض ہے کہ یہ سوال صرف اردو ہی سے مخصوص نہیں بلکہ کسی بھی زبان سے متعلق اٹھایا جاسکتا ہے ۔ جواب اس کا یہ ہے کہ کسی بھی زبان کا تلفظ اس کے بولنے والوں سے سیکھا جاتا ہے ۔ یعنی تلفظ کا مدار سماعت پر ہے ۔انگریزی زبان ہی کی مثال لے لیجئے ۔انگریزی کا حرفِ علت مختلف الفاظ میں مختلف آواز دیتا ہے اورایک ہی آواز کے لئے ایک سے زیادہ حروف بھی موجود ہیں ۔ اگر لکھے ہوئے لفظ کا اعتبار کیا جائے تو انگریزی لفظ کا درست تلفظ ناممکنات میں سے ہے ۔ تلفظ تو اہلِ زبان یا زبان دانوں سے سن کر ہی سیکھا جاسکتا ہے ۔ تلفظ سیکھنے کے لئے لکھنا پڑھنا آنا ضروری نہیں ۔ ناخواندہ شخص بھی بہترین انگریزی بول سکتا ہے ۔
دوسرا مسئلہ املا سے متعلق ہے ۔ یعنی املا ہمیشہ درست تلفظ کی نشاندہی نہیں کرتا۔ جیسا کہ آپ نے دوڑ اور اور موڑ کی مثال دی۔ یا جیسا انگریزی میں سی یو ٹی کَٹ اور پی یو ٹی پُٹ کا معاملہ ہے ۔ اب یہ تو ہونے سے رہا کہ اردو کے ہر تلفظ کے لئے ایک علاحدہ علامت یا اعراب ہو ۔ نہ صرف یہ قابلِ عمل نہیں بلکہ اس کی ضرورت بھی نہیں ۔ اس لئے کہ تلفظ لکھے ہوئے لفظ کی مدد سے نہیں بلکہ اس لفظ کو سن کر سیکھا جاتا ہے ۔ (تلفظ کی یہ علامات انگریزی لکھائی میں تو سرے سے موجود ہی نہیں )۔ البتہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اردو لغت میں کسی بھی لفظ کا درست تلفظ ظاہر کرنے کے لئے ایسی علامات ہونی چاہئیں جو مجہول و معروف آوازوں میں فرق کرسکیں یعنی جن کو انگریزی میں diacritics کہا جاتا ہے ۔ ایسی علامات کا ایک جامع نظام بنانا ضروری ہے ۔ صوتی لغت اس نظام کا کا ایک متبادل ہے لیکن اس کا حشر آپ دیکھ ہی چکے۔
 

ابو ہاشم

محفلین
ان الفاظ کے لیے د پر زبر اور م پر جزم ڈالی جا سکتی ہے
جیسے
1). یائے معروف کو اس سے ماقبل حرف پر زیر اور واؤ معروف کو اس سے ماقبل حرف پر پیش ڈال کر واضح طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ اور
2). یائے لین اور واؤ لین کو ان سے ماقبل حرف پر زبر ڈال کر واضح طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔
اسی طرح
3). یائے مجہول اور واؤ مجہول کو ان سے ماقبل حرف پر جزم ڈال کر واضح طور پر ظاہر کیا جا سکتا ہے
 
آخری تدوین:
ح کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ح اردو میں ہائے ملفوظی ہی ہے کوئی منفرد آواز نہیں۔ لیکن مسئلہ وہی ہے کہ ایسی کسی بھی تبدیلی سے اصل عربی اور فارسی املا برقرار نہیں رہے گا۔ اسے برقرار رکھنے کا کیا فائدہ ہے یہ معلوم نہیں۔
اردو میں ایک ہی آواز کے لئے ایک سے زیادہ الفاظ اس باعث ہیں کہ اردو تین بڑی زبانوں کا مکسچر ہے۔ اردو املا فارسی سے آیا اور اسی کے توسط سے عربی الفاظ اس میں داخل ہوئے ۔ ہندی لفظوں کو ٹرانسلٹریٹ کیا گیا ۔ اگر املا کے ان تفرقات کو مٹادیا جائے تو زبان اپنی حیثیت کھو بیٹھے گی۔ الفاظ کا تاریخی پس منظر غائب ہوجائے گا ۔ اردو قواعد کے سارے اصول بے معنی ہوجائیں گے ۔ اشتقاق کا دروازہ بند ہوجائے گا ۔ ان تفرقات کو مٹانے کا مطلب ایسا ہی ہوگا جیسے اردو کو رومن انگریزی میں لکھ دیا جائے ۔
 
