میں ایک عجیب مشکل میں پھنس گیا ہوں

محمد بلال اعظم

لائبریرین
بلال صاحب اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔آپ پہلے یہ طے کرلیں کہ آپ کو زید حامد صاحب کی شخصیت زیادہ پیاری ہے یا انکے افکار۔۔
 

ًماہِ-حق

محفلین
واصف صاحب(رحمتہ اللہ علیہ)نے فرمایا ہے کہ سچے مرید کو جھوٹے راہبر سے بھی سچی ہدایت مل سکتی ہے،آپ کے اندر کا خلوص اور سچ آپ کو بھٹکنے نہیں دیتا،آگر آپ اندر سے جھوٹے ہو تو آپ کو سچے مرشد سے بھی کچھ نہیں ملے گا،اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کا ہاتھ سچے دل سے پکڑ لیا تو اسے چھوڑتے نہیں اپنی لگن کو پُر خلوص بناتے ہیں،ہمارا خلوص اور نیت ہی ہمارا راہںما ہوتا ورنہ ہم کشمکش اور اُلجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں
 
جب رہبر بنانا ہی ہے سنت رسول کو اپناو۔ رسول اللہ (ص) کو رہبر بناو اور قران سے رہنمائی لو۔
اللہ سے دعاکرو۔ اللہ راہ کھول دے گا
 

محمداحمد

لائبریرین
بلال صاحب اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ آپ پہلے یہ طے کرلیں کہ آپ کو زید حامد صاحب کی شخصیت زیادہ پیاری ہے یا انکے افکار۔۔

صحیح بات ہے شخصیت پرستی سے جان چھوٹ جاتی ہے جب آپ افکار پر ارتکاز کرتے ہیں۔

زید حامد کی بہت سی باتیں اچھی بھی لگتی ہیں، اکثر وہ ضرورت سے زیادہ شدت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں جن کا ساتھ دینا معروضی حالت کو دیکھتے ہوئے ممکن نہیں رہتا۔ وہ پاکستان سے محبت کی بات کرتے ہیں سو وہ اچھا لگتا ہے لیکن اُنہیں بھی چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کو نظر انداز نہ کریں۔

اُن کی شعلہ بیانی قابلِ تعریف ہے لیکن صرف شعلہ بیانی سے قوموں کے مسائل حل نہیں ہوتے وہ بھی جب بین الاقوامی سیاست اس قدر گنجلک ہوچکی ہو۔

محمود بھائی نے پہلے غالب کا شعر لکھ دیا ورنہ میں بھی یہ شعر ضرور لکھتا کہ "پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں"۔ سو یہ آپ کا ہی نہیں پوری قوم کا المیہ ہے کہ ہم میں سے جو تھوڑا بہت شعور رکھتے ہیں وہ تھوڑی دور کسی نہ کسی کے ساتھ چل کر دیکھتے ہیں اور زیادہ تر مایوس ہی ہوتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو شخصیت پرستی کا شکار ہیں اُنہیں افکار سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اور وہ اندھوں کی طرح پیچھے چلنے والے ہیں۔
 

یوسف-2

محفلین
پتہ نہیں کیا سچ ہے، ایک عجیب ہی مشکل ہے،
یک نہ شد دو شد
ایک مشکل ختم ہوتی نہیں ہے اور ایک نیا جھنجھٹ شروع ہو جاتا ہے۔
بلال بھائی! اس قسم کی الجھن اور پریشانی کا واحد سبب یہ ہے کہ ہم جیسے عام مسلمان اسلام کو فلاں، فلاں اور فلاں کے ”حوالہ“ سے جاننا چاہتے ہیں۔ کبھی ہم گوہر شاہی کے چکر میں پڑ جاتے ہیں، کبھی، علامہ طاہر القادری کے مرید بن جاتے ہیں تو کبھی غامدی تو کبھی زید حامد وغیرہ وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ اسلام کو جاننے مسلمان بننے کے لئے ان جیسے ”مشکوک“ لوگوں کے پیچھے جانے کی کیا ضرورت ہے، انہیں پرھنے یا سننے یا انہیں غلط یا صحیح گرداننے کی کیا ضرورت ہے۔

