بھولی بسری یادیں،!!!!!!

بھولی بسری یادیں،!!!!! دوسرا حصہ،- 5- شادی کے بعد نئے مہمان کی آمد اور حج کی تیاری، !

راستے میں ھمیں افسوس ھورھا تھا، کہ مسجد نبوی (ص) میں ھم صرف پانچ وقت کی ھی نمازیں ھی ادا کرسکے، یہ اللٌہ تعالیٰ کا کرم ھی رھا کہ کہ عمرہ اور زیارت بہت ھی سکون اور آرام سے ھوگیا جبکہ ھماری بیگم امید سے تھیں، اور انہیں اس بات کی یہ بھی خوشی تھی کہ پہلی اولاد کی امید کو اپنے بطن میں لئے عمرے اور زیارت کی سعادت حاصل کی، اور ھم دونوں نے بہت دعائیں کیں اس پہلی اولاد کی سلامتی کیلئے، کیونکہ اس سے پہلے تین دفعہ مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا تھا، لیکن اس دفعہ اپنے حبیب کے صدقے ھمیں کامل یقین تھا کہ اس دفعہ ھمیں اللٌہ تعالی اولاد کی نعمت سے محروم نہیں کرے گا،!!!!!!

غالباً اپریل یا مئی 1981 کا زمانہ تھا، موسم تقریباً خوشگوار ھی تھا، کچھ اتنی تپش بھی نہیں تھی، ریاض ائرپورٹ پر ھمارے سسر صاحب ساتھ ماموں سسر بھی موجود تھے، انکے ساتھ ھم اپنے ماموں سسر کے گھر پہنچے، آپ اس وقت سٹی بینک جو اب سعودی امریکن بینک ھے ،وھاں کے جنرل منیجر کے گھر پر ملازم تھے، انہیں بہت ھی اچھا گھر ملا ھو تھا، ھمیں انہوں نے سٹی بنک کے کمپاونڈ کے گیسٹ ھاؤس میں ٹھرایا تھا، بہت خوبصورت کمپاؤنڈ تھا، ھمارے سسر صاحب نے اپنے جاننے والے دوستوں کی فیملیز سے ھمارا تعارف کرایا، ساتھ ھم ان کے یہاں دعوتوں میں ‌بھی مدعو تھے اور خوب گھومایا پھرایا، بھر دوسرے دن ھماری فلائٹ دھران کے لئے تھی، ائرپورٹ پہنچے اور تقریباً ایک ہفتہ بعد ھم اپنے گھر پہنچے، ھماری بیگم تو بہت خوش تھیں اور اپنی خوش قسمتی پر بہت ناز کررھی تھیں کہ شادی کے ڈیڑھ سال بعد ھی انہوں نے عرض مقدسہ جاکر عمرہ اور زیارات کرلیں، جو وہ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھیں،!!!!!!

مجھے بھی اپنے آپ پر فخر تھا کہ اس سروس کی بدولت مجھے یہ سب کچھ اللٌہ تعالیٰ کے کرم سے نصیب ھوا، اور وہ دن آگیا جس دن ھماری بیگم کو واپس جانا تھا، ، اور پھر ھماری بیگم کو بہت احتیاط بھی کرنی تھی اور یہاں پر دیکھنے بھالنے کیلئے کوئی نہ تھا، اس لئے انہیں واپس جانا ضرور تھا، اور یہ وعدہ ضرور کیا تھا کہ میں خوشخبری والے دن پاکستان میں ھونگا، اسی وعدے پر اپنی بیگم کو رخصت کیا، اور پھر یہاں تین مہینے گزار کر پاکستان واپس چلی گئیں، اس دوران ھمارے سسر صاحب بھی یہاں ھمارے ماموں سسر کے ساتھ تشریف لائے بھی تھے، اب تو ان کے بغیر تو یہاں پر میرا ایک ایک دن گزارنا مشکل ھوگیا تھا، !!!!1

آخر وہ خوشخبری کا دن بھی آگیا کہ جس دن ھمارے گھر ایک ننھا مہمان کے آنے کی امید تھی، مجھے تو بہت ھی مشکل سے چھٹی ملی، میں تو فوراً ھی وہاں سے ایمرجنسی چھٹی پر پاکستان پہنچ گیا، پہچنے سے ایک دن پہلے ھی یعنی 21 دسمبر 1981 کو بیٹے کی ولادت ھوچکی تھی، مجھے نہیں بتایا گیا، کیونکہ میں ننھے مہمان کی آمد سے پہلے پہنچنا چاھتا تھا، خیر کراچی ائرپورٹ پر سب موجود تھے، وھاں پر سب لوگ مجھے مبارکباد دینے لگے، میرا تو خوشی کے مارے کوئی ٹھکانا ھی نہیں تھا، !!!!!!!!

