ماہِ مبارک رمضان کیسے گزاریں ؟

*ماہِ مبارک رمضان کیسےگزاریں!*
( *ماخؤذ از خطبہءشعبانیہ* )

ماہ مبارک رمضان کی آمد آمد ہے . اس با برکت مہینےکا استقبال ویسےتو تمام مسلمانان جہاں کرتے ہیں.کہ وہ اپنے طور پر اس مہینے کے لیے خصوصی طور پرچندامور کا تو حد اقل انتظام کرتے آئے ہیں . کہ جن میں سحری وافطاری کااہتمام کرنا . مساجد میں خصوصی طور پر نمازجماعت کے قیام کا بندوبست کرنا .مختلف مساجد میں اجتماعی اعمال اور دعاؤوں کااہتمام کرنا.
اور استطاعت نہ رکھنے والے غریب ناداروں کے لیے کھانے پینے کی چیزوں کا محیا کرنا یہ سب شامل ہیں.ماہ مبارک رمضان کےحوالے سے ایسا اقدام کرنا قابل ستائش ہیں .تاہم
خود رسول خدا ص نے اس بابرکت مہینے کے بارےجو احادیث بیان فرمایاہے ان کا جاننا بھی ضروری ہیں . آپ ص نے اس بارے میں بہت زیادہ احادیث ارشاد فرمایا ہیں. وہ تمام آج ہمارے پاس مختلف کتابوں کی شکل میں موجود ہیں تاہم اس حوالے سے رسول خداص نے شعبان کے آخری ایام میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا .جسے خطبہ شعبانیہ کے نام سے جاننا جاتا ہے.خطبہ شعبانیہ پیغمبراکرمؐ کے اس خطبے کو اس لیے کہا جاتا ہےکیوں کہ آپ ص نے اس میں رمضان کی فضلیت بیان فرمائی ہیں۔ چونکہ یہ خطبہ ماہ شعبان کے آخری جمعہ کو ارشاد فرمایا اس لئے *خطبہ شعبانیہ*" کے نام سے مشہور ہے۔
جہاں تک اس کی سند کی بات ہے.تو اس خطبہ کو امام رضاؑ نے ائمہ ماسبق کے توسط سے امام علی (ع) سے نقل فرمایا ہے.
اس خطبہ کو جن اہم ترین مآخذ نے نقل کیا ہے وہ درج ذیل ہیں:
١ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، ج۱، حدیث ۵۳.امالی شیخ صدوق، ص۲۲۶-۲۱۸.محمدباقر مجلسی،بحار الانوار، ج۹۳، کتاب الصوم، حدیث ۲۵.
شیخ حر عاملی،وسائل الشیعہ، ج۷، ص۲۲۶.شیخ عباس قمی نےمفاتیح الجنان میں اس خطبے کے عمدہ حصے کو ماہ رمضان کی فضیلت کے باب میں امالی شیخ صدوق سے نقل کیا اور اسکی سند کو معتبر قرار دیا ہے.
اس میں جناب رسالت مآب ص ماہ مبارک رمضان کی فضیلت کو اجاگر کیاہیں .اگرچہ یہ مختصر خطبہ ہیں لیکن یہ جامع ضرور ہیں .کہ اس میں ان تمام کاموں کو بیان کیا گیا ہےجن سے ایک مسلمان روزہ دار کا براہ راست واسطہ اور تعلق ہوتاہے. اس میں موجود تمام نکات در اصل ہمارے لیے ایک دستور عمل ہے . کہ جس پر انسان عمل پیرا ہو کر دنیوی زندگی میں کامیابی اور اخروی زندگی میں اللہ اور آئمہ طہارین ع کے حضور سروخرو ہو سکتے ہیں. ہمارے لیے یہ کہناسزاور ہوگا کہ اس میں رسول خدا ص ماہ مبارک رمضان گزارنے کے آداب و اطوار کو بیان فرمایا ہیں.
اس خطبےہم کو اپنی آسانی کی خاطر پانچ حصوں میں تقسیم کرتے ہیں کہ جن پانچ محوروں پر یہ مشتمل ہے.اور اسے مختلف عنوانات کےضمن میں اور چیدہ چیدہ عملی نکات کی شکل میں یہاں نقل کرتے ہیں..
