ادارہ انجمن ترقی اردو اور مقتدرہ قومی زب

مہوش علی

لائبریرین
آج جنگ اخبار میں جمیل الدین عالی صاحب کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں ادارہ ترقی اردو اور مقتدرہ قومی زبان کی کتب کے بارے میں گفتگو کی ہے (بلکہ ہلکے سے اشارے دیے ہیں)۔

میں چاہتی ہوں کہ احباب اس گفتگو کو ذرا آگے بڑھائیں

جمیل الدین عالی صاحب کا مکمل مضمون یہاں ہے:



\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

کابینہ ذیلی کمیٹی کی سفارشات… تحفظات اور امیدیں



نقارخانے میں…جمیل الدین عالی
ایک بات سترہویں صدی بلکہ نہ جانے کب سے دنیا بھر میں تسلیم شدہ فارمولے کی حیثیت اختیار کرچکی ہے مگر آزاد‘ خودمختار‘ بہت زرخیز ماضی اور خواہ نام کے طور پر عظیم تر اسم رکھنے والے پاکستان کے حکمراں اور اپر مڈل کلاس طبقے کے غالب عناصر میں نہ صرف نظریاتی طور بھی تسلیم ہوتی لگتی تھی بلکہ اس پر طبعی طور سے عوامی عمل میں رکاوٹیں پڑرہی تھیں۔
یہ تھی اور تھیں میں نے ایک جوشیلی خوشی کی رو میں کہہ دیا ہے ورنہ صورتحال آج بھی وہی ہے۔ بس اس میں ایک صحت مندانہ تبدیلی کی امید بندھی ہے جس نے مجھے ساٹھ سالہ تلخ تجربات ماضی کے باوجود اتنا خوش کردیا۔ یوں جانئے جیسے آج کل ایک سو روپے کی رقم سے کوئی قابل ذکر کارنامہ سر انجام نہیں دیا جاسکتا لیکن غریب بالکل بھوکے ننگے کیلئے اس رقم کی اہمیت بہت ہی بڑی ہوجاتی ہے کیونکہ کم از کم دو وقت کیلئے بھوکے نہ رہنے کے قابل ہوسکتا ہے اور ایک بہت سستا سا تہمد اور بنیان خرید کر ستر پوشی بھی کرسکتا ہے۔ پھر نسبتاً آرام سے خوش امیدی کے خواب بھی دیکھ سکتا ہے۔
مگر وہ سترہویں صدی والی بات کیا تھی۔ خوشی نے روانی تحریر کو جنم دیا اور روانی تحریر کہیں سے کہیں لے گئی۔ سوری۔ اب وہ سترہویں صدی والی بات یہ ہے کہ سترہویں صدی میں بڑے (انگریز) دانشور مقدس سیموئل ویزلے REVEREND SAMUEL WESLEY ہو گزرے ہیں۔ وہ پاکستان کے بڑے حامی ثابت ہورہے ہیں۔ کیسے؟ ایسے کہ پڑھنے پر ان کا ایک قول سامنے آگیا۔ کیا قول؟ LANGUAGE IS THE DRESS OF THOUGHT
(زبان خیال کا لباس ہے)
دنیا میں پاکستان میں ہر عاقل و بالغ شخص سوچتا ہے۔ اکثر وہ اس کا اظہار مختلف زبانوں میں کرتا ہے۔ وہ اپنی جگہ بہت خوبصورت اور عظیم ہیں مگر ان کا دائرہ ترسیل و گفتگو ان صوبوں تک محدود ہے جن میں وہ بولی جاتی ہیں۔ ایک بڑی لعنت انگریزی کی بھی موجود ہے جسے یوں تو سامراج کی طرف سے واحد عالمی زبان بھی بنا دینے کی کوششیں ہورہی ہیں اور اب وہ ہے بھی ایک بڑی اور خاصی پھیلی ہوئی زبان مگر ہماری پاکستانی زبانوں میں سے نہیں ہے۔ اس میں ہر شخص اپنی سوچ ظاہر نہیں کرسکتا اور جو سوچ وہ اپنی زبان میں ظاہر کرتا ہے اس کا نہ تو فوری ترجمہ دوسری پاکستانی زبانوں میں ہو پاتا ہے نہ وہ سوچ حکمران اور اعلیٰ طبقوں کے غالب اور صحیح معنی میں صاحب فیصلہ حلقوں اور افراد تک پہنچ پاتی ہے۔
