نتائج تلاش

  1. امین شارق

    یہ عِشق والوں کے قِصے عجیب لگتے ہیں غزل نمبر 184 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فَعِلن یہ عِشق والوں کے قِصے عجیب لگتے ہیں کبھی مِلتے ہی نہیں بد نصیب لگتے ہیں نظر نہ ہم سے چُراؤ کہ چاہتے ہیں تمہیں اے گل بدن! ترے ہم عندلیب لگتے ہیں ہر ایک شخص ہے مطلب پرست دُنیا میں رفیق کِس کہ کہیں سب رقیب لگتے ہیں ہم عادی ظُلمتوں کے اِس قدر...
  2. امین شارق

    بِن ترے رُک سا گیا دِل ہو ہمارا جیسے غزل نمبر 183 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن بِن ترے رُک سا گیا دِل ہو ہمارا جیسے ہم سے بِچھڑا ہو کوئی جان سے پِیارا جیسے دل کو کُچھ بھی نہیں بھاتا ترے بِن جانِ غزل! چِھن گیا ہو مری آنکھوں سے نظارا جیسے آنکھ کُھل جاتی ہے شب میں مری اکثر جاناں ایسا لگتا ہے مُجھےتُم نے پُکارا جیسے...
  3. امین شارق

    بے قراری قرار دیتی ہے غزل نمبر 182 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن عِشق میں ہِجر کا مزا ہے الگ بے قراری قرار دیتی ہے مست رہنے دو جام پی کے مُجھے یہ خُماری قرار دیتی ہے اشک بہنے دو ہِجرِ جاناں میں اشک باری قرار دیتی ہے غم ہو ہلکا تو دِل سُکوں پائے آہ و زاری قرار دیتی ہے جو مُصیبت میں ساتھ دیتے ہیں اُن کی یاری قرار...
  4. امین شارق

    شب دِن، دِن شب ہو سکتا ہے غزل نمبر 181 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ فعلن فعلن فعلن فعلن شب دِن، دِن شب ہو سکتا ہے رب چاہے سب ہو سکتا ہے تُو چاہے تو صحرا، گلشن اے میرے رب! ہو سکتا ہے بچپن لوٹ آئے پھر اپنا کیا ایسا اب ہو سکتا ہے؟ مجنُوں کو مِل جائے لیلیٰ عِشق میں یہ کب ہو سکتا ہے؟ اُس نے تبسم سے ہے دیکھا کُچھ تو مطلب ہو سکتا ہے اُن سے اب...
  5. امین شارق

    آج نہیں کل ہو جانا ہے غزل نمبر 180 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ فعْل فعولن فعلن فعلن آج نہیں کل ہو جانا ہے صحرا جل تھل ہو جانا ہے زِیست کو حاصِل کب ہے ثبات؟ شہر نے جنگل ہو جانا ہے نظرِعنایت اُن کی رہی تو عِشق کسی پل ہو جانا ہے خار بھری ہے راہِ عِشق پیروں نے شل ہو جانا ہے کاش یہ مُجھ سے کہہ دے ساقی کام ترا چل ہو جانا ہے اُن کی توجہ...
  6. امین شارق

    موسم بدل گیا ہے ترے ساتھ کی طرح غزل نمبر 179 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن موسم بدل گیا ہے ترے ساتھ کی طرح چُھوٹا ہے اُس کا ساتھ ترے ہاتھ کی طرح یادوں کے ابر دِل پہ اُمڈ آئے جب کبھی آنکھوں سے اشک بہہ گئے برسات کی طرح ہر ہار بھی قبول ہے اے یار تیرے سنگ تیرے بغیر جِیت بھی ہے مات کی طرح تُجھ کو یوں چاہُوں جیسے کوئی چاہے...
  7. امین شارق

    پِھر مُحبت کا گُماں کرتا رہا غزل نمبر 178 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن پچھلی زمین کی غزل (ظُلم مُجھ پر آسماں کرتا رہا) میں کچھ اور خیالات جمع ہوگئے تھے تو اس لئے اس غزل کو دو غزلہ کی صورت میں پیش کررہا ہوں۔ پِھر مُحبت کا گُماں کرتا رہا دِل مُجھے یوں شادماں کرتا رہا عِشق دُنیا سے کبھی ہارا نہیں خُواہشیں دِل میں جواں...
  8. امین شارق

