اختتام کا درمیان

چند منٹ پہلے محفل میں داخل ہوا اور تازہ ترین دھاگوں پر نظر ڈالی تو یہ منفرد کلام نظر سے گزرا ۔ پڑھ کر دل پر اتنا اثر ہوا کہ بے اختیار اور فی الفور ایسا ہی کلام مجھ سے بھی سرزد ہوگیا ۔ ملاحظہ فرمائیے گا ۔

اختتام کا درمیان

دن کے دو بجے جب دوددھ جیسی سرمئی شام
یکایک اپنےاختتام کو پہنچی تو سورج
دور شمالی سمندروں میں کائیں کائیں کرتا نہاتا پھر رہا تھا
رنگ و نور کے ایک بھُتنے کی مانند
چاند نے آکر کہا سرِ ساحل
"کیا سورج بھی کائیں کائیں کیا کرتے ہیں ؟"
جواب آیا کہ شمال میں سمندر بھی نہیں ہوا کرتے!
سوال پوچھا کہ اختتام کیا ہے ؟
جواب آیا کہ درمیان! درمیان!
درمیان!
 
ہمیں یقین تھا کہ جب روایتی شاعری کے علمبردار اس نئی صنف کی جانب توجہ کریں گے تو بہت دور کی کوڑیاں لا لاکر صحنِ ادب میں ڈھیر کردیں گے۔ ظہیر بھائی کی تازہ کاوش اسی کا ایک مظہر ہے۔ بہت سی داد قبول فرمائیے ظہیر بھائی۔ تجریدی مصوری اور علامتی افسانے کی طرح اس صنف کے معنی بھی بطنِ شاعر ہی میں ہوتے ہوں گے۔ شاعر سے مطلب پوچھنا گویا شاعر کی توہین ہے۔ چلیے ہ یونہی گزارا کرلیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ کبھی کوئی منچلا ضرور اس خوبصورت نظم کی تشریح کردے گا اور یوں ہماری بے چین روح کو قرار آجائے گا۔
 
ہمیں یقین تھا کہ جب روایتی شاعری کے علمبردار اس نئی صنف کی جانب توجہ کریں گے تو بہت دور کی کوڑیاں لا لاکر صحنِ ادب میں ڈھیر کردیں گے۔ ظہیر بھائی کی تازہ کاوش اسی کا ایک مظہر ہے۔ بہت سی داد قبول فرمائیے ظہیر بھائی۔ تجریدی مصوری اور علامتی افسانے کی طرح اس صنف کے معنی بھی بطنِ شاعر ہی میں ہوتے ہوں گے۔ شاعر سے مطلب پوچھنا گویا شاعر کی توہین ہے۔ چلیے ہ یونہی گزارا کرلیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ کبھی کوئی منچلا ضرور اس خوبصورت نظم کی تشریح کردے گا اور یوں ہماری بے چین روح کو قرار آجائے گا۔
اس نظم کی تشریح میں ایک اور نظم لکھ دوں؟ اگلا مریض آنے تک ابھی تین چار منٹ ہیں میرے پاس ۔
اگر آپ کہیں تو میں تشریحی نظم لکھ دیتا ہوں ورنہ نیرنگ خیال تو لکھ ہی دیں گے ۔ :LOL:
 
محمد خرم یاسین بھائی! آپ کا مشورہ بہت اچھا لگا، شکریہ قبول فرمائیے۔ لیکن کیا کریں کہ نثری نظم ہماری لائن کی صنف نہیں، لہٰذا آپ کا مشورہ قبول نہیں کرسکتے۔

ابھی بیٹھے بیٹھے رگِ ظرافت پھڑکی اور ایک اچھوتا خیال ذہن میں در آیا۔ کیوں نہ کسی نثری نظم کا منظوم ترجمہ کیا جائے! نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ کس حد تک کامیاب ہوپائے یہ فیصلہ محفلین پر چھوڑتے ہیں۔


( محمد خرم یٰسین بھائی کی نثری نظم کا منظوم ترجمہ )

بہت سالوں کا قصہ ہے
دسمبرجب بھی آتا تھا
تمہارے ہجر کی ان ساعتوں کو پھر سے دہراتا
تو بیگانہ خرد سے کرنےوالی وصل کی ان ساعتوں کا ایک اِک لمحہ
خلش بن کر ستاتا تھا
ٹھٹھرتے سردلمحےجب رگِ جاں کو
اِک ایسی کیفیت سے آشنا کرتے
اِک امیدِ غلط کو اس طرح مسمار کرتے تھے
مرامن خود مجھی سے روٹھ جاتا تھا
کچھ اندر ٹوٹ جاتا تھا
دسمبر!اب بھی آتا ہے
مگر فرصت کہاں مجھ کو
وبالِ جان سے نکلوں
کہیں کچھ اور بھی سوچوں
کہ اپنے پیٹ کا میں ہاتھ چھوڑوں
اوراپنامنھ میں اس کی سَمت موڑوں​
 

بابا-جی

محفلین
چند منٹ پہلے محفل میں داخل ہوا اور تازہ ترین دھاگوں پر نظر ڈالی تو یہ منفرد کلام نظر سے گزرا ۔ پڑھ کر دل پر اتنا اثر ہوا کہ بے اختیار اور فی الفور ایسا ہی کلام مجھ سے بھی سرزد ہوگیا ۔ ملاحظہ فرمائیے گا ۔

