نتائج تلاش

  1. ابن رضا

    ریت۔۔۔۔۔

    ہمیں یہ سیکھنا ہو گا کہ مٹھی کھول دینی ہے۔۔۔۔ وہ گیلی ریت ہوتی ہے جسے مٹھی میں بھرنے سے ہمیں لگتا ہے شاید یہ سمٹ جائے گی ہاتھوں میں ٹھہر جائے گی مٹھی میں وہ جب تک نم سی رہتی ہے رکی رہتی ہے ہاتھوں میں ہمیں اپنی سی لگتی ہے ہمارے ہاتھ کا حصہ ‏ہماری ذات کا حصہ ‏وہ بن کر ساتھ رہتی ہے ‏ہمیں...
  2. ابن رضا

    بے رخی

    اربابِ ذوق کی نذر چند تازہ اشعار بات کوئی تو اَن کہی سی ہے اُس کے لہجے میں بے رُخی سی ہے اُس کی باتوں میں اک تردّد ہے اُس کی آنکھوں میں بے بسی سی ہے ایک اذیت ہے اُس کی خاموشی اِک طبیعت میں بے کلی سی ہے راحتیں تو سبھی میسر ہیں کوئی پھر بھی مگر کمی سی ہے ایک مدت ہوئی اُسے دیکھے زیست جیسے...
  3. ابن رضا

    محبت دھوپ جیسی ہے

    محبت دھوپ جیسی ہے کبھی سردی کے موسم میں تمازت خوب دیتی ہے ٹھٹھرتے کپکپاتے تن کی یہ تسکین بنتی ہے چمن میں کھل کھلاتی ہے گُلوں کا دل لُبھاتی ہے کڑی گرمی کے موسم میں کلیجہ آزماتی ہے جُھلستے تپتپاتے گرم جھونکے بن کے آتی ہے تو گلشن کی تراوٹ سے عداوت بھی نبھاتی ہے محبت دھوپ جیسی ہے جلا کر بھسم کرتی ہے...
  4. ابن رضا

    یا رب مری آنکھوں کو کچھ اشکِ ندامت دے

    اخلاص کی ثروت دے، کردار کی رفعت دے یا رب مری آنکھوں کو کچھ اشکِ ندامت دے سرشار مجھے کر دے تو اپنی محبت سے کچھ شوقِ اطاعت دے کچھ ذوقِ عبادت دے دن رات ثنا تیری ہو لب پہ مرے جاری کچھ ایسی عقیدت دے کچھ ایسی ارادت دے پیمانۂ دل میرا لبریز ہو ایماں سے کچھ ایسی بصارت دے کچھ ایسی حرارت دے کچھ اشک...
  5. ابن رضا

    نوازشیں ہیں، عنایتیں ہیں ، خدائے برتر کی رحمتیں ہیں

    نوازشیں ہیں، عنایتیں ہیں ، خدائے برتر کی رحمتیں ہیں یہ کہکشائیں، زمیں زماں سب اُسی کے جلووں کی وسعتیں ہیں فلک کی چادر میں نور اُس کا، ہے موجِ دریا سرور اُس کا بلند و بالا یہ کوہ و پربت کریم پرور کی ہیبتیں ہیں نوازتا ہے وہ عزتیں بھی، نصیب کرتا ہے ذلتیں بھی جسے جو چاہے عطا کرے وہ، اُسی کے کن کی...
  6. ابن رضا

    زیست بے رنگ تھی تجدیدِ وفا سے پہلے

    زیست بے رنگ تھی تجدیدِ وفا سے پہلے میں تغافل میں رہا، شوقِ لقا سے پہلے میں وہ احسان فراموش ہوں جس کا مالک تھام لیتا ہے اُسے لغزشِ پا سے پہلے کیا یہ کم لُطف و کرم ہے کہ وہ سُن لیتا ہے میرا ہر حرفِ دُعا عرضِ دُعا سے پہلے جب بھی گھیرا ہے مجھے گردشِ حالات نے، وہ مُلتفت مجھ پہ ہُوا رنج و بلا سے...
  7. ابن رضا

