اولمپک لندن 2012 میں پاکستان کا پہلا گولڈ میڈل

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
واقعی شرم آنی چاہیے لیکن ہمیں نہیں، ان کھلاڑیوں کو، ان کے کوچ کو، ان کے کرتے دھرتوں کو۔ سالہا سال کھیل کر یہ نتیجہ آیا ہے۔

قوم کا پیسہ اتنا بھی فالتو نہیں جو ان کے اللے تللے میں اڑا دیا جائے۔
اگر آپ کو قوم کے پیسے کی فکر ہوتی تو پاکستان میں کام کرتے باہر نا بھاگ جاتے
 

زبیر مرزا

محفلین
خرم بھائی تنقید آسان ترین کام ہے اورخصوصاً پاکستان پر اس سے روشن خیال کہلانے اور
احساس کمتری کے اظہار کا بھرپورموقع ملتا ہے :) ٹی وی چیلنز کے خودساختہ دانشوروں سے لے کر
انٹرنیٹ پربیٹھے افراد ، ملک میں رہنے والے یا ملک سے باہر تن من دھن سے اس مشغلے میں مصروف ہیں
نفرت اورحقارت سے اپنے ملک کا ذکرکرنا اب فیشن سا بن گیا ہے جی آپ کیوں بیچاروں کو اس تفریح سے محروم
کرتے ہیں - خرم بھائی آپ اپنے حصے کے چراغ جلائیں کہ یہ عمل فی زمانہ کم لوگوں کے نصیب میں ہے
مثبت سوچ کوفروغ دینے کا عمل پاکستان سے باہر رہ بھی ہوسکتا ہے اورظلمت شب کا ماتم بھی
 

سبط الحسین

لائبریرین
ہار پر افسوس کا اظہار کرنا ایک قدرتی ردعمل ہے ۔ اور بجا ہے کہ آج پاکستانی ٹیم کافی برے طریقے سے ہاری ہے ۔ لیکن آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ ایک نہایت ہی اَن پروفیشنل سیٹ اپ کے ساتھ ، اور جدید سہولیات کے فقدان اور جدت سے عاری کو چنگ کے ساتھ بھی اگر آپ اس لیول پر کسی حد تک مقابلہ کر سکتے ہیں تو آپ کو ایسے ہی مواقع پر ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ موازنے کے طور پر بتاتا جاؤں کہ انگلینڈ نے اس اولمپک مقابلہ میں صرف ہاکی کے کھلاڑیوں کی تیاری پر قریباً 15 ملین پاونڈز خرچ کیے ہیں جو کہ پاکستانی کرنسی میں قریباً 2.3 ارب روپے بنتے ہیں ۔ اور اگر پھر بھی وہ میڈل حاصل نہیں کر پاتے تو ان کے لوگ پھر بھی ان کی حوصلہ افزائی نہ کہ عزت افزائی۔
 
ٹی وی چینل پر اور اردومحفل کی طرح اور بہت سے فورمز پر بیٹھ کر تبصرے کرنا بہت آسان ہے۔ باتیں کرنی تو سب کو آتی ہیں۔ اگر ہار برداشت نہیں ہوتی یا ہنسی آتی ہے تو خود کھیلنے چلے جائیں۔ پتہ چل جائے گا کہ خود کتنے پانی میں ہیں۔ پاکستان کی ہاکی کی ٹیم کافی عرصے سے مشکلات کا شکار ہے اس صورتِ حال میں اگر آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم سے ہار گئے تو کیا ہوا۔ جب ہماری ٹیم جیت کر آتی ہے تو اس وقت تو سر پر بٹھا لیتے ہیں۔ اور جب ہار جاتے ہیں تو سر سے زمین پر پٹخ دیتے ہیں۔ شرم آنی چاہیئے:angry:
پاکستان میں تو پہلے ہی ٹیلنٹ کی قدر نہیں ہوتی اب اگر میں کھیلنے چلا گیا تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں بیرونِ ملک سے آفرز نا آنی شروع ہو جائیں:eek: ۔
دوسری بات اگر میں کھیلنے چلا گیا تو پتہ نہیں کتنے لوگوں کھیلنے سے جائیں گے میری وجہ سے:p:applause:
 

شمشاد

لائبریرین
اگر آپ کو قوم کے پیسے کی فکر ہوتی تو پاکستان میں کام کرتے باہر نا بھاگ جاتے
قوم کو ہی پیسے بھیجنے کے لیے تو ملک سے باہر آیا ہوں۔