ائرپورٹ سے گھر تو مجھے سب لے آئے، مگر اسپتال جانے کیلئے کہا گیا کہ شام تک چلیں گے، ابھی کھانا وغیرہ تو کھا لیں، اور کچھ تازہ دم بھی ھوجائیں، سردی بھی اچھی خاصی تھی، مگر میں تو بے چین تھا کہ پہلے اپنے بیٹے کو دیکھوں، ایک عجیب سا احساس انجانی سی خوشی میں اپنے اندر محسوس کررھا تھا، پہلی اولاد کی خوشی کا وہ احساس آج بھی مجھے یاد ھے، کتنا خوشگوار وہ حسین دن تھا کہ میں بیان نہیں کرسکتا، ھر ایک کے چہرے پر مسکراھٹ اور خوشیوں سے پھولا نہیں سما رھا تھا، والدہ تو شاید اسپتال میں اپنی بہو کے پاس تھیں، والد کو تو بس میں کیا کہوں انکی خوشی سے کھلے ھوئے چہرے کو دیکھ کر میں بھی بہت خوش تھا، اور کیوں نہ ھو ان کے یہاں پہلا پہلا پوتا جو اللٌہ نے دیا ھے،!!!!!

کھانا بھی خوشی کے مارے کھایا نہیں گیا، مجھے تو شرم آرھی تھی کہ میں والد سے کہوں کہ مجھے اسپتال لے چلو، اور سب بہن بھائی مجھے کہہ رھے تھے، کہ اباجی سے پوچھو اور چلو، میری تو ھمت ھی نہیں پڑرھی تھی، اور دل تو ویسے بہت بے قرار تھا، ایک اور محلے کی خالہ آئیں اور کہا، ارے بیٹا تم ابھی تک اپنے بیٹے کو دیکھنے کے اسپتال نہیں گئے، !!!! ابھی میں کچھ کہتا ادھر اباجی فوراً بول پڑے، اسپتال میں شام کو ملنے کے اوقات ھوتے ھیں، بس تھوڑی دیر میں چلتے ھیں،!!!

میں تو اس وقت بھی والد صاحب سے بہت ڈرتا تھا، میں تو مجبور تھا اور سارے میرے پیچھے پڑے تھے، آدھے تو پہلے ھی سے اسپتال میں ھماری والدہ کے پاس تھے، اور ھم یہاں بیٹھے ابا جی کے حکم کا انتظار کررھے تھے، آخر بڑی بی نے تنک کر کہا کہ،!!!! تم تو اب ایک بیٹے کے باپ ھوگئے ھو، اب ایسا بھی کیا ڈرنا، چلو میرے ساتھ چلو،!!!!
میں نے کہا کہ نہیں اباجی کے ساتھ ھی سب کو لے کر جاؤنگا،!!!! اور پھر تو وہ بڑی بی خود ھی یہ کہتی ھوئی نکل پڑیں، کہ میں خود ھی چلی جاؤنگی،!!!! اور وہ کسی ایک میرے بھائی کو لے کر چلی گئیں اور گھر پر شاید میرے ساتھ ایک بہن اور بھائی ھی گھر میں موجود تھے،باقی سب اسپتال ھی میں رونق جمائے ھوئے تھے، اور ھم تینوں یہاں اباجی کے حکم کا انتظار کر رھے تھے،!!!!

