آزادی افکار

کل میں نے اس محفل میں کچھ وقت گزارا جس سے مجھے کافی کچھ سیکھنے کو ملا لہذا میں نے سوچا کہ کیوں نہ اسے اپنے جیسے نو وارد حضرات سے شئیر کر لیا جائے تاکہ مستقبل میں میرا تجربہ کسی کے کام آسکے۔
پہلی بات جو میں نے سیکھی وہ یہ ہے کہ یہاں سیدھی اور سادہ بات یا سوال نہیں کرنا چاہیے۔کل میری سادگی کی وجہ سے میرے ساتھ جو ہوا سو ہوا اس محفل میں موجود میری پسندیدہ ترین ہستی کو بھی میری وجہ سے خفت کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری بات جو میں نے سیکھی وہ یہ کہ اگر کسی بات کا جواب نہ آتا ہو تو الٹا سوال داغ دینا چاہیے۔
تیسری بات یہ کہ آپ کی بات میں دم ہو یا نہ ہو الفاظ میں دم ہونا چاہیے۔مشکل ترین الفاظ کا چناوء کرنا چاہیے تاکہ آپ کی قابلیت نمایاں ہو۔
آخری بات یہ کہ بات اتنی گھما پھرا کے کرو کہ مخاطب قائل نہ بھی ہو تو کنفیوژ ضرور ہو جائے۔
ان تاثرات کے نتیجے میں 'میں'نے آج علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب بال جبریل سے ایک نظم کا انتخاب کیا ہے جس کاعنوان ہے آزادی افکار۔
جو دونی فطرت سے نہیں لائق پرواز
اس مرغک بےچارہ کا انجام ہے افتاد
ہر سینہ نشیمن نہیں جبریل امیں کا
ہر فکر نہیں طائر فردوس کا صیاد
اس قوم میں ہے شوخیء اندیشہ خطرناک
جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
گو فکر خداداد سے روشن ہے زمانہ
آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد
 
حد سے زیادہ سادہ بات ہر جگہ رسوا ہی کرتی ہے، زیادہ نہیں تو تهوڑا بہت طرار انسان کو ضرور ہونا چاہیے. دنیا میں رہنے کے لیے دنیا سے واقفیت ضروری ہے. آپ کے سوالات اتنے سادہ تهے کے ان پر اور ہی گماں گزر رہا تها. مشکل الفاظ اگر ہر شخص چن سکتا تو ضرور چنتا. ثقالت کا ایک اپنا لطف ہے. بات کو گهمانا پهرانا بهی فن کاری ہے ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں.
اقبال کی نظم سے مجهے شدید اختلاف ہے ، اگر ان سے انگریزی میں اسی موضوع پر رائے طلب کی جاتی تو شاید جواب زیادہ قابل قبول ہوتا. نظم اور " بر غالب ناکام چہ رفت" کا کوئی خاص ربط بهی مجهے محسوس نہیں ہوا.
 

محمد وارث

لائبریرین
آپ بالکل فکر نہ کریں قبلہ، بلکہ چند دن یہاں رہ کر ذرا یہاں کی چلت پھرت کو محسوس کریں۔ بہت دوستانہ ماحول ہے اور اسی وجہ سے ہر کسی کی رگِ ظرافت یہاں پھڑکتی ہی رہتی ہے بشمول اس خاکسار کے :)

آپ جب عادی ہو جائیں گے تو اس رنگ میں رنگ میں‌ جائیں، پھر نہ اپنا رنگ سادہ رہے گا نہ دوسروں کا کچھ زیادہ ہی آنکھوں کو چبھنے والا رنگین پن :)

آپ کو بجائے علامہ کے مصطفی زیدی کا شعر لکھنا چاہیے تھا

ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے
اپنی طرح سے کوئِی اکیلا نہیں ملا :)
 
اپنی سادگی کا
آپ بالکل فکر نہ کریں قبلہ، بلکہ چند دن یہاں رہ کر ذرا یہاں کی چلت پھرت کو محسوس کریں۔ بہت دوستانہ ماحول ہے اور اسی وجہ سے ہر کسی کی رگِ ظرافت یہاں پھڑکتی ہی رہتی ہے بشمول اس خاکسار کے :)