انگریزی زبان ہی کی مثال لے لیجئے ۔انگریزی کا حرفِ علت مختلف الفاظ میں مختلف آواز دیتا ہے اورایک ہی آواز کے لئے ایک سے زیادہ حروف بھی موجود ہیں ۔ اگر لکھے ہوئے لفظ کا اعتبار کیا جائے تو انگریزی لفظ کا درست تلفظ ناممکنات میں سے ہے ۔ تلفظ تو اہلِ زبان یا زبان دانوں سے سن کر ہی سیکھا جاسکتا ہے ۔ تلفظ سیکھنے کے لئے لکھنا پڑھنا آنا ضروری نہیں ۔ ناخواندہ شخص بھی بہترین انگریزی بول سکتا ہے ۔
انگریزی اچھی مثال نہیں ہے، کئی دیگر زبانوں کا رسم الخط بہت بہتر ہے۔دیوناگری کی مثال موجود ہے۔
یا جیسا انگریزی میں سی یو ٹی کَٹ اور پی یو ٹی پُٹ کا معاملہ ہے ۔
شمالی برطانیہ کے کئی لہجوں میں سی یو ٹی کُٹ پڑھا جاتا ہے۔ جو روٹ کی کٹ ماسٹرکلاس یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
اب یہ تو ہونے سے رہا کہ اردو کے ہر تلفظ کے لئے ایک علاحدہ علامت یا اعراب ہو ۔
ایسا ہی ہونا چاہیے۔ ایسا نہ ہونا لسانیاتی اعتبار سے بدقسمتی ہے۔

اردو لغت میں کسی بھی لفظ کا درست تلفظ ظاہر کرنے کے لئے ایسی علامات ہونی چاہئیں جو مجہول و معروف آوازوں میں فرق کرسکیں یعنی جن کو انگریزی میں diacritics کہا جاتا ہے ۔
دیوناگری رسم الخط میں ان کا اہتمام موجود ہے۔
मेंह : مینہ

م پر موجود ماترا یائے مجہول کی علامت ہے اور نقطہ حرکت کی نیزلائزیشن کا پتا بتاتا ہے، جو کام اردو میں نونِ غنہ سے لیا جاتا ہے۔

جیسا کہ آپ نے دوڑ اور اور موڑ کی مثال دی۔
दौड़: دوڑ
मोड़: موڑ

دوڑ، کون وغیرہ والے و اور موڑ، جھول، نوک والے و کے لیے مختلف ماترائیں موجود ہیں۔
 
آخری تدوین:
انگریزی اچھی مثال نہیں ہے، کئی دیگر زبانوں کا رسم الخط بہت بہتر ہے۔ دیوناگری بھی اصل تلفظ کے بہت قریب معلوم ہوتا ہے۔

شمالی برطانیہ میں کئی لہجوں میں سی یو ٹی کُٹ پڑھا جاتا ہے۔ جو روٹ کی کٹ ماسٹرکلاس یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

ایسا ہی ہونا چاہیے۔ ایسا نہ ہونا لسانیاتی اعتبار سے بدقسمتی ہے۔

دیوناگری رسم الخط میں ان کا اہتمام موجود ہے۔
मेंह : مینہ

م پر موجود ماترا یائے مجہول کی علامت ہے اور نقطہ علت کی نیزلائزیشن کا پتا بتاتا ہے، جو کام اردو میں نونِ غنہ سے لیا جاتا ہے۔


