اردو لغت میں تلفّظ کی غلطیاں

محمد وارث

لائبریرین
وارث بھائی اس لغت کے حوالے سے بھی رہنمائی کیجیے۔
ریختہ لغت
میں ریختہ سائٹ زیادہ استعمال نہیں کرتا اور نہ ہی یہ لغت۔ ابھی چند ایک الفاظ تلاش کیے ہیں لیکن کسی لفظ کی سند نہیں ہے۔ میں جو کہنا چاہ رہا ہوں وہ اس مثال سے واضح ہوگی۔

"صبر" ریختہ لغت اندراج
"صبر" اردو لغت اندراج
"صبر" لغت نامہ دہخدا اندارج

ریختہ والوں نے اسناد درج نہیں کی لیکن وزن اور قافیہ لکھا ہے، اردو لغت میں اسناد درج ہیں۔ لیکن علی اکبر دہخدا مرحوم نے اس لفظ کے مختلف معانی اور ان کی اسناد میں کئی ایک اشعار درج کیے ہیں۔ فرہنگ بزرگ شاید آن لائن نہیں ہے، اس میں اندراج اس سے بھی زیادہ جامع ہے کہ اس میں ادیبوں کی تحاریر بھی درج کر دی گئی ہیں۔ اردو لغت اس لحاظ سے بہتر ہے لیکن جیسا کہ یہاں نشاندہی کی جا رہی ہے اس میں اغلاط بہت زیادہ ہیں اور اگر لغت ہی میں غلطی ہوگی تو وہ تو پتھر پر لکیر ہو جائے گی۔
 
راحل بھائی ، کراچی میں اردو زبان اور تلفظ خالص نہیں رہے ۔ ہر میٹروپولٹن کی طرح کئی زبانوں کا ایک مکسچر بن گیا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ یائے معروف کے ساتھ مینھ کا تلفظ شاید سرائیکی یا پنجابی میں ہوتا ہے اور اب ہر جگہ پھیل گیا ہے ۔ میڈیا کا بھی کوئی کردار ہوگا اس میں شاید۔ اردو صوتی لغت سے کچھ امید تھی کہ اس طرح درست تلفظ آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ ہوجائے گا لیکن لگتا ہے کہ یہ پروجیکٹ بھی دیگر سرکاری کاموں کی طرح قابلِ اعتبار نہیں ۔
مینھ کا درست تلفظ سننے کے لئے خطوطِ غالب کو ضیا محی الدین یا کسی اور معتبر صداکار کی آواز میں سنئے ۔ یاد پڑتا ہے کہ مرزا تفتہ کے نام ایک خط میں غالب نے مینھ کا مفصل نقشہ کھینچا ہے ۔
الحمد للہ اہل کراچی کے لہجے کو کبھی معیار نہیں بنایا ... اگر ایسا کرتے تو یائے معروف و مجہول کے ساتھ ایک تیسری قسم کا تلفظ ایجاد کرنا پڑتا جو پیپسی اور فیکٹری جیسی الفاظ میں سنائی دیتا ہے... اور تو اور ہم جاہل سے جھائل ہو جاتے :)
 
میرا خیال ہے کہ یائے معروف کے ساتھ مینھ کا تلفظ شاید سرائیکی یا پنجابی میں ہوتا ہے اور اب ہر جگہ پھیل گیا ہے
میں نے تو یہ زیادہ تر اپنے بزرگوں سے ہی سنا جو سب کے سب یوپی والے تھے ... کچھ معروف شعرا سے مشاعروں میں بھی یہی سنا جن میں سر دست انڈیا کے نواز دیوبندی یاد ہیں
 
میں نے تو یہ زیادہ تر اپنے بزرگوں سے ہی سنا جو سب کے سب یوپی والے تھے ... کچھ معروف شعرا سے مشاعروں میں بھی یہی سنا جن میں سر دست انڈیا کے نواز دیوبندی یاد ہیں
ممکن ہے کہ کچھ مختلف لہجہ مختلف جگہوں میں رائج ہو ۔ میں نے تو مینھ اس طرح سنا ہے کہ جیسے "میں +ھ"
لیکن یہ میں خود والا میں نہیں بلکہ اندر والا میں ہے یعنی کراچی میں ، لاہور میں گھر میں وغیرہ
لیکن یہ مینھ بادلوں سے جتنا برسنا تھا کتابوں میں برس چکا اب بادلوں سے بس بارش ہی ہو تی ہے ۔
 
