نتائج تلاش

  1. میم الف

    میر تھا شوق مجھے طالبِ دیدار ہوا میں • میر تقی میرؔ

    آج میں آپ کو میرؔ صاحب کی ایک غزل سنانا چاہتا ہوں۔ سیدھی سادی سی ہے۔ لیکن میرؔ صاحب کی سیدھی سادی باتیں بھی دل میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ یہ غزل تو مجھے اپنی ہی آپ بیتی معلوم ہوتی ہے۔ امید ہے آپ کو بھی پسند آئے گی: تھا شوق مجھے طالبِ دیدار ہوا میں سو آئنہ سا صورتِ دیوار ہوا میں جب دور گیا...
  2. میم الف

    ہے مزہ کھانے کا یارو بانٹ کے

    چھانٹ کے رکھو‘ نہ رکھو گانٹھ کے ہے مزہ کھانے کا یارو بانٹ کے جو سمجھ جاتا ہے بچہ پیار سے اُس کو سمجھاتے نہیں ہیں ڈانٹ کے فلسفے میں ہم تو پڑتے ہی نہیں معتقد ہیگل کے ہیں نہ کانٹ کے اِس قدر سامان ردی ہے جمع کچھ الگ کر دیجیے نا چھانٹ کے طفل کو دلوا دیے جوتے نئے باپ نے پہنے پرانے گانٹھ کے کوچ...
  3. میم الف

    ہوں میں کل سنسار سے اوبا ہوا

    ہوں میں کل سنسار سے اوبا ہوا اور اپنے آپ میں ڈوبا ہوا ہو گئی تقدیر آخر کامیاب اپنا ہر ناکام منصوبا ہوا تو محب اپنا ہوا نہ ایک دل میں ترا سارا ہی محبوبا ہوا جب ہوئی ہم کو طلب تیری ہوئی جب ہوا تب تو ہی مطلوبا ہوا اِس طرح سے ہو گیا تن خشک تر جس طرح پنجاب کا صوبا ہوا میں ہوا یعنی کہ ناممکن...
  4. میم الف

    نہ دل ہوتا تو دیوانا نہ ہوتا

    نہ دل ہوتا تو دیوانا نہ ہوتا گل و بلبل کا افسانا نہ ہوتا سبھی اپنوں سے بے گانے تو ہوتے کوئی اپنے سے بے گانا نہ ہوتا اگر رومیؒ کو تبریزیؒ نہ ملتا تو وہ ملّا سے مولانا نہ ہوتا حقیقت کیا تھی؟ اِس کو جان لیتے اگر پہلے سے کچھ مانا نہ ہوتا گل و گلزار ہوتا کس طرح میؔم فنا گر خاک میں دانا نہ ہوتا ۲۰۱۹
  5. میم الف

    آشنائے غم پایا‘ رازدانِ دل پایا

    ایک پرانی غزل 2013 کی فاتحؔ تخلص کے ساتھ 2022 میں پیش کر رہا ہوں۔ جو غزلیں 2022 میں لکھوں گا، ان شاء اللہ العزیز انھیں 2031 میں پیش کروں گا۔ (نہیں جی، مذاق کر رہے ہیں، اب زمانہ تیز ہے، تیزی کا متقاضی ہے، ہم بھی اپنی رفتار بڑھائیں گے۔) ایک بات اور کہ فاتح تخلص اب استعمال نہیں کرتا۔ آپ میں سے کسی...
  6. میم الف

    تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے

    تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے پھر جو بھی در ملا ہے اُسی در کے ہو گئے پھر یوں ہوا کہ غیر کو دل سے لگا لیا اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے اے یادِ یار تجھ سے کریں کیا شکایتیں اے دردِ ہجر ہم بھی تو پتھر کے ہو...
  7. میم الف