آپ جب عادی ہو جائیں گے تو اس رنگ میں رنگ میں‌ جائیں، پھر نہ اپنا رنگ سادہ رہے گا نہ دوسروں کا کچھ زیادہ ہی آنکھوں کو چبھنے والا رنگین پن :)

آپ کو بجائے علامہ کے مصطفی زیدی کا شعر لکھنا چاہیے تھا

ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے
اپنی طرح سے کوئِی اکیلا نہیں ملا :)
بہت شکریہ جناب من!آپ کی رائے میرے لیے قابل احترام ہے
 
حد سے زیادہ سادہ بات ہر جگہ رسوا ہی کرتی ہے، زیادہ نہیں تو تهوڑا بہت طرار انسان کو ضرور ہونا چاہیے. دنیا میں رہنے کے لیے دنیا سے واقفیت ضروری ہے. آپ کے سوالات اتنے سادہ تهے کے ان پر اور ہی گماں گزر رہا تها. مشکل الفاظ اگر ہر شخص چن سکتا تو ضرور چنتا. ثقالت کا ایک اپنا لطف ہے. بات کو گهمانا پهرانا بهی فن کاری ہے ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں.
اقبال کی نظم سے مجهے شدید اختلاف ہے ، اگر ان سے انگریزی میں اسی موضوع پر رائے طلب کی جاتی تو شاید جواب زیادہ قابل قبول ہوتا. نظم اور " بر غالب ناکام چہ رفت" کا کوئی خاص ربط بهی مجهے محسوس نہیں ہوا.
اپنی سادگی کا مجھے احساس ہے اس کا اعتراف بھی میں کر چکا ہوں۔میں طرار نہیں ہوں زمانہ ساز نہیں ہوں یہ بھی ٹھیک ہے۔ثقیل الفاظ نہیں چن سکتا میں یہ بھی مانتا ہوں۔بات کو گھما پھرا کے کرنا اگر فن ہے تو میں اس فن سے دور ہی اچھا۔
مگر یہ جو آپ نے کہا کہ مجھے اقبال کی نظم سے شدید اختلاف ہے تو اس بات پر مجھے آپ سے شدید ترین اختلاف ہے۔اپنے اختلاف کی وجہ واضح کریں ورنہ چاند پر تھوکنے کی سعی نہ کریں۔
بلندوبال تھا لیکن نہ تھا جسوروغیور

حکیم سر محبت سے بے نصیب رہا

اڑا فظاوءں میں کرگس اگرچہ شاہیں وار

شکارزندہ کی لذت سے بے نصیب رہا
 
آخری تدوین:
قبلہ وارث صاحب سے متفق ہوں۔ اور اتنی گزارش ہے۔ کہ یہ ایک عوامی فورم ہے جہاں صرف پاکستان سے ہی نہیں دنیا بھر کے احباب مختلف شعبہ جات اور مختلف مشاغل رکھنے والے موجود ہیں۔ نہ کوئی طرار ہے اور نہ فن کار۔ ہاں اپنے میں آپ میں سبھی فن کار بھی ہوتے ہیں اور طرار بھی۔ لہذا جو کوئی کچھ بھی کہے، وہ اس کی ذاتی رائے ہوگی۔ اور عوامی فورم پہ ہر کسی کو حدود قیود کے اندر رہتے ہوئے رائے دہی کی آزادی ہے۔
آپ سے گزارش یہ ہے کہ کسی بھی بات سے دلبرداشتہ نہ ہوئیے گا۔ لکھتے خوب ہیں سو اپنی آراء و خیالات کا ظہار و ابلاغ جاری رکھیے گا۔ کجا اس سے کہ کون کیا کہتا ہے۔

گلہ نہیں کہ گریزاں ہیں چند پیمانے
نگاہ یار سلامت ہزار میخانے۔۔۔۔

پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن​
مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغ چمن
اپنے من میں ڈوب کے پا جا سراغ زندگی​
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن ، اپنا تو بن​
 