दौड़: دوڑ
मोड़: موڑ

دوڑ، کون وغیرہ والے و اور موڑ، جھول، نوک والے و کے لیے مختلف ماترائیں موجود ہیں۔
ریحان بھائی ، مثال تو اس لئے دی تھی کہ ہر زبان کا اپنا ایک تاریخی پس منظر اور ارتقائی سفر ہوتا ہے اور ہر زبان میں یہ مسائل موجود ہیں ۔ اگر ہم کسی ایک زبان کے اصولوں کو مثال کے طور پر اپنا کر اپنی زبان کو ویسا ہی بنانے کی کوشش کریں تو ایسا ممکن نہیں ہے ۔ زبان تو غیر محسوس طریقے پر صدیوں میں بنتی ہے ۔ دو چار لوگ مل کر اسے تبدیل نہیں کرسکتے ۔ ہم کسی تبدیلی کی تحریک تو چلاسکتے ہیں لیکن نتیجہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ۔ اب اردو جیسی بھی ہے ، ہماری زبان ہے ۔ ہم چاہیں تو اسے ترک کردیں اور چاہیں تو اپنالیں ۔ ہمیں کوشش ضرور کرنی چاہیئے ہے کہ اس طرح کی علامات کا ایک نظام وضع کریں لیکن اس کی ترویج اور قبولیت پر ہمارا اختیار نہیں ۔
اردو رسم الخط (خصوصاً نستعلیق) ایک منفرد اور مشکل رسم الخط ہے ۔ اس کے ہر حرف پر کوئی علامت لگانا میرے نزدیک نہ تو قابلِ عمل ہے اور نہ ہی اس کا کوئی فائدہ ہوگا ۔ جیسا کہ پہلے ہی عرض کیا تلفظ صرف لکھے ہوئے لفظ کو دیکھ کر نہیں سیکھا جاسکتا کہ اس کے لئے سماعت ضروری ہے۔ ہسپانوی زبان میں انگریزی ہی کے حروف تہجی استعمال ہوتے ہیں لیکن ان کا تلفظ الگ ہے اور یہ تلفظ صرف سن کر ہی سیکھا جاسکتا ہے ۔ سی یو ٹی کٹ تو ایک سامنے کی مثال تھی اس کے علاوہ بھی ہزاروں الفاظ ہیں انگریزی میں کہ جن کو سنے بغیر محض املا کی مدد سے نہیں ادا کیا جاسکتا ۔ انگریزی کی مثال ایک بہترین مثال ہے کہ یہ اپنی تمامتر پابندیوں اور کوتاہیوں کے باوجود عالمی طور پر ایک کامیاب زبان مانی جاتی ہے ۔
 

زیک

تکنیکی معاون
ریحان بھائی ، آپ کا سوال دراصل دو مختلف مسائل سے متعلق ہے ۔
ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ غیر اردو دان اردو الفاظ کا درست تلفظ کیسے ادا کرے گا؟ عرض ہے کہ یہ سوال صرف اردو ہی سے مخصوص نہیں بلکہ کسی بھی زبان سے متعلق اٹھایا جاسکتا ہے ۔ جواب اس کا یہ ہے کہ کسی بھی زبان کا تلفظ اس کے بولنے والوں سے سیکھا جاتا ہے ۔ یعنی تلفظ کا مدار سماعت پر ہے ۔انگریزی زبان ہی کی مثال لے لیجئے ۔انگریزی کا حرفِ علت مختلف الفاظ میں مختلف آواز دیتا ہے اورایک ہی آواز کے لئے ایک سے زیادہ حروف بھی موجود ہیں ۔ اگر لکھے ہوئے لفظ کا اعتبار کیا جائے تو انگریزی لفظ کا درست تلفظ ناممکنات میں سے ہے ۔ تلفظ تو اہلِ زبان یا زبان دانوں سے سن کر ہی سیکھا جاسکتا ہے ۔ تلفظ سیکھنے کے لئے لکھنا پڑھنا آنا ضروری نہیں ۔ ناخواندہ شخص بھی بہترین انگریزی بول سکتا ہے ۔
دوسرا مسئلہ املا سے متعلق ہے ۔ یعنی املا ہمیشہ درست تلفظ کی نشاندہی نہیں کرتا۔ جیسا کہ آپ نے دوڑ اور اور موڑ کی مثال دی۔ یا جیسا انگریزی میں سی یو ٹی کَٹ اور پی یو ٹی پُٹ کا معاملہ ہے ۔ اب یہ تو ہونے سے رہا کہ اردو کے ہر تلفظ کے لئے ایک علاحدہ علامت یا اعراب ہو ۔ نہ صرف یہ قابلِ عمل نہیں بلکہ اس کی ضرورت بھی نہیں ۔ اس لئے کہ تلفظ لکھے ہوئے لفظ کی مدد سے نہیں بلکہ اس لفظ کو سن کر سیکھا جاتا ہے ۔ (تلفظ کی یہ علامات انگریزی لکھائی میں تو سرے سے موجود ہی نہیں )۔ البتہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اردو لغت میں کسی بھی لفظ کا درست تلفظ ظاہر کرنے کے لئے ایسی علامات ہونی چاہئیں جو مجہول و معروف آوازوں میں فرق کرسکیں یعنی جن کو انگریزی میں diacritics کہا جاتا ہے ۔ ایسی علامات کا ایک جامع نظام بنانا ضروری ہے ۔ صوتی لغت اس نظام کا کا ایک متبادل ہے لیکن اس کا حشر آپ دیکھ ہی چکے۔
عربی کی فونیٹک ایلفابٹ موجود ہے۔ اسی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ دوسری صورت انٹرنیشنل فونیٹک ایلفابٹ اپنانے کی ہے لیکن وہ لاطینی حروف استعمال کرتی ہے۔
 