    نہج البلاغۃ (عربی-اردو) حکم و مواعظ ۱ تا ۱۰

    حکمت (۱) قال علیہ السلام کن فی الفتنة کابن اللبون، لا ظھر فیرکب، ولا ضرع فیحلب۔ فتنہ و فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نے ابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کیے ہوں کہ نہ تو اس کی پیٹھ پر سواری کی جا سکتی ہے اور نہ اس کے تھنوں سے دودھ دوہا جا سکتا ہے۔ حکمت (۲) وقال علیہ السلام ازری بنفسہ...
  8. میم الف

    امید کی خوشی از سر سید احمد خانؒ

    اے آسمان پر بھورے بادلوں میں بجلی کی طرح چمکنے والی دھنک، اے آسمان کے تارو، تمھاری خوشنما چمک، اے بلند پہاڑوں کی آسمان سے باتیں کرنے والی دھندلی چوٹیو! اے پہاڑ کے عالی شان درختو! اے اونچے اونچے ٹیلوں کے دل کش بیل بوٹو! تم بہ نسبت ہمارے پاس کے درختوں اور سر سبز کھیتوں اور لہراتی ہوئی نہروں کے...
  9. میم الف

    شاعری کرنا ہمارا شوق ہے

    چند تازہ اشعار: شاعری کرنا ہمارا شوق ہے شوق یہ اپنے گلے کا طوق ہے صحبتیں ویسی ہی کرتا ہے پسند جس کا جتنا ظرف جیسا ذوق ہے جو نہ کچھ کہنے پہ بھی دیتا ہو داد کیا کسی کا اِس طرح کا ذوق ہے؟ ہستی اپنی بھی سمجھ آ جائے گی پر ابھی اِدراک سے مافوق ہے حق اکیلا ایک تنہا لاشریک اور باطل فوج پلٹن جوق ہے...
  10. میم الف

    دھوپ ہے‘ دیوار کا سایا بھی ہے

    دھوپ ہے‘ دیوار کا سایا بھی ہے بیٹھنا تنہا ہمیں بھایا بھی ہے جس کے آگے منزلیں ہوتی نہیں دل ہمیں اُس گام تک لایا بھی ہے چھوڑتے ہرگز نہیں سنسار کو اور یہ کہتے ہیں سب مایا بھی ہے پوجنے والوں سے یہ پوچھے کوئی کیا کسی نے پوج کر پایا بھی ہے؟ زندگی ننگی کی ننگی ہے الفؔ پیرہن معنی کا پہنایا بھی ہے...
  11. میم الف

    لکھ لکھ کے آنسوؤں سے دیوان کر لیا ہے • راجیش ریڈی

    لکھ لکھ کے آنسوؤں سے دیوان کر لیا ہے اپنے سخن کو اپنی پہچان کر لیا ہے آخر ہٹا دیں ہم نے بھی ذہن سے کتابیں ہم نے بھی اپنا جینا آسان کر لیا ہے دنیا میں آنکھیں کھولی ہیں موندنے کی خاطر آتے ہی لوٹنے کا سامان کر لیا ہے سب لوگ اِس سے پہلے کہ دیوتا سمجھتے ہم نے ذرا سا خود کو اِنسان کر لیا ہے جن...
  12. میم الف

    درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا • غالبؔ

    عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا تجھ سے قسمت میں مری صورتِ قفلِ ابجد تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا دل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تمام مٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ اس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا ضعف سے...
  13. میم الف

    سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ • امیرؔ مینائی

    سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ شبِ فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو کبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ سوالِ وصل پر اُن کو عدو کا خوف ہے اِتنا دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں...
  14. میم الف

    تھکتے نہیں ہیں پیڑ کیوں مالی کھڑے کھڑے

    کچھ تازہ اشعار پیشِ خدمت ہیں: تھکتے نہیں ہیں پیڑ کیوں مالی کھڑے کھڑے بستر پہ ہم تو تھک گئے دن بھر پڑے پڑے لے جائیں سوہنی کو جو دریا کے پار تک ایسے بھی کوئی تم نے کمھارو! گھڑے گھڑے؟ اے نرم خو! یہ کیسا سمایا ہے جی میں شوق ننھی سی اِن لوؤں میں یہ کانٹے بڑے بڑے ہرچند ڈھیلا ڈھالا بہت ہو گیا مزاج...
  15. میم الف

