ابنِ انشا

رضوان نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 6, 2006

  1. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    کل چودہويں کي رات تھي، شب بھر رہا چرچا تيرا
    کچھ نے کہا يہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تيرا

    ہم بھي وہيں موجود تھے ہم سے بھي سب پوچھا کيے
    ہم ہنس دئيے ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ تيرا

    اس شہر ميں کس سے مليں، ہم سے چھوٹيں محفليں
    ہر شخص تيرا نام لے، ہر شخص ديوانہ تيرا

    دو اشک جانے کس لئے، پلکوں پہ آکر ٹک گئے
    الطاف کي بارش تيري، اکرام کا دريا تيرا

    ہم پر يہ سختي کي نظر ہم ہيں فقير رہگزر
    رستہ کبھي روکا تيرا دامن کبھي تھاما تيرا

    ہاں ہاں تري صورت حسين ليکن تو ايسا بھي نہيں
    اس شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کيا کيا تيرا

    بے درد سنني ہوتو چل کہتا ہے کيا اچھي غزل
    عاشق تيرا، رسوا تيرا، شاعر تيرا، انشا تيرا
     
  2. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    لب پر کسي کا بھي ہو، دل ميں تيرا نقشا ہے
    اے تصوير بنانے والي، جب سے تجھ کو ديکھا ہے

    بے ترے کيا وحشت ہم کو، تجھ بن کيسا صبر و سکوں
    تو ہي اپنا شہر ہے جاني تو ہي اپنا صحرا ہے

    نيلے پربت، اودي دھرتي، چاروں کوٹ ميں تو ہي تو
    تجھ سے اپنے جي خلوت، تجھ سے من کا ميلا ہے

    آج تو ہم بکنے کو آئے، آج ہمارے دام لگا
    يوسف تو بازار وفا ميں ايک ٹکے کو بکتا ہے

    لے جاني اب اپنے من کے پيراہن کي گرہيں کھول
    لے جاني اب آدھي شب ہے چار طرف سناٹا ہے

    طوفانوں کي بات نہيں ہے، طوفاں آتے جاتے ہيں
    تو اک نرم ہواکا جھونکا، دل کے باغ ميں ٹھہرا ہے

    ياتو آج ہميں اپنالے يا تو آج ہمارا بن
    ديکھ کہ وقت گزرتا جائے، کون ابد تک جيتا ہے

    فردا محض فسوں کا پردا، ہم تو آج کے بندے ہيں
    ہجر و وصل وفا اور دھوکا سب کچھ آج پہ رکھتا ہے
     
  3. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    دل درد کي شدت سے خون گشتہ و سي پارہ
    اس شہر میں پھرتا ہے اک وحشي و آوارہ
    شاعر ہے کہ عاشق ہے جوگي ہے کہ بنجارہ

    دروازہ کھلا رکھنا

    سينے سے گھٹا اٹھے، آنکھوں سے جھڑي بر سے
    پھاگن کا نہيں ہے بادل جو چار گھڑي بر سے
    برکھا ہے یہ بھادوں کی، جو برسے تو بڑی برسے

    دروازہ کھلا رکھنا

    ہاں تھام محبت کي گر تھام سکے ڈوري
    ساجن ہے ترا ساجن، اب تجھ سےتو کيا چوري
    جس کي منادي ہے بستي ميں تري گوري

    دروازہ کھلا رکھنا
     
  4. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    انشا جي اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جي کو لگانا کيا
    وحشي کو سکوں سےکيا مطلب، جوگي کا نگر ميں ٹھکانا کيا

    اس وقت کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہي سوچو تو سہي
    جس جھولي ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولي کا پھيلانا کيا

    شب بيتي، چاند بھي ڈوب چلا، زنجير پڑي دروازے پہ
    کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجني سے کرو گے بہانا کيا

    پھر ہجر کي لمبي رات مياں، سنجوگ کي تو يہي ايک گھڑي
    جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا

    اس حسن کے سچے موتي کو ہم ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں
    جسے ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا


