آپ یہاں پر کونسی فورمز چاہتے ہیں۔

نبیل

تکنیکی معاون
معزز ارکان فورم محفل۔ آپ لوگوں کے تعاون سے یہ فورم کافی مقبول ثابت ہوئی ہے اور اپنی چند ابتدائی مشکلات کے باوجود کامیابی سے چل پڑی ہے۔ اس میں موجود سقم انشاءاللہ دور ہوتے جائیں گے اور ہم اس میں بہتری بھی لاتے جائیں گے۔

ابھی تک تو ہم لوگ یہاں خوش گپیوں میں مصروف رہے ہیں۔ میرے خیال میں وقت آگیا ہے کہ ہم اس فورم کی مقصدیت پر دھیان دیں۔ میں یہاں آپ لوگوں سے رائے طلب کر رہا ہوں کہ آپ اس محفل میں کونسی کیٹگریز اور فورمز دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ کی نظر میں یہاں کوئی فورم غیر ضروری ہے تو اس کے بارے میں بھی اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ اس فورم کے قیام کا مقصد اردو دانوں کو ایک صحیح معنوں میں یونیکوڈ اردو پر مبنی ڈسکشن کا پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔ اب تک زیادہ تر لوگ مختلف فورمز اور یاہو اور گوگل گروپس پر انگریزی، رومن اردو اور تصویری اردو کے ذریعے اظہار خیال کرتے رہے ہیں۔ اب اس محفل کے ذریعے آپ بغیر کسی رکاوٹ کے اردو میں اپنے مافی الضمیر کا اظہار کر سکتے ہیں۔

یہ محفل فورم اردو ویب کا حصہ ہے جو کہ انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کے سلسلے میں ہماری کاوشوں کی ایک ارتقائی منزل ہے۔ ہم نے یہ کاوشیں اس سال کے شروع میں اردو بلاگنگ کو آسان بنانے کے ارادے سے شروع کی تھیں۔ اسی سلسلے میں ہم نے ایک اردو وکی پیڈیا اور ایک اردو بلاگنگ ریسورس سیٹ اپ کیا۔ ان جگہوں پر ہم نے نہ صرف اردو بلاگنگ سے متعلقہ معلومات اکٹھی کیں بلکہ کمپیوٹر پر اردو لکھنے پڑھنے میں مدد کے لیے بھی معلومات ذخیرہ کیں۔ اس دوران میں نے اردو کی ترویج کی خاطر کچھ پروگرام بھی لکھے۔ انہی میں سے ایک اردو ویب پیڈ ہے جسے آپ لوگ اس فورم میں اردو ٹائپنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اردو ویب کا آئیڈیا زکریا کا پیش کردہ ہے۔ اس کا مقصد ویب پر ایک صحیح معنوں میں اردو پورٹل فراہم کرنا ہے۔ یہ محفل اسی پورٹل کا حصہ ہے۔ باقی پورٹل کی آہستہ آہستہ شکل وصورت نکلتی آئے گی۔ اس کے لیے کافی کام کرنا باقی ہے اور اس سلسلے میں ہمیں آپ کا تعاون درکار رہے گا اور ہم آپ کی تجاویز کے منتظر رہیں گے۔

اب آتے ہیں اس فورم کو آگے بڑھانے کی طرف۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اس فورم کا پہلا فوکس تعلیمی ہونا چاہیے یعنی اس پر اردو کی ترویج سے متعلقہ معلومات کا تبادلہ اور ٹیوٹوریلز پیش ہونے چاہییں۔ اس طور یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ کے لوگ یہاں بھی ان موضوعات پر تبادلہ خیال کرسکیں گے۔ اسکے علاوہ میں نے ادبی موضوعات پر دلچسپی دیکھی ہے۔ اگرچہ یہاں موجود فورمز ایک باقاعدہ آن لائن اردو جریدہ کا نعم البدل نہیں ہے لیکن اسکے باوجود یہاں اردو شعروادب کے قدردان ادبی شہ پارے پوسٹ کر سکتے ہیں۔ مستقبل میں انشاءاللہ ہم ایک باقاعدہ آن لائن جریدہ تشکیل دیں گے۔ اس مقصد کے لیے ابھی ہمیں تکنیکی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی اصحاب اس کی ادراتی ذمہ داری سنبھالنا چاہیں تو وہ بخوشی ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ فی الحال انٹرنیٹ پر موجود اردو ادب سے وابستہ گروپ جیسے کہ یاہوکے اردو رائٹرز اور افسانہ نگار گروپ کے لیے ہماری محفل کے ادبی فورم ایک اچھا متبادل پلیٹ فارم مہیا کرسکتے ہیں۔

