1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

مجاز "اب میرے پاس تم آئی ہو، تو کیا آئی ہو"

سید شہزاد ناصر نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 17, 2013

  1. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,328
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اب میرے پاس تم آئی ہو، تو کیا آئی ہو

    میں نے مانا کہ تم اک پیکر_ رعنائی ہو
    چمن_ دہر میں روح_ چمن آرائی ہو
    طلعت_ مہر ہو، فردوس کی برنائی ہو
    بنت_ مہتاب ہو، گردوں سے اتر آئی ہو

    مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ_ رسوائی ہے
    میں نے خود اپنے کئے کی یہ سزا پائی ہے

    خاک میں، آہ، ملائی ہے جوانی میں نے
    شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے
    شہر_ خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے
    خواب گاہوں میں گنوائی ہے جوانی میں نے

    حسن نے جب بھی عنائت کی نظر ڈالی ہے
    میرے پیمان_ محبت نے سپر ڈالی ہے

    ان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا
    سر پہ سرشاری و عشرت کا جنوں طاری تھا
    مہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھا
    شہر یاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا

    بستر_ مخمل و سنجاب تھی دنیا میری
    ایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میری

    کیا سنو گی میری مجروع جوانی کی پکار
    میری فریاد جگر دوز میرا نالۂ_ زار
    شدت_ کرب میں ڈوبی ہوئی میری گفتار
    میں کہ خود اپنے مزاق طرب آگیں کا شکار

    وہ گداز دل_ مرحوم کہاں سے لاؤں؟
    اب وہ جزبۂ_ معصوم کہاں سے لاؤں؟

    اب میرے پاس تم آئی ہو، تو کیا آئی ہو؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر