اردو ، انگریزی نہیں

الف نظامی

لائبریرین
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر نے کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی عالمی کرکٹ کپ میں ذرائع ابلاغ سے اردو میں گفتگو کریں گے۔
باب وولمر نے کہا کہ
پاکستانی کھلاڑی قومی زبان میں بہتر محسوس کرتے ہیں
وہ اپنے مافی الضمیر کا آزادانہ قومی زبان میں اظہار کرتے ہیں اور انہیں اپنے ملک اور قومی زبان پر فخر ہے
ہمارے میڈیا مینجر پرویز میر کھلاڑیوں اور ذرائع ابلاغ کے درمیان گفتگو میں مترجم ہوں گے۔
بحوالہ
 

بدتمیز

محفلین
میرا نہیں خیال ٹیم جاہل ہے۔ اگر آپ کھلاڑیوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ انگلش میں ماسٹرز کر کے ٹیم میں آئیں تو یہ تو ممکن نہیں۔
ذرا دوسری ٹیموں کے کھلاڑیوں کی تعلیم پر بھی نظر ڈال لینی چاہئے۔ ایک طرف آپ لوگ اردو کو کمپیوٹر تک میں گھسیٹ رہے ہیں پھر شکوہ بھی کہ لوگ جاہل ہیں۔
میرے خیال سے پی سی بھی جاہل ہے جو سوئی پڑی ہے۔ کھلاڑیوں کو ایکسٹر ایکٹویٹی کی اجازت دینے کی بجائے ذرا انگلش کی کلاسز کا اہتمام کر لے تو کیا ہے؟ ہمارے ہونہار سوئمنگ پول یا بار میں تو سارا دن گزار سکتے ہیں ایک گھنٹے کی کلاس نہیں لے سکیں گے؟
 

خرم

محفلین
کبھی غور کیا کہ انگریزی کا نہ آنا جہالت کا معیار صرف ہند و پاک میں ہی کیوں ہے؟ کھلاڑی کا کام اچھا کھیل پیش کرنا ہوتا ہے ماہر زباندانی ہونا نہیں۔ ویسے مجھے تو ذاتی طور پر فخر سا محسوس ہو رہا ہے اس خبر پر۔ اپنی زبان کو دوسروں کو سامنے پیش کرنا اور اس پر مصر ہونا قابل فخر ہے قابل مذمت نہیں۔
 
Top