حفیظ جالندھری ابھی تو میں جوان ہوں

سید زبیر نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 5, 2013

  1. سید زبیر

    سید زبیر محفلین

    مراسلے:
    4,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    ابھی تو میں جوان ہوں
    ہوا بھی خوش گوار ہے ، گلوں پہ بھی نکھار ہے
    ترنّمِ ہزار ہے ، بہارِ پُر بہار ہے
    کہاں چلا ہے ساقیا ، اِدھر تو لوٹ، اِدھر تو آ
    یہ مجھ کو دیکھتا ہے کیا اٹھا سبُو، سبُو اٹھا
    سبُو اٹھا، پیالہ بھر پیالہ بھر کے دے اِدھر
    چمن کی سمت کر نظر ،سماں تو دیکھ بے خبر
    وہ کالی کالی بدلیاں افق پہ ہو گئیں عیاں
    وہ اک ہجومِ مے کشاں ،ہے سوئے مے کدہ رواں
    یہ کیا گماں ہے بد گماں ، سمجھ نہ مجھ کو ناتواں
    خیالِ زہد ابھی کہاں ابھی تو میں جوان ہوں
    عبادتوں کا ذکر ہے ،نجات کی بھی فکر ہے
    جنون ہے ثواب کا ،خیال ہے عذاب کا
    مگر سنو تو شیخ جی ، عجیب شے ہیں آپ بھی
    بھلا شباب و عاشقی ، الگ ہوئے بھی ہیں کبھی
    حسین جلوہ ریز ہوں ،ادائیں فتنہ خیز ہوں
    ہوائیں عطر بیز ہوں ، تو شوق کیوں نہ تیز ہوں
    نگار ہائے فتنہ گر ،کوئی اِدھر کوئی اُدھر
    ابھارتے ہوں عیش پر ،تو کیا کرے کوئی بشر
    چلو جی قصّہ مختصر ،تمھارا نقطۂ نظر
    درست ہے تو ہو مگر، ابھی تو میں جوان ہوں
    نہ غم کشود و بست کا،بلند کا نہ پست کا
    نہ بود کا نہ ہست کا ،نہ وعدۂ الست کا
    امید اور یاس گم ، حواس گم، قیاس گم
    نظر کے آس پاس گم ،ہمہ بجز گلاس گم
    نہ مے میں کچھ کمی رہے ،قدح سے ہمدمی رہے
    نشست یہ جمی رہے ،یہی ہما ہمی رہے
    وہ راگ چھیڑ مطربا ، طرَب فزا، الَم رُبا
    اثر صدائے ساز کا ، جگر میں آگ دے لگا
    ہر ایک لب پہ ہو صدا ، نہ ہاتھ روک ساقیا
    پلائے جا پلائے جا ، ابھی تو میں جوان ہوں
    یہ گشت کوہسار کی ، یہ سیر جوئبار کی
    یہ بلبلوں کے چہچہے ، یہ گل رخوں کے قہقہے
    کسی سے میل ہو گیا ، تو رنج و فکر کھو گیا
    کبھی جو بخت سو گیا ، یہ ہنس گیا وہ رو گیا
    یہ عشق کی کہانیاں ،یہ رس بھری جوانیاں
    اِدھر سے مہربانیاں ،اُدھر سے لن ترانیاں
    یہ آسمان یہ زمیں ، نظارہ ہائے دل نشیں
    انھیں حیات آفریں ، بھلا میں چھوڑ دوں یہیں
    ہے موت اس قدر قریں ، مجھے نہ آئے گا یقیں
    نہیں نہیں ابھی نہیں ، ابھی تو میں جوان ہوں
    حفیظ جالندھری
     
    • زبردست زبردست × 12
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    سدابہار کلام
    شیئرنگ کا شکریہ زبیر بھائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. عبدالقدوس راشد

    عبدالقدوس راشد محفلین

    مراسلے:
    487
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    لائف ٹائم گرنٹڈ
    شاعری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہت خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,232
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    ابھی تو میں جوان ہوں
     
    • متفق متفق × 1
  5. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,392
    شاندار
    کس قدر روانی اور ترنم ہے کلام میں!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,847
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    واہ! کیا خوبصورت نظم ہے۔ بہت شکریہ سید زبیر صاحب۔ یہی نظم ملکہ پکھراج اور طاہرہ سید کی آواز میں سنیے۔

     
  7. مہ جبین

    مہ جبین محفلین

    مراسلے:
    6,246
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ گشت کوہسار کی ، یہ سیر جوئبار کی
    یہ بلبلوں کے چہچہے ، یہ گل رخوں کے قہقہے
    کسی سے میل ہو گیا ، تو رنج و فکر کھو گیا
    کبھی جو بخت سو گیا ، یہ ہنس گیا وہ رو گیا
    یہ عشق کی کہانیاں ،یہ رس بھری جوانیاں
    اِدھر سے مہربانیاں ،اُدھر سے لن ترانیاں
    یہ آسمان یہ زمیں ، نظارہ ہائے دل نشیں
    انھیں حیات آفریں ، بھلا میں چھوڑ دوں یہیں
    ہے موت اس قدر قریں ، مجھے نہ آئے گا یقیں
    نہیں نہیں ابھی نہیں ، ابھی تو میں جوان ہوں
    واہ واہ بہت ہی زبردست
    سید زبیر انکل کے انتخابِ کلام کی تو کیا بات ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. سید زبیر