کیا یہ میں + ہ نہیں ہونا چاہیے؟ ھ بذاتِ خود تو کوئی آواز نہیں ہے۔
بلکہ مجھے تو ھ زیادہ مناسب لگا کیونکہ ہ لفظ کے آخر میں ہو تو دب جاتا ہے آواز ظاہر ہونے میں جیسے کہ "کہ" اور مردانہ کو مردانا بولا جانا ۔دلدادہ کو دلدادا ۔ پارہ کو پارا کہا جانا ۔
ھ کو بہتر اس لیے کہا کہ یہ ہ کی بجائے کچھ بولے جانے والے تلفظ سے قریب ہو ۔ مینھ۔ یہاں ھ کو ذرا واضح پروناؤنس کیا جاتا ہے ۔
اس کے بر عکس اگر ہ -مینہ- لکھا جائے تو وہ نون غنہ کی بجائے نون (مینا) سے خلط ملط ہو گا۔
 
اس کے بر عکس اگر ہ -مینہ- لکھا جائے تو وہ نون غنہ کی بجائے نون (مینا) سے خلط ملط ہو گا۔
یہ رسم الخط کی کمزوری ہے، نون غنہ کا حرف یا تو تبدیل کیا جانا چاہیے یا پھر الفاظ کے درمیان اس کی کچھ اور منفرد شکل ہونی چاہیے۔
یہاں ھ کو ذرا واضح پروناؤنس کیا جاتا ہے ۔
لیکن نھ تو بذاتِ خود ایک آواز ہے جو کہ حروف کے آخر میں واقع نہیں ہوتی۔ نھ سے ں+ہ کا کام لینا مزید غلط فہمیاں پیدا کر سکتا ہے۔
 
آخری تدوین:
لیکن نھ تو بذاتِ خود ایک آواز ہے جو کہ حروف کے آخر میں واقع نہیں ہوتی۔ نھ سے ں+ہ کا کام لینا مزید غلط فہمیاں پیدا کر سکتا ہے۔
یہ تو عام قاعدہ ہے کہ نون غنہ اگر بیچ میں لکھا جائے تو صرف ایک شوشہ کافی نہیں ہوتا نقطہ بھی ضروری ہوتا ہے ۔
ایسے الفاظ جن میں ن کے بعد ہ آئے ، بہت زیادہ تعداد میں ہیں قرینہ شبینہ روزینہ وغیرہا ، جب کہ نون غنہ کے بعد ھے والے الفاظ بہت ہی گنے چنے ہوں اس طرح بھی ممتاز ہو سکتے ہیں ۔ مثلا منھ، مینھ
 
یہ تو عام قاعدہ ہے کہ نون غنہ اگر بیچ میں لکھا جائے تو صرف ایک شوشہ کافی نہیں ہوتا نقطہ بھی ضروری ہوتا ہے ۔
عام تو ہے مگر دو آوازوں کے لیے ایک حرف اچھا نہیں ہے۔ املا کمیٹی کے رائے بھی یہی ہے کہ نونِ مغنونہ اگر لفظ کے درمیان میں واقع ہو تو اس پر قوس کی علامت ڈالی جانی چاہیے۔ اس حساب سے بہتر املا مین٘ہہ ہوگی۔
ایک اضافی ہ جیسا کہ سہہ اور کہہ میں ہے بہتر رہے گا لیکن اس سے بھی بہتر ہو کہ جن ہندی الفاظ کے آخر میں ہ کی آواز موجود ہو ان کے لیے کوئی متبادل حرف استعمال کیا جائے۔
 
آخری تدوین:

سعادت

تکنیکی معاون
میں ریختہ سائٹ زیادہ استعمال نہیں کرتا اور نہ ہی یہ لغت۔ ابھی چند ایک الفاظ تلاش کیے ہیں لیکن کسی لفظ کی سند نہیں ہے۔ میں جو کہنا چاہ رہا ہوں وہ اس مثال سے واضح ہوگی۔