1906ء سے یعنی جب سے مسلم لیگ ہندوستان میں بنی اس کے ہر چھوٹے بڑے اجلاس میں اردو کو مسلمانوں کی قومی اور رابطے کی زبان کہا جاتا رہا۔ اس کی کونسل اور مجلس منتظمہ کے ہر اجلاس میں یہ بات دہرائی جاتی رہی جب قائد اعظم نے مسلم لیگ کی باگ ڈور سنبھالی۔ اس بات میں اور بھی استحکام آگیا۔ جب کانگریس اور مسلم لیگ نے تحریک آزادی میں پوری شدت سے حصہ لینا شروع کیا اور بعد آزادی کچھ مشترکہ مقاصد اور عمل پر بھی سوچ و بچار شروع ہوئی تو اردو ہی وہ واحد زبان تھی جو مغرب سمیت سارے ہندوستان میں بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ بس جنوب کے دو تین صوبوں میں ان کی اپنی اور نہایت مضبوط‘ زبانیں اور ان کے رسم الخط رائج لگے۔ کانگریس کے سب جلسوں میں بھی اردو استعمال ہوتی رہی تھی مگر اب آزاد ہندوستان میں ایک زبان کی ضرورت تسلیم کرلئے جانے کے بعد مہاتما گاندھی جیسی شخصیت نے یہ کہہ کر مسئلہ الجھا دیا کہ واحد قومی زبان کا نام ہندی اتھوا ہندوستانی ہوگا۔ (اتھوا کے معنی ہیں یعنی) اور اس کا رسم الخط صرف دیونا گری ہوگا اردو رسم الخط نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ عربی حروف پر مشتمل ہے اور عربی قرآن (کریم) کا رسم الخط ہے۔ قائد اعظم اور مسلم لیگ ہی نہیں بہت سے گو کم طاقت‘ رہنماؤں نے بھی اردو اور اردو رسم الخط کے حق میں رائے دی مگر مہاتما گاندھی (اور اس کے اشارے پر کانگریس) نہ مانے۔ آزادی کے بعد صرف ہندی اور دیوناگری رسم الخط کو دستور میں قومی اور سرکاری زبان و رسم الخط قرار دے کر پورے ہندوستان اور سرکاری دفاتر میں نافذ و رائج کردیا گیا۔۔ یہ علیحدہ بات کہ بھارتی فلموں میں جہاں زبان لکھی تو ہندی جاتی ہے مگر بولی اردو جاتی ہے۔
آزادی کے بعد ہمارے چار دستور بنے۔ اول میں قومی زبان اردوگو اس دستاویز کو باقاعدہ دستور نہیں کہا گیا، دوئم 1956ء کی دستاویز (اس دور کے وزیراعظم چوہدری محمد علی مرحوم) کو دستور بھی کہا گیا۔ اس میں قومی زبان اردو رکھی گئی۔ اسے صدر سکندر مرزا مرحوم نے 1958ء میں منسوخ کردیا۔
پھر صدر ایوب مرحوم نے 1962ء میں فیصل آباد کا گھنٹہ گھر دستور بنایا تو قومی زبان اردو رکھی گئی۔ پھر وہ بھی منسوخ ہوا اور ایک منتخب دستور ساز اسمبلی نے بڑے بحث مباحثے کے بعد 1973ء کا نیا دستور بنایا۔ اس میں بھی قومی زبان اردو رکھی گئی۔ وہ دستور چند سیاسی ترمیمات وتحریفات نہایت کے باوجود آج بھی بروئے کار ہے۔ اس کی رو سے اردو کو تمام سرکاری شعبوں میں مقررہ وقت کے اندر بروئے کار آجانا تھا مگر چچا میاں کے ذہنی غلام بعض پاور فل بیورو کریٹس نے دل سے یہ دستوری شق قبول نہ کی اور اول اول سے پندرہ برس ٹالدینے کی شق ڈلوادی۔ (جو گزرچکے ہیں) پھر اس تاخیر میں کابینہ سے مزید توسیع کرادی۔ وہ بھی گزر چکی ہے۔
اس دوران میں عوام پاکستان اور پاکستان کے بعض محب وطن اور دیکھنے والے بیورو کریٹس نے اردو میں سائنسی اور دیگر ضروری ترجموں کیلئے دو اہم ادارے بنائے۔ (گو انہیں گرانٹ ان کے مقاصد مقررہ کو دیکھتے ہوئے) بقدر اشک بلبل ہی ملتی رہے۔ (ہائے بلبل کا سائز) اور ہائے اس کے آنسوکا سائز) مختلف ادوار میں ان سب کی منتظم میں یہ ناچیز شامل رہا ہے۔