ھم سب تو تیار ھی تھے، ابا جی بڑی مشکل سے اٹھے، اور کہا کہ،!!! میں کہے دیتا ھوں میرے پوتے کا نام میں اپنی مرضی سے رکھونگا، کیونکہ سب لوگ نئے نئے ماڈرن نام رکھنے کے چکر میں ھیں،!!!! میں تو کچھ نہ بولا خاموشی سے گردن ھی ھلا دی، اور پھر بس اسٹاپ کی طرف چل دہیے، دو بسیں بدل کر ھم سب تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں اسپتال پہنچے، وہاں پر مجھے باھر باغیچہ میں سب لوگ مل گئے، خوب گھما گھمی لگی ھوئی تھی، سب کے مزے آرھے تھے، رونق لگی ھوئی تھی، میں تو بھائی کے ساتھ ھی زچہ بچہ وارڈ میں پہنچ گیا، وہاں ھماری اماں اور ساس صاحبہ کو دیکھا اور بچہ تو ایک جھولے میں تھا فوراً ھی بچے کی نانی نے اُٹھا کر مجھے دکھایا، اور مین تو بس دیکھتا ھی رہ گیا، کہ آج دیکھو میں بھی صاحب اولاد ھوگیا کل یہ بڑا ھو گا مجھے ابو ابو کہ کر پکارے گا، ان چند لمحات میں نہ جانے اپنی سوچوں کو کہاں سے کہاں لے گیا،!!!!!

اسی بچے کو دیکھتے ھوئے بیگم کی طرف دھیان بالکل نہیں گیا، فوراً ھی ادھر اپنی بیگم کو دیکھا، انہوں نے تو اپنا چہرے کو چادر میں ھی چھپایا ھوا تھا، شاید وہ مجھ سے ناراض لگتی تھیں، یا شرما رھی ھونگی، میں نے پوچھا کہ کیا بات ھے ھم سے کس بات کا پردہ، !!!!! تو انکی ایک سہیلی نے جواباً کہا کہ،!!! جناب کچھ خبر بھی ھے آپ نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا،،!!! میں نے پوچھا کہ وہ کونسا وعدہ، !!!! جواب ملا کہ،!!! آپ جو تاخیر سے پہنچے ھیں،!!!! میں نے کہا کہ،!!! بھئی کیا کرسکتا ھوں مجبوری تھی، سیٹ ھی آج کی ملی تھی اور مجھے کیا خواب آیا تھا کہ صاحبزادے میرے آنے سے پہلے ھی وارد ھوجائیں گے،!!!!!!

سامنے سے والد صاحب وارڈ میں داخل ھوئے، اور سب ظرف خاموشی ھوگئی، آتے ھی انہوں نے اپنا اعلان صادر فرما دیا، کہ میں نے اس بچے کا نام آج سے “سید حبیب الرحمٰن“ رکھا دیا ھے، مجھے تو یہ نام اچھا ھی لگا تھا اور سب لوگوں کو بھی بہت پسند آیا، جبکہ کچھ تو پہلے ھی اسکا نام “ذیشان“ رکھنے کا سوچ رھے تھے، لیکن والد صاحب نے جو نام رکھا تھا وہ سب کو ھی پسند آیا، ھر طرف خوشیاں ھی خوشیاں بکھری ھوئی تھیں، ھمارے ساس اور سسر بھی اپنے پہلے نواسے کو دیکھ کر خوش ھورھے تھے اور والدین بھی پہلے پوتے کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سما رھے تھے، آخر کار بیگم سے رھا ھی نہیں گیا اور انکی نطریں میری ظرف جیسے ھی گھومیں میں نے بھی آنکھوں ھی آنکھوں میں انہیں بیٹے کی مبارکباد دے دی،!!!!!!!

دسمبر 1981 کے آخری دن تھے اور سردی میں کچھ شدت بھی زوروں پر تھی، گھر میں خوشیاں ھی خوشیاں بکھری ھوئی تھیں، بیگم اسپتال سے گھر پر منتقل ھو چکیں تھیں، مگر وہ بہت ھی زیادہ غمزدہ تھیں، کیونکہ وہ نہیں چاھتی تھیں کہ میں اس طرح باھر رھوں، اور سال میں ایک دفعہ چھٹی میں ملاقات ھو، اور اب تو ایک بچے کی ذمہ داری بھی تھی، میں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی کہ کچھ عرصہ مزید انتظار کرلو یا تو میں تمھیں مستقل ویزے پر بلوا لوں گا، یا پھر میں خود واپس اپنا تبادلہ پاکستان کرالونگا، اور میرا بھی اب بالکل دل نہیں چاہ رھا تھا کہ واپس جاؤں، لیکن کیا کروں مجبوری تھی نوکری کا معاملہ تھا، اور بیگم نے بھی ڈھائی سال میں اب تک ایک دفعہ سعودی عرب کا چکر لگا چکی تھیں اور میں بھی یہ تیسری یا چوتھی مرتبہ پاکستان آیا تھا، لیکن پھر بھی ایک ایسا لگتا تھا کہ کچھ تشنگی باقی ھے،!!!!!!