اختتام کا درمیان

دن کے دو بجے جب دوددھ جیسی سرمئی شام
یکایک اپنےاختتام کو پہنچی تو سورج
دور شمالی سمندروں میں کائیں کائیں کرتا نہاتا پھر رہا تھا
رنگ و نور کے ایک بھُتنے کی مانند
چاند نے آکر کہا سرِ ساحل
"کیا سورج بھی کائیں کائیں کیا کرتے ہیں ؟"
جواب آیا کہ شمال میں سمندر بھی نہیں ہوا کرتے!
سوال پوچھا کہ اختتام کیا ہے ؟
جواب آیا کہ درمیان! درمیان!
درمیان!
تیسری لائن کا تو جواب نہیں، ھاھاھا۔
 
لیجیے آپ کی نثری نظم کا منظوم ترجمہ حاضر ہے۔ بس اصلاح فرمادیجیے۔




دو بجے تھے دن کے اور یه دوددھ جیسی سرمئی ایک شام ہی تھی
جب یکایک شام اپنے اختتامی وقت کو پہنچی تو سورج
دور دھندلے پانیوں میں
کائیں کائیں کررہا تھا اور نہاتا پھر رہا تھا
روشنی کے، رنگ کے اِک نوری بھُتنے کی طرح جب
چاند نے ساحل پہ آکر قوتِ گویائی پاکر یه کہا کہ
"اے مرے سورج بتا کیا تم بھی اب کوؤں کی صورت
کائیں کائیں کر رہے ہو ؟"
یه جواب آیا کہ میرے اے دلارے چاند سن لو
یه حقیقت ہے شمالی دوریوں میں تو سمندر بھی نہیں ہیں!
چاند بھی تب پوچھ بیٹھا اختتامی وقت کیا ہے ؟
وہ یه بولا درمیان و درمیان و درمیان!
 
آخری تدوین:
تیسری لائن کا تو جواب نہیں، ھاھاھا۔
میں کائیں کائیں اور بھائیں بھائیں کے درمیان متذبذب تھا ۔ خاصے غور و خوض یعنی سات سیکنڈ کے بعد فیصلہ کیا کہ یہاں کائیں کائیں کا ہی محل ہے ۔ سورج کی اضطرابی کیفیت اور ماحولیاتی تکدر کے تعامل سے جو پیچیدہ سہ زمانی تعارض پیدا ہورہا ہے اس سباق میں بھائیں بھائیں کا استعمال نہ صرف سیاق کے خلاف ہوتا بلکہ کائیں کائیں کے عدم استعمال سے بنی نوعِ زاغ کے احساسات کو بھی ٹھیس لگتی ۔ چنانچہ کائیں کائیں کے استعمال سے مصرع چمک گیا ہے ۔
سخن فہمی اور قدر دانی کے لئے ممنون ہوں ، بابا جی ۔ اللہ خوش رکھے ۔
 
لیجیے آپ کی نثری نظم کا منظوم ترجمہ حاضر ہے۔ بس اصلاح فرمادیجیے۔

دو بجے تھے دن کے اور یه دوددھ جیسی سرمئی ایک شام ہی تھی
جب یکایک شام اپنے اختتامی وقت کو پہنچی تو سورج
دور دھندلے پانیوں میں
کائیں کائیں کررہا تھا اور نہاتا پھر رہا تھا
روشنی کے، رنگ کے اِک نوری بھُتنے کی طرح جب
چاند نے ساحل پہ آکر قوتِ گویائی پاکر یه کہا کہ
"اے مرے سورج بتا کیا تم بھی اب کوؤں کی صورت
کائیں کائیں کر رہے ہو ؟"
یه جواب آیا کہ میرے اے دلارے چاند سن لو
یه حقیقت ہے شمالی دوریوں میں تو سمندر بھی نہیں ہیں!
چاند بھی تب پوچھ بیٹھا اختتامی وقت کیا ہے ؟
وہ یه بولا درمیان و درمیان و درمیان!

نہیں ، مزا نہیں آیا خلیل بھائی ! ہر سطر داخل الوزن ہے ۔ دوبارہ دیکھئے گا ۔
 
کچھ عرصہ پہلے نثری شاعری کے ایک علم بردار سے اس کی تعریف کی بابت استفسار کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ نثری نظم وہ ہوتی ہے جس میں لفظوں کی نفسیاتی حرکت ہوتی ہے.
حالانکہ ہمارا مشاہدہ اب تک یہ رہا ہے کہ زیادہ تر کیسسز میں نثری نظم کے نام پر کوئی نفسیاتی لفظوں کو حرکت دے رہا ہوتا ہے :)
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
چند منٹ پہلے محفل میں داخل ہوا اور تازہ ترین دھاگوں پر نظر ڈالی تو یہ منفرد کلام نظر سے گزرا ۔ پڑھ کر دل پر اتنا اثر ہوا کہ بے اختیار اور فی الفور ایسا ہی کلام مجھ سے بھی سرزد ہوگیا ۔ ملاحظہ فرمائیے گا ۔
سبحان اللہ ۔۔۔
آپ کا سورج سلامت رہے ۔۔۔۔
اختتام کا درمیان

دن کے دو بجے جب دوددھ جیسی سرمئی شام
یکایک اپنےاختتام کو پہنچی تو سورج
دور شمالی سمندروں میں کائیں کائیں کرتا نہاتا پھر رہا تھا
رنگ و نور کے ایک بھُتنے کی مانند
چاند نے آکر کہا سرِ ساحل
"کیا سورج بھی کائیں کائیں کیا کرتے ہیں ؟"
جواب آیا کہ شمال میں سمندر بھی نہیں ہوا کرتے!
سوال پوچھا کہ اختتام کیا ہے ؟
جواب آیا کہ درمیان! درمیان!
درمیان!
 
Top