رونق تو یہاں اب بھی موجود ہے،
بس کچھ آنکھیں ہیں جو خوابوں میں گلی ہوئی ہیں۔
وہ ہنستے ہیں چپ، دل کی بات چھپائے،
چہرے کی چمک میں، خوشیاں مسکائے۔
یہ خاموشی تو بس ایک لمحے کی ہے،
ہم سب کے دلوں میں امید کی روشنی ہے۔
ہر چمکتے ستارے کی چھاؤں میں،
زندگی کی خوشبو، پھر سے بکھرنے کو تیار ہے۔
آؤ مل کر...