قبلہ وارث صاحب سے متفق ہوں۔ اور اتنی گزارش ہے۔ کہ یہ ایک عوامی فورم ہے جہاں صرف پاکستان سے ہی نہیں دنیا بھر کے احباب مختلف شعبہ جات اور مختلف مشاغل رکھنے والے موجود ہیں۔ نہ کوئی طرار ہے اور نہ فن کار۔ ہاں اپنے میں آپ میں سبھی فن کار بھی ہوتے ہیں اور طرار بھی۔ لہذا جو کوئی کچھ بھی کہے، وہ اس کی ذاتی رائے ہوگی۔ اور عوامی فورم پہ ہر کسی کو حدود قیود کے اندر رہتے ہوئے رائے دہی کی آزادی ہے۔
آپ سے گزارش یہ ہے کہ کسی بھی بات سے دلبرداشتہ نہ ہوئیے گا۔ لکھتے خوب ہیں سو اپنی آراء و خیالات کا ظہار و ابلاغ جاری رکھیے گا۔ کجا اس سے کہ کون کیا کہتا ہے۔

گلہ نہیں کہ گریزاں ہیں چند پیمانے
نگاہ یار سلامت ہزار میخانے۔۔۔۔

پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغ چمن
اپنے من میں ڈوب کے پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن ، اپنا تو بن​
حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ بھائی جان۔
میں دلبرداشتہ نہیں ہوں بس انداز ہی ایسا ہے۔

میری نوا میں نہیں ہے ادائے محبوبی
کہ بانگ صور صرافیل دلنواز نہیں
ہوئی نہ عام زمانے میں کبھی حکومت عشق
سبب یہ کیا ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں
اک اضطراب مسلسل غیاب ہو کہ حضور
میں خود کہوں تو مری داستاں دراز نہیں
 
مگر یہ جو آپ نے کہا کہ مجھے اقبال کی نظم سے شدید اختلاف ہے تو اس بات پر مجھے آپ سے شدید ترین اختلاف ہے۔اپنے اختلاف کی وجہ واضح کریں ورنہ چاند پر تھوکنے کی سعی نہ کریں۔
آپ کو معلوم ہے کہ آزادیء افکار کیا ہے؟
کس قدر تنگ نظر ہے وہ شخص جو کسی دوسرے کو افکار کی آزادی دینے کو تیار نہیں ہے. جب قدرت نے ہر ذہن کو مختلف پیدا کیا تو وہ کون ہوتا ہے آزادیء افکار کو دبانے والا؟
آزادیء افکار کی مخالفت عدم برداشت ہے اور عدم برداشت کے سوا ہر چیز برداشت کی جا سکتی ہے.
 
خیر علامہ اپنے دور کے ملاؤں کو ہر حال میں خوش رکھنا چاہتے تھے کیونکہ دانائی کا تقاضا یہی تھا ، ان کے اصل افکار یقیناً آزادیء افکار کے مخالف نہیں ہونگے.
 
آپ کو معلوم ہے کہ آزادیء افکار کیا ہے؟
کس قدر تنگ نظر ہے وہ شخص جو کسی دوسرے کو افکار کی آزادی دینے کو تیار نہیں ہے. جب قدرت نے ہر ذہن کو مختلف پیدا کیا تو وہ کون ہوتا ہے آزادیء افکار کو دبانے والا؟
آزادیء افکار کی مخالفت عدم برداشت ہے اور عدم برداشت کے سوا ہر چیز برداشت کی جا سکتی ہے.
آزادیء افکار کی بھی حدودو قیود ہوتی ہیں۔
گدھے اور گھوڑے میں فرق ہوتا ہے۔
آزادی افکار جب اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے حد سے بڑھتی ہے تو بظاہر مہذب نظر آنے والے یورپ میں آزادیء اظہار رائے کے نام پر ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے گستاخانہ خاکے بنائے جاتے ہیں جس سے کروڑہا لوگوں کی دل آزاری ہوتی ہے
 
خیر علامہ اپنے دور کے ملاؤں کو ہر حال میں خوش رکھنا چاہتے تھے کیونکہ دانائی کا تقاضا یہی تھا ، ان کے اصل افکار یقیناً آزادیء افکار کے مخالف نہیں ہونگے.
ملاوءں پر تنقید جتنی علامہ اقبال نے کی ہے شاید کسی اور نے نہ کی ہو۔اور وہ آزادیء افکار کے بالکل بھی مخالف نہیں۔نمونے کے چند اشعار دیکھئے۔
قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں گے یہ ہے چارے دو رکعت کے امام