ہمارا اسلام تو صرف دو کتابوں میں موجود ہے ایک قرآن دوسرے حدیث۔ حدیث میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہی مکمل پڑھ لیں تو باقی ذخیرہ احادیث کو پڑھنے اور ضعیف و موضوع احادیث کی پر خطر وادی میں اترنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اگر ایک عام پڑھا لکھا مسلمان الحمد سے والناس تک قرآن مجید ڈیئریکٹ عربی میں یا کسی بھی ترجمہ کی مدد سے پڑھ لے اور پڑھتا رہے اور صحیحین سے تمام کتب کی احادیث کوپڑھ لے تو اسے کوئی قادری، کوئی گامدی، کوئی زید حامد کبھی گمراہ نہیں کرسکتا۔ ایک بات اور یاد رکھئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی بھی انسان کو اپنا رول ماڈل نہ بنائیں۔ ہیرو نہ بنائیں۔ ہم جب بھی ایسا کرتے ہیں، ٹھوکر کھاتے ہیں۔ دینی اعتبار سے کوئی فرد ہمیں (اپنی ذاتی جہالت کے سبب) کتنے ہی بلند مقام پر کیوں نہ دکھائی دے، کبھی بھی اسے رول ماڈل اور اپنا ہیرو نہ بنائیں، دینی معاملات میں۔ دین اسلام میں ہمارے ہیرو صرف اور صرٍف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہمیں اپنے مسائل کے لئے قرآن و حدیث کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی سیرت کو دیکھنا چاہئے۔ آج کل کے مختلف فرقوں، مسالک کے رہنماؤں کو نہیں جو ہمیں شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی وغیرہ وغیرہ تو بنا سکتے ہیں، سچا مسلمان نہیں بنا سکتے۔ کہ اسلام میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش ہے ہی نہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ کی رسی (قرآن اور حدیث) کو مضبوطی سے تھام لو اور باہم تفرقہ بازی نہ کرو (آل عمران-103)
 
اسلام کو جاننے مسلمان بننے کے لئے ان جیسے ”مشکوک“ لوگوں کے پیچھے جانے کی کیا ضرورت ہے
بہت خوب (y)
 

محمد وارث

لائبریرین
اس لڑی کو محفلِ ادب سے یہاں اسلام اور عصر حاضر میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ آئندہ پلیز اس چیز کا خیال رکھیں کیونکہ محفل کی پالیسی کے مطابق غلط فورمز میں ارسال کیے جانے والے موضوعات کو بغیر انتباہ کے حذف بھی کیا جا سکتا ہے۔

والسلام
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
چلتا ہوں تھوڑی دیر ہر اک تیز رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں۔۔۔ ۔۔

لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں
جانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا ، لوح وقلم تیرے ہیں

تردید کر دی ہے تو وہ جانے یا اللہ جانے
مگر سچ تو یہ ہے کہ اس کا دامن بہرحال داغدار ضرور ہے
کیونکہ رائی سے ہی پہاڑ بنتا ہے

لہذا ایسوں کو بھاڑ میں ڈالو

کیونکہ بقول استاد

آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی

یا

قطرہ اپنا بھی حقیقت میں دریا ہے لیکن
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
اس لڑی کو محفلِ ادب سے یہاں اسلام اور عصر حاضر میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ آئندہ پلیز اس چیز کا خیال رکھیں کیونکہ محفل کی پالیسی کے مطابق غلط فورمز میں ارسال کیے جانے والے موضوعات کو بغیر انتباہ کے حذف بھی کیا جا سکتا ہے۔

والسلام

وارث بھائی غلطی کی معافی چاہتا ہوں، مجھے ہرگز پتہ نہیں تھا کہ اس لڑی کو اس فورم میں ہونا چاہیے ہے۔
 
