محمد وارث کے کوائف نامے کے مراسلے پر تبصرے

  1. زیک
    زیک
    گوگل نے اس کا یہ ترجمہ بتایا ہے:
    میز پر میز بھی نہیں بیٹھی تھی ... میں اسے توڑنا چاہتا ہوں
    ‏ستمبر 9, 2018
  2. محمد وارث
    محمد وارث
    آپ نے گوگل ٹرانسلیٹ کرایا ہوگا، سرچ انجن پر ڈالتے تو شاید یہ ملتا:
    فلک (اپنی تمام تر) سنگ دلی کے ساتھ گھات لگائے بیٹھا ہے اور میں ٹوٹنے کے لیے شیشے کی طرح بس بہانہ ہی چاہتا ہوں۔
    :)
    ‏ستمبر 9, 2018
  3. لاریب مرزا
    لاریب مرزا
    کچھ فنا بھی نہ مٹا پائی محبت کا وجود
    آئینہ ٹوٹ کے کچھ اور بکھر کر نکلا
    ‏ستمبر 9, 2018
  4. م حمزہ
    م حمزہ
    شعر تو بالکل سمجھ سے باہر تھا لیکن آپ کے ترجمے نے مشکل آسان کردی۔ آپ کو واپس آتا دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔
    ‏ستمبر 9, 2018
    عرفان سعید اور محمد وارث نے اسے پسند کیا۔
  5. فرقان احمد
    فرقان احمد
    کچھ حد بھی اے فلک ستم ناروا کی ہے
    ہر سانس داستاں ترے جور و جفا کی ہے
    ‏ستمبر 9, 2018