    جب شہر کے لوگ نہ رستہ ديں، کيوں بَن ميں نہ جا بسرام کرے
    ديوانوں کي سي نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اب نہ محمل نہ گرد محمل ہے
    اب نہ محمل نہ گرد محمل ہے
    اے جنوں دشت ہے کہ منزل ہے

    اب تمہی راہ سے بھٹک جاؤ
    دل کو سمجھانا سخت مشکل کام ہے

    نا خدا کو ڈبو دیا ہم نے
    اب کسے آرزوئے ساحل ہے


    اے دل والو گھر سے نکلو، دیتا دعوت عام ہے چاند
    اے دل والو گھر سے نکلو، دیتا دعوت عام ہے چاند
    شہروں شہروں، قریوں قریوں وحشت کا پیغام ہے چاند

    تو بھی ہرے دریچے والی، آجا برسر بام ہے چاند
    ہر کوئی جگ میں خود سا ڈھونڈے، تجھ بن بے آرام ہے چاند

    سکھیوں سے کب سکھیاں اپنے جی کے بھید چھپاتی ہیں
    ہم سے نہیں تو اس سے کہ دے، کرتا کہاں کلام ہے چاند

    جس جس سے اسے ربط رہا ہے اور بھی لوگ ہزاروں ہیں
    ایک تجھی کو بے مہری کا دیتا کیوں‌الزام ہے چاند

    وہ جو تیرا داغ غلامی ماتھے پر لئے پھرتا ہے
    اس کا نام تو انشاء ٹھہرا، ناحق کو بدنام ہے چاند

    ہم سے بھی دو باتیں کر لے کیسی بھیگی شام ہے چاند
    سب کچھ سن لے آپ نہ بولے، تیرا خوب نظام ہے چاند

    ہم اس لمبے چوڑے گھر میں شب کو تنہا ہوتے ہیں
    دیکھ کسی دن آ مل ہم سے، ہم کو تجھ سے کام ہے چاند

    اپنے تو دل کے مشرق و مغرب اس کے رخ سے منور ہیں
    بے شک تیرا روپ بھی کامل، بےشک تو بھی ہے چاند

    تجھ کو تو ہر شام فلک پر گھٹتا بڑھتا دیکھتے ہیں
    اس کو دیکھ کے عید کریں گے، اپنا اور اسلام ہے چاند

    قیصرانی
     
  6. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اے من والی، بدلی کالی، روپ کا رس برساتی جا

    اے من والی، بدلی کالی، روپ کا رس برساتی جا
    دل والوں کی اجڑی کھیتی، سونا دھام برساتی جا

    دیوانوں کا روپ نہ دھاریں، یا دھاریں؟ بتلاتی جا
    ماریں یا ہمیں اینٹ نہ ماریں، لوگون سے فرماتی جا

    اور بہت سے رشتے تیرے، اور بہت سے تیرے نام
    آج تو ایک ہمارے رشتے، محبوبہ کہلاتی جا

    پورے چاند کی رات وہ ساگر، جس ساگر کا اور نہ چھور
    یا ہم آج ڈبو دیں تجھ کو، یا تو ہمیں بچاتی جا

    ہم لوگوں کی آنکھیں پلکیں راہ میں ہیں، کچھ اورنہیں
    شرماتی گھبراتی گوری، اتراتی اٹھلاتی جا

    دل والوں کو دور پہنچ ہے، ظاہر کی اوقات نہ دیکھ
    ایک نظر بخشش میں دے کر، لاکھ ثواب کماتی جا

    اور تو فیض نہیں کچھ تجھ سے، اے بے حاصل، اے بے مہر
    انشاء سے نظمیں، غزلیں، گیت کبت لکھواتی جا

    قیصرانی
     
  7. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے ماروں کا

    اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے ماروں کا
    صبح کا ہونا دوبھر کر دیں رستہ روک کرستاروں کا

    جھوٹے سکوں میں بھی اٹھا دیتے ہیں یہ اکثر سچا مال
    شکلیں دیکھ کے سودے کرنا کام ہے ان بنجاروں کا

    اپنی زبان سے کچھ نہ کہیں چپ ہی رہیں گے عاشق لوگ
    تم سے تو اتنا ہو سکتا ہے پوچھو حال بچاروں کا

