نتائج تلاش

  1. ح

    اسلام اور تصوف

    یہ قول علامہ اقبال کے سے منصوب کیا جاتا ہے لیکن میں نے ان کے پی ایچ ڈی کے تھیسز Development of Metaphysics in Persia کا ترجمہ میں دیکھا ہے کہ یہ قول اس طرح نہیں ہے انہوں نے لکھا ہے کہ تصوف ایران کی سرزمین پر اجنبی پودا ہے لیکن اس کو اکثر ایران کی بجائے اسلام لکھا جاتا ہے۔
  2. ح

    اسلام اور تصوف

    لیکن عالم اور پیغمبر میں ایک واضح فرق یہ ہے کہ عالم پر الہام یا وحی نہیں ہوتی اس سے دلیل پوچھنا تو غیر عالم کا حق ہے کہ عالم نے اپنی کوئی بات قرآن یا حدیث میں کس جگہ سے اخذ کی ہے
  3. ح

    اسلام اور تصوف

    ایک بات بار بار زیر بحث آتی ہے کہ صوف کا مطلب اون ہے اور یہ کہ صوفی اون کا لباس پہنتے تھے۔ مگر یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ جو لوگ گرم علاقوں کے رہنے والے ہیں وہ کیا پہنتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ گرمی میں اون کا لباس تو نہیں پہنا جا سکتا۔ ان کو کیا نام دیا جائے گا۔
  4. ح

    اسلام اور تصوف

    مجھے تصوف کے ماخذ سے دل چسپی ہے۔ وہ کون سی آیات یا احادیث ہیں جن کو تصوف کا ماخذ قرار دیا جاتا ہے۔ میں نے یہ بھی پڑھا ھے کہ شاہ ولی اللہ یا جنید بغدادی رح نے فرمایا کہ یہ علم ھم نے یہ علم ایسے حاصل کیا جیسے کہ ایک خربوزہ سورج کی روشنی سے نشوونما پاتا ہے۔ نا سورج کو پتا ہوتا ہے کہ وہ خربوزے کو...
  5. ح

    سعادت حسن منٹو کے عاشقِ زرار کیلئے

    اوریا صاحب جو ایسے لوگوں کی ذہنی ساخت کے بارے میں سائنسی تحقیق کا ذکر کیا ہے وہ قابل توجہ چیز ہے. مزید یہ کہ اوریا صاحب کی راے صرف ایک عام کالم نگار کی راے نہیں ہے وہ ذہنی امراض کے ایک ماھر کی راے بھی ہے۔ اور یہ کہ منٹو صاحب پاگل خانے میں زیر علاج بھی رہے ہیں۔
  6. ح

    اقتباسات ملامتی ، صوفی، قلندری اور حلولی۔ عوارف المعارف از شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔

    اور مسائل کے علاوہ اس کے عقائد صریحا اسلام کے خلاف تھے۔ ان میں سے ایک مرنے کے بعد انبیاء کی روحوں کا مسئلہ تھا۔ منصور حلاج کا کہنا تھا کہ انبیاء کے مرنے کے بعد ان کی روحيں ان کے صحابہ اورشاگردوں کے اجسام میں لوٹادی جاتی ہیں ، وہ کسی کو کہتا کہ تم نوح علیہ السلام اور دوسر ے کو موسی علیہ السلام...
  7. ح

    اقتباسات ملامتی ، صوفی، قلندری اور حلولی۔ عوارف المعارف از شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔

    یه سب علماء سرکاری ملازم تھے بھلا پھانسی کس اصول کے تحت دی گئی.
  8. ح

    سعادت حسن منٹو کے عاشقِ زرار کیلئے

    ٹھیک کہا۔ بے مھار آزادی کسی کو بھی نہیں ھے
  9. ح

    سعادت حسن منٹو کے عاشقِ زرار کیلئے

    ادب اور امن کے نوبل پرائز کا معیار زیادہ تر سیاسی ہوتا ہے. اس کے علاوہ ان کے میعار وقت کے ساتھ حساب سے بدلتے رہتے ہیں اسلئے نوبل پرائز کسی اچھائی یا برائی کا معیار نہیں بنایا جا سکتا. جو معیار مذاہب نے طے کیے ہیں وہ وقت کی حدود سے آزاد ہیں.
  10. ح

    اقتباسات ملامتی ، صوفی، قلندری اور حلولی۔ عوارف المعارف از شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔

    منصور حللاج کا مسلہ مذہبی نہیں بلکہ سیاسی تھا. اس کا تعلق قرامطہ سے تھا. جو کہ عباسسیوں کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور ان کے خلاف بغاوت پر آمادہ رہتے تھے. منصور حللاج قرامطہ تحریک کا ایک سرگرم رکن تھا
  11. ح

    سعادت حسن منٹو کے عاشقِ زرار کیلئے

    دوسرا کالم نصرت جاوید نے ایکسپریس اخبار میں لکھا ھے۔ کچھ منٹو کے بارے میں میرے ایک بڑے ہی محترم ہمعصر ہیں جو اپنے علم اور تقویٰ کی بنیاد پر ہم گنہگاروں کو اکثر شرمسار کر دیتے ہیں۔ میں اپنے اندر کے شیطان کو قابو میں رکھنے کے لیے ان کے کالم بہت شوق سے پڑھتا اور ان سے ہدایت حاصل کرنے کی کوشش...
Top