نتائج تلاش

  1. سید اسد معروف

    غزل برائے اصلاح ٰ(جنت سے بے سبب تو نکالا نہیں گیا)

    جنت سے بے سبب تو نکالا نہیں گیا مجھ سے ہی اپنا آپ سنبھالا نہیں گیا کہتے ہیں زندگی میں مری کچھ کمی نہیں ان تک ابھی تمہارا حوالہ نہیں گیا تجھ کو جھلک دکھا کے گئے، عمر ہو گئی آنکھوں سے تیرے نور کا ہالہ نہیں گیا ہم تو بیان کرتے ہیں اپنی ہی سر گزشت ہم سے کسی کا درد اچھالا نہیں گیا معلوم تھا یہ قرض...
  2. سید اسد معروف

    لفظ ٍٰ ٰ بیعت ٰ ٰ کا وزن اشعار میں

    احباب سے درخواست ہے کہ اشعار کی تصحیح فرمائیں ۔ اور کیا لفظ بیعت اس جگہ استعمال ہو سکتا ہے؟ میں چلا تو کتنے ہی لوگ ساتھ میں چل پڑے کئی مڑ گئے، کئی راستے میں ٹھہر گئے مرے ہم نوا، ترے اعتبار کا شکریہ کہ ترے سوا سبھی بیعت کر کے مکر گئے۔
  3. سید اسد معروف

    غزل اصلاح کے لئے=جذبات میں جل جائیں=

    آج ایک چھوٹی بحر کی غزل لکھنے کی کوشش کی ہے۔اصلاح کے لئے پیش کرتا ہوں۔ بحر کا تعین بھی کیجئے گا۔ شکریہ۔ جذبات میں جل جائیں حدت سے پگھل جائیں ہم تم نہ رہیں باقی اک نفس میں ڈھل جایئں اک بحر تخیل ہے جس سمت نکل جائیں ایسے نہ مجھے دیکھو ارماں نہ مچل جائیں دیکھیں تو بھلا کیسے سوچیں تو دہل جائیں وہ تو...
  4. سید اسد معروف

    ایک شعر اصلاح کے لیے پیش ہے( تاکہ میری حاضری محفل میں لگتی رہے)

    چراغوں کا نگر تھا، روشنی کے استعارے تھے تمھارا نور تھا، چاروں طرف، سائے ھمارےتھے
  5. سید اسد معروف

    نظم "اعتراف" برائے اصلاح

    اعتراف مفاعلاتن، مفاعلاتن میں اپنے دامن میں اپنی تنہائیاں سمیٹے ہوئے، امیدوں کا نرم و نازک سا ہاتھ تھامے۔۔۔ نظر میں چا ہت کے خواب بھر کے، میں شہرِ خوباں کے راستوں سے گزر رہا تھا، میں جانتا تھا۔۔۔۔ میں جانتا تھا کہ اس شہر کی ہر اِک گلی کے ہر ایک گھر میں کئی حسین و جمیل چہرے اداس آنکھوں میں دِل...
  6. سید اسد معروف

    غزل "ہمارے دِل پہ کبھی ہاتھ رکھ دیا ہوتا" برائے اصلاح

    لڑکپن میں لکھا ہوا پرانا کلام سلور جوبلی(پچیس سال )کےبعداصلاح کے لیے حاضر ہے۔ (کئی احباب تو اپنے بچپن کے کلام سے دستبردار ہورہے ہیں مگر میرا تو اب کا کلام بھی ایسا ہی ہے) :) غزل اداس چہرے سے محسوس تم کو کیا ہوتا ہمارے دِل پہ کبھی ہاتھ رکھ دیا ہوتا صبح تو روز ہی ہوتی ہے، کیسی جلدی تھی!! ذرا سی...
  7. سید اسد معروف

    غزل " نادم تھی بے لگام ہوا، سوچتی رہی" برائے اصلاح

    ایک اور غزل مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن نادِم تھی بے لگام ہوا، سوچتی رہی اکثر بجھا کے میرا دیا، سوچتی رہی اظہارِ عشق کو بھی زمانے گزر گئے میں منتظر رہا، وہ سدا سوچتی رہی میں وقت کی صلیب پہ لٹکا رہا اِک عمر مارے یا چھوڑ دے،یہ قضا سوچتی رہی اس کی ہر ایک سوچ کا محور تھا...
  8. سید اسد معروف

    غزل اصلاح کے لیے پیش ہے" میں آج اپنے گھر میں ہی مہمان ہوگیا"

    غزل---مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن؟؟؟ (میرے خیال میں) پہچانتے ہوئے بھی تو انجان ہو گیا میں آج اپنے گھر میں ہی مہمان ہو گیا پورا جو تیرے وصل کا ارمان ہو گیا پا کر تجھے میں اور پریشان ہو گیا پہلےتو بزمِ یار میں تنہا تھا صرف میں پھر یوں ہوا کہ شہر بھی ویران ہوگیا سپنے دِل و دماغ میں سم گھولتے رہے آخر...
  9. سید اسد معروف

    اشعار برائے اصلاح"مفاہمت کا بہت ذکر تھا کتابوں میں"

    مفاہمت کا بہت ذکر تھا کتابوں میں وفا کا درس مگر شاملِ نصاب نہ تھا ہمارا ذِکر چھپا تھا تمہارے شعروں میں ہمارا نام مگر جزوِ انتساب نہ تھا برا کیا ترے کردار پر سوال کئے بھلا ہوا کہ ترے پاس کچھ جواب نہ تھا
  10. سید اسد معروف

