آخری دفعہ کیا پکایا یا کھایا تھا؟

افضل حسین

محفلین
پنیر بٹر مصالحہ
IMG-20221001-050328.jpg
 

زیک

تقریباً غائب
انگریزی میں مٹن میچور شیپ کے گوشت کے لئے مستعمل ہے (لیمب کے مقابلے میں)۔ پاکستانی انگریزی میں یہ بکرے کے گوشت کے لئے کیسے استعمال ہونے لگا؟
کل کینٹکی میں بیف برسکیٹ کے ساتھ مٹن باربیکیو اور مٹن چوپس بھی کھائے

آج پھر وہی سوال ہے کہ یہ مٹن تو شیپ کے گوشت کا تھا جیسا انگریزی میں مستعمل ہے تو پھر پاکستان میں مٹن بکرے کے گوشت کے لئے کیوں اور کیسے رائج ہوا؟
محمد وارث
ظہیراحمدظہیر
 

محمد وارث

لائبریرین
کل کینٹکی میں بیف برسکیٹ کے ساتھ مٹن باربیکیو اور مٹن چوپس بھی کھائے

آج پھر وہی سوال ہے کہ یہ مٹن تو شیپ کے گوشت کا تھا جیسا انگریزی میں مستعمل ہے تو پھر پاکستان میں مٹن بکرے کے گوشت کے لئے کیوں اور کیسے رائج ہوا؟
محمد وارث
ظہیراحمدظہیر
غلط العام ہی کہا جا سکتا ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق، برصغیر اور ویسٹ انڈیز میں مٹن سے مراد بکرے کا گوشت ہی ہے۔ ویسے شاید برصغیر کے لوگوں کے ذائقہ کا بھی مسئلہ ہے جو شیپ کی بجائے بکرے کو زیادہ پسند کرتےہیں۔ ایک آرٹیکل مجھےیہ والا ملا:
 
کل کینٹکی میں بیف برسکیٹ کے ساتھ مٹن باربیکیو اور مٹن چوپس بھی کھائے

آج پھر وہی سوال ہے کہ یہ مٹن تو شیپ کے گوشت کا تھا جیسا انگریزی میں مستعمل ہے تو پھر پاکستان میں مٹن بکرے کے گوشت کے لئے کیوں اور کیسے رائج ہوا؟
محمد وارث
ظہیراحمدظہیر
ایک زبان کے لفظ کا کسی دوسری زبان میں جاکر معنی بدل لینا تو عام بات ہے۔ بیف اور مٹن کے الفاظ ظاہر ہے کہ انگریز ہی برصغیر میں لائے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں مٹن کا لفظ برصغیر میں چھوٹے گوشت یا چھوٹے کا گوشت کے لیے مستعمل ہوچکا تھا ۔ کیوں مستعمل ہوگیا یہ معلوم نہیں ۔غالباً اس کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ شمالی برصغیر میں دنبے یا بھیڑ کے گوشت سے زیادہ بکری کے گوشت کا رواج تھا۔ سو اس لفظ کو اس قبیل کے ہر گوشت پر بولا جانے لگا۔ مٹن کا لفظ تمام معتبر اردو لغات میں موجود ہے اورہر جگہ اس کے معنی "بھیڑ ، بکری یا دنبے کا گوشت" دیئے گئے ہیں ۔ یہ لفظ نوراللغات (1917) ، فیروزاللغات (1897) میں موجود ہے لیکن فرہنگ آصفیہ (1883) میں موجود نہیں ۔ حوالہ جات کے مطابق سرسید احمد خان کے ماہنامے تہذیب الاخلاق (1876) ، رتن ناتھ سرشارکے ناول فسانۂ آزاد (1887) ، اور ڈپٹی نذیر احمد کے ناول ابن الوقت (818 1) میں استعمال ہوا ہے۔ مٹن چاپ اور مٹن چاپس کے الفاظ بھی انہی لغات میں موجود ہیں ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بیف کا لفظ کسی لغت میں موجود نہیں اور نہ ہی کسی تحریر میں استعمال ہوا ہے۔ سو مٹن کے لفظ کو اپنانے کی ایک وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس ایک لفظ کو تینوں جانوروں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ بیف کے لفظ کے لیے ایسی کوئی صورتحال موجود نہیں تھی ۔ واللّٰہ اعلم بالصواب ۔
 
آخری تدوین:
برصغیر اور ویسٹ انڈیز میں مٹن سے مراد بکرے کا گوشت ہی ہے
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ سرینام ، ٹوباگو اور ٹرینیڈاڈ کے علاقوں میں مٹن کا لفظ ان معنوں کے ساتھ ہندوستانی ہی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ انیسویں صدی کے وسط میں ہندوستان سے بہت سارے لوگوں نے تاج برطانیہ کے زیرِ انتظام ان کالونیوں میں ہجرت کی یا زبردستی مزدوری کی غرض سے لے جائے گئے اور پھر وہیں آباد ہوگئے ۔ سو ان علاقوں میں ہندوستانی زبان اور ثقافت کے اثرات پائے جاتے ہیں ۔
 

زیک

تقریباً غائب
ایک زبان کے لفظ کا کسی دوسری زبان میں جاکر معنی بدل لینا تو عام بات ہے۔ بیف اور مٹن کے الفاظ ظاہر ہے کہ انگریز ہی برصغیر میں لائے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں مٹن کا لفظ برصغیر میں چھوٹے گوشت یا چھوٹے کا گوشت کے لیے مستعمل ہوچکا تھا ۔ کیوں مستعمل ہوگیا یہ معلوم نہیں ۔غالباً اس کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ شمالی برصغیر میں دنبے یا بھیڑ کے گوشت سے زیادہ بکری کے گوشت کا رواج تھا۔ سو اس لفظ کو اس قبیل کے ہر گوشت پر بولا جانے لگا۔ مٹن کا لفظ تمام معتبر اردو لغات میں موجود ہے اورہر جگہ اس کے معنی "بھیڑ ، بکری یا دنبے کا گوشت" دیئے گئے ہیں ۔ یہ لفظ نوراللغات (1917) ، فیروزاللغات (1897) میں موجود ہے لیکن فرہنگ آصفیہ (1883) میں موجود نہیں ۔ حوالہ جات کے مطابق سرسید احمد خان کے ماہنامے تہذیب الاخلاق (1876) ، رتن ناتھ سرشارکے ناول فسانۂ آزاد (1887) ، اور ڈپٹی نذیر احمد کے ناول ابن الوقت (818 1) میں استعمال ہوا ہے۔ مٹن چاپ اور مٹن چاپس کے الفاظ بھی انہی لغات میں موجود ہیں ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بیف کا لفظ کسی لغت میں موجود نہیں اور نہ ہی کسی تحریر میں استعمال ہوا ہے۔ سو مٹن کے لفظ کو اپنانے کی ایک وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس ایک لفظ کو تینوں جانوروں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ بیف کے لفظ کے لیے ایسی کوئی صورتحال موجود نہیں تھی ۔ واللّٰہ اعلم بالصواب ۔
ایسے ہی زبردست جواب کی امید تھی۔ شکریہ
 
Top