1903ء سے ایک ادارہ انجمن ترقی اردو پاکستان قائم ہے۔ بھارت میں تو تمام تر سرکاری اردو دشمنی کے باوجود اس کی دو سو چھتیس نام کی اور اڑتیس خاصی فعال شاخیں قائم ہیں (ادارہ اور شاخیں سب نجی‘ کوئی سرکاری نہیں) اور خوب کام کررہی ہیں۔ یہاں بابا ئے انجمن نے آکر یہ انجمن سوسائٹیز ایکٹ 1860ء کے تحت رجسٹرڈ کرا دی تھی اسی طرح قائم ہے مگر کل ایک شاخ جسے حکومت کے خوشامد پسند بیورو کریٹس کوئی بیس برس سے ایک ہی سی گرانٹ دیئے جاتے ہیں کیونکہ میں کہ 1962ء سے معتمد اعزازی اور صدر انجمن تمام تر ملنساری اور کارگزاری کے ثبوتوں کے باوجود اپنی جائز خودداری کے سبب ان کی مطلوبہ خوشامد نہیں کرسکتے لیکن بابائے اردو کے بعد انجمن کی پنج سالہ کارگزاری پر جوکتاب 1903ء میں چھپی تھی اور اب بھی بازار میں موجود ہے ان کا منہ چڑاتی رہتی ہے۔ (صاحبو کوئی ایک در بند کرتا ہے اللہ دس نئے در کھول دیتا ہے) انجمن نے حقوق اردو کیلئے جو دراصل پاکستانی یک جہتی کے ناگزیر ساتھ ہی آسان ترین راستے اور تحریک و دستور پاکستان کی کوکھ سے نکلے ہیں۔ ان تمام ساٹھ برسوں میں ہر ممکن طریقے سے علمی‘ مطالباتی اور احتجاجی کام کیا ہے۔ ہماری حکومتوں نے جو دو بڑے مفید ادارے قائم کئے۔ (1) اردو سائنس بورڈ اور (2) مقتدرہ قومی زبان وہ بھی انجمن کی کوکھ سے نکلے ہیں اور انہوں نے کمی وسائل کے باوجود نہایت ہی قابل قدر کام کیا ہے۔ 1967-68ء میں جب انجمن میں سرکاری ناقدری سے فاقوں کی نوبت آگئی تھی اور ہم کتابوں کی اشاعت موخرکرنے پر مجبور کرتے تھے۔ میں نے اسی ہزار اصطلاحات کے ترجمے اتفاق احمد مرحوم کے زیر ادارت اردو سائنس بورڈ کو ہدیہ کردیئے گئے جس کا انہوں نے اپنی تحریروں میں ذکر کررکھا ہے۔ پھر اللہ نے وہ وقت عزت سے گزروا دیا۔ بابائے اردو کے بعد (1961) سے انجمن کی صد سالہ سالگرہ (2003) تک ہم تین سو علمی ادبی تحقیق چھاپ چکے تھے۔ (اتنی ہی بابائے اردو کی حیات میں چھپی تھیں گو بدیہی طور پر جس تحریر پر ان کی نگرانی ہو وہ اعلیٰ سے اعلیٰ تر ہی ہوتی تھی) ماہنامہ ”قومی زبان“ پہلے سے کہیں زیادہ مواد کے ساتھ باقاعدگی سے جاری ہے۔ چھوٹے بڑے اجلاس ہوتے رہتے ہیں۔ خیر یہ باتیں تو چلتی ہی رہتی ہیں اصل بات جو کہنی تھی وہ بہت مختصر تھی اور وہ اردو کیلئے کام کرنے والے تمام سرکاری اور نجی اداروں کو (جو کافی ہیں) اور وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کو مبارکباد دینا تھی کہ کابینہ کو ایک بڑی خوبصورت اور انتہائی مفید رپورٹ پیش کی جس سے سرکاری زندگی میں قومی زبان کا نفاذ مقصود ہے۔ یہ رپورٹ ابھی پوری تفصیل کے ساتھ چھپ چکی ہے۔ مجھے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ہماری تمام قومی ضروریات کے تناسب سے تو اسے مکمل نہیں کہا جاسکتا مگر موجودہ حالات میں‘ بطور خاص ماضی کو بھی دیکھتے ہوئے یہ ایک خوش مستقبل اور نہایت ہی اہم قومی دستاویز کی صورت اختیار کرگئی ہے۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کو ایک بار پھر مبارکباد