اور ہاں میں بھاگ کر نہیں بلکہ ہوائی جہاز میں بیٹھ کر آیا تھا۔

بھاگنا ہی ہوتا تو اولمپک میں بھاگتا اور کم سے کم کانسی کا تغمہ ضرور جیت لیتا۔
 

شمشاد

لائبریرین
پاکستان میں تو پہلے ہی ٹیلنٹ کی قدر نہیں ہوتی اب اگر میں کھیلنے چلا گیا تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں بیرونِ ملک سے آفرز نا آنی شروع ہو جائیں:eek: ۔
دوسری بات اگر میں کھیلنے چلا گیا تو پتہ نہیں کتنے لوگوں کھیلنے سے جائیں گے میری وجہ سے:p:applause:
میں آپ کی بات سے متفق ہوں۔

اصل میں خرم جو ہے یہ کیا جانے کہ ہاکی کیسے کھیلتے ہیں اور کیسے کھلاتے ہیں۔ یہ اپنے محلے کی گُلی ڈنڈے کی ٹیم کا کھلاڑی ہے۔ اب گُلی ڈنڈے میں گول تو کر نہیں سکتے۔
 
میں آپ کی بات سے متفق ہوں۔

اصل میں خرم جو ہے یہ کیا جانے کہ ہاکی کیسے کھیلتے ہیں اور کیسے کھلاتے ہیں۔ یہ اپنے محلے کی گُلی ڈنڈے کی ٹیم کا کھلاڑی ہے۔ اب گُلی ڈنڈے میں گول تو کر نہیں سکتے۔
اولمپک میں گلی ڈنڈے کا بھی کھیل ہونا چاہئیے
 

شمشاد

لائبریرین
میرا ووٹ آپ کے حق میں ہے۔ گلی ڈنڈے کا کھیل ہونا چاہیے۔
اس سے اگلے اولمپک میں ہم بنٹے کھیلنے کے لیے سفارش کریں گے۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
میں آپ کی بات سے متفق ہوں۔

اصل میں خرم جو ہے یہ کیا جانے کہ ہاکی کیسے کھیلتے ہیں اور کیسے کھلاتے ہیں۔ یہ اپنے محلے کی گُلی ڈنڈے کی ٹیم کا کھلاڑی ہے۔ اب گُلی ڈنڈے میں گول تو کر نہیں سکتے۔
یو اے ای بلو رے کرکٹ کلب کا کپتان رہا ہوں میں۔ ہاکی کالج لیول تک کھیلی ہے جناب
 

ظفری

لائبریرین
بھئی بات یہ ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے ایتھلیٹ تیار کرنے کا کوئی نظام تر بیت ہی موجود نہیں۔ ایسے میں تمغے کیا آسمان سے اتریں گے۔
کرکٹ کے کھلاڑیوں کو ولیمے پر سونے کے تاج عطا کیے جاتے ہیں۔ دوسرے کسی کو کوئی پوچھتا تک نہیں۔
بلکل صحیح ۔۔۔ بنیادی طور پر ایک پروفشینل ایتھلیٹ کو روزمرہ کی بنیادوں پر خود کو فٹ رکھنا پڑتا ہے ۔ ہمارے ہاں تو یہ حال ہے کہ ان پروفشنیلز کو دعوتوں سے بمشکل اٹھا کر تربیتی کیمپ میں لایا جاتا ہے ۔ جہاں ان کے کھائے ہوئے بکروں کو ہضم کرانا بھی مشکل ہوجاتا ہے ۔ آسٹریلوی کرکٹ میں ہوں یا ہاکی میں ۔۔۔ وہ سب مکمل تو پر پروفیشنلز ہیں ۔ لہذا ان کی ہر میدان اور ٹورنامنٹ میں کارکردگی بھی ااعلیٰ ہوتی ہے ۔
 

محمداحمد

لائبریرین
ہار پر افسوس کا اظہار کرنا ایک قدرتی ردعمل ہے ۔ اور بجا ہے کہ آج پاکستانی ٹیم کافی برے طریقے سے ہاری ہے ۔ لیکن آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ ایک نہایت ہی اَن پروفیشنل سیٹ اپ کے ساتھ ، اور جدید سہولیات کے فقدان اور جدت سے عاری کو چنگ کے ساتھ بھی اگر آپ اس لیول پر کسی حد تک مقابلہ کر سکتے ہیں تو آپ کو ایسے ہی مواقع پر ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ موازنے کے طور پر بتاتا جاؤں کہ انگلینڈ نے اس اولمپک مقابلہ میں صرف ہاکی کے کھلاڑیوں کی تیاری پر قریباً 15 ملین پاونڈز خرچ کیے ہیں جو کہ پاکستانی کرنسی میں قریباً 2.3 ارب روپے بنتے ہیں ۔ اور اگر پھر بھی وہ میڈل حاصل نہیں کر پاتے تو ان کے لوگ پھر بھی ان کی حوصلہ افزائی نہ کہ عزت افزائی۔

ایسی پوسٹس پر مجھے "مثبت" کی ریٹنگ یاد آتی ہے جو کسی زمانے میں ہوتی تھی۔ :D
 
Top