109
اونچا. برج ہرایک جہاں نما، خورشید سا چمکتا. لیکن جو لوگ درباری یا ملازم سرکاری آتے جاتے دیکھے، سب سیاہ پوش، خم خانہ الم کے جرعہ نوش. اس کا ماتھا ٹھنکا، پاؤں ہر ایک کئی من کا ہو گیا. ہر شخص کا منہ تکتا تھا، قدم اٹھ نہ سکتا تھا، گویا سکتہ تھا. کہتا: خدا خیر کرے! شگون بد ہے، دل کو بےقراری ازحد...