میرے خیال میں تو خواہ مخواہ رسم الخط کو ہوا بنایا جا رہا ہے ... انگریزی زبان کے فونیٹک نہ ہونے کے باوجود زبان اور اہل زبان دونوں کی ترقی میں مانع نہیں ... تو اردو کے رسم الخط پر سب ذمہ داری ڈال کر اس کا تیا پانچہ کرنے کی کیا ضرورت ہے. پورا عالم عرب بغیر اعراب کے عربی زبان لکھ پڑھ رہا ہے ... جبکہ عربی زبان میں حرکات کا معاملہ اردو سے بھی نازک ہے ... یوٹیوب پر جائیں، بہتیرے وڈیوز مل جائیں گے ان انگریزی الفاظ کے تلفظ پر جن کو خود اہل زبان غلط بولتے ہیں. ریحان نے جو مثال دی وہ بھی اتنی اچھی نہیں بلکہ مستثنیات میں ہی شمار کی جائے. ہر زبان کے کئی لہجے ہو سکتے ہیں ... لیکن درست تلفظ کا تعین کسی معیاری لہجے کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے. شمالی انگلستان کا لہجہ جیسا بھی ہو، C U T کا معیاری تلفظ کَٹْ ہی رہے گا. عربی کی مثال بھی دی جا سکتی ہے. معیاری عربی میں ضمیر مخاطب مذکر کے لیے اَنتَ کہا جاتا ہے لیکن زیادہ تر ڈائیلکٹس میں اس کو اِنتَ بولا جاتا ہے جبکہ کچھ لوگ تو محض اِتَّ بھی بولتے ہیں ... مصری اور شامی قلب کو الب بولتے ہیں ...
 
آخری تدوین:
عربی کی فونیٹک ایلفابٹ موجود ہے۔ اسی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ دوسری صورت انٹرنیشنل فونیٹک ایلفابٹ اپنانے کی ہے لیکن وہ لاطینی
حروف استعمال کرتی ہے۔
کہاں ہے ؟ کیسی ہے ؟ یہ بات بڑی دلچسپ لگ رہی ہے
عربی کی تشکیلات (اعراب) اور حروف تو اردو میں پہلے ہی استعمال ہورہے ہیں بلکہ اردو رسم الخط کی بنیاد ہی ان پر ہے ۔ ریحان کی طرف سے اصل بحث یا گفتگو تو اسی بات پر ہورہی ہے کہ موجودہ اعراب اردو کے تلفظ کو کماحقہٗ ادا نہیں کرتے اس لئے مزید علامات کی ضرورت ہے ۔
 

زیک

تکنیکی معاون
کہاں ہے ؟ کیسی ہے ؟ یہ بات بڑی دلچسپ لگ رہی ہے

عربی کی تشکیلات (اعراب) اور حروف تو اردو میں پہلے ہی استعمال ہورہے ہیں بلکہ اردو رسم الخط کی بنیاد ہی ان پر ہے ۔ ریحان کی طرف سے اصل بحث یا گفتگو تو اسی بات پر ہورہی ہے کہ موجودہ اعراب اردو کے تلفظ کو کماحقہٗ ادا نہیں کرتے اس لئے مزید علامات کی ضرورت ہے ۔
عربی فونیٹک ایلفابٹ موجود ہونا شاید مبالغہ تھا لیکن ایک آدھ پیپر میں کسی نے کوئی سو یا زائد علامات و حروف کے ذریعہ انٹرنیشنل فونیٹک ایلفابٹ جیسا نظام تجویز کیا تھا۔
 
Top