ویسے بات بہت سیدھی سی ہے کہ زید حامد کے بارے میں علما کو جو اعتراض ہے وہ یہ کہ یہ صاحب ماضی میں یوسف کذاب نامی ایک خود ساختہ نبی کے خلیفہ رہ چکے ہیں، یوسف کی آڈیو جس میں اس نے زید کو اپنا خلیفہ بنایا تھا وہ بھی نیٹ پر دستیاب ہے، اب زید اس کو تسلیم نہیں کرتا اور لمبے چوڑے وضاحتی بیان دیتا ہے، لیکن ان بیانات میں آج تک اس نے کبھی بھی یوسف کذاب کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا، آپ اس کا وہ بیان بھی پڑھ لیں جو اوپر کسی نے شیئر کیا ہے اس میں بھی یوسف کا نام لے کر کچھ نہیں کہا گیا۔
اب علما صرف زید سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یوسف کو کذاب کہو اور اس کو مسلمان نہ جانو اور ان باتوں کا اقرار تم زبانی کرو لیکن زید یہ مطالبہ نہیں تسلیم کرتا۔بلال قطب کے ساتھ ایک انٹرویو میں بھی باوجود بلال کے زور ڈالنے پر اس نے یوسف کو کذاب تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ یہ تمام مواد انٹر نیٹ پر باآسانی دستیاب ہے۔ ایک بات اور کہ زید کے ان پرجوش جہادی بیانات کی وجہ سے بہت سارے لوگ اس کو اپنا ہیرو اور آئیڈیل تسلیم کرتے ہیں اور اس کے بارے میں کچھ سننے کو تیار نہیں۔ مولانا سعید احمد جلال پوری جنھوں پہلی بار باقاعدہ طور پر زید کے فتنے کے بارے میں لکھنا شروع کیا تو بہت سارے لوگوں نے ان کو یہی سب کہ کر روکا جو میں نے اوپر لکھا ہے لیکن مولانا کا استدلال یہی تھا کہ یوسف کذاب کا معاملہ جب تک صاف نہیں ہوجاتا اس وقت تک زید قابل اعتبار نہیں بلکہ مشکوک ہے۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
ویسے بات بہت سیدھی سی ہے کہ زید حامد کے بارے میں علما کو جو اعتراض ہے وہ یہ کہ یہ صاحب ماضی میں یوسف کذاب نامی ایک خود ساختہ نبی کے خلیفہ رہ چکے ہیں، یوسف کی آڈیو جس میں اس نے زید کو اپنا خلیفہ بنایا تھا وہ بھی نیٹ پر دستیاب ہے، اب زید اس کو تسلیم نہیں کرتا اور لمبے چوڑے وضاحتی بیان دیتا ہے، لیکن ان بیانات میں آج تک اس نے کبھی بھی یوسف کذاب کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا، آپ اس کا وہ بیان بھی پڑھ لیں جو اوپر کسی نے شیئر کیا ہے اس میں بھی یوسف کا نام لے کر کچھ نہیں کہا گیا۔
اب علما صرف زید سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یوسف کو کذاب کہو اور اس کو مسلمان نہ جانو اور ان باتوں کا اقرار تم زبانی کرو لیکن زید یہ مطالبہ نہیں تسلیم کرتا۔بلال قطب کے ساتھ ایک انٹرویو میں بھی باوجود بلال کے زور ڈالنے پر اس نے یوسف کو کذاب تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ یہ تمام مواد انٹر نیٹ پر باآسانی دستیاب ہے۔ ایک بات اور کہ زید کے ان پرجوش جہادی بیانات کی وجہ سے بہت سارے لوگ اس کو اپنا ہیرو اور آئیڈیل تسلیم کرتے ہیں اور اس کے بارے میں کچھ سننے کو تیار نہیں۔ مولانا سعید احمد جلال پوری جنھوں پہلی بار باقاعدہ طور پر زید کے فتنے کے بارے میں لکھنا شروع کیا تو بہت سارے لوگوں نے ان کو یہی سب کہ کر روکا جو میں نے اوپر لکھا ہے لیکن مولانا کا استدلال یہی تھا کہ یوسف کذاب کا معاملہ جب تک صاف نہیں ہوجاتا اس وقت تک زید قابل اعتبار نہیں بلکہ مشکوک ہے۔

لیکن بعد کی پریس ریلیز میں یہ بھی تو کہا گیا ہے کہ یوسف علی کی فکر سوچ اور نظریات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔
 