*١ ماہ مبارک رمضان کی اہمیت و قدر کا بیان*
لوگوں سے مخاطب ہو کر رسول خداص نے خطبے کی ابتداء اس شان و شوکت سے کیاہے کہ .أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ قَدْ أَقْبَلَ إِلَیْكُمْ شَهْرُ اللَّهِ ... اے لوگو ! تمہاری جانب خداوندعالم کا مہنیہ اپنے دامن میں برکت ،رحمت ،اور مغفرت لیے آرہا ہے.. کہ آپ ص نے ماہ رمضان کو اللہ کامہنیہ ہونے کےبارے میں ارشاد فرمایا اور اسکے بعد آپ ص نے اس مہینے کی دوسری برکات و فیوضات کو بیان فرما یا ہیں اور وہ یہ ہیں .کہ ماہ مبارک رمضان خداوندعالم کے نزدیک باقی تمام مہنیوں سے افضل ہے .اس کے دن باقی دنوں سے اس کی راتیں تمام راتوں سے اور اسکی گھڑیاں باقی گھڑیوں سے افضل ہیں.
یہ وہ بابرکت مہینہ ہےکہ جس میں ہمیں خداوند عالم کی مہمان بننے کا شرف حاصل ہوتا ہے .اور اللہ اس میں اپنے بندوں کو کرامت اور عزت افزائی عنایت کرتا ہے.اس میں سانسیں تسبیح اور نیندیں عبادت ہوتیں ہیں صرف یہی نہیں اسکے علاوہ تمام اعمال مقبول ہیں اور دعائیں مستجاب ہوتیں ہیں.
اس مہینے کی مزید اہمیت یہ ہےکہ اس میں جنت کے تمام دروازے کھلے جبکہ جھنم کے تمام دروازے بندکیے جاتے ہیں.اورشیاطین کو زنجیروں سے باندھ دئے جاتے ہیں.
*٢ اس مہینے کے بابت چودہ امورکا بیان*
ماہ مبارک رمضان کی اہمیت و فضیلت کو بیان کرنے کے بعد
رسول خدا ص نے ان تمام کاموں کو بیان فرمایا کہ جنہیں اس ماہ صیام میں صائمین کو انجام دینا چاہیے . اور وہ یہ ہیں.
١. اللہ سے روزہ رکھنےکی اور تلاوت قرآن کرنے کی توفیق مانگنا.
٢.اس میں بھوک و پیاس کے وقت قیامت کی بھوک وپیاس کو یاد کر کے فقراء اور مساکین کو صدقہ خیرات دینا.
٣.بزرگوں کےساتھ احترام سے پیش آنا اور چھوٹوں پے شفقت کرنا.
4.اپنے رشتہ داروں سے اچھے تعلقات
قائم کرنا.
٥.اپنی زبانوں کی حفاظت کرنا.
٦.جن پر نگاہ کرنا حرام ہے ان مقامات سے اپنی نظر ہٹالینا.
٧. جن چیزوں کا سننا حرام ہے ان چیزوں کا نہ سننا.
٨.یتیموں پر مہربانی کرنا.
٩. اللہ سے اپنی گناہوں کی معافی مانگنا.
١٠. اپنی نمازوں کے اوقات میں اپنے ہاتھوں کو اللہ کی جانب دعا کے لیے بلند کرنا. سجدوں کو طول دینا .
١١.روزہ داروں کو افطار کرانا .اگرچہ کجھور کا کچھ حصےکے یا ایک گھونٹ پانی کے زریعے ہی کیوں نہ ہو.
١٢.اپنےاخلاق درست کرنا.
١٣. اپنےسےماتحت افراد (ملازمین)کے ساتھ آسانی کرنا.
١٤. تقویٰ الہی اور پرہیزگاری اختیار کرنا.
(یہ اس مہینے میں سب سےافضل عمل ہے )
اسکے بارے حضرت امیر المومنین ع نے دوران خطبہ رسول خدا ص سوال کیا کہ یارسول اللہ ! اس مہینے میں سب سے افضل ترین عمل کون سا ہے؟
تو آپ ص نےارشاد فرمایا کہ اے ابوالحسن .اس ماہ میں سب سے افضل عمل خدا کی جانب سے حرام کردہ چیزوں سےاجنتاب و پرہیز کرنا ہے ..
*٣. اعمال کے ثواب واجر کا بیان*.
رسول خداص نے اس خطبے میں جن جن چیزوں کا جہاں انجام دینے کا ارشاد فرمایا ہےوہی ان کی علت اور ثواب کو بھی ذکر فرمایا ہے .تاہم خطبے تسیرے حصے میں خصوصی طور پر چند چیزوں کے ثواب ذکر فرما یا ہے وہ یہ ہیں .