"صبر" ریختہ لغت اندراج
"صبر" اردو لغت اندراج
"صبر" لغت نامہ دہخدا اندارج

ریختہ والوں نے اسناد درج نہیں کی لیکن وزن اور قافیہ لکھا ہے، اردو لغت میں اسناد درج ہیں۔ لیکن علی اکبر دہخدا مرحوم نے اس لفظ کے مختلف معانی اور ان کی اسناد میں کئی ایک اشعار درج کیے ہیں۔ فرہنگ بزرگ شاید آن لائن نہیں ہے، اس میں اندراج اس سے بھی زیادہ جامع ہے کہ اس میں ادیبوں کی تحاریر بھی درج کر دی گئی ہیں۔ اردو لغت اس لحاظ سے بہتر ہے لیکن جیسا کہ یہاں نشاندہی کی جا رہی ہے اس میں اغلاط بہت زیادہ ہیں اور اگر لغت ہی میں غلطی ہوگی تو وہ تو پتھر پر لکیر ہو جائے گی۔
(لڑی کے موضوع سے کچھ غیر‌متعلق، لیکن) آپ کا یہ مراسلہ پڑھ کے مجھے جیمز سومرز کا یہ مضمون یاد آ گیا: You’re probably using the wrong dictionary۔ :) (مضمون انگریزی زبان اور اس کی لغات کے بارے میں ہے، لیکن الفاظ کے موزوں انتخاب اور ان کے معانی کی باریکیوں کا شوق رکھنے والے احباب کے لیے دلچسپ ہے۔)
 
(لڑی کے موضوع سے کچھ غیر‌متعلق، لیکن) آپ کا یہ مراسلہ پڑھ کے مجھے جیمز سومرز کا یہ مضمون یاد آ گیا: You’re probably using the wrong dictionary۔ :) (مضمون انگریزی زبان اور اس کی لغات کے بارے میں ہے، لیکن الفاظ کے موزوں انتخاب اور ان کے معانی کی باریکیوں کا شوق رکھنے والے احباب کے لیے دلچسپ ہے۔)

بہت دلچسپ! کسی نعمتِ غیر مترقّبہ سے کم نہیں! :)
 
ایسے کئی ایک تین حرفی الفاظ ہیں جن کا پہلا حرف متحرک اور اگلے دو ساکن ہیں لیکن عام بول چال میں پہلے دو متحرک کر کے بولے جاتے ہیں، کچھ مثالیں آپ نے لکھیں اور کچھ میں لکھتا ہوں:
برف، نرم، جُرم، سرد، فرد، مرد، صبر، قبر، جبر، حشر، لطف، علم ، عقل، عرش، فرش، سبز، سرخ، زرد ،مرچ، نفی، جمع وغیرہ۔

میرے خیال میں تو شعرا کرام کو ان الفاظ کا صحیح اور وہی وزن باندھنا چاہیئے جو ہمارےٹکسالی شعرا صدیوں سے باندھ رہے ہیں کیونکہ اگر عوامی تلفظ کو رواج دے دیا گیا تو بعید نہیں دو چار دہائیوں کے بعد میر اور غالب پر اعتراض ہونا شروع ہو جائے کہ ان الفاظ کا غلط تلفظ باندھ گئے ہیں۔ :)
آپ بالکل درست کہہ رہے ہیں اور عملی طور پر تو میرا مؤقف بھی یہی ہے ۔ لیکن آپ جانتے ہی ہیں کہ زبان آبِ رواں ہے اور اپنا راستہ خود بنالیتی ہے ۔ ہم سب لوگ اس قسم کی لسانی بے راہ روی کے آگے بند باندھنے کی کوششیں تو کر رہے ہیں لیکن جس طریقے سے اردو پھیل رہی ہے اور جس نہج پر جارہی ہے عین ممکن ہے کہ ایک دو نسلوں کے بعد ان میں سے چند الفاظ غلط العام کا درجہ پاجائیں اور ان کے بھی دو مختلف تلفظ مقبول و معروف ہوجائیں ۔ ان دنوں میڈیا پر جن شعرا کی پذیرائی اور تشہیر کی جاتی ہے ان کی شاعری میں تو ایسی کچھ باتیں پہلے ہی در آئی ہیں ۔
واللہ اعلم آگے کیا ہوگا ۔
 