کیا صوفی و ملا کو خبر میرے جنوں کی
انکا سر دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے

کرے گی داور محشر کو شرمسار اک روز
کتاب صوفی و ملا کی سادہ اوراقی

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذت کردار نہ افکار عمیق

حلقہء شوق میں وہ جرأت اندیشہ کہاں
آہ محقومی و تقلید و ذوال تحقیق

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق
 
خیر علامہ اپنے دور کے ملاؤں کو ہر حال میں خوش رکھنا چاہتے تھے کیونکہ دانائی کا تقاضا یہی تھا ، ان کے اصل افکار یقیناً آزادیء افکار کے مخالف نہیں ہونگے.
ملاوءں پر تنقید جتنی علامہ اقبال نے کی ہے شاید کسی اور نے نہ کی ہو۔اور وہ آزادیء افکار کے بالکل بھی مخالف نہیں۔نمونے کے چند اشعار دیکھئے۔
قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں گے یہ ہے چارے دو رکعت کے امام

کیا صوفی و ملا کو خبر میرے جنوں کی
انکا سر دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے

کرے گی داور محشر کو شرمسار اک روز
کتاب صوفی و ملا کی سادہ اوراقی

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذت کردار نہ افکار عمیق

حلقہء شوق میں وہ جرأت اندیشہ کہاں
آہ محقومی و تقلید و ذوال تحقیق

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق
 
خیر علامہ اپنے دور کے ملاؤں کو ہر حال میں خوش رکھنا چاہتے تھے کیونکہ دانائی کا تقاضا یہی تھا ، ان کے اصل افکار یقیناً آزادیء افکار کے مخالف نہیں ہونگے.
قبلہ جو آپ کہنا چاہتے وہی کہیں اپنی زبان علامہ کے منہ میں تو نہ ڈالیں، یہ آپ کا "ذاتی گمان" ہو سکتا ہے۔ علامہ کا خیال نہیں۔ اگر آپ کو اختلاف ہے سے تو ڈٹ کے کریں۔ لیکن قیاس آرائی نہ کریں۔
 
آزادیء افکار اور آزادی اظہار رائے میں بہت فرق ہے۔ علامہ نے آزادی افکار کی بات ہے۔ جبکہ یہاں غالبا موضوع آزدی اظہار رائے ہے۔
 
قبلہ جو آپ کہنا چاہتے وہی کہیں اپنی زبان علامہ کے منہ میں تو نہ ڈالیں، یہ آپ کا "ذاتی گمان" ہو سکتا ہے۔ علامہ کا خیال نہیں۔ اگر آپ کو اختلاف ہے سے تو ڈٹ کے کریں۔ لیکن قیاس آرائی نہ کریں۔
  • The republican form of government is not only thoroughly consistent with the spirit of Islam, but has also become a necessity in view of the new forces that were set free in the world of Islam.

جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

  • Such is the attitude of the modern Turk, inspired as he is by the realities of experience, and not by the scholastic reasoning of jurists who lived and thought under different conditions of life. To my mind these arguments, if rightly appreciated, indicate the birth of an International ideal, which forming the very essence of Islam, has been hitherto overshadowed or rather displaced by Arabian Imperialism of the earlier centuries in Islam.

سمجھ رہے ہیں وہ یورپ کو ہم جوار اپنا
ستارے جن کے نشیمن سے ہیں زیادہ قریب
 
آخری تدوین:
  • The republican form of government is not only thoroughly consistent with the spirit of Islam, but has also become a necessity in view of the new forces that were set free in the world of Islam.
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

  • Such is the attitude of the modern Turk, inspired as he is by the realities of experience, and not by the scholastic reasoning of jurists who lived and thought under different conditions of life. To my mind these arguments, if rightly appreciated, indicate the birth of an International ideal, which forming the very essence of Islam, has been hitherto overshadowed or rather displaced by Arabian Imperialism of the earlier centuries in Islam.

سمجھ رہے ہیں وہ یورپ کو ہم جوار اپنا
ستارے جن کے نشیمن سے ہیں زیادہ قریب
ترجمہ اور حوالہ براہ مہربانی۔
 
Top