ابلیس کی مجلس شوریٰ - علامہ محمد اقبال

عاطف سعد

محفلین
السلام علیکم​
2vccoyb.jpg
 

فرخ منظور

لائبریرین
عاطف صاحب، معذرت کے ساتھ اس نظم میں بہت زیادہ اغلاط ہیں۔ اس نظم کے بیشتر حصے مجھے زبانی یاد ہیں اور نظم کا آغاز جن اشعار سے ہوتا ہے وہ بھی غائب ہیں۔ مکمل نظم حاضرِ خدمت ہے۔ براہِ مہربانی اتنی اچھی نظم کی خوبصورتی کو برقرار رکھیں۔


ابلیسکی مجلس شوری
1936ء
ابلیس

یہ عناصر کا پرانا کھیل، یہ دنیائے دوں
ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمناؤں کاخوں!
اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز
جس نے اس کا نام رکھا تھا جہانِ کاف و نوں
میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب
میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں
میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا
میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں
کون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزِ دروں
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اس نخلِ کہن کوسرنگوں!

پہلامشیر


اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہےیہ ابلیسی نظام
پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام
ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدرمیں سجود
ان کی فطرت کا تقاضا ہے نمازِ بے قیام
آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں
ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام
یہ ہماری سعیِ پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام
طبعِ مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھی
ورنہ قوالی سے کچھ کم تر نہیں علمِ کلام!
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگرباقی تو کیا
کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام
کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمانِ جدید؟
ہے جہاد اس دور میں مردِ مسلماں پر حرام!

دوسرامشیر


خیر ہے سلطانیِ جمہور کا غوغا کہ شر
تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے با خبر؟

پہلامشیر

ہوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیت کا اک پردہ ہو، کیا اس سے خطر!
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہےجمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس وخود نگر
کاروبارِ شہریاری کی حقیقت اورہے
یہ وجودِ میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصر
مجلسِ ملت ہو یا پرویز کا دربارہو
ہے وہ سلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کاجمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سےتاریک تر!

تیسرامشیر

روح سلطانی رہے باقی تو پھرکیا اضطراب
ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جواب؟
وہ کلیمِ بے تجلی، وہ مسیحِ بے صلیب
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب
کیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوز
مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روزِ حساب!
اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب!

چوتھامشیر
توڑ اس کا رومۃ الکبریٰ کےایوانوں میں دیکھ
آل سیزر کو دکھایا ہم نے پھرسیزر کا خواب
کون بحرِ روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا
گاہ بالد چوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب،

تیسرامشیر

میں تو اس کی عاقبت بینی کاکچھ قائل نہیں
جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب

پانچواںمشیر

ابلیسکو مخاطب کرکے


اے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم استوار!
تو نے جب چاہا، کیا ہر پردگی کو آشکار
آب و گِل تیری حرارت سے جہانِ سوز و ساز
ابلۂ جنت تری تعلیم سے دانائے کار
تجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیں
سادہ دل بندوں میں جو مشہورہے پروردگار
کام تھا جن کا فقط تقدیس وتسبیح و طواف
تیری غیرت سے ابد تک سرنگون وشرمسار
گرچہ ہیں تیرے مرید، افرنگ کےساحر تمام
اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار
وہ یہودی فتنہ گر، وہ روحِ مزدک کا بروز
ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار
زاغِ دشتی ہو رہا ہے ہمسرِ شاہین و چرغ
کتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاجِ روزگار
چھا گئی آشفتہ ہو کر وسعت افلاک پر
جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھےاک مشتِ غبار
فتنۂ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج
کانپتے ہیں کوہسار و مرغزارو جوئبار
میرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے
جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار

ابلیس

اپنےمشیروں سے


ہے مرے دستِ تصرف میں جہان رنگو بو
کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیاآسمانِ تو بتو
دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سےتماشا غرب و شرق
میں نے جب گرما دیا اقوام یورپ کا لہو
کیا امامانِ سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہو
کارگاہِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے
توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کےجام و سبو!
دستِ فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک
مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو
کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز،آشفتہ مو
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِآرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظرآتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشکِ سحر گاہی سے جوظالم وضو
جانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایام ہے
مزدکیت فتنہ فردا نہیں، اسلام ہے!

(2)


جانتا ہوں میں یہ امت حاملِ قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دیں
جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے یدِ بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں
عصر حاضر کے تقاضاؤں سے ہےلیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبرکہیں
الحذر! آئینِ پیغمبر سے سو بار الحذر
حافظ ناموسِ زن، مرد آزما، مردآفریں
موت کا پیغام ہر نوعِ غلامی کےلیے
نے کوئی فغفور و خاقاں، نےفقیر رہ نشیں
کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف
منعموں کو مال و دولت کا بناتاہے امیں
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب
پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہےیہ زمیں!
چشم عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب
یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہےمحرومِ یقیں
ہے یہی بہتر الٰہیات میں الجھا رہے
یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں الجھا رہے

(3)


توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسمِ شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات
ابنِ مریم مر گیا یا زندہ جاوید ہے
ہیں صفات ذاتِ حق، حق سے جدا یاعین ذات؟
آنے والے سے مسیحِ ناصری مقصود ہے
یا مجدد، جس میں ہوں فرزندِ مریم کے صفات؟
ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم
امتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟
کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں
یہ الٰہیات کے ترشے ہوئے لات ومنات؟
تم اسے بیگانہ رکھو عالمِ کردارسے
تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات
خیر اسی میں ہے، قیامت تک رہےمومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میںخوب تر
جو چھپا دے اس کی آنکھوں سےتماشائے حیات
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات

مست رکھو ذکر و فکرِ صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے
 
Top