١. ماہ مبارک رمضان میں مستحبی نماز یں ادا کرنے کا ثواب یہ ہیں کہ اس کے لیے خداوندعالم جھنم سے آزادی کا پروانہ لکھ دیے گا .
٢.اور جو نماز پنچ گانہ واجبی نمازیں ادا کرے گا . تو خداوندعالم اس مہینے کی ایک واجب نماز ادا کرنے کے بدلے میں دوسرے مہنیوں کے ستر 70 واجب ادا کرنے کے برابر ثواب عطا کر دے گا.
٣. اس کے علاوہ اس مہنیے میں جو بھی رسول خدا ص پر دورد پاک پڑھیے گا اس کاثواب یہ ہیں . کہ خدا وندعالم میزان عمل کے وقت اس کے نیکیوں کے پلڑے بھاری کر دے گا .
٤. جو شخص اس مہینے میں قرآن مجید کی ایک آیت کی تلاوت کرے گا .تو اسے اس کا ثواب دوسرےمہینوں میں قرآن مجید کے ختم کرنے کےبرابر ثواب عطا کرے گا.
*٤ شہادت امیر المومنین ع کی خبر*
اس کے خطبے دوران رسول خدا ص نے گریہ فرمایا.تو حضرت علی ع نے پوچھا .اے اللہ کے رسول ص! آپ کیوں گریہ کر رہے ہیں؟
تو آپ ص نے ارشاد فرمایا .اس مہینے میں آپ ع کے ساتھ ہونے والے ظلم کو یاد کرکے رو رہا ہوں. اس مہینےمیں آپ کو شہید کردیا جائے گا.گویا میں تمہاری شہادت کے منظر کو دیکھ رہا ہوں ، درحالیکہ تم اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھنے میں مشغول ہوں گے ، اس وقت شقی اولین وآخرین قاتل ناقہ صالح ، تمہارے فرق پر ایک وار کریگا جس سے تمہاری ریش اور چہرہ خون سے ترہوجائے گا.امیر المؤمنین فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا یارسول اللہ ۖ کیا اس وقت میرا دین ثابت وسالم ہوگا؟ فرمایا : ہاں اس وقت تمہار دین سالم ہوگا.
*٥ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب ع کے فضائل کے چند گوشے* .
خطبے کے آخرمیں رسول خدا ص حضر ت علی ع کے فضائل اور کمالات میں سے بعض کو لوگوں تک پہنچایا .اور وہ یہ ہیں.
رسول خدا ص نےارشاد فرما یا .
.
١. اے علی ع جس نے تمہیں قتل کیا گویا اس نے مجھے قتل کیا.

٢.جس نے تمہارے ساتھ بغض ودشمنی کی درحقیقت اس نے مجھ سے دشمنی کی ہے .
٣. جو کوئی تمہیں ناسزا کہے گویا اس نے مجھے ناسزا کہا ہے کیونکہ تم مجھ سے ہو اور میرے نفس کی مانند ہو.
٤ تمہاری روح میری روح سے ہے .
٥. تمہاری طینت وفطرت میری فطرت سے ہے .
٦. یقیناخدا نے ہم دونوں کو خلق کیا اور ہم دونوں کو انتخاب کیا، مجھے نبوت کے لئے انتخاب کیا اور تمہیں امامت کے لئے انتخاب کیا اگر کوئی تمہاری امامت سے انکار کرے تو اس نے میری نبوت سے انکار کیاہے.
٧.تم میرے جانشین وخلیفہ ہو .
٨. تم میرے بچوں کے باپ اور میری بیٹی کے شوہر ہو .
٩. تم میری زندگی میں بھی اور میرے مرنے کے بعد بھی میری امت پر میرے جانشین اور خلیفہ ہو .
١٠.تمہارا حکم میرا حکم ہے اور تمہاری نہی میری نہی ہے .
١١. خدا کی قسم کہ جس نے مجھے نبوت پر مبعوث کیا اور مجھے انسانوں میں سے سب سے بہترقرار دیا یقینا تم مخلوقات پر خدا کی حجت ہو.
١٢. خدا کے اسرار کا امین ہو اور اس کے بندوں پر خلیفہ ہو۔
بارگاہ ربّ العزت میں دعاگو ہیں.کہ ربّ کریم اس بابرکت مہنیے میں اپنی رحمتیں ہم پر نازل فرما.اور ہمیں رسول خد ا ص کے کہے احادیث مبارکہ کے مطابق اس مہینے کو گزارنے کی توفیق عنایت فرما . آمین .
#١٠٠٢
 
Top