صفحہ: ۱۰۲
کہتی: اور تو کچھ جانتی نہیں، پر یہ نقشہ ہے: ہاتھ پاؤں سنسناتے ہیں، خود بہ خود غش چلے آتے ہیں۔ دم سینے میں بند ہے، گھبراتا ہے، مکان کاٹے کھاتا ہے۔ باغ ویران، گل و بوٹا خار معلوم ہوتا ہے۔ ھر زنداں، بات کرنا بے کار معلوم ہوتا ہے۔ جان بےقرار ہے، بند بند ٹوٹتا ہے۔ دامن صبر دست استقلال سے...