تحفظات اور امیدیں
لیکن کئی سابق حکومتوں‘ بچی کھچی غلام انگلش بیورو کریسی اور بیرونی مداخلتوں کی تاریخ بار بار ڈرا رہی ہے کہ پتہ نہیں عملاً اس رپورٹ کا حشر کیا ہوگا۔ فرض کرلیں کابینہ اسے من و عن یا کسی معمولی سی ترمیم کے ساتھ قبول بھی کرلے تو کیا اس کے بیشتر انتہائی فوری نوعیت کی سفارشات پر عمل شروع ہوجائے۔ خدا کرے ہوجائے کہ اس میں پاکستانی یکجہتی کے علاوہ پاکستان کی سائنسی ٹکنیولوجیکل اور کئی بہت سی علوم و فنون میں بے تحاشا ترقی کے نہایت آسان اور کسی دقت کے بغیر ممکن العمل امکانات موجود ہیں۔ ان دنوں مجھے نہ جانے کتنے سو فون اور خطوط آتے ہیں جو ان مقاصد کیلئے کام کرنیوالے سرکاری اور نجی اداروں اور کابینہ ذیلی کمیٹی کو دل سے دعائیں دیتے ہیں میں ان سطروں کے ذریعے وہ دعائیں اور جذبات بڑی خوشی کے ساتھ تمام متعلقہ سرکاری اور نجی اداروں اور کابینہ ذیلی کمیٹی کو پہنچا رہا ہوں۔
ان تمام پیغامات اور دعاؤں کے ساتھ تقریباً سب نے سب سیاست دانوں‘ اہل قلم اور اہل امر سے اپیل کی ہے کہ اب دو بہت اہم باتوں پر نظر رکھیں۔ (1) کابینہ کتنی جلد اس رپورٹ کو زیر غور لاکر ضروری فیصلے کرتی ہے، تاخیری حربے ہزار ہوتے ہیں اور قوت فیصلہ بھی حل مشکلات کی حامل ہوتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب کابینہ کونسا راستہ اختیار کرتی ہے۔ (2) فیصلوں پر بیورو کریسی اور متعلقہ ادارے کس جذبے اور کس رفتار سے عمل کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم اہل قلم یا اہل اظہار ہوں یا نہ ہوں ہم خود بھی یہ سب اپنے بقول Monitor کریں گے اور ہماری مانیٹرنگ کا اثر آنے والے انتخاب پر لازماً پڑے گا۔ ایک عجلت کا موقع آپڑا اس لئے مزید گزارشات اور دوسرے موضوعات انشا اللہ آئندہ۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\


