نتائج تلاش

  1. فائضہ خان

    خداؤں کے نام چٹھی

    بختوں پر چھائی ہے ایسی سیاہی جو کسی طور مِٹتے مِٹتی نہیں ہے کسی در کو چھوڑا نہ دستک سے خالی' کسی سجدے سے بھی اُترتی نہیں ہے کہاں ہیں وہ سارے خُدا ' جن کے ہاتھوں میں تھی لکیروں کی ڈوری بلاو اُن کو کہو فلک سے زمیں پر اُتر کر تو دیکھیں یہاں سے وہاں تک پھیلی محبتوں میں پَنَپتی عداوت کے بِیجوں...
  2. فائضہ خان

    مَرثِیہ

    آج مَشیتِ اِیزدی پر نَوحَہ کُناں ہوں کہ میں بے بضاعت دُکھوں کی بَہتات کے کارَن آخر اَپنے پانو اَپنا نُدبہ لکھ رہی ہے ۔۔۔ با ہَمی صمِیم پَرمان تو یہ ہوا تھا کہ زِنہار نِر نحن کَلام ہوں گے۔۔۔ پرَنتو اب مجھے تَمردِیتءِ رائیگانی کا رَم مُجوّف کر رہا ہے۔۔۔ نِرت بھاؤ بھی مری بدطالعی کتھا تا اِیں دم...
  3. فائضہ خان

    پیاز کی ایک پرت ۔۔۔ چھ چٹکی ریت ۔۔۔ اکیس گرام ۔۔۔

    تم نے کہا تھا کہ جلد یا بدیر محبت اپنا انتقام خود بن جائے گی ۔۔۔۔۔ تم نہ جانے کس مٹی کے بنی ہو ۔۔۔۔ تمہیں میری ہر ادا اچھی لگتی ہے۔۔۔۔ ہر غم اپنا غم لگتا ہے ۔۔۔۔ تمہیں یوں دیکھ کر مجھے لگتا ہے جیسے چاند بڑا بےبس ہے کہ سحر کی امید اسکا اجالا نگل جائے گی۔۔۔۔۔ مگر یہ وہ خدشہ ہے جس نے چاند پر ہلکی...
  4. فائضہ خان

    اک شب

    بچھڑ رہے ہیں تو اک کام کرتے ہیں ایک شب ماضی کے نام کرتے ہیں تم بھی اٹھا لانا لمحے محبت کے میں بھی سمیٹ لاوں گی احساس پہلی چاہت کا تم وہی پہننا جو اس دن پہنا تھا میں بھی وہی سیاہ ساڑھی اور جوڑا باندھوں گی تم آنا ہاتھ میں سرخ گلاب لیے پھر وہی گلاب میرے جوڑے میں سجا دینا میں تحفہ وہی پرفیوم لاوں...
  5. فائضہ خان

    مکالمہ

    تم رات ہو۔۔۔۔۔ رات جو تاریکی کا وہ غلاف تان دیتی ہے جس میں مادے کی مصنوعی سرحدیں فنا ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔ کئی بار میں نے رات کے دهاگے کو پکڑ کر خماری کے اس ماتم میں شرکت کی۔۔۔۔ اور اس ماتم میں موجود خوشی کے نغموں کو سنا ہے۔۔۔۔ کئی بار میں نے ہوا میں تحلیل ہو کر تمہارے بدن کے خلیوں میں موجود خلا کی...
Top