    سودا گر تجھ میں ہے وفا تو جفا کار کون ہے • مرزا محمد رفیع سوداؔ

    گر تجھ میں ہے وفا تو جفا کار کون ہے دل دار تو ہوا تو دل آزار کون ہے نالاں ہوں مدتوں سے ترے سائے کے تلے پوچھا نہ یہ کبھو پسِ دیوار کون ہے ہر شب شراب خوار ہر اک دن سیاہ ہے آشفتہ زلف و لٹپٹی دستار کون ہے ہر آن دیکھتا ہوں میں اپنے صنم کو شیخ تیرے خدا کا طالبِ دیدار کون ہے سوداؔ کو جرمِ عشق سے...
  16. میم الف

    کرنی ہے تو کر لو ورنہ معاف کرو

    تمام محفلین کو السلام علیکم! کافی عرصے کے بعد کچھ تک بندی کی ہے۔ پیشِ خدمت ہے: کرنی ہے تو کر لو ورنہ معاف کرو میں تو نہیں کہتا کہ مجھ سے بات کرو اُس سے ہفتے دو ہفتے میں مل آؤ کس نے کہا ہے پابوسی دن رات کرو عامل بابا پہلے اپنا جن پکڑو بعد میں قابو اوروں کے جنات کرو ہمت ہے تو ہم سخنِ منصور...
  17. میم الف

    خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی - عبید اللہ علیمؔ

    خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی لہو میں ناچ رہی ہیں یہ وحشتیں کیسی نہ شب کو چاند ہی اچھا‘ نہ دن کو مہر اچھا یہ ہم پہ بیت رہی ہیں قیامتیں کیسی وہ ساتھ تھا تو خدا بھی تھا مہرباں کیا کیا بچھڑ گیا تو ہوئی ہیں عداوتیں کیسی عذاب جن کا تبسم‘ ثواب جن کی نگاہ کھنچی ہوئی ہیں پسِ جاں یہ صورتیں کیسی...
  18. میم الف

    میں اہم تھا - یہی وہم تھا

    تو سمجھتا ہے بہت تو اہم ہے بھول ہے تیری‘ یہ تیرا وہم ہے موت کا کیا سامنا کر پائے گا؟ جب گیا تو زندگی سے سہم ہے ہڈیوں کا ڈھیر ہی رہ جائے گا پہلواں! مانا تو کوہِ لحم ہے میری باتوں کو سمجھتے ہیں فہیم اُس قدر ہی جتنا اُن کا فہم ہے رونقِ بازارِ دنیا! سچ بتا کیا ترے دل میں بھی گہما گہم ہے؟ عدل کا...
  19. میم الف

    فراز نئی مسافت کا عہدنامہ - احمد فراز

    مرا لہو رائیگاں نہیں تھا جو میرے دیوار و در سے ٹپکا تو شاہراہوں تک آ گیا تھا جہاں کسی کو گماں نہیں تھا مرا لہو رائیگاں نہیں تھا مرے مقدر میں آبرو کی تمام لمبی مسافتیں تھیں مرے سفر میں حسینؑ کے سر‘ مسیحؑ کے جسم کی سبھی دردناکیاں تھیں‘ اذیتیں تھیں مگر مرا درد بے وقر تھا مگر مرا دشت بے شجر تھا یہ...
  20. میم الف

    فراز آئی بینک Eye Bank احمد فراز

    میں تو اِس کربِ نظارا سے تڑپ اُٹھا ہوں کتنے ایسے ہیں جنھیں حسرتِ بینائی ہے جن کی قسمت میں کبھی دولتِ دیدار نہیں جن کی قسمت میں تماشا‘ نہ تماشائی ہے جو ترستے ہیں کہ کرنوں کو برستا دیکھیں جو یہ کہتے ہیں کہ منزل نہیں‘ رستا دیکھیں اُن سے کہہ دو کہ وہ آئیں‘ مری آنکھیں لے لیں اِس سے پہلے کہ مرا جسم...
Top