    جس جپسی کا ذکر ہے تم سے دل سے دل کو اس کی کھوج رہی
    یوں تو ہمارے شہر میں اکثر میلا لگا نگاروں کا

    انشاء جی اب اجنبیوں میں چین سے باقی عمر کٹے
    جن کی خاطر بستی چھوٹی نام نہ لو ان پیاروں کا

    قیصرانی
     
  8. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ایک لڑکا
    ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
    ایک میلے میں‌جا پہنچا ہمکتا ہوا
    جی مچلتا تھا ایک ایک شئے پرمگر
    جیب خالی تھی کچھ مول نہ لے سکا
    لوٹ آیا لئے حسرتیں سینکٹروں
    ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں

    خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے
    آج میلہ لگا ہے اسی شان سے
    آج چاہوں تواک اک دکان مول لوں
    آج چاہوں تو سارا جہاں‌مول لوں
    نارسائی کا اب جی میں دھڑکا کہاں؟
    پر وہ چھوٹا سا، الھڑ سالڑکا کہاں؟

    قیصرانی
     
  9. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    بستی میں دیوانے آئے
    بستی میں دیوانے آئے
    چھب اپنی دکھلانے آئے
    دیکھ ترے درشن کے لوبھی
    کر کے لاکھ بہانے آئے
    پیت کی ریت نبھانی مشکل
    پیت کی ریت نبھانے آئے
    اٹھ اور کھول جھروکا گوری
    سب اپنے بیگانے آئے
    طعنے، مہنے، اینٹیں، پتھر
    ساتھ لئے نذرانے آئے
    سب تجھ کو سمجھانےوالے
    آج انہیں سمجھانے آئے
    اب لوگوں سے کیسی چوری؟
    اٹھ اور کھول جھروکا گوری
    درشن کی برکھا برسا دے
    ان پیاسوں کی پیاس بجھا دے
    اور کسی کے دوار نہ جاویں
    یہ جو انشاء جی کہلاویں
    تجھ کو کھو کر دنیا کھوئے
    ہم سے پوچھ کتنا روئے
    جگ کے ہوں دھتکارے ساجن
    تیرے تو ہی پیارے ساجن
    گوری روکے لاکھ زمانا
    ان کو آنکھوں‌میں بٹھلانا
    بجھتی جوگ جگانے والے
    اینٹیں پاتھر کھانے والے
    اپنے نام کو رسوا کرکے
    تیرا نام چھپانے والے
    سب کچھ بوجھے، سب کچھ جانے
    انجانے بن جانے والے
    تجھ سے شرمانے والے
    کر کے لاکھ بہانے آئے
    دیکھ نہ ٹوٹے پیت کی ڈوری
    اٹھ اور کھول جھروکا گوری

    قیصرانی
     
  10. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    دیکھ ہمارے ماتھے پریہ دشت طلب کی دھول میاں
    دیکھ ہمارے ماتھے پریہ دشت طلب کی دھول میاں
    ہم سے عجب ترا درد کا ناطہ، دیکھ ہمیں مت بھول میاں

    اہل وفا سے بات نہ کرنا، ہوگا تیرا اصول میاں
    ہم کیوں چھوڑیں ان گلیوں کا معمول میاں

    یونہی تو دشت میں‌نہیں پہنچے، ہونہی تو نہیں جوگ لیا
    بستی بستی کانٹے دیکھے، جنگل جنگل پھول پھول میاں

    یہ تو کہوکبھی عشق کیا ہے؟‌جگ میں ہوئے ہو رسوا بھی؟
    اس کے سوا ہم کچھ بھی نہ پوچھیں، باقی بات فضول میاں

    نصب کریں محراب تمنا، دیدہ دل کو فرش کریں
    سنتے ہیں وہ کوئے وفا میں آج کریں گے نزول میاں

    سن تو لیا کسی نار کی خاطر کاٹا کوہ، نکالی نہر
    ایک ذرا سے قصے کو اب دیتے کیوں ہو طول میاں