    بابِ ایجابِ دُعا مجھ پہ کُھلے گا کب تک؟

    تھک گئی آہ مِری عرش پہ دیتے دستک بابِ ایجابِ دُعا مجھ پہ کُھلے گا کب تک؟ اَوَّل اَوَّل تو مری آنکھ تھی ساون ساون محوِ گریہ ہے مرے حال پہ اب چشمِ فلک آزمائش تھی مِرے ضبط کی مقصود جسے آ کے رکھے وہی زخموں پہ مِرے مشتِ نمک لوگ اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ خوش باش ہوں میں رُخ پہ رہتی ہے تری یاد سے اک...
  8. ابن رضا

    میرے نمک پارے۔۔۔۔۔۔۔ابنِ رضا

    میرے کچھ نمک پارے ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے سوچا ان کو جیسے جیسے دستیاب ہوں ایک لڑی میں پروتا جاتا ہوں۔ سو حاضر ہیں دھرنے کے دنوں کا کچھ نمکین۔ وہ شخص وزارت سے اتر کیوں نہیں جاتا رسیا‌ وہ حکومت کا ہے، گھر کیوں نہیں جاتا دیکھی نہ سنی اتنی ملامت کبھی لوگو غیرت ہے اگر اس میں تو مر کیوں نہیں...
  9. ابن رضا

    "ہمیں تم سے محبت ہے"

    ایک تازہ نظم احباب کی بصارتوں کی نذر چلو ہم بات کرتے ہیں کہ شاید بات بن جائے سُنا ہے بات کرنے سے ہی اکثر بات بنتی ہے چلو ساحل پہ چلتے ہیں وہاں کی نرم گیلی ریت پرکچھ خواب بُنتے ہیں چلو ساحل کی جانب رقص کرتی جھوم کر بڑھتی ہوئی موجوں کے نظّارے سے لُطف اندوز ہوتے ہیں چلو سورج کی زردی کو سمندر کے...
  10. ابن رضا

    فاقہ کشی

  11. ابن رضا

    پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نام

    اپنی ایک غزل کے ایک مصرع کو گرہ لگا کر ایک قطعے کی صورت دی ہے جسے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نذر کیا جاتا ہے ق نہ تم اپنی روش بدلو:love-over: نہ ہم اپنی انا چھوڑیں:cautious: نہ ہارو میچ تم کوئی :stop: نہ ٹی وی اپنے ہم توڑیں:beating:
  12. ابن رضا

    زندگی کو وہ سانحہ سمجھے

    ایک تازہ غزل احباب کے ذوق کی نذر زندگی کو وہ سانحہ سمجھے عہدِ اُلفت کو اِک خطا سمجھے دردِ دل کی اُسے دوا سمجھے ہم جو سمجھے، تو کیا بُرا سمجھے رگِ جاں میں اُتر گئی ہو تم آرزوؤ! تمھیں خُدا سمجھے حسرتوں کا لہو تھا آنکھوں میں وہ جسے ایک عارضہ سمجھے حیف! اِک رابطے کی دُوری ہم زندگی بھر کا...
  13. ابن رضا

    مبارکباد سر آسی صاحب کو عمرہ کی سعادت مبارک ہو

    شنید ہے کہ سر محمد یعقوب آسی صاحب عمرہ کی سعادت حاصل کرکے واپس تشریف لا چکے ہیں. آپ کو بہت بہت مبارک ہو سر اللہ کریم آپ کی حاضری قبول فرمائے۔ آمین
  14. ابن رضا

    مبارکباد چڑیا کی گڑیا

    پیارے بچو!! :) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دنیا کےکچھ کونوں میں محفل نام کا ایک پیارا سا باغیچہ تھا:island::rose::redrose: جس میں طرح طرح کے چرند پرند آیا کرتے تھے:devil3::hatoff::warzish::box::boxing::applause: وہاں ایک پیاری سی چڑیا بھی آتی تھی جو ہر وقت ہنستی مسکراتی اور چوں چوں کرتی رہتی...
  15. ابن رضا

    بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو

    ایک تازہ غزل احباب کی نذر بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو دل مرا درد کا خوگر ہے ، مجھے رونے دو ایک برسات کا منظر ہے عیاں آنکھوں سے اِک تلاطم مرے اندر ہے، مجھے رونے دو شدتِ غم نہ کہیں مانگ لے نذرانہِ جاں اب کے شاید یہی بہتر ہے، مجھے رونے دو جب سے ساقی نے دیا بزم نکالا مجھ کو تب سے مینا...
  16. ابن رضا

    گاہے گاہے وہ ہمیں دیکھ لیا کرتے ہیں

    چند اشعار گاہے گاہے وہ ہمیں دیکھ لیا کرتے ہیں اس تغافل پہ بھی ہم ناز کیا کرتے ہیں ہم کبھی ساز کے تاروں کو جو چھو لیتے ہیں نت نئے درد بھرے راگ چھڑا کرتے ہیں آہ و زاری تو نہیں کام ہمارے بس کا دل جو بھر آئے تو ہم شعر کہا کرتے ہیں اسی زمین میں بارِ دگر عرض کیا ہے رنج و آلام سے وہ لوگ بچا کرتے...
  17. ابن رضا

    نہ تم ہوتے نہ ہم ہوتے، نہ ہوتا درد سینے میں

    عرض کیا ہے نہ تم ہوتے نہ ہم ہوتے، نہ ہوتا درد سینے میں نہ دل ہوتا نہ غم ہوتے، نہ ہوتا درد سینے میں نہ تم باغِ اِرم ہوتے، نہ ہوتا درد سینے میں نہ ہستی کے الم ہوتے، نہ ہوتا درد سینے میں مسافت ہی تھکا سکتی نہ ہم کو آبلہ پائی اگر تم ہم قدم ہوتے، نہ ہوتا درد سینے میں محبت کے شراروں سے جگر جلتا...
  18. ابن رضا

    محبت کچھ نہیں ہوتی!!!

    نظم محبت کچھ نہیں ہوتی کسی کے پاس آنے سے کسی کے دور جانے سے کسی کو فرق پڑتا ہے نہ کوئی کام رُکتا ہے نہ دن ہی بھولتا ہے راستہ اپنا نہ شب گمنام ہوتی ہے ستارے جگمگانا چھوڑ دیتے ہیں نہ پنچھی گیت گانا چھوڑ دیتے ہیں نظامِ زندگانی کے تسلسل میں تعطل تو کسی صورت نہیں آتا محبت کی مثال ایسی ہے کہ جب...
  19. ابن رضا

    تامل!!

    وہ لفظوں کا ہےسوداگر انہی لفظوں کی ہر لمحہ تجارت خوب کرتا ہے ہمیشہ دل نشیں جملوں سے دل کو موہ لیتا ہے ہے موضوعِ محبت پر اسے اک دسترس حاصل کبھی اس کھیل میں اس سے نہ کوئی جیت پایا ہے مگر ایسا کبھی تو ہو کہ وہ اپنی ہی باتوں پر عمل بھی کر دکھائے تو ہمیں بھی مان لینے میں تامل کیوں ذرا بھی ہو برائے...
  20. ابن رضا

    ذرا سی بدگمانی!!!!

    نظم ذرا سی بدگمانی کے فسوں کی مہربانی سے تعلق ٹوٹ جاتے ہیں دلوں میں رنجشیں پروان چڑھتی ہیں کہ جیسے سنگ دل آکاس بیل آ کر بدن پر پیڑ کے ایسے چمٹ جائے کہ جیسے جونک ہو کوئی کہ جو اس کی رگوں سے خون سارا چوس کر اُس پیڑ کو تو ناتواں کردے مگر خود پھیلتی جائے اگر اس بدگمانی کے فسوں کو توڑنا چاہیں...
Top