ن م راشد آئینہ حسّ و خبر سے عاری - از ن م راشد

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 30, 2007

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    آئینہ حسّ و خبر سے عاری


    آئینہ حسّ و خبر سے عاری،
    اس کے نابود کو ہم ہست بنائیں کیسے؟
    منحصر ہست تگا پوئے شب و روز پہ ہے
    دلِ آئینہ کو آئینہ دکھائیں کیسے؟
    دلِ آئینہ کی پہنائی بے کار پہ ہم روتے ہیں،
    ایسی پہنائی کہ سبزہ ہے نمو سے محروم
    گل نو رستہ ہے بو سے محروم!

    آدمی چشم و لب و گوش سے آراستہ ہیں
    لطف ہنگامہ سے نور من و تو سے محروم!
    مے چھلک سکتی نہیں، اشک کے مانند یہاں
    اور نشّے کی تجلّی بھی جھلک سکتی نہیں
    نہ صفائے دل آئینہ گزرگاہ خیال!

    آئینہ حسّ و خبر سے عاری
    اس کے نابود کو ہم ہست بنائیں کیسے؟
    آئینہ ایسا سمندر ہے جسے
    کر دیا دست فسوں گر نے ازل میں ساکن!
    عکس پر عکس در آتا ہے یہ امّید لیے
    اس کے دم ہی سے فسون دل تنہا ٹوٹے
    یہ سکوت اجل آسا ٹوٹے!

    آئینہ ایک پر اسرار جہاں میں اپنے
    وقت کی اوس کے قطروں کی صدا سنتا ہے،
    عکس کو دیکھتا ہے، اور زباں بند ہے وہ
    شہر مدفون کے مانند ہے وہ!
    اس کے نابود کو ہم ہست بنائیں کیسے؟
    آئینہ حسّ و خبر سے عاری!
    ُُِ
     
  2. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    واہ واہ واہ۔۔۔ انتہائی اعلیٰ۔ شیئر کرنے کا شکریہ جناب۔
     
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,445
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت اچھی نظم ہے فرخ صاحب، شکریہ شیئر کرنے کیلیے۔
     
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ وارث صاحب اور فاتح صاحب!
     

اس صفحے کی تشہیر