    کھیلنے دیں انہیں عشق کی بازی، کھیلیں گے تو سیکھیں گے
    قیس کی یا فرہاد کی خاطر کھولیں کیا اسکول میاں

    اب تو ہمیں منظور ہے یہ بھی، شہر سے نکلیں، رسوا ہوں
    تجھ کو دیکھا، باتیں ‌کر لیں، محنت ہوئی وصول میاں

    انشاء جی کیا عذر ہے تم کو، نقدئ دل و جاں نذر کرو
    روپ نگر کے ناکے پر یہ لگتا ہے محصول میاں

    قیصرانی
     
  11. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    دیکھ ہماری دید کے کارن کیسا قابل دید ہوا
    دیکھ ہماری دید کے کارن کیسا قابل دید ہوا
    ایک ستارہ بیٹھے بیٹھے تابش میں خورشید ہوا
    آج تو جانی رستہ تکتے، شام کا چاند پدید ہوا
    تو نے انکار کیا تھا، دل کب نا امید ہوا
    آن کے اس بیمار کو دیکھے، تجھ کو بھی توفیق ہوئی؟
    لب پر اس کے نام تھا تیرا، جب بھی درد شدید ہوا
    ہاں اس نے جھلکی دکھلائی، ایک ہی پل کو دریچے میں
    جانو اک بجلی لہرائی، عالم اک شہید ہوا
    تو نے ہم سے کلام بھی چھوڑا، عرض وفا کے سنتے ہی
    پہلے کون سا قریب تھا ہم سے، اب تو اور بعید ہوا
    دنیا کے سب کارج چھوڑے، نام پہ تیرے انشاء نے
    اور اسے کیا تھوڑے غم تھے؟ تیرا عشق مزید ہوا

    قیصرانی
     
  12. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے، اب آن ملو تو بہتر ہے
    دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے، اب آن ملو تو بہتر ہے
    اس بات سے ہم کو کیا مطلب، یہ کیسے ہو یہ کیونکر ہو

    اک بھیک کے دونو کاسے ہیں، ایک پیاس کے دونوں پیاسے ہیں
    ہم کھیتی ہیں، تم بادل ہو، ہم ندیا ہیں تم ساگر ہو

    یہ دل ہے کہ جلتے سینے میں، ایک درد کا پھوڑا، الھڑ سا
    نا گپت رہے نا پھوٹ بہے، کوئی مرہم کوئی نشتر ہو

    ہم سانجھ سمے کی چھایاں ہیں، تم چڑھتی رات کے چندر ماں
    ہم جاتے ہیں، تم آتے ہو، پھر میل کی صورت کیونکر ہو

    اب حسن کا رتبہ عالی ہے، اب حسن سے صحرا خالی ہے
    چل بستی میں بنجارہ بن، چل نگری میں سوداگر ہو

    جس چیز سے تجھ کو نسبت ہے، جس چیز کی تجھ کو چاہت ہے
    وہ سونا ہو، وہ ہیرا ہو، وہ ماٹی ہو یا کنکر ہو

    اب انشاء جی کو بلانا کیا، اب پیار کے دیپ جلانا کیا
    جب دھوپ اور چھایا ایک سے ہوں، جب دن اور رات برابر ہو

    وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں، وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں
    اس سکھ کے سپنے کیا دیکھیں، جب دکھ کا سورج سر پر ہو

    قیصرانی
     
  13. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    دوستو فرصت دلدارئ دنیا تھی کہاں
    دوستو فرصت دلدارئ دنیا تھی کہاں
    اپنے شعروں کےتو ممدوح تھے موزوں بدناں
    یوں ملا اس کا صلہ، شان وفا کے شایاں
    عشق مہجورو تپاں، وصل نصیب دگراں
    ہاں ہمیں دعویٰ زباں‌کا ہے، مگر اس کا عنواں
    اپنی دلی یہ جہاں، اپنی محبت ہے زباں
    تم سے پہلے ہی میاں، عشق کے قدموں کے نقوش
    ماہ و مریخ کے ہاں، زہرہ سے کاہکشاں
    تم نے کس مصر کے بازار میں کیا مول لیا؟
    یوسف سل ہے یہاں سینئہ انشاء میں‌نہاں
    آج ہم منزل مقصود سے مایوس ہوئے
    ہر طرف راہبراں، راہبراں، راہبراں
    وحشت دل کے خریدار بھی ناپید ہوئے
    کون اب عشق کے بازار میں کھولے گا دکاں