عام تو ہے مگر دو آوازوں کے لیے ایک حرف اچھا نہیں ہے۔ املا کمیٹی کے رائے بھی یہی ہے کہ نونِ مغنونہ اگر لفظ کے درمیان میں واقع ہو تو اس پر قوس کی علامت ڈالی جانی چاہیے۔ اس حساب سے بہتر املا مین٘ہہ ہوگی۔
ایک اضافی ہ جیسا کہ سہہ اور کہہ میں ہے بہتر رہے گا لیکن اس سے بھی بہتر ہو کہ جن ہندی الفاظ کے آخر میں ہ کی آواز موجود ہو ان کے لیے کوئی متبادل حرف استعمال کیا جائے۔
ریحان بھائی ، ان مشتبہ الفاظ میں اصل مسئلہ اعراب نہ لگانے ہی سے پیدا ہوتا ہے ۔ لفظ کے درمیان میں آنے والے نون غنہ کے لئے اُلٹے قوس کی علامت کی تجویز بہت پرانی ہے لیکن بہت کم لوگ استعمال کرتے ہیں ۔ پرانی لغات تو خیر بہت پہلےہاتھ سے کتابت کی گئی تھیں لیکن ڈیجیٹل لغت میں بھی اس علامت کا کوئی اہتمام نہیں ہے ۔سو گڑبڑ تو پیدا ہوگی۔
اردو لفظ کے درمیان میں نون غنہ دو ہی صورتوں میں آتا ہے یعنی یا تو حرفِ علت کے بعد یا کسی حرفِ ساکن سے پہلے ۔ حرفِ علت کے بعد آئے تو اس کی پہچان آسان ہوتی ہے لیکن گڑبڑ عموماً دوسری صورت میں پیدا ہوتی ہے ۔ ۱۹۱۴ میں مولوی عبدالحق نےاپنی کتاب قواعد اردو میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ اردو حروفِ تہجی میں بھ ،پھ، تھ ، ٹھ کی طرز پر ایک اور مرکب صورت کا اضافہ کیا جائے اور یہ صورتیں اں ، بں ، تں ، جں وغیرہ ہوں گی ۔ چنانچہ لفظ جنگ میں صرف دو حروف ہونگے جں اور گ ۔ اسی طرح ہنسنا میں چار حروف ہں ، س ، ن اور الف ہونگے ۔ وعلیٰ ھذا القیاس۔ لیکن یہ تجویز اس لئے فائدہ مند اور عملی نہیں کہ اس نئے مرکب حرف کی ایجاد سے کسی لفظ کے ہجے کرنا اور اسے سمجھانا تو آسان ہوجائے گا لیکن کتابت یا املا کا مسئلہ تو جوں کا توں رہے گا۔ مختصر یہ کہ املا کا مسئلہ نون پر غنہ کی علامت ڈالنے سے حل ہوسکتا ہے ۔ اس لئے اس علامت کے استعمال کی تشہیر و ترویج ہونی چاہئے ۔
مینہہ کے املا کی تجویز اچھی ہے ۔ لیکن میری ناقص رائے میں یہاں "ھ" سے بہتر اور کوئی متبادل نہیں کہ یہ حرف پہلے ہی ہندی الاصل الفاظ کی پہچان بن چکا ہے ۔ لفظ کے آخر میں "ھ" کا اس طرح استعمال ایک استثنائی صورت سمجھا جائے گا ۔ ویسے بھی نون غنہ اور "ہ" پر ختم ہونے والے الفاظ انتہائی کم ہیں ۔ مجھے تو منھ اور مینھ کے علاوہ اس وقت کوئی لفظ یاد بھی نہیں آرہا۔
یعنی یہ کہہ سکتے ہیں کہ مینھ اور منھ کے آخر میں نون غنہ کے بجائے "نھ" غنہ استعمال ہوا ہے ۔ :):):)
 

ابو ہاشم

محفلین
میں نے تو مینھ اس طرح سنا ہے کہ جیسے "میں +ھ"
بلکہ مجھے تو ھ زیادہ مناسب لگا کیونکہ ہ لفظ کے آخر میں ہو تو دب جاتا ہے آواز ظاہر ہونے میں جیسے کہ "کہ" اور مردانہ کو مردانا بولا جانا ۔دلدادہ کو دلدادا ۔ پارہ کو پارا کہا جانا ۔
ھ کو بہتر اس لیے کہا کہ یہ ہ کی بجائے کچھ بولے جانے والے تلفظ سے قریب ہو ۔ مینھ۔ یہاں ھ کو ذرا واضح پروناؤنس کیا جاتا ہے ۔
اس کے بر عکس اگر ہ -مینہ- لکھا جائے تو وہ نون غنہ کی بجائے نون (مینا) سے خلط ملط ہو گا۔
تلفظ کی وضاحت کرنا ہو تو ایسے الفاظ میں ہ پر جزم لگا دی جائے۔ اس طرح یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔
 
تلفظ کی وضاحت کرنا ہو تو ایسے الفاظ میں ہ پر جزم لگا دی جائے۔ اس طرح یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔
اردو زبان میں کوئی لفظ ایسا نہیں کہ جس کے آخری حرف پر کوئی حرکت زیر زبر یا پیش ہو ۔یہ اردو زبان کا بنیادی چلن ہے ۔ دوسری زبانوں میں ایسا البتہ ہوتا ہے جیسا کہ سندھی (شاید ہندی بھی ) ۔ اب جب یہ طے ہو گیا کہ آخری حرف ساکن ہو گا تو پھر آخری ہ پر سکون کی جزم لگانا بے معنی نہ ہو جائے ؟
 