جمیل الدین عالی صاحب کے مطابق انہوں نے اسی ہزار اصطلاحات کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ یہ بہت اہم چیز ہے اور اسکو برقیانا بہت ضروری ہو گا۔

مزید براں یہ کہ احباب پوری کوشش کریں کہ مارکیٹ میں جا کر انگریزی اردو کمپیوٹر اور نیٹ سے متعلقہ کسی لغت کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

اسی طرح مقتدرہ قومی زبان کی کتابوں کی لسٹ اگر کوئی فراہم کر سکے تو بہت اچھا رہے گا۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
میں گزشتہ سال پاکستان گیا تھا اور ایسی کسی ڈکشنری کی تلاش میں ہلکان ہو کر واپس آ گیا۔ مقتدرہ والوں کی کسی ایسی ڈکشنری کے بارے میں سنا تھا لیکن اس کا بھی کوئی نشان نہیں ملا۔ اردو سائنس بورڈ کی ایک سائنسی اصطلاحات کی ڈکشنری فیرزسنز میں نظر آئی تھی لیکن اس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلقہ اصطلاحات موجود نہ ہونے پر مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ مقتدرہ کے اکبرسجاد صاحب نے ایک مرتبہ کسی ایسی ڈکشنری کی پی ڈی ایف مہیا کرنے کا کہا تھا لیکن اس کے بعد انہوں نے اس پر توجہ نہیں دی۔ :(
 

قیصرانی

لائبریرین
جزاک اللہ مہوش بہن۔ بہت فکر انگیز مضمون ہے۔ اردو کو اپنا بنا تو لیا گیا لیکن اردو کو اپنایا نہیں‌جا سکا۔ چند ماہ قبل جب میں‌ بنگلہ دیش گیا تو اس وقت بھی مجھے کسی اجنبی سے یا کسی راہگیر سے بات کرتے ہوئے کبھی انگریزی کا سہارا لینا پڑا۔ لیکن جب انہیں پتہ چلتا کہ میں پاکستان سےآیا ہوں تو وہ لوگ ایک دم انگریزی سے ٹوٹی پھوٹی اردو پر آ جاتے۔ پہلے پہل میں سمجھا کہ یہ ہندی اثرات ہیں۔ لیکن کافی بندوں نے جس طرح‌بات کی، اس میں‌ لہجے کا فرق تو تھا جیسے ذ، ز، ض اور ظ کو ج کی طرح‌بولنا وغیرہ، لیکن ہندی کے الفاظ سے بھی وہ لوگ بہت پرہیز کرتے تھے۔ البتہ بنگلہ بھاشا اور ہندی (خالص) بہت ملتی جلتی ہیں

ہمارے ہاں اردو کا کیا ذکر ہے، اس بارے کچھ کہنا کارِ وارد ہے۔ باقی نبیل بھائی کی بات بھی درست ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایسی کوئی چیز شاید ہی ہمیں مارکیٹ میں ملے۔ باقی کوشش جاری رکھی جا سکتی ہے۔ کیا پتہ کب کس کو کہیں سے کچھ ایسا مل جائے کہ ہم اس کام کو بھی برقیا سکیں۔ ویسے نیشنل بک فاؤنڈیشن سے پتہ کیا جا سکتا ہے۔ شاید وہ لوگ اس بارے کچھ جانتے ہوں
 

مہوش علی

لائبریرین
نبیل بھائی،

کیا آپ مقتدرہ کے سجاد صاحب سے ابھی تک کسی طرح کے رابطے میں ہیں؟

ویسے ممبران کو چاھیئے کہ وہ جمیل الدین عالی صاحب کی خدمت میں کسی طرح یہ درخواست پہنچائیں کہ اب وہ کمپیوٹر اور نیٹ کی اصطلاحات کو بھی اردو ترجمہ کریں (سائنسی بورڈ کے لیے کئی ہزار اصطلاحات کا ترجمہ کرنے کے بعد یقینی طور پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جمیل الدین عالی صاحب کی انگریزی زبان پر بھی بہت گرفت ہے اور ساتھ میں وہ بہت سے سائنسی کانسیپٹز سے بھی واقف ہیں اور اس لیے وہ شاید بہتر ترجمہ کر سکیں)

