آج کی حدیث

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ! علم فرائض سیکھو اور سکھاؤ، اس لیے کہ وہ علم کا آدھا حصہ ہے، وہ بھلا دیا جائے گا، اور سب سے پہلے یہی علم میری امت سے اٹھایا جائے گا“۔
(سنن ابن ماجہ۔ باب نمبر24۔حدیث نمبر2719)
سیما آپا ، آپ نے ایک اہم حدیث نقل کی ہے ۔ بیشتر لوگوں کو علم الفرائض کی اصطلاح کے درست معنی نہیں معلوم ہوتے اور اکثربتانا پڑتے ہیں اورعلم الفرائض پر عمل تو اب پاکستانی معاشرے میں برائے نام ہی رہ گیا ہے ۔
 

سیما علی

لائبریرین
قالَ ﷺ: کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی چیز "نماز" کا ترک کرنا ہے!
‏ترمذی 2618

‏قالَ ﷺ: بیشک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانےوالا عمل)
"نماز" کا ترک کرنا ہے!
‏مسلم 246؛ ترمذی 2620؛ ابوداؤد 4678
 

سیما علی

لائبریرین
اللہ کےرسولٰ(صل اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا:اللہ پاک تمھاری
‏توبہ سے اتنا خوش ہوتا ہے جیسے کوئ اپنی گمشدہ
‏چیز کے ملنے سے خوش ہوتاہے. ]ابن ماجہ، جلد:2

‏حدیث:2051[
 

سیما علی

لائبریرین
انس بن مالک ؓ نے بیان کیا:
‏آپﷺ (بسا اوقات) ایک کلمہ (اہم بات) تین بار دہراتے تھے تاکہ اسے اچھی طرح سمجھ لیا جائے
‏ترمذی 3640 (بخاری 95؛ ابوداؤد 3653)
 

سیما علی

لائبریرین
سیما آپا ، آپ نے ایک اہم حدیث نقل کی ہے ۔ بیشتر لوگوں کو علم الفرائض کی اصطلاح کے درست معنی نہیں معلوم ہوتے اور اکثربتانا پڑتے ہیں اورعلم الفرائض پر عمل تو اب پاکستانی معاشرے میں برائے نام ہی رہ گیا ہے ۔
بھیا بالکل درست کہا آپ نے
معنی ہم یہاں لکھ دیتے ہیں تاکہ آسانی رہے ؀
فَرَائِضُ [عام][اسم] واحد: فریضۃ ) وراثت کی شرعی تقسیم کے اصول وضوابط کا علم، علم المیراث،
اصحاب فرائض !!!!مقررہ حصوں والے۔اس سے مرادوہ لوگ ہیں جن کا میراث میں معیّن حصہ قرآن وحدیث میں بیان کردیاگیاہے۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
رسول الله ﷺ نے فرمایا:

‏الله تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: "اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں.. پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے، تو میں تجھے بخش دوں گا! اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہوگی."

‏جامع ترمذی 3540
‏(مشکوٰۃ المصابيح 2336)
 

سیما علی

لائبریرین
رسولﷺ نے ارشاد فرمایا
‏جس نے قرآن مجید کا ایک حرف پڑھا اسے اس
‏کے بدلے ایک نیکی ملے گی اور وہ ایک نیکی دس
‏گنا بڑھا دی جا ئیگی

‏[ جامع ترمذی : حدیث نمبر : 2910 ]
 

سیما علی

لائبریرین
قالَ ﷺ:
‏جس کے ساتھ الله بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ (فقہ) عطا فرما دیتا ہے. اور میں تو محض (علم) تقسیم کرنے والا ہوں، (فہم) دینے والا تو الله ہی ہے.
‏بخاری 71
‏(بخاری 3116، 7312؛ ترمذی 2645؛ مسلم 2389، 4956، 2392؛ ابن ماجہ 220، 221؛ مسند احمد 240، 243؛ مشکوٰۃ 200)
 

