دنیا نے دل کو پیار کا تحفہ دیا نہیں

ظفری

لائبریرین
دنیا نے دل کو پیار کا تحفہ دیا نہیں​
ہم زندگی تھے ہم کو کسی نے جیا نہیں​
سورج سے چاند سے بھی حسیں ایک روپ ہے​
ایسے مکاں میں جہاں کوئی دیا نہیں​
دنیا کی اب شکائتیں کس منہ سے ہم کریں​
ہم سے وفا کا وعدہ کسی نے کیا نہیں​
روٹی بھی چاہئے ہمیں پانی بھی چاہئے​
ہم عام آدمی ہیں میاں اولیا نہیں​
اس کو کچھ خبر نہیں آنچل کہاں گرا​
ہم نے بھی اپنا چاک گریباں سیا نہیں​
اک روز گھر پہ چاند ستارے بھی آئے تھے​
ہم نے مگر زمین کا سودا کیا نہیں​
موسم خزاں کا ہے مری بانہیں اداس ہیں​
پھولوں کو میں نے گود میں کب سے لیا نہیں​
میں چپ رہا تو اور غلط فہمیاں بڑھیں​
وہ بھی سناھے اس نے جو میں نے کہا نہیں​
میرے لئے کسی کی محبت تھی کائنات​
میں نے زمین و آسماں کچھ بھی لیا نہیں​
(شاعر: نامعلوم )​
 

ظفری

لائبریرین
ظفری بھائی بڑی سیاست سے آپ نے داد سمیٹ لی اگر شاعر کا شروع میں ہی پتا چل جاتا تو شاعر کے سر پر تاریخ نے ایک چکر اور کاٹ لینا تھا :)
بھائی ۔۔۔ آجکل سیاست سے ہی سب کچھ ملتا ہے ۔ ;)
ویسے آپ کے تبصرے کا دوسرا حصہ سمجھ نہیں آیا ۔ :thinking:
 
روٹی بھی چاہئے ہمیں پانی بھی چاہئےہم عام آدمی ہیں میاں اولیا نہیں​

اک روز گھر پہ چاند ستارے بھی آئے تھےہم نے مگر زمین کا سودا کیا نہیں​

میں چپ رہا تو اور غلط فہمیاں بڑھیںوہ بھی سناھے اس نے جو میں نے کہا نہیں​
کچھ اشعار میں وزن کا فرق لگا۔جیسے کہ:
اس کو کچھ خبر نہیں آنچل کہاں گرا
ہم نے بھی اپنا چاک گریباں سیا نہیں
مجموعی طور پر بہت اعلیٰ۔۔۔
 
Top