شادی کے بعد ڈھائی سال میں اگر ڈھائی مہینے ساتھ رھیں تو یہ بھی ایک زیادتی ھے، میں نے یہ بھی سوچا کہ اگر کوئی بھی 20 سال کا عرصہ اگر باھر گزارتا ھے اور سالانہ چھٹی بھی آتا ھو تو اس 20 سال کے عرصہ میں صرف 20 مہینے یعنی کہ صرف دو سال سے بھی کم عرصہ وہ بھی قسطوں میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گزارنا بہت ھی زیادہ افسوس کی بات ھے،!!!!

میں نے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی لیکن بیگم بضد ھی رھیں کہ اب اور اس سے زیادہ بالکل بھی نہیں!!!!، بیگم بھی اپنی جگہ ٹھیک تھیں اور میں اپنی نوکری کی وجہ سے بھی مجبور تھا، کوئی دوسری نوکری ملنا بھی مشکل تھا، اور گھر والے بھی یہی چاھتے تھے کہ میں واپس چلا جاؤں، اپنی کشتی تو ایک منجھدار میں ‌پھنسی ھوئی ھچکولے کھارھی تھی، مگر بیگم اپنی ضد پر ھی اٹکی ھوئی تھیں، مجبوراً مجھے قسم کھانا پڑی، کہ میں اب تمھیں چھوڑ کر نہیں جاؤنگا، لیکن افسوس کہ میں حالات کے پیش نظر اپنی قسم کو برقرار نہ رکھ سکا، جس کا مجھے آج تک افسوس ھے، اور مجھے واپس جانا پڑا، اور اپنی بیگم کی آنکھوں میں آنسو دے کر رخصت ھوگیا، لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ میں جلد ھی بلوالونگا،!!!!!

لیکن جو میں نے قسم توڑی تھی اسکا بہت ھی افسوس ھوا، بہرحال اللٌہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے، واپس آکر چوتھے مہینے ھی میں نے دوبارہ بیگم اور بچے کا ویزا داخل کردیا اور بیگم اب دوسری مرتبہ اپنے بچے حبیب الرحمن کے ساتھ پہنچ چکی تھیں، اور اس دفعہ سب سب بڑی بات کہ انہوں نے عمرہ کے ساتھ ساتھ حج کی سعادت بھی نصیب ھوگئی، اور ساتھ ھی انکی کچھ ناراضگی بھی کھی حد تک ختم ھو چکی تھی،!!!!!

اور ایک خاص بات کہ ھمارے بچے حبیب نے 6 یا 7 مہینے کی عمر میں ھم دونوں کے ساتھ 1982 میں سخت گرمیوں کے موسم میں حج کی سعادت بھی حاصل کی،!!!! میرا تو دوسرا حج تھا لیکن بیگم کا 6 مہینے کے بچے کے ساتھ یہ پہلا حج تھا، سخت ترین گرمیوں کے دن تھے، اور واقعی ھماری بیگم کی ھمت کی داد دینی پڑتی ھے کہ انہوں نے اس بچے کے ساتھ اور دھران سے مکہ مکرمہ تک بزریعہ کار تقریباً 26 گھنٹے کا سفر کیا جو ھم دوستوں نے مل کر ایک حج کا قافلہ ترتیب دیا تھا، اور سب کی فیملیوں کے ساتھ مل کر تقریباً چار گاڑیوں کا انتظام کیا تھا، !!!!!