    سید زبیر محفلین

    مراسلے:
    4,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    حوصلہ اور عزت افزائی کا بے حد شکرگزار ہوں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. سید زبیر

    سید زبیر محفلین

    مراسلے:
    4,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    فرخ منظور صاحب ،
    ملکہ پکھراج کی غزل سن کر بہت لطف آیا
    سدا جئیں اور بہت خوش رہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. ساقی۔

    ساقی۔ محفلین

    مراسلے:
    3,304
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بہت خوب۔شیئر کرنے لگا تھا ۔ دیکھا تو پہلے ہی موجود تھا یہ کلام۔
     
  11. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سدا بہار کلام
    شراکت کا شکریہ
    شاد س آباد رہیں
     
  12. افسر خان

    افسر خان محفلین

    مراسلے:
    62
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آہا دل پھر جوان ہوگیا ۔
     
  13. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    18,600
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ہوا بھی خوش گوار ہے
    گلوں پہ بھی نکھار ہے

    ترنم ہزار ہے
    بہار پر بہار ہے

    کہاں چلا ہے ساقیا
    ادھر تو لوٹ ادھر تو آ

    ارے یہ دیکھتا ہے کیا
    اٹھا سبو سبو اٹھا

    سبو اٹھا پیالہ بھر
    پیالہ بھر کے دے ادھر

    چمن کی سمت کر نظر
    سماں تو دیکھ بے خبر

    وہ کالی کالی بدلیاں
    افق پہ ہو گئیں عیاں

    وہ اک ہجوم مے کشاں
    ہے سوئے مے کدہ رواں

    یہ کیا گماں ہے بد گماں
    سمجھ نہ مجھ کو ناتواں

    خیال زہد ابھی کہاں
    ابھی تو میں جوان ہوں

    عبادتوں کا ذکر ہے
    نجات کی بھی فکر ہے

    جنون ہے ثواب کا
    خیال ہے عذاب کا

    مگر سنو تو شیخ جی
    عجیب شے ہیں آپ بھی

    بھلا شباب و عاشقی
    الگ ہوئے بھی ہیں کبھی

    حسین جلوہ ریز ہوں
    ادائیں فتنہ خیز ہوں

    ہوائیں عطر بیز ہوں
    تو شوق کیوں نہ تیز ہوں

    نگار ہائے فتنہ گر
    کوئی ادھر کوئی ادھر

    ابھارتے ہوں عیش پر
    تو کیا کرے کوئی بشر

    چلو جی قصہ مختصر
    تمہارا نقطۂ نظر

    درست ہے تو ہو مگر
    ابھی تو میں جوان ہوں

    یہ گشت کوہسار کی
    یہ سیر جوئے بار کی

    یہ بلبلوں کے چہچہے
    یہ گل رخوں کے قہقہے

    کسی سے میل ہو گیا
    تو رنج و فکر کھو گیا

    کبھی جو بخت سو گیا
    یہ ہنس گیا وہ رو گیا

    یہ عشق کی کہانیاں
    یہ رس بھری جوانیاں

    ادھر سے مہربانیاں
    ادھر سے لن ترانیاں

    یہ آسمان یہ زمیں
    نظارہ ہائے دل نشیں

    انہیں حیات آفریں
    بھلا میں چھوڑ دوں یہیں

    ہے موت اس قدر قریں
    مجھے نہ آئے گا یقیں

    نہیں نہیں ابھی نہیں
    ابھی تو میں جوان ہوں

    نہ غم کشود و بست کا
    بلند کا نہ پست کا

    نہ بود کا نہ ہست کا
    نہ وعدۂ الست کا

    امید اور یاس گم
    حواس گم قیاس گم

    نظر سے آس پاس گم
    ہمہ بجز گلاس گم

    نہ مے میں کچھ کمی رہے
    قدح سے ہمدمی رہے

    نشست یہ جمی رہے
    یہی ہما ہمی رہے

    وہ راگ چھیڑ مطربا
    طرب فزا، الم ربا

    اثر صدائے ساز کا
    جگر میں آگ دے لگا

    ہر ایک لب پہ ہو صدا
    نہ ہاتھ روک ساقیا

    پلائے جا پلائے جا
    ابھی تو میں جوان ہوں

    حفیظ جالندھری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,932
    موڈ:
    Dead
    واہ۔ مزیدار۔
     

اس صفحے کی تشہیر