لیکن بعد کی پریس ریلیز میں یہ بھی تو کہا گیا ہے کہ یوسف علی کی فکر سوچ اور نظریات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔
محترم محمد بلال اعظم بھائی، زید حامد صاحب کا انٹرویو کا ایک حصہ (جو اس معاملے سے تعلق رکھتا ہے) وہ یہاں شیئر کر رہا ہوں۔ تاہم بہتر ہو گا کہ آپ مزید تسلی کے لیے علما سے رابطہ کریں۔
 

نایاب

لائبریرین
کس قدر سادہ ہیں ہم
خود کی خبر رکھ نہیں سکتے
اور دوسروں کو بخشتے ہیں مہر مسلمانی
اوتھے ہونے نیں عملاں تے نکھیڑے
کوئی لاکھ کوشش کر لے "قران " کو نہیں بدل سکتا ۔
جس ہستی پاک نے اس " قران " ضابطہ فلاح انسانیت کو نازل فرمایا ہے ۔
وہی اس کتاب اور اس میں مدرج پیغام کا محافظ ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اور ہمارے لیئے " اسوہ حسنہ " پر کاربند کافی ہے ۔
جو کہ تہمتوں سے دور رکھتے اخلاق سے نوازتے انسانیت کے معراج پانا سکھاتا ہے ۔
اللہ تعالی ہم سب کو اپنی اٌپنی ذات کا محاسبہ کرنے کی توفیق سے نوازے آمین
 

نایاب

لائبریرین
اس دستر خوان پر بیٹھنا ہی کیوں ۔؟
جس پر سجے کھانے میں زہر کا احتمال ہو ۔
اگر کبھی بے دھیانی سے ایسے دستر خوان پر بیٹھ ہی جائے تو احساس ہوتے ہی اٹھ جائے
اورحلق میں انگلی مار کر سب کھایا پیا نکال کر خوب سادہ صاف پانی پی لینا بہتر عمل۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

ًماہِ-حق

محفلین
ایک دوست نے ایک دفعہ بڑی خوبصورت بات بتائی کہ جب بھی آپ کسی سے تعلق قائم کرو تو دعا کرو کہ اگر وہ تعلق اپ کے لئے مفید ہے تو اللہ اس میں برکت ڈال دے اور اگر وہ آپ کے لئے مفید نہیں اور نقصان دہ ہے تو اللہ آپ کے دل سے وہ تعلق اور اس کی خواہش اتار دے،اور پہلا کلمہ اور آیت ا لکرسی پڑھ لو،سورت الناس بھی پڑھ لیں،اس سے تمام نفسانی اور شیطانی خیالات اور تعلقات ختم ہو جایئںگے اور اللہ کر رحمت معاونت کرے گی۔
 

muhajir

محفلین
زید حامد کا کردار اب بھی مشکوک ہے۔ کیونکہ موصوف ایک طرف تو صلاح الدین ایوبی اور غزوہ الہند کی احادیث سناتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف ایسے ادارے کے لوگوں اور مفاد میں کام کرتے ہیں، جس امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی ہونے میں فخر محسوس کرتا ہے۔۔۔ کہاں صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی شخصیت اور کہاں یہ ڈالر کے سپاہی۔۔۔۔!

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ویسے ہی بہت کنفوزیشن ہیں۔ ۔۔ ادارے ، شخصیت، تنظیمات، اور افراد غرض ہر طرح سے کوئی نہ کوئی ابہام پایا جاتا ہے۔۔۔اس لیے آپ کی پریشان درست ہے۔
 

usmnrd

محفلین
پیارے بھائی،
ایمان کا تعلق اللہ اور اس کے رسول سے ہے، نہ کہ سید زید حامد یا بلال قطب سے۔
چونکہ، ایک حدیث موجود ہے، جس کے تحت ہمیں زندہ علماء و صلحاء کی تقلید سے بچنا چاہیے ، ممکن ہے کل کو یہ لوگ غلط ثابت ہو جائیں اور ہمارا ایمان جاتا رہے۔

بہتر ہے، آپ نبی کریم کی صحبت میں رہا کریں۔
باقی زیادہ تر فراڈ ہے۔

واللہ العلم
 
Top