    غزل "اس عاجزی پہ ہو کے پشیمان ایک دن" برائے اصلاح

    غصے کے عالم میں لکھی گئی 2015 کی آخری غزل اس عاجزی پہ ہو کے پشیمان ایک دن برپا کروں گا حشر کا سامان ایک دن کردے گا آکے سامنے حیران ایک دن مجھ میں چھپا ہوا کوئی شیطان ایک دن اک اور ضرب تک ہے مری ذات کا سکوت کردوں گا صور پھونک کے حیران ایک دن اے کاش ان لبوں پہ جمی سرد خامشی بن جائے پیش خیمہءِ...
  11. سید اسد معروف

    قوافی

    کیا نماز، لحاظ اور ریاض ہم قافیہ ہو سکتے ہیں؟
  12. سید اسد معروف

    سانحہ پشاور 16 دسمبر -- کچھ" جذبات" اصلاح کے لئے-

    16 دسمبر --سانحہ پشاور کو ایک سال گزر گیا-- مگر زخم اب بھی تازہ ہیں-- سینکڑوں بچوں کی شہادت !!! اپنے جذبات کو الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کی مگر نا تجربہ کاری آڑے آگئی۔۔۔۔ گو دستِ گل چیں کو کاٹنے سے گلاب واپس نہ آ سکیں گے مگر کچھ ایسے ہی فیصلوں سے ہم اپنا گلشن بچا سکیں گے کسے خبر تھی کہ یہ قیامت...
  13. سید اسد معروف

    جلیل عالی

    کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں خود ڈر گئے تو سب کو ڈرانا پڑا ہمیں اک دوسرے سے بچ کے نکلنا محال تھا اک دوسرے کو روند کے جانا پڑا ہمیں اپنے دیئے کو چاند بتانے کے واسطے بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں وحشی ہوا نے ایسے برہنہ کیے بدن اپنا لہو لباس بنانا پڑا ہمیں ذیلی حکایتوں میں سبھی لوگ کھو...
  14. سید اسد معروف

    غزل "میں اپنے آپ سے لڑتا رہا اکیلے میں" برائے اصلاح

    غزل مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فِعْلن؟؟؟؟ جنوں خرد سے جھگڑتا رہا اکیلے میں میں اپنے آپ سے لڑتا رہا اکیلے میں یہ انتظار قیامت تھا تیرے آنے تک سنور سنور کے بگڑتا رہا اکیلے میں کہیں تو غیر کی محفل میں جلوہ ریز نہ ہو یہ وہم زور پکڑتا رہا اکیلے میں تیرا خیال درختوں کے زرد پتوں...
  15. سید اسد معروف

    غزل برائے اصلاح "مسلسل بے یقینی"

    افاعیل کو سمجھنے کی غرض سے ایک چھوٹی بحر کی غزل جو ابھی لکھی ہے عجلت میں پیش کرتا ہوں۔ مفاعیلن فعولن ۔ فعولن فاعلاتن ؟؟ ہزج مربع مخذوف مکمل بے یقینی مرا کل بے یقینی وفا کے عہد میں بھی ہے شامل بے یقینی فنا بر حق ہے لیکن مسلسل بے یقینی!!! ہے "نا امید" کافر سو افضل بے یقینی مری پہچان ہیں اب تغافل،...
  16. سید اسد معروف

    غزل "نہ عروج دے نہ زوال دے" برائے پوسٹ مارٹم

    ایک غزل جو مجھے بہت پسند ہے اور آج سے 15 سال قبل میرے نام سے شائع ہو چکی ہے، اصلاح اور مشورے کے لیے پیش کرنا چاہتا ہوں۔(در اصل اس محفل سے پہلے کبھی اصلاح لینے کا شرف حاصل نہیں ہوا)۔ اس میں کچھ اجزاء جناب بشیر بدر صاحب اور کچھ سرور بارہ بنکوی صاحب کی لمبی بحر کی غزلوں کی ہو بہو نقل ہیں مگر "عروج...
  17. سید اسد معروف

    مختصر کوشش

    بحرِ زمزمہ/ متدارک مربع مضاعف فعْلن فَعِلن فعْلن فَعِلن (بحوالہhttp://www.aruuz.com/taqti/result) دو شعر-اشعار ہر ایک سے لڑنا چھوڑ دیا میں نے آگے بڑھنا چھوڑ دیا تو نے خود سے چلنا سیکھ لیا مرا ہاتھ پکڑنا چھوڑ دیا....
  18. سید اسد معروف

    غزل بعنوان "کوچ" اصلاح کے لئے پیش ہے

    ہزج مثمن سالم مضاعف مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن یوں تو ہیں پہلو بہت تاریک سارے کوچ کے ہیں مگر خانہ بدوشوں کو سہارے کوش کے ایک مدت سے بسے ہیں ہم نئے اس شہر میں گونجتے ہیں ذہن میں لیکن نقارے کوش کے رزق لکھا ہے اندھیروں میں اگر اس شہر کے آسماں پر کیوں چمکتے ہیں...
  19. سید اسد معروف

    فریب ٹوٹا، کھلی حقیقت، سو اب سے میرا کلام سچ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لیے

    سلام کے بعد عرض ہے کہ پشاور میں کوئی ادبی رسالہ نہ ملنے کے بعد یہ محفل ایک متبادل نظر آئی سو حاضر ہوگیاہوں۔چنداشعاراصلاح کےلیےپیش کرناچاہتاہوں جمیل مثمن سالم مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن فریب ٹوٹا، کھلی حقیقت، سو اب سے میرا کلام سچ ہے مبالغہ تھا جو پہلے لَّکھا، جو اب لکھوں گا تمام سچ...
Top