طریقہ واردت ہی کچھ ایسا تھا کہ چاچا فہیم کو خبر تک نہ ہوئی اور ان کے چارپائی ان کے سونے کے دوران ہی دور پہنچ گئی تھی ۔ سنا ہے صبح کو کسی کو کوستے ہوئے اور بغل میں چارپائی دبائےہوئے گل میں داخل ہوئے تھے ۔
فہیم ہمارے محلے میں ایک انکل کا نام تھا ۔ یہ والا فہیم نہیں ۔۔۔ وہ محلے کی گلی میں چارپائی بچھا کر سوتے تھے ۔ ایک رات ہم نے اپنے دوستوں کیساتھ ملکر جب وہ چارپائی پر سو رہے تھے ان کی چارپائی اٹھا کر دور ایک کرکٹ کے میدان میں چھوڑ دی تھی ۔