سیما علی

لائبریرین
درس حدیث
(معاشرے کے بہترین اور بدترین لوگ)
سیدنا ابوھریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن سے خیر کی امید رکھی جائے اور ان کے شر سے بےخوف رہا جائے اور تم میں سے بدترین لوگ وہ ہیں جن سے خیر کی امید نہ رکھی جائے اور نہ انکے شر سے بےخوف رہا جائے۔
(ترمذی حدیث 2263)
 

سیما علی

لائبریرین
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
‏دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے، اور وہ ہیں: "بغاوت" اور "ماں باپ کی نافرمانی".

‏المستدرک للحاكم 7350
 

سیما علی

لائبریرین
رسول الله ﷺ نے فرمایا:

‏کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر "ایمان" ہے، آگ (دوزخ) میں داخل نہ ہوگا.. اور کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر "تکبر" ہے، جنت میں داخل نہ ہوگا!
‏صحیح مسلم 266
‏(ابوداؤد 4091؛ ابن ماجہ 59، 4173؛ جامع ترمذی 1998، 1999؛ مشکوٰۃ 5107)
 

سیما علی

لائبریرین
رسول الله ﷺ نے فرمایا:

‏مومن کی روح پرندے کی شکل میں جنت کے درخت سے کھاتی ہے، حتیٰ کہ الله جس روز اسے اٹھائے گا (یعنی روز قیامت) تو اسے اس کے جسم میں لوٹا دے گا.
‏مشکوٰۃ 1632
‏(مسند احمد 3036، 3030، 3031؛ نسائی 2075؛ ابن ماجہ 4271؛ السلسلة الصحيحة 1630)
 

سیما علی

لائبریرین
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
‏شہداء کی روحیں (جنت میں) سبز پرندوں کی شکل میں ہیں، جو جنت کے پھلوں یا درختوں سے کھاتی چرتی ہیں.
‏جامع ترمذی 1641
‏(صحیح مسلم 4885؛ مشکوٰۃ 3804)
 

سیما علی

لائبریرین
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
‏جب تم اذان سنو، تو جس طرح مؤذن کہتا ہے اُسی طرح تم بھی کہو.
‏بخاری 611
‏(مسلم 848؛ ترمذی 208؛ ابوداؤد 522؛ نسائی 674؛ ابن ماجہ 720؛ مسند احمد 1292؛ السلسلة الصحيحة 510)
 

سیما علی

لائبریرین
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا:
‏اسلام (اعضاء سے متعلقہ) علانیہ چیز ہےاور ایمان دل سے متعلقہ مخفی چیز ہے۔ پھر آپ ‌ﷺ‌ نے اپنے سینے کی طرف تین دفعہ اشارہ کیا اور پھر فرمایا: تقوی یہاں ہوتا ہے۔
‏(مسند احمد،۵۹)
 

سیما علی

لائبریرین
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَی عَنْ الطَّرِيقِ وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنْ الْإِيمَانِ.
صحیح مسلم 153
ترجمہ:
رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

ایمان (دل کے اندر کا ایک درخت ہے جس) کی (اعمال کی شکل میں ظاہر ہونے والی) ستّر سے زیادہ شاخیں ہیں، ان شاخوں میں سب سے افضل؛ کلمۂ "لا الہ الا اللہ" کا پڑھنا (یعنی اللہ کے ایک ہونے کا زبان سے اقرار کرنا) ہے، اور سب سے کم درجے کی شاخ؛ تکلیف دہ چیز کا راستے سے ہٹانا ہے۔
اور (اللہ سے) شرم و حیا کرنا ایمان کا ایک (اہم) شعبہ ہے۔
 

سیما علی

لائبریرین
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
‏”جوکوئی اللہ اور آخرت کےدن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کےدن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سےنکالےورنہ خاموش رہے۔“
‏{بخاری:6018}
 
Top