پھر خیالوں میں ترے قُرب کی خوشبو جاگی
پھر برسنے لگی آنکھیں مری بادل کی طرح
بے وفاؤں سے وفا کرکے ، گذاری ہے حیات
میں برستا رہا ویرانوں میں، بادل کی طرح
کلیم عثمانی
ویرانہ
خیریت ہے ۔ آج تو ٹرین سیدھی پٹری پر چل رہی ہے ۔ بھئی یہ لڑی ٹھیک ہے کم از کم حرف ابجد کو الٹ کرتو دیکھنا نہیں پڑتا ۔ اور آسانی سے فوراً مراسلہ بھی پوسٹ ہوجاتا ہے ۔