پروین شاکر اتنا معلوم ہے (پروین شاکر )

حجاب

محفلین
اتنا معلوم ہے !
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪

اپنے بستر پہ میں بہت دیر سے نیم دراز
سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا
میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہء رنگ و بو میں
روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا
اور جب اُس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا ؟

آپ کو علم ہے ، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟
میری ہر دوست سے اُس نے یہی پوچھا ہوگا
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر
خود سے اس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہوگا
کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا
آپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگا
وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اُس نے یہ سوچا ہوگا
راہداری میں ،ہرے لان میں ، پھولوں کے قریب
اُس نے ہر سمت مجھے ڈھونڈا ہوگا
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگا
غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگا
ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہوگا
بات کرت ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگا
یہ جو لڑکی نئی آئی ہے ، کہیں وہ تو نہیں
اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگا
جانِ محفل ہے ، مگر آج فقط میرے بغیر
ہائے کس درجہ بھری بزم میں تنہا ہوگا
کبھی سنّاٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اُسے
اُس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگا
چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر
دوستوں کو بھی کسی عذّر سے روکا ہوگا
یاد کر کے مجھے ، نم ہوگئی ہوں گی پلکیں
آنکھ میں پڑ گیا کچھ کہہ کہ یہ ٹالا ہوگا
اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی بناہ
ہر سطر میں میرا چہرہ اُبھر آیا ہوگا
جب ملی ہوگی اُسے میری علالت کی خبر
اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگا
سوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانیء دل
یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا
اتفاقاً مجھے اُس شام میری دوست ملی
میں نے پوچھا کہ سنو آئے تھے وہ ؟ کیسے تھے ؟
مجھ کو پوچھا تھا ؟ مجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب
اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دی
اُس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اُس سے آگے
کیا کہا اُس نے مجھے یاد نہیں ہے ! لیکن ۔۔۔۔۔
اتنا معلوم ہے ، خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا !(پروین شاکر )

آج 24 نومبر پروین شاکر کی سالگرہ کا دن یہ نظم پروین شاکر کی یاد میں۔
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪
 
اتنا معلوم ہے!
اپنے بستر پہ میں بہت دیر سے نیم دراز
سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا
میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہء رنگ و بو میں
روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا
اور جب اُس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا ؟

آپ کو علم ہے ، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟
میری ہر دوست سے اُس نے یہی پوچھا ہوگا
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر
خود سے اس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہوگا
کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا
آپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگا
وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اُس نے یہ سوچا ہوگا
راہداری میں ،ہرے لان میں ، پھولوں کے قریب
اُس نے ہر سمت مجھے ڈھونڈا ہوگا
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگا
غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگا
ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہوگا
بات کرت ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگا
یہ جو لڑکی نئی آئی ہے ، کہیں وہ تو نہیں
اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگا
جانِ محفل ہے ، مگر آج فقط میرے بغیر
ہائے کس درجہ بھری بزم میں تنہا ہوگا
کبھی سنّاٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اُسے
اُس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگا
چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر
دوستوں کو بھی کسی عذّر سے روکا ہوگا
یاد کر کے مجھے ، نم ہوگئی ہوں گی پلکیں
آنکھ میں پڑ گیا کچھ کہہ کہ یہ ٹالا ہوگا
اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی بناہ
ہر سطر میں میرا چہرہ اُبھر آیا ہوگا
جب ملی ہوگی اُسے میری علالت کی خبر
اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگا
سوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانیء دل
یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا
اتفاقاً مجھے اُس شام میری دوست ملی
میں نے پوچھا کہ سنو آئے تھے وہ ؟ کیسے تھے ؟
مجھ کو پوچھا تھا ؟ مجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب
اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دی
اُس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اُس سے آگے
کیا کہا اُس نے مجھے یاد نہیں ہے ! لیکن ۔۔۔۔۔
اتنا معلوم ہے ، خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا​
 

عمراعظم

محفلین
کس کو ٹھراًیں گے میثاق محبت میں فریق
ہم نے خود کو بھی ارادے کا اٹل جانا تھا
اس نے ہی پہلی ہوا میں میرا دامن تھاما
جس دًیے کو کسی نیکی کا بدل جانا تھا
وقت کی کتنی کمیں گاہوں سے گزر آًی ہے
زندگی ! اب تو کسی طور سنبھل جانا تھا
پروین شاکر
 
کس کو ٹھراًیں گے میثاق محبت میں فریق
ہم نے خود کو بھی ارادے کا اٹل جانا تھا
اس نے ہی پہلی ہوا میں میرا دامن تھاما
جس دًیے کو کسی نیکی کا بدل جانا تھا
وقت کی کتنی کمیں گاہوں سے گزر آًی ہے
زندگی ! اب تو کسی طور سنبھل جانا تھا
پروین شاکر
اتنا اچھا کلام شیئر کرنے کا شکریہ۔:notworthy:
 

عمراعظم

محفلین
جیون ساتھی سے !
دھوپ میں بارش ہوتے دیکھ کر
حیرت کرنے والے
شایدتو نے میری ہنسی کو
چھوکر نہیں دیکھا
پروین شاکر
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
اتنا معلوم ہے!
اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم درازسوچتی تھی​
کہ وہ اس وقت کہاں پر ہو گا​
میں یہاں ہوں مگر اُس کوچۂ رنگ و بُو میں​
روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہو گا​
اور جب اُس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہو گا۔!؟​
آپ کو علم ہے، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟​
میری ہر دوست سے اُس نے یہی پوچھا ہو گا​
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر​
خود سے اِس بات پہ سو بار وہ الجھا ہو گا​
کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا​
آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہو گا​
وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن​
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اُس نے یہ سوچا ہو گا​
راہداری میں ، ہرے لان میں ،پھولوں کے قریب​
اُس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہو گا​
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہو گا​
غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہو گا​
ایک جملے کو کئی بار سنایا ہو گا​
بات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہو گا​
یہ لڑکی جو نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں​
اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہو گا​
جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر​
ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہو گا​
کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہو گی اُسے​
اُس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہو گا​
چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر​
دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہو گا​
یاد کر کے مجھے، نَم ہو گئی ہوں گی پلکیں​
’’آنکھ میں پڑ گیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہو گا​
اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہو گئی پناہ​
ہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہو گا​
جب ملی ہو گی اُسے میری علالت کی خبر​
اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہو گا​
سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانئ دل​
یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہو گا!​
اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی​
مَیں نے پُوچھا کہ سنو۔آئے تھے وہ؟۔کیسے تھے؟​
مجھ کو پوچھا تھا۔؟مجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟​
۔۔اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دی​
اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے​
کیا کہا اُس نے ۔۔ مجھے یاد نہیں ہے​
۔لیکن اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا​
(پروین شاکر)
(کتاب: خوشبو)
 
Top