میں اور میرے دوست کئی مرتبہ اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ ہم ہر قسم کے مذہبی تعصبات سے بالا ہو کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ اسکے باوجود اگر کوئی صاحب سمجھتے ہیں کہ یہاں مذہبی موضوعات پر صحت مند گفتگو ہو سکتی ہے تو اس سلسلے میں ہم آپ کی تجاویز کو خوش آمدید کہیں گے۔ ذیل میں میں اپنی مجوزہ فورمز کی لسٹ فراہم کر رہا ہوں۔ آپ لوگوں کو دعوت دی جاتی کہ اس سلسلے میں آپ یہاں اپنی تجاویز فراہم کریں۔

اردو نامہ
اس فورم پر دنیا بھر میں اردو سے متعلقہ ہونے والے اہم واقعات کی خبریں موجود ہوں گی۔ اس کی مثال مختلف کانفرینسز اور مشاعرہ جات ہیں۔ اس میں پاکستان اور ہندوستان کی تفریق نہیں ہوگی۔ اس طرح دبئی والے شعیب کی شکایت دور ہو جائے گی۔

کیٹگری اردو کمپیوٹنگ
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، یہاں اردو اور انفامیشن ٹیکنالوجی سے متعلقہ موضوعات پر معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔ میری دانست میں اس کیٹگری میں یہ فورمز شامل ہوں گی؛
کمپیوٹر پر اردو سیٹ اپ
اردو سافٹ ویر
اردو ایپلیکیشن پروگرامنگ
اردو کمپیوٹنگ سٹینڈرڈز
 

جیسبادی

محفلین
اردو لمپوٹنگ

جی اردو کمپوٹنگ کا فورم جلدی شروع کر دیں۔ اعجاز صاحب سے درخواست ہے کہ اس سلسلے میں راہنمائی کا ذمہ سنبھالیں۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
قدیر: میرے خیال میں پہلے لوگوں کی آراء اکٹھی کر لی جائیں، اس کے بعد کیٹگریزاور فورمز بنا لیں گے۔ اردو کمپیوٹنگ کے بارے میں تو واضح ہے کہ یہ کیٹگری ہونی چاہیے۔ ایک کیٹگری الگ سے ٹیکنالوجی کے بارے میں خبروں اور ٹیوٹوریلز پر مشتمل ہونی چاہیے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہاں بھی ٹیک ٹاک پاکستان کی طرز پر ٹیوٹوریل پوسٹ ہوں۔محض PHP پر گفتگو کے لیے ایک فورم مناسب نہیں ہے۔ اسے ایک جنرل پروگرامنگ پر ڈسکشن کے فورم میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ میرے خیال میں ایک پرائیویٹ فورم اس فورم اور اردو ویب کا انتظام کرنے والے لوگوں کے لیے بھی ضروری ہے جہاں وہ مستقبل کا لائحہ عمل طے کر سکیں۔

ابھی تک اس محفل کے تین فوکس سامنے آئے ہیں۔

  • *انفارمیشن ٹیکنالوجی
    *اردو کمپیوٹنگ
    *اردو ادب

ابھی تک مجھ پر یہ واضح نہیں ہے کہ سیاسی، مذہبی اور نظریاتی موضوعات کو کس طرح اکاموڈیٹ کیا جائے۔اس سلسلے میں آپ کی آراء درکار ہیں۔

جہاں تک اردو کمپیوٹنگ کا تعلق ہے تو اگر مجھے اپنی فراہم کی گئی لسٹ میں تبدیلی کی کوئی تجویز نہیں ملتی تو میں یہ کیٹگری اسی طرح شامل کر دوں گا۔
 

جیسبادی

محفلین
ارتقاء

بہت سے موضوعات پر "گپ شپ" کے اندر بات چیت ہو سکتی ہے۔ اس میں سیاست، نظریاتی، وغیرہ شامل ہیں۔ جب آپ محسوس کرو کہ گپ شپ میں ایک خاص موضوع پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے تو اس کی علیحدہ صنف بنا دو۔ شروع میں بہت سے فورم بنا دینا جہاں کوئی کچھ نہیں لکھ رہا ہو گا مفید نہیں۔ دوسرے الفاظ میں چوپال کو اِرتقائی مراحل سے گزرنے دیا جائے۔
وسلام۔
 

منہاجین

محفلین
ابھی آغاز محبت ہے ذرا دم تو لو۔۔۔

ابھی آغازِ محبت ہے ذرا دم تو لو . . .

یہاں میں جیسبادی کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں۔ اگر وقت کے ساتھ ساتھ کسی موضوع پر مواد بڑھتا چلا جائے تو آپ اسے نئی چوپال میں منتقل کر سکتے ہیں، مگر واضح رہے کہ کسی بھی خط کی منتقلی کے وقت اس کا سایہ پرانی چوپال میں ضرور چھوڑتے جائیے گا تاکہ ہم جیسے بھولے بھٹکے بآسانی منزل تک پہنچ سکیں۔
 

اجنبی

محفلین
چوپال؟؟؟

چوپال کا لفظ ویسے تو ٹھیک ہے مگر صنف میں کچھ کچھ چوپائے کے لفظ سے ملتا ہے اس لیے ذہن اسے کچھ کچھ قبول نہیں کرتا ۔ ویسے آپ لوگوں کے تخیلات بہت زبردست ہیں
 

ثناءاللہ

محفلین
گبھرائیے نہیں

محترم جناب سربراہان ویب سائٹ
السلام علیکم۔۔۔!
آپ یقین کریں کہ یہ ویب سائیٹ دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا کہ ماشاءاللہ اردو کا ایسا فورم بھی موجود ہے۔ برحال آج پہلی دفعہ لکھ رہا ہوں امید ہے کہ آپ حوصلہ افزائی کریں گے۔ اردو زبان برصغیر پاک و ہند کی مقبول ترین زبان ہے۔اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اور آپ نے جو اس کو انٹرنیٹ پر فروغ دینے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے لائق صد تحسین ہے۔ آپ گبھرائیں نہیں اردو ایک مکمل زبان ہے۔ اس کی اصطلاحات کا کھل کر استعمال کریں۔ یہی چراغ سے چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔ اسی طرح اردو زبان زندہ ہو گی۔
شکریہ
 

منہاجین

محفلین
کچھ کچھ چوپال کے بارے میں ۔ ۔ ۔

ابھی میں کچھ کچھ اردو اصطلاحات استعمال کر رہا ہوں تاکہ ملاحظین کی طبعِ نازک پر ثقیل نہ ہو۔ قدیر جیسے کچھ کچھ لوگ اگرچہ اسے قبولنے میں کچھ کچھ تامل سے کام لے رہے ہیں، تاہم ثناء اللہ جیسے کچھ کچھ احباب اردو کی اصطلاحات کا کھل کر استعمال کرنے کا مشورہ بھی دے رہے ہیں۔ چراغوں کا زمانہ اگرچہ کچھ کچھ گزر چکا ہے مگر پھر بھی ہمارا کچھ نہ کچھ ربط اُس دور سے ابھی باقی ہے۔

ویسے مجھے کچھ کچھ افسوس ہوا مرحوم کی جراتِ بیان پر کہ اردو کی تعریف میں کچھ کچھ ایسے بلیغ اللساں ہوئے کہ اسے "زندہ کرنے" کی بات کرنے لگے۔ بھلا بندہ پوچھے زندہ تو اسے کریں جو مردہ ہو!!!

چوپال بارے قدیر کی رائے سے میں کچھ کچھ اختلاف کرتا ہوں، وہ اس لئے کہ اس کی شکل چوپائے سے نہیں چوراہے سے ملتی ہے، جہاں کچھ کچھ لوگ فارغ اوقات میں بیٹھ کر گپیں شپیں ہانکا کرتے ہیں نہ کہ چوپایوں کو۔

اب اگر کچھ کچھ لوگوں کا ذہن اسے نہیں قبولتا تو انہیں اپنی ثقافت کا کچھ کچھ مطالعہ کرنا چاہیئے، اس سے یقیناً کچھ نہ کچھ افاقہ ہو گا۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
منہاجین: جہاں تک اصطلاحات کا تعلق ہے، اس بارے میں لوگ مختلف آراء کے حامل ہیں۔ میں جو کچھ کہتا ہوں وہ ذاتی حیثیت میں رہ کے کہتا ہوں کیونکہ میں کوئی ماہر لسانیات نہیں ہوں۔ اور میری ذاتی رائے یہی ہے کہ عام استعمال کی اردو میں بے دریغ عربی اور فارسی الفاظ شامل کرنے سے زبان کی کوئی خدمت نہیں ہوگی۔ اب کون سمجھے گا کہ مقیاس گر کا مطلب تھرمامیٹر ہے۔ اسی طرح اردو کو انٹرنیٹ ریڈی کرنے کی خاطر اس کو over simplify کرنا بھی زبان کا حلیہ بگاڑنے کے مترادف ہوگا۔

خوش قسمتی سے اس محفل میں اچھے اردو دان موجود ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ ان کی موجودگی ایک قابل استعمال اور اچھی اردو کو رائج کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
 

اجنبی

محفلین
واہ واہ

محترم جناب منہاجین صاحب ۔۔۔

اب آپ جیسے گھاگ اردو دانوں کے سامنے مبتدی کی کہاں چلنی ہے ۔ ماشاءاللہ آپ تو فصاحت و بلاغت کا عملی نمونہ اور ہمارے لیے مثال ہیں ۔ ملاحظین کے طبعِ نازک تو شاید ثقیل نہیں ہے مگر لگتا ہے کہ راقمین کی تحریریں بھی عقیل نہیں ہیں ۔ قبلہ چوپال کا لفظ “قبولنے“ میں کوئی تامل نہیں ہے اگرچہ تمام الفاظ اردو کے قبیل سے ہی تعلق رکھتے ہیں مگر کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن سے عوام واقفیت رکھتی ہے اس لیے انہیں ہی شمعِِ محفل بنانا پڑتا ہے ، غیر معروف الفاظ عام طور پر چوپال میں مستعمل نہیں ہوتے ۔ :lol:
 

منہاجین

محفلین
اردو اصطلاحات بارے ایک تنقیدی جا

چلو شکر ہوا نبیل نے نئی جھڑپ کے لئے کوئی موضوع تو فراہم کیا۔ سب سے پہلے میں صابر سے درخواست کروں گا کہ وہ اس بار ہمیں چھڑانے نہ آئے۔ اور قدیر بھائی تو مجھ سے پہلے ہی ٹپک پڑے، اب ان سے بھی دو دو ہاتھ کرنا پڑیں گے۔

اصطلاحات گھڑنا اور مسلط کرنا ۔ ۔ ۔ بری بات ۔ ۔ ۔ اس سے کوئی ذی شعور اتفاق نہیں کر سکتا۔ اصطلاح کسی معاشرے کے اجتماعی شعور سے جنم لیتی ہے جسے تبدیل کرنا قریب قریب ناممکن ہوتا ہے۔ جیسے مختلف علاقوں کے نام، جنہیں سیاسی وجوہ کی بنا پر بڑے لوگ تبدیل کر کے اپنے نام سے موسوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تبدیلی نام بارے بڑے بڑے کتبے لگاتے ہیں، مگر ان کا سرمایہ دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے اور نام وہی رہتا ہے جو قوم کے اجتماعی شعور سے وارد ہوا ہوتا ہے۔

یہ بات بجا ہے کہ ایجادات کے ناموں کو اردو میں ترجمہ کرنا کارِ عبث ہے۔ قوم ان ایجادات کو ان کے اصلی ناموں سے ہی پکارے گی۔ تھرمامیٹر تھرمامیٹر ہی رہے گا اسے مقیاس گر بنانے کی کوشش رائگاں رہے گی۔ سیدھی سی بات ہے، بچے کا نام کیا رکھنا ہے اس بات کا فیصلہ اس کے ماں باپ ہی کرتے ہیں، کسی غیر کو کوئی اختیار نہیں کہ اس بارے کوئی فیصلہ دے۔ وہ بچہ کسی بھی ملک میں چلا جائے اسے اسی نام سے لکھا اور پکارا جاتا ہے۔ بنا بریں موجد نے جس ایجاد کو جس نام سے موسوم کیا وہی نام بہترین ہے۔ ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ ممکن ہو تو اسے اردو حروف تہجی میں لکھ لیں، اور بس۔

جن قارئین کو بچے کے نام والی مثال اچھی لگی وہ اس پر بھی غور کریں کہ بعض اوقات بچے کا نام رکھا تو کچھ اور جاتا ہے جبکہ اسے پیار سے کسی اور نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ دوسرا نام صرف اس کے گھر والے اور قریبی یاروں دوستوں کے استعمال میں ہوتا ہے۔ ایسے ہی اگر کوئی قوم بعض ایجادات کے کثرتِ استعمال کے باعث انہیں مقامی زبان میں کسی اور نام سے موسوم کر لے تو یہ بھی اس کا حق ہے۔ لیکن ایسا بھی اجتماعی شعور کی بدولت ہی ممکن ہے، کوئی انفرادی کوشش اس بارے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔

لیکن ایک بات سے مفر نہیں کہ اگر پوری قوم ایک ساتھ کسی تبدیلی پر آمادہ ہو جائے تو اسے کوئی روک نہیں پاتا۔ فیصل آباد کو ہی لے لیجئے، اچھے بھلے لائل پور کو یونہی بیٹھے بٹھائے فیصل آباد سے موسوم کر دیا گیا اور لائل پور قصہء پارینہ ہو گیا۔ اب نئی نسل صرف کتبِ تاریخ میں ہی لائل پور کو دیکھ پاتی ہے اور کوئی بھی اسے لائل پور نہیں کہتا۔

اب ڈرتے ڈرتے ایک اور بات بھی کرتا چلوں کہ "چوپال" عربی یا فارسی لفظ نہیں ہے۔ اور ایسے بعض الفاظ کو اردو متبادل کے طور پر متعارف کروانے کی ذمہ داری ہماری ہی ہے۔ اگر ہم مقامی الفاظ کو استعمال کرنے سے ہچکچائیں گے اور انگریزی الفاظ کو بے تحاشا اردو میں شامل کرتے چلے جائیں تو کیا زبان کا حلیہ "محفوظ" رہتا ہے؟؟؟

دراصل یہ ایک عجیب سوچ ہے کہ مغرب سے آنے والی ہر اصطلاح، ہر نظریہ اور ہر سطح کی ثقافتی آلودگی بنا چانچ پرکھ ہمیں قابلِ قبول ہو جاتی ہے اور دوسری طرف عربی، فارسی اور ہندی کے وہ الفاظ جو اردو زبان کی اصل ہیں ان سے ہم خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔

میری دانست میں اس خوف کو دور کرنا اردو کی بہترین خدمت ہے۔

اور رہی قدیر کی بات کہ "کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن سے عوام واقفیت رکھتی ہے اس لیے انہیں ہی شمعِِ محفل بنانا پڑتا ہے" تو پھر چھوڑ دیجئے اردو کی خدمت کا خیال اور بہنے دیجئے اس ناؤ کو تھپیڑوں کے سنگ۔ طوفانِ بدتمیزی اسے جدھر چاہے لئے جائے۔

اگر قوم کو آپ کی طرف سے اردو کی خدمت میں امید کی ایک کرن نظر آئی ہے تو اسے مت بجھائیے۔ یاد رکھیں آپ اس ویب کی صورت میں "میڈیا" ہیں اور قوم کی رہنمائی کا فریضہ حکمرانوں کے بعد سب سے زیادہ "میڈیا" پر لاگو ہوتا ہے۔ آپ قوم کو رستہ دکھانے والے اور اجتماعی قومی شعور کی رہنمائی کرنے والے لوگ ہیں۔ اگر آپ بھی "مغرب زدہ اردو" کے نمائندہ قرار پا گئے تو اردو کا اللہ ہی حافظ۔ احساسِ کمتری اور معذرت خواہانہ رویئے سے نکلے بغیر اردو کی خدمت، چہ معنیٰ دارد؟


:( :( :( :( :( :( :( :( :( :(
 

ثناءاللہ

محفلین
اردو اصطلاحات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔

جناب منھاجین آپ کی باتیں اپنی جگہ درست لیکن میں اپنے موقف میں اپنی جگہ صحیح ھوں۔ زبان کسی ایک شخص کی نہیں پوری قوم کی ترجمان ہوتی ہے۔ جب اس کے بولنے والے خود ہی اس سے پیچھا چھڑانے کی بات کریں تو اس نے مردہ نہیں ہونا تو اس کا شمار زندوں میں بھی نہیں ہو گا۔( قدیر صاحب سے معذرت کے ساتھ ) کے جب چوپال کو چوپائے سے جوڑا جائے گا تو اس نے مردہ ہی ھونا ہے۔ مجھے یہاں مستنصر حسین تاڑر یاد آ رہے ھیں “اپنی زبان اور تن کا لباس اتار کر مغربی چھیتٹرے زیب تن کر لینا احساس کمتری کی علامت تو ھو سکتا ہے جدید اور ترقی کی نہیں“
رہی بات عربی اور فارسی کی اصطلاحات کا استعمال تو اس کے لیے ہمیں دو طرف دیکھنا پڑے گا ایک اردو کی تاریخ کو اور دوسرا زبانوں کی تاریخ کو اگر اردو تاریخ کی طرف دیکھیں تو جس طرح عربی زبان کا ماخذ زبانیں عبرانی اور سریانی ہیں، ہندی زبان کی ماخذ زبانیں سنکرت اور پالی ہیں اور خود انگریزی زبان کی ماخذ زبانیں فرانسیسی، لاطینی اور دیگر قدیم یورپی زبانیں ہیں، اسی طرح اردو زبان کا کثیر مواد تقریباَ ساٹھ فیصد فارسی اور عربی سے لیا گیا ہے۔اور اس کی ترکیب ہندی ہے (جملے کی ساخت)

اب دوسری طرف آتے ہیں دنیا میں رائج رسم الخط تین طرح کے ہیں۔

١۔ رومن رسم الخط
اس رسم الخط میں انگریزی، فرانسیسی۔ لاطینی، روسی اور دیگر مغربی زبانیں شامل ہیں

٢۔ چینی رسم الخط
اس رسم الخط میں چینی، کورین، جاپانی، سنسکرت، پالی، بنگالی اور دیگر مشرقی زبانیں شامل ہیں۔

٣۔ عربی رسم الخط
اس رسم الخطم میں عربی، فارسی، اردو اور ترکش شامل ہیں اور مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اتا ترک کے بعد ترکی کے لوگ عربی رسم الخط کو خدا حافظ کہ چکے ہیں۔

اب اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اردو کا شمار عربی رسم الخط کی زبانوں میں ہوتا ہے۔ عربی اور فارسی زبانوں سے اصطلاحات لینا چنداں مشکل نہیں ہے۔ اردو بچاری کا محض اتنا قصور ہے کہ یہ دیگر زبانوں کے مقابلے میں نوزائیدہ ہے۔ اور دوسرا اس کا قصور یہ ہے کہ۔ اس کی پیدائش بادشاہوں کے درباروں میں اور اس کی پرورش غلامی کے دور میں ہوئی ہے۔ اس کے بولنے والے (خواہ ہندو ہوں یا مسلمان) غلامانہ ذہنیت رکھتے ہیں، ختٰی کہ آزادی کے بعد بھی ذہنی طور پر آزاد نہیں ہوئے۔

میں آپ کو ایک چھوٹی سی بات بتائوں کہ میرے کچھ دوست کوریا گئے جب واپس آئے تو میں نے ان سے وہاں کی ثقافت کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے مجھ بتایا کہ وہاں انگریزی یا دوسری کوئی بھی غیر ملکی زبان بولنا اور غیر ممالک کی بنی ھوئی اشیا استعمال کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔

جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ہماری زبان کا تعلق عربی رسم الخط سے ہے ۔ لہٰذا عربی اور فارسی الفاظ بطور اصطلاحات استعمال کرنا زیادہ اچھا ہے نسبتاََ انگریزی اور دیگر زبانوں کے۔

آئیے عہد کریں کہ اپنی شناخت بحال کریں اور اپنے ازہان سے غلامی کی ہر یاد خس و خاشاک کی طرح بہا دیں۔اور یہ کام ہم اسی فورم سے بارش کے پہلے قطرے کے طور پر سر انجام دیں۔
شکریہ

۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
آپ حضرات کے اظہار خیال کا شکریہ۔ میں پھر اپنی ناقص رائے کا مختصر اظہار کرکے غائب ہوجاؤں گا۔ اس مرتبہ میری گزارش یہ ہے کہ زبانیں وقت کے ساتھ ارتقاء کی منزلیں طے کرتی ہیں۔ مختلف ثقافتوں کے interaction سے زبانیں ایک دوسرے کے الفاظ کو اپنا لیتی ہیں۔ جو تہذیب زمانے میں علم و فن کا مرکز ہوتی ہے وہ دوسرے کلچرز اور زبانوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ انگریزی زبان کے کئی الفاظ کا ماخذ عربی زبان ہے۔ اس کی ایک مثال ایڈمرل ہے جو کہ امیرالبحر سے بنا ہے۔ یہ معاملہ تمام لاطینی زبانوں کے ساتھ ہے جن میں زمانے کے ساتھ ساتھ ذخیرہ الفاظ اور گرامر کے قواعد میں تبدیلی آتی رہی۔ اسی لیے میں اردو میں عربی اور فارسی الفاظ کے استعمال پر اصرار کو جذباتیت کا مظہر اور حقیقت پسندی سے دوری ہی قرار دوں گا۔

بائی دا وے یہ ایک دلچسپ بحث ہے۔ اسے جاری رہنا چاہیے، ہو سکتا ہے ہم کسی نتیجے پر پہنچ جائیں۔
 

صابرحسین

محفلین
دلچسپ بحث

یہاں تو دلچسپ بحث چل رہی ہے

امید ہے اس دلچسپ بحث سے کوئی بہتر نتیجہ سامنے آئے گا سب ممبران کو چاہیے اس پربھر پور آراء دیں۔ شکریہ
 

جیسبادی

محفلین
منہاجین نے ایجادات کے ناموں کا مسلئہ اٹھایا ہے۔ اس میں واقعی کچھ اصطلاحات من و عن ہی اردو میں شامل ہونگی۔ مگر میری تجویز ہے کہ ایسی اصطلاحات کے ہجے کرتے وقت انہیں اردو میں ڈھال لیا جائے جو کہ قُدماء کا طریقِ کار رہا ہے۔ مثلاً برطانیہ اور بریٹن۔ انہی خطوط پر "کمپیوٹر" کی بجائے، میں "کمپوٹر" لکھتا ہوں۔ یعنی غیر ضروری "ی" سے بچا جائے۔

ًًً
 

منہاجین

محفلین
نبیل کا فرار

نبیل نے کہا:
بائی دا وے یہ ایک دلچسپ بحث ہے۔ اسے جاری رہنا چاہیے، ہو سکتا ہے ہم کسی نتیجے پر پہنچ جائیں۔

خود تو فرار ہو گئے ہو اور ہمیں بحث جاری رکھنے کا مشورہ! جب کسی چوپال کے منتظمین ہی ایسے سنجیدہ موضوعات سے کنی کترانے لگیں تو عام صارفین اسے کیونکر آگے بڑھائیں؟
 

ثناءاللہ

محفلین
پڑھیے ترقی کا راز

نبیل صاحب لگتا ہے کہ آپ پانی کے پرندے ہیں جو ایک دفعہ نظر آنے کے بعد پھر غائب ہو جاتے ہیں “اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے“ ویسے محسوس نہیں کرنا اپنی مثال بھی ایسی ہی ہے۔ ہم تو پھر کسی رعایت کے مستحق ہو سکتے ہیں لیکن آپ نہیں۔
بہر حال ہم نے پہلے بھی لمبی چوڑی تحریر لکھی لیکن آپ ارتقاء کا کہہ کر پھر غائب ہو گے۔ اب آپ کی نظر ایک اور تحریر ہے آپ کے اور باقی تمام احباب کے جواب کا منتظر رہوں گا
لنک درج ذیل ہے۔
http://www.urduweb.org/mehfil/viewtopic.php?t=136
 

اجنبی

محفلین
یعنی آپ نے نبیل کو طائر بنا دیا ، آپ انہیں اہلِ ایمان بھی تو بنا سکتے تھے جو صورتِ خورشید جیتے ہیں
 
Top