    ظُلم مُجھ پر آسماں کرتا رہا غزل نمبر 177 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن ظُلم مُجھ پر آسماں کرتا رہا میں فقط آہ و فِغاں کرتا رہا وقت کتنا ظالم و بے رحم ہے نامیوں کو بے نشاں کرتا رہا رات ساری جاگ کر تاروں کے ساتھ یاد دورِ رفتگاں کرتا رہا یاد پھر اُس بے وفا کی آئی تو آنکھ سے آنسُو رواں کرتا رہا میں ہوں اُس کی یاد ہے...
  9. امین شارق

    حشر کا جب سے سُنا چرخِ کہن سکتے میں ہے غزل نمبر 176 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن ایک دِن مرنا پڑے گا ہر بدن سکتے میں ہے حشر کا جب سے سُنا چرخِ کہن سکتے میں ہے وہ خِزاں آئی کہ ہر اِک گُلبدن سکتے میں ہے پُھول سب مُرجھا گئے ہیں اور چمن سکتے میں ہے لوٹ کر جانا ہے سب کو انتہا بس موت ہے گنگ ہیں ساری زبانیں ہر دہن سکتے میں ہے...
  10. امین شارق

    دِن نکلتا ہے، رات ڈھلتی ہے غزل نمبر 175 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن دِن نکلتا ہے، رات ڈھلتی ہے ایسے ہی کائنات چلتی ہے غم ،خوشی آتے جاتے رہتے ہیں زِندگی کروٹیں بدلتی ہے جیسے بدلیں مِزاج یار ترے رُت بھی کب اِس طرح بدلتی ہے؟ اے خُدا! میں بھی رِزق چاہتا ہوں تیرے ٹُکڑوں پہ خلق پلتی ہے یہ کرم تیرا ہے مرے مولیٰ آئی آفت...
  11. امین شارق

    رات ڈھلتی ہے دِن نکلتا ہے غزل نمبر 174 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن رات ڈھلتی ہے دِن نکلتا ہے یُوں جہاں کا ِنظام چلتا ہے جو اکڑ کر زمیں پہ چلتا ہے ایک نا ایک دِن پِھسلتا ہے رات اور دِن بدلتے رہتے ہیں ایک کو دُوسرا نِگلتا ہے آگے بڑھنے کی نفسا نفسی میں ایک کو دُوسرا کُچلتا ہے فانی دُنیا میں ہے ثبات کہاں؟ چڑھتا سُورج...
  12. امین شارق

    حُسن ایسے ترے آنچل میں چُھپا رہتا ہے غزل نمبر 173 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن حُسن ایسے ترے آنچل میں چُھپا رہتا ہے چاند جیسے کوئی بادل میں چُھپا رہتا ہے دِن اُجالا رخِ روشن کی جھلک ہے شاید شب اندھیرا ترے کاجل میں چُھپا رہتا ہے دِل کے جذبات بیاں اُن سے نہیں کر پاتا وہ نشہ ہے یہ جو بوتل میں چُھپا رہتا ہے دِل کی...
  13. امین شارق

    خُدا نے کہہ دیا جب کُن جہان سارے بنیں غزل نمبر 172 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فَعِلن خُدا نے کہہ دیا جب کُن جہان سارے بنیں فلک، زمین، مہر، چاند اور تارے بنیں خُدا کو پانے کا نُسخہ بھی کِتنا آساں ہے خُدا کے بندوں کو چاہیں، خُدا کے پیارے بنیں نوازا ہے جِنہیں اللہ نے دولت و دِل سے تو اُن کو چاہئے مظلوموں کے سہارے بنیں جو نیک...
  14. امین شارق