اور قیصرانی بھائی، آپکی تجویز بہت عمدہ ہے کہ اس ضمن میں نیشنل بک فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا جائے۔

مزید یہ فرمائیں کہ کیا مقتدرہ کی کتابیں کاپی رائیٹ سے آزاد ہیں؟
 

بدتمیز

محفلین
کیا انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اصلاحات کا ترجمہ کرنے والے تھریڈ کا لنک مل سکتا ہے؟ کیونکہ میرا سوال ضرور کسی نے کیا ہو گا اور اس کا جواب بھی وہاں دیا گیا ہو گا میں یہاں اپنا سوال دہرا کر موضوع سے نہیں ہٹانا چاہتا لیکن وہ لنک مل سکے تو مہربانی۔
 

الف عین

لائبریرین
ہندوستان میں نیشنل کاونسل فار پروموشن آف اردو لنگوئیج نے سائینسی انسائیکلو پیڈیا چھاپ دیے ہیں۔ آئ ٹی کا بھی ایک والیوم۔ جلد زیر طبع ہے میرے خیال میں۔ میں اس کے ارضیات کے حصے سے منسلک تھا کافی عرصہ پہلے۔ لیکن اس کے چھپنے کا کام اب شروع ہوا ہے۔ شمس الرحمں فاروقی اس کے وائس چئیر مین ہیں۔ چیر مین تو وزیر ارجن سنگھ ہیں جو خود بھی اردو بہت اچھی جانتے ہیں اور سخن فہم ہیں۔
http://urducouncil.nic.in
 

قیصرانی

لائبریرین
بدتمیز نے کہا:
کیا انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اصلاحات کا ترجمہ کرنے والے تھریڈ کا لنک مل سکتا ہے؟ کیونکہ میرا سوال ضرور کسی نے کیا ہو گا اور اس کا جواب بھی وہاں دیا گیا ہو گا میں یہاں اپنا سوال دہرا کر موضوع سے نہیں ہٹانا چاہتا لیکن وہ لنک مل سکے تو مہربانی۔
اس لنک پر دیکھئے گا۔ اس کے کسی سب فورم میں‌موجود ہوگا

http://www.urduweb.org/mehfil/index.php?f=64
 
بہت پہلے فورم پر فنی اور سائنسی اصطلاحات کے ترجمہ کے بارے میں اچھی بحثیں ہوئی تھیں جس کے بعد میں نے نیشنل بک فاؤنڈیشن سے ایک لغت خریدی تھی جو کم قیمت بھی ہے اور مفید بھی۔ میرے خیال سے اس کا کچھ ذکر مناسب رہے گا اس دھاگے میں۔

سائنسی و فنی ڈکشنری
‌ ‌: مکین احسن کلیم
اردو سائنس بورڈ

پیش لفظ میں لکھا ہے کہ بہت سی فرہنگیں طبع ہو چکی ہیں جن میں سر فہرست “فرہنگ اصطلاحات“ ہے جو تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور جس میں ایک لاکھ سے زیادہ سائنسی اور غیر سائنسی اصطلاحات کے اردو مترادافات ہیں ۔ اس کے بعد “اصطلاحات علم اراضی“ اور “اصطلاحات دیہی معاشریات “ کے نام آتے ہیں اور اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی دو ضخیم جلدوں پر مشتمل “اردو انسائیکلو پیڈیا برائے کیمیا“ ہے۔

کاپی رائٹ سے تقریبا آزاد ہی لگتی ہے کیونکہ صرف ایک عبارت ہے جو شاید روایتا لکھی گئی ہے۔

جملہ حقوق بحق اردو سائنس بورڈ لاہور
 
Top