    قیصرانی
     
  14. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    خوب ہمارا ساتھ نبھایا، بیچ بھنور کے چھوڑا ہاتھ
    خوب ہمارا ساتھ نبھایا، بیچ بھنور کے چھوڑا ہاتھ
    ہم کو ڈبو کر خود ساحل پر جا نکلے ہو، اچھی بات

    شام سے لے کر پو پھٹنے تک کتنی رتیں‌بدلتی ہیں
    آس کی کلیاں، یاس کی پت جھڑ،صبح کے اشکوں کی برسات

    اپنا کام تو سمجھانا ہے اے دل رشتے جوڑ کہ توڑ
    ہجر کی راتیں لاکھوں‌کروڑوں، وصل کے لمحے پانچ کہ سات

    ہم سے ہمارا عشق نہ چھینو، حسن کی ہم کو بھیک نہ دو
    تم لوگوں کے دور ٹھکانے، ہم لوگوں‌کی کیا اوقات

    روگ تمہارا اور ہے انشاء، بیدوں سے کیوں چہل کرو
    درد کے سودے کرنے والے، درد سے پا سکتے ہیں نجات؟

    قیصرانی
     
  15. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اک بار کہو تم میری ہو
    ہم گھوم چکے بستی بن میں
    اک آس کی پھانس لئے من میں
    کوئی ساجن ہو، کوئی پیارا ہو
    کوئی دیپک ہو، کوئی تارہ ہو
    جب جیون رات اندھیری ہو
    اک بار کہو تم میری ہو

    جب ساون بادل چھائے ہوں
    جب پھاگن پھول کھلائے ہوں
    جب چندا روپ لٹاتا ہو
    جب سورج دھوپ نہاتا ہو
    یا شام نے بستی گھیری ہو
    اک بار کہو تم میری ہو

    ہاں دل کا دامن پھیلا ہے
    کیوں گوری کا دل میلا ہے
    ہم کب تک پیت کے دھوکے میں
    کب دید سے دل کو سیری ہو
    اک بار کہو تم میری ہو

    کیا جھگڑا سود خسارے کا
    یہ کاج نہیں بنجارے ک
    سب سونا روپا لے جائے
    سب دنیا، دنیا لے جائے
    تم ایک مجھے بہتیری ہو
    اک بار کہو تم میری ہو

    قیصرانی
     
  16. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا
    اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا
    وہ شہر، وہ کوچہ، وہ مکاں‌یاد رہے گا

    وہ ٹیس کہ ابھری تھی ادھر یاد رہے گی
    وہ درد کہ اٹھا تھا یہاں‌یاد رہے گا

    ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول بھی جائیں
    وہ شمع فسردہ کا دھواں یاد رہے گا

    ہاں بزم شبانہ تیری میں ہمیں شوق جو اس دن
    ہم تو تری جانب نگراں یاد رہے گا

    کچھ میر کے ابیات تھے، کچھ فیض کے مصرعے
    اک درد کا تھا، جن میں بیان یاد رہے گا

    جان بخش سی اس برگ گل تر کی تراوت
    وہ لمس عزیز دو جہاں یاد رہے گا

    ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے
    تو یاد رہے گا، ہمیں ہاں یاد رہے گا

    قیصرانی
     
  17. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    فرض کرو
    فرض کروہم اہل وفا ہوں،فرض کرودیوانے ہوں
    فرض کرویہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں

    فرض کرویہ جی کی بپتا، جی سے جوڑ سنائی ہو
    فرض کروابھی اور ہو اتنی، آدھی ہم نے چھپائی ہو

    فرض کروتمھیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
    فرض کرویہ نین تمھارے سچ مچ کے میخانے ہوں

    فرض کرویہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پیت ہماری ہو
    فرض کرواس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو

    فرض کرویہ جوگ بجوگ ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
    فرض کروبس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو

    دیکھ مری جاں کہ گئے باہو، کون دلوں کی جانے “ہو“
    بستی بستی صحرا صحرا، لاکھوں‌کریں دیوانے “ہو“

    جوگی بھی جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیں
    کاسہ لئے بھبوت رمائے سب کے دوارے پھرتے ہیں

    شاعر بھی جو میٹھی بولی بول کے من کو ہرتے ہیں
    بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں

    ان میں سچے موتی بھی ہیں، ان میں‌کنکر پتھر بھی
    ان میں اتھلے پانی بھی ہیں، ان میں گہرے ساگر بھی

    گوری دیکھ کے آگے بڑھنا، سب کا جھوٹا سچا، “ہو“
    ڈوبنے والی ڈوب گئی، وہ گھڑا تھا جس کا کچا “ہو“

    قیصرانی
     
  18. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    گوری اب تو آپ سمجھ لے، ہم ساجن یا دشمن ہیں
    گوری اب تو آپ سمجھ لے، ہم ساجن یا دشمن ہیں
    گوری تو ہے جسم ہمارا، ہم تیرا پیرہن ہیں

    نگری نگری گھوم رہےہیں، سخیو اچھا موقع ہے
    روپ سروپ کی بھکشا دے دے، ہم اک پھیلا دامن ہیں

    تیرے چاکر ہو کر پایا درد بہت رسوائی بہت
    تجھ سے تجھے جو ٹکے کمائے، آج تجھی کو ارپن ہیں

    لوگو میلے تن من دھن کی ہم کو سخت مناہی ہے
    لوگو ہم اس چھوت سے بھاگیں، ہم تو کھرے برہمن ہیں

    پوچھو کھیل بنانے والے، پوچھو کھیلنے والے سے
    ہم کیا جانیں کس کی بازی، ہم جو پتے باون

    صحرا سے جو پھول چنے تھے، ،ان سے روح‌معطر ہے
    اب جو خار سمیٹنا چاہیں، بستی بستی گلشن ہیں

    دو دو بوند کو اپنی کھیتی ترسے ہے اور ترسے گی
    کہنے کو تو دوست ہمارے بھادوں ہیں اور ساون ہیں

    قیصرانی
     
  19. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں، کیا دوش ہمارا ہے
    ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں، کیا دوش ہمارا ہے
    کچھ اپنی جسارت ہوتی ہے، کچھ ان کا اشارہ ہوتاہے

    کٹنے لگیں راتیں آنکھوں میں، دیکھا نہیں پلکوں پر اکثر
    یا شام غریباں کا جگنو، یا صبح کا تارا ہوتا ہے

    ہم دل کو لئے ہر دیس پھرے، اس جنس کے گاہک نہ مل سکے
    اے بنجارو، ہم لوگ چلے، ہم کو تو خسارہ ہوتا ہے

    دفتر سے اٹھے، کیفے میں گئے، کچھ شعر کہے، کچھ کافی پی
    پوچھو جو معاش کا انشاء جی یوں اپنا گذارا ہوتا ہے

    قیصرانی
     
  20. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاں
    ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاں
    آج یہاں کل اور نگر میں صبح کہاں‌اور شام کہاں

    ہم سے بھی پیت کی بات کرو کچھ، ہم سے بھی لوگو پیار کرو
    تم تو پشیمان ہو بھی سکو گے ہم کو یہاں پہ دوام کہاں

    سانجھ سمے کچھ تارے نکلے پل بھر چمکے ڈوب گئے
    انبر ابنر ڈھونڈ رہا ہے اب انہیں ماہ تمام کہاں

    دل پہ جو بیتے سہ لیتے ہیں اپنی زباں میں‌کہ لیتے ہیں
    انشاء جی ہم لوگ کہاں اور میر کا رنگ کلام کہاں

    اک بات کہیں گے انشاء جی تمھیں ریختہ کہتے عمر ہوئی
    تم ایک جہاں کا علم پڑھے، کوئی میر سا شعر بھی کہا تم نے

    قیصرانی
     

اس صفحے کی تشہیر