اچھااااا ... جبھی ہمارے سندھی بھائی ہر لفظ کے آخر میں زبر لگا دیتے ہیں :)
جی ہاں اور سندھی میں یہ صرف زبر نہیں پیش بھی ہوتا ہے اور با معنی ہوتا ہے ۔
میں عموماََ زبر مؤنث اور پیش مذکر اسماء کو ظاہر کرتا ہے ۔ اور یہی حرکات ان کے ضمائر اور صفات میں بھی شامل ہوتی ہیں ۔لیکن ان باریکیوں کا ادراک صرف اہل زبان ہی اچھی طرح کر پاتے ہیں ۔
 

ابو ہاشم

محفلین
میں نے تو مینھ اس طرح سنا ہے کہ جیسے "میں +ھ"
کیا یہ میں + ہ نہیں ہونا چاہیے؟ ھ بذاتِ خود تو کوئی آواز نہیں ہے۔
بلکہ مجھے تو ھ زیادہ مناسب لگا کیونکہ ہ لفظ کے آخر میں ہو تو دب جاتا ہے آواز ظاہر ہونے میں جیسے کہ "کہ" اور مردانہ کو مردانا بولا جانا ۔دلدادہ کو دلدادا ۔ پارہ کو پارا کہا جانا ۔
ھ کو بہتر اس لیے کہا کہ یہ ہ کی بجائے کچھ بولے جانے والے تلفظ سے قریب ہو ۔ مینھ۔ یہاں ھ کو ذرا واضح پروناؤنس کیا جاتا ہے ۔
اس کے بر عکس اگر ہ -مینہ- لکھا جائے تو وہ نون غنہ کی بجائے نون (مینا) سے خلط ملط ہو گا۔
محمد ریحان قریشی صاحب درست فرماتے ہیں کہ ھ کوئی الگ آواز نہیں ہے بلکہ یہ نفسی آوازوں کو ظاہر کرنے کے لیے متعلقہ سادہ آواز کو ظاہر کرنے والے حرف کے ساتھ لگائی جاتی ہے۔

فارسی الفاظ جیسے ہفتہ، بستہ، رفتہ وغیرہ کے آخر میں آنے والے ہ کو ہائے مختفی کہا جاتا ہے اس ہ کی آواز ادا نہیں کی جاتی اس کے بجائے اس سے پہلے آنے والے حرف پر زبر ادا کی جاتی ہے یعنی ان الفاظ کا تلفظ بالترتیب ہَفْتَ، بَسْتَ، رَفْتَ ہے۔

اردو زبان میں کوئی لفظ ایسا نہیں کہ جس کے آخری حرف پر کوئی حرکت زیر زبر یا پیش ہو ۔یہ اردو زبان کا بنیادی چلن ہے ۔ دوسری زبانوں میں ایسا البتہ ہوتا ہے جیسا کہ سندھی (شاید ہندی بھی ) ۔ اب جب یہ طے ہو گیا کہ آخری حرف ساکن ہو گا تو پھر آخری ہ پر سکون کی جزم لگانا بے معنی نہ ہو جائے ؟
یہ بے معنی تو نہیں ہو گا کیونکہ یہ بتا رہا ہوگا کہ یہ ہ ہائے مختفی نہیں بلکہ ہائے ملفوظ ہے۔
اسی طرح یہ محو، سہو، راجیوْ، لوْ وغیرہ جیسے الفاظ کے تلفظ کو ظاہر کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔
 
تلفظ کی وضاحت کرنا ہو تو ایسے الفاظ میں ہ پر جزم لگا دی جائے۔ اس طرح یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

یہ بے معنی تو نہیں ہو گا کیونکہ یہ بتا رہا ہوگا کہ یہ ہ ہائے مختفی نہیں بلکہ ہائے ملفوظ ہے۔
ایسا کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا لیکن نون غنہ پر غنہ کی علامت لگانے سے مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ نون غنہ کے بعد کا حرف چونکہ ہمیشہ ہی ساکن ہوتا ہے اس لئے اس حرف پر جزم کی ضرورت نہیں ۔ اگر نون پر غنہ کی علامت نہ لگائی جائے تو مینہ کو مینا پڑھنے کا خدشہ برقرار رہتا ہے ۔
 
Top