    دِل کو ہی چُپ کراؤں یا دیکھوں جِگر کو میں غزل نمبر 171 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن یہ غزل میں نے مشاعرے کے لئے لکھی تھی اور استاد محترم سے اصلاح بھی کرائی ہے۔ دِل کو ہی چُپ کراؤں یا دیکھوں جِگر کو میں حیراں ہُوں عاشقی میں چلُوں کِس ڈگر کو میں اِک سِمت مے کدہ ہے تو اِک سِمت کُوئے یار آتا نہیں سمجھ میں کہ جاؤں کِدھر کو میں رُسوا...
  15. امین شارق

    ہُوا شہید تو وہ دِیدِ حق کی چھاؤں میں تھا (منقبت) غزل نمبر 170 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ سر مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فَعِلن ہُوا شہید تو وہ دِیدِ حق کی چھاؤں میں تھا حُسین راضی خُدا پاک کی رضاؤں میں تھا ہر ایک شہر میں تھا اور ہر ایک گاؤں میں تھا غمِ حُسین کا ماتم تو کہکشاؤں میں تھا عجیب قِصہ ہے کربل کا سارے قِصوں میں عجیب غم کا سماں ہر طرف فضاؤں میں تھا زمین...
  16. امین شارق

    حُسین چاہتے تو قتلِ عام کردیتے (منقبت) غزل نمبر 169 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ سر مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فَعِلن حُسین چاہتے تو قتلِ عام کردیتے یزیدی فوج کا قِصہ تمام کردیتے حُسین چاہتے، روحِ امین پر سے وہاں یزیدیوں کا وہی اِختتام کردیتے حُسین چاہتے تو ایسی آندھیاں آتیں یزیدیوں میں بپا غم کی شام کردیتے حُسین چاہتے ظالم زمیں میں گڑ جاتے کہ ظالموں کی...
  17. امین شارق

    ہے کِس قدر عظیم گھرانہ حسین کا (منقبت) غزل نمبر 168 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ سر مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن ہے کِس قدر عظیم گھرانہ حسین کا اللہ کا حبیب ہے نانا حسین کا قلبِ حسین پر کِسی صدمے سے کم نہیں نانا کا شہر چھوڑ کے جانا حسین کا منزل ہے اِن کی کربلا کے بعد خُلد ہی یہ کارواں ہُوا ہے روانہ حسین کا اب کربلا میں جا کے بسائیں گے اِک جہاں کعبہ شریف...
  18. امین شارق

    عظیم جِس کو کہیں ایسا گھر حسین کا ہے (منقبت) غزل نمبر 167 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ سر مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فَعِلن یہ منقبت افتخار عارف صاحب کی ایک منقبت کی زمین میں لکھی ہےٰ۔ عظیم جِس کو کہیں ایسا گھر حسین کا ہے جو کٹ کے نامِ خُدا لے وہ سر حسین کا ہے شہید ہو کے بچایا ہے دِین کو اُس نے ہمارے دِیں پہ کرم کس قدر حسین کا ہے شہید ہو گیا اکبر، بہادری سے لڑا...
  19. امین شارق

    صُبح اچھی ہے، شام بہتر ہے غزل نمبر 166 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ سر فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن صُبح اچھی ہے، شام بہتر ہے ساتھ ہو تُم تمام بہتر ہے تُم سے مِلنے کے بعد شاد ہے دِل اب طبیعت تمام بہتر ہے میری آمد پہ جام و نُور و گُل آج کُچھ اِنتظام بہتر ہے قبل گِرنے سے ہی مرے دِلبر! لے مرا ہاتھ تھام بہتر ہے حال پُوچھیں تو وہ بتاتے ہیں بس وہی...
  20. امین شارق

    تن تو ہے، من تلاش کرتے ہیں غزل نمبر 165 شاعر امین شارؔق

    الف عین سر یاسر شاہ سر فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن تن تو ہے، من تلاش کرتے ہیں دِل ہے، دھڑکن تلاش کرتے ہیں عکس کِردار کا دِکھائے جو ایسا درپن تلاش کرتے ہیں اپنے اسلاف کی ترقی کا آؤ مدفن تلاش کرتے ہیں چار دِن کے جہاں میں جانے کیوں؟ لوگ مسکن تلاش کرتے ہیں ساتھ جِن کے نہ ہو کوئی رہبر اُن کو رہزن...
Top