غزل: مجھے تو اپنی ہی پس ماندگی نے قتل کیا ۔۔۔ از امین عاصمٓ۔

امین عاصم

محفلین
احباب کی خدمت میں ایک غزل حاضر ہے۔​
مجھے تو اپنی ہی پس ماندگی نے قتل کیا​
میں روشنی تھا مجھے تیرگی نے قتل کیا​
یہ بت بھی آج ہمارے لہو کے پیاسے ہیں​
ہمیں تو اپنے فن ِ آزری نے قتل کیا​
اجل بچھاتی رہی کیسے کیسے دام ِ فریب​
'' قدم قدم پہ مجھے زندگی نے قتل کیا''​
یہ کون شخص ہے چھایا ہُوا زمانے پر​
وہی تو ہے جسے پچھلی صدی نے قتل کیا​
میں سیکھ پایا نہ تھا رہنا بے ضمیروں میں​
مجھے یہاں پہ مری آگہی نے قتل کیا​
امین عاصمٓ​
 

محمد وارث

لائبریرین
کیا کہنے جناب، خوبصورت غزل ہے۔

یہ بت بھی آج ہمارے لہو کے پیاسے ہیں
ہمیں تو اپنے فن ِ آزری نے قتل کیا

میں سیکھ پایا نہ تھا رہنا بے ضمیروں میں
مجھے یہاں پہ مری آگہی نے قتل کیا

واہ واہ، لاجواب۔
 

امین عاصم

محفلین
السلام ُ علیکم
محمد احمد صاحب، سارہ خاں صاحبہ، محمد وارث صاحب اور عین عین صاحب،،، میں آپ احباب کا دلی شکر گزار اور ممنون ہوں کہ آپ نے میری حوصلہ افزائی فرمائی۔۔
اللہ آپ کہ سلامت رکھے۔
والسلام
مخلص
امین عاصم
 

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے، لیکن اب تک کہاں چھپے ہوئے تھے، محفل میں تو چار سال قبل شامل ہو چکے تھے؟؟؟
 

غ۔ن۔غ

محفلین
احباب کی خدمت میں ایک غزل حاضر ہے۔​
مجھے تو اپنی ہی پس ماندگی نے قتل کیا​
میں روشنی تھا مجھے تیرگی نے قتل کیا​
یہ بت بھی آج ہمارے لہو کے پیاسے ہیں​
ہمیں تو اپنے فن ِ آزری نے قتل کیا​
اجل بچاتی رہی کیسے کیسے دام ِ فریب​
'' قدم قدم پہ مجھے زندگی نے قتل کیا''​
یہ کون شخص ہے چھایا ہُوا زمانے پر​
وہی تو ہے جسے پچھلی صدی نے قتل کیا​
میں سیکھ پایا نہ تھا رہنا بے ضمیروں میں​
مجھے یہاں پہ مری آگہی نے قتل کیا​
امین عاصمٓ​

بہت خوب جناب امین عاصم صاحب
اس پیاری سی غزل اور خصوصا ‌مقطع پر آپکی خدمت میں بہت سی داد
 

مغزل

محفلین
امین عاصم صاحب غزل پر دلی داد قبول کیجے ۔۔ امید ہے آپ سے مراسلت کا شرف حاصل رہے گا۔۔ ایک جگہ مجھے املا کی غلطی نظر آئی ’’ تدوین ‘‘ کر لیجے گا۔۔ اللہ تعالیٰ اظہار میں برکتیں عطا فرمائے آمین۔
 

امین عاصم

محفلین
امین عاصم صاحب غزل پر دلی داد قبول کیجے ۔۔ امید ہے آپ سے مراسلت کا شرف حاصل رہے گا۔۔ ایک جگہ مجھے املا کی غلطی نظر آئی ’’ تدوین ‘‘ کر لیجے گا۔۔ اللہ تعالیٰ اظہار میں برکتیں عطا فرمائے آمین۔

محترم جناب ِ م ۔ م۔ مغل صاحب (مغزل)
السلامُ علیکم
میں آپ کا اور دیگر احباب کا دلی شکر گزار ہوں جنہوں نے ناچیز کی حوصلہ افزائی فرمائی۔
میں نے غزل کو ایک بار پھر پڑھا ہے ، مگر املا کی غلطی میری نظر سے نہیں گزری، آپ سے درخواست ہے کہ آپ نشان دہی فرما دیجیے، تا کہ میں درست کر دوں۔
آپ کا اشارہ لفظ " فنِ آزری " کی طرف تو نہیں؟
آذر= اگر ذال کے ساتھ تو معنی آگ کے ہیں
اور اگر ز کے ساتھ ہو تو
آزر= تو یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تھا جو کہ سنگ تراش ، بت تراش تھے۔
میں نے اس لیے یہ لفظ "ز " سے لکھا ہے ، ان معنو ں میں آزر کو اکثر احباب ذال سے " آذر" لکھتے ۔
 
اجل بچاتی رہی کیسے کیسے دام ِ فریب​
'' قدم قدم پہ مجھے زندگی نے قتل کیا''​

بہت خوب ۔ بہت عمدہ غزل ہے جناب۔ ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔
کہیں محمود بھائی کا اشارہ مندرجہ بالا شعر کی جانب تو نہیں جس میں شاید
’’ اجل بچھاتی رہی کیسے کیسے دامِ فریب​
قدم قدم پہ مجھے زندگی نے قتل کیا ‘‘​
ہو؟ آپ اور اساتذہ بہتر سمجھتے ہیں۔​
 

امین عاصم

محفلین
بہت خوب ۔ بہت عمدہ غزل ہے جناب۔ ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔
کہیں محمود بھائی کا اشارہ مندرجہ بالا شعر کی جانب تو نہیں جس میں شاید
’’ اجل بچھاتی رہی کیسے کیسے دامِ فریب​
قدم قدم پہ مجھے زندگی نے قتل کیا ‘‘​
ہو؟ آپ اور اساتذہ بہتر سمجھتے ہیں۔​

محترم محمد خلیل الرحمان صاحب
آپ کا دلی ممنون ہوں ، آپ نے میری حوصلہ افزائی فرمائی،
جی درست لفظ بچھاتی ہے، مجھ سے غلطی ہو گئی، احباب کو پڑھنے میں دشواری ہوئی ہو گی ، مُعافی کا طلب گار ہوں۔
والسلام
امین عاصم
 
اس جدا جدا سی ردیف میں آپ نے بہت اچھے اشعار کہے ہیں، اس کے لیے بہت سی داد پیش ہے، قبول کیجیے۔
لیکن اس غزل کے قوافی بحث طلب ہیں، میرے خیال کے مطابق مطلعے میں قافیے کا تقرر نہیں ہو پا رہا، احباب سے رہنمائی کی درخواست ہے۔
 

امین عاصم

محفلین
محترم شاہین فصیح ربانی صاحب!
آپ کا دلی شکر گزار ہوں کہ حوصلہ افزائی فرمائی۔ قافیے کے متعلق آپ نے درست فرمایا ہے۔ یہ غلطی ہی ہے۔ اور قبول کرتا ہوں، یوں سمجھیے میں ایک جنگل میں رہتا ہوں۔۔ یہاں میرے نزدیک علاقے میں کوئی شاعر تو دور کی بات کوئی شعر سننے والا بھی نہیں۔ ایک ادنیٰ شاعر ہوں۔ مجھے راہنمائی کے سلسلے میں بڑی دشواری ہے۔ بہر حال آپ کا بہت شکریہ
والسلام
امین عاصم
 
Top