بعض اوقات تو یہ چھوٹا چھ سات مہینے کا بچہ حبیب الرحمٰن گرمی سے بے چین ھو کر بہت چیخ و پکار کرتا تھا، اور نماز پڑھتے ھوئے خانہء کعبہ میں حج کے دوران یہ تپتے ھوئے فرش پر تڑپ رھا ھوتا تھا، کئی دفعہ تو اسے گود میں اٹھا کر بھی نماز پڑھنی پڑی، حج کے مکمل ھونے کے فوراً بعد ھی حبیب کی والدہ برداشت نہ کر سکیں اور بے ھوش ھوگی تھیں، جنہیں میں اپنے دوست کی گاڑی میں اسی بے ھوشی کے عالم میں طائف لے آیا تھا، جہاں ھماری کمپنی کا رھائیشی کمپاونڈ تھا، وھاں پر جاکر کچھ دوائی وغیرہ کھلائیں اور پورا دن آرام کیا تب کہیں جاکر وہ کچھ سنبھل گئیں، !!!!!!

یہ اللٌہ کا کرم و مہربانی ھی کی وجہ سے اور پیارے حبیب (ص) کے صدقے انکا حج مکمل ھوچکا تھا، اور حج کے بعد تو ھمارا بیٹا اور بھی صحت مند اور سب کی آنکھوں کا تارا ھوگیا تھا، اس کی معصوم شراتیں آج بھی مجھے یاد ھیں!!!!!
 
بھولی بسری یادیں،!!!!! دوسرا حصہ،- 6- سعودیہ سے تبادلہ اور ایک بیٹی کی خوشخبری،!!!!

یہ اللٌہ کا کرم و مہربانی ھی کی وجہ سے اور پیارے حبیب (ص) کے صدقے انکا حج مکمل ھوچکا تھا، اور حج کے بعد تو ھمارا بیٹا اور بھی صحت مند اور سب کی آنکھوں کا تارا ھوگیا تھا، اس کی معصوم شراتیں آج بھی مجھے یاد ھیں!!!!!

اگست کا مہینہ 1982 کا سال میں گرمیوں کے دن اور ارض مقدسہ پر اپنے پہلے بیٹے اور بیگم کے ساتھ ایک ایسی خوشی جو شاید میں نے کبھی اپنی زندگی کبھی محسوس نہیں کی تھی، پہلی اولاد کو اپنے سامنے معصوم سی شرارتیں کرتے ھوئے دیکھتے ھوئے جو مسرت ھوتی ھےکہ میں بتا نہیں سکتا، تین مہینے بھی دیکھتے ھی دیکھتے گزر گئے، اور بیگم اور بیٹے کا ویزا بھی ختم ھو رھا تھا، اور ان کو واپس جانا تھا، واسی کیلئے مجھے دھران سے ریاض واپس آنا تھا، کیونکہ وھاں سے ھماری بیگم کے بڑے بھائی جو ایک سال پہلے ھی اسی کمپنی میں ٹرانسفر ھوکر آچکے تھے۔ اور وہ اب چھٹی واپس جارھے تھے، ان کے ساتھ ھی میں نے سوچا کہ واپس بھیج دوں، ایک دن پہلے ھی میں ریاض پہنچ چکا تھا، ھمارے سسر بھی وہیں پر تھے انہیں کے ساتھ سارا دن گزارا اور رات کے وقت کی فلائٹ تھی،!!!

جب رات کو ائرپورٹ سے واپس چھوڑ کر آئے تو میرا دل بہت اداس تھا اسی اداسی میں دوسرے دن میں بھی دھران واپس پہنچ گیا، یہاں پر بھی کسی کام میں دل نہیں لگ رھا تھا، تین مہینے بعد میری بھی چھٹی جانے کا وقت آرھا تھا، بڑی مشکل سے وقت گزرا ادھر ھماری بیگم بھی پاکستاں میں بہت ھی اداس تھیں، مگر ان کے ساتھ تو ھمارا بیٹا بھی تھا، جس کے سہارے وہ اپنا کچھ جی کو بہلا بھی رھی تھیں، اور یہ بھی امید تھی کہ میں بھی پہنچ جاؤنگا، مگر ان کی ضد بھی تھی کہ یا تو میں پاکستان واپس آجاؤں یا پھر میں انہیں یہاں سعودیہ بلوالوں، جوکہ ابھی فی الحال ممکن نہیں تھا، ایک تو میں ابھی کمپنی میں اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ اپنے ساتھ فیملی رکھ سکوں، اور اس کے علاؤہ سارے اخراجات بھی مجھے خود کرنے پڑتے اور اس تنخواہ میں گزارا بھی مشکل ھوتا،،