فراز آنسو نہ روک دامنِ زخمِ جگر نہ کھول - فراز

فرخ منظور

لائبریرین
آنسو نہ روک دامنِ زخمِ جگر نہ کھول
جیسا بھی حال ہو نگہء یار پر نہ کھول

جب شہر لُٹ گیا ہے تو کیا گھر کو دیکھنا
کل آنکھ نم نہیں تھی تو اب چشمِ تر نہ کھول

چاروں طرف ہیں دامِ شنیدن بچھے ہوئے
غفلت میں طائرانِ معانی کے پر نہ کھول

کچھ تو کڑی کٹھور مسافت کا دھیان کر
کوسوں سفر پڑا ہے ابھی سے کمر نہ کھول

عیسیٰ نہ بن کہ اس کا مقدر صلیب ہے
انجیلِ آگہی کے ورق عمر بھر نہ کھول


امکاں میں ہے تو بند و سلاسل پہن کے چل
یہ حوصلہ نہیں ہے تو زنداں کے در نہ کھول

میری یہی بساط کہ فریاد ہی کروں
تو چاہتا نہیں ہے تو بابِ اثر نہ کھول

تُو آئینہ فروش و خریدار کور چشم
اس شہر میں فراز دکانِ ہنر نہ کھول

(احمد فراز)
 

فرحت کیانی

لائبریرین
جب شہر لُٹ گیا ہے تو کیا گھر کو دیکھنا
کل آنکھ نم نہیں تھی تو اب چشمِ تر نہ کھول

عیسیٰ نہ بن کہ اس کا مقدر صلیب ہے
انجیلِ آگہی کے ورق عمر بھر نہ کھول

تُو آئینہ فروش و خریدار کور چشم
اس شہر میں فراز دکانِ ہنر نہ کھول


واہ۔ بہترین انتخاب :)
بہت شکریہ سخنور!
 

فرخ منظور

لائبریرین
جب شہر لُٹ گیا ہے تو کیا گھر کو دیکھنا
کل آنکھ نم نہیں تھی تو اب چشمِ تر نہ کھول

عیسیٰ نہ بن کہ اس کا مقدر صلیب ہے
انجیلِ آگہی کے ورق عمر بھر نہ کھول

تُو آئینہ فروش و خریدار کور چشم
اس شہر میں فراز دکانِ ہنر نہ کھول


واہ۔ بہترین انتخاب :)
بہت شکریہ سخنور!

بہت شکریہ فرحت کیانی!
 

فرخ منظور

لائبریرین
بہت شکریہ سارہ خان!

بہت ہی خوب لاجواب انتخاب، سخنور صاحب شکریہ۔
بہت شکریہ راجا صاحب!

تُو آئینہ فروش و خریدار کور چشم
اس شہر میں فراز دکانِ ہنر نہ کھول


بہت ہی عمدہ غزل ہے۔

بہت شکریہ!

جی ہاں احمد صاحب فراز کی پسندیدہ ترین غزلوں میں سے ایک - بہت شکریہ پسندیدگی کے لیے -
 

جیا راؤ

محفلین
آنسو نہ روک دامنِ زخمِ جگر نہ کھول
جیسا بھی حال ہو نگہء یار پر نہ کھول

امکاں میں ہے تو بند و سلاسل پہن کے چل
یہ حوصلہ نہیں ہے تو زنداں کے در نہ کھول

بہت خوبصورت غزل ہے !
شئیر کرنے کا بہت شکریہ
:)
 

فرخ منظور

لائبریرین
آنسو نہ روک دامنِ زخمِ جگر نہ کھول
جیسا بھی حال ہو نگہء یار پر نہ کھول

امکاں میں ہے تو بند و سلاسل پہن کے چل
یہ حوصلہ نہیں ہے تو زنداں کے در نہ کھول

بہت خوبصورت غزل ہے !
شئیر کرنے کا بہت شکریہ
:)

بہت شکریہ جیا راؤ!
 
Top