فرحان محمد خان کے کوائف نامے کے مراسلے پر تبصرے

  1. فرقان احمد
    فرقان احمد
    جو عشق میں مبتلا ہو گیا، وہ عشق کو ڈیفائن نہیں کر سکتا کہ وہ ذات و متعلقات سے بے گانہ ہو جاتا ہے؛ اور جسے عشق نہ ہوا، وہ تو یوں بھی اسے ڈیفائن کرنے سے قاصر ہے ۔۔۔!!! سلامت رہیں ۔۔۔
    ‏مئی 22, 2017
    ہادیہ، bilal260 اور فرحان محمد خان نے اسے پسند کیا۔
  2. اکمل زیدی
  3. محمد عدنان اکبری نقیبی
    محمد عدنان اکبری نقیبی
    رب قدیر کی یاد میں گم ہو جانا
    ‏مئی 22, 2017
    ہادیہ، bilal260 اور فرحان محمد خان نے اسے پسند کیا۔
  4. فرقان احمد
    فرقان احمد
    دیکھیے محترم! اگر کوئی پوچھے، موت کیا ہے؟ تو پھر؟ سائنس دان، مذہبی عالم اور فلسفی کے پاس الگ تعریفات ہوں گی؛ تاہم، جو مر گیا، اس نے سچ کو جان لیا تاہم وہ کبھی بتا نہیں پائے گا؛ عشق کا بھی بعینہ یہی معاملہ ہے۔ جو ڈوب گیا، بتا نہیں سکتا؛ جو نہیں ڈوبا، اسے خبر نہیں۔
    ‏مئی 22, 2017
    ہادیہ، اکمل زیدی، bilal260 اور ایک اور رکن نے اسے پسند کیا۔
  5. فرحان محمد خان
    فرحان محمد خان
    آپ کی بات دل کو لگی
    ‏مئی 22, 2017
    ہادیہ، bilal260 اور فرقان احمد نے اسے پسند کیا۔
  6. لئیق احمد
    لئیق احمد
    محبت کی کیفیت میں شدت پیدا ہوجائے تو اسے عشق کہتے ہیں۔
    فرقان احمد صاحب علماء بھی یہی کہتے ہیں اور چونکہ میں عشق کی چوٹ کھا چکا ہوں اس لئے بتا سکتا ہوں کہ بہت تکلیف دہ چیز ہے۔
    ‏مئی 22, 2017
    فرحان محمد خان نے اسے پسند کیا۔
  7. فرقان احمد
    فرقان احمد
    صاحب! ہم تو محض فلسفہ بگھار سکتے ہیں؛ جس نگر میں قدم نہیں رکھا؛ اس کی بابت کیا کہہ سکتا ہوں؛ عین ممکن ہے آپ درست فرما رہے ہوں لئیق بھائی!
    ‏مئی 22, 2017
    فرحان محمد خان اور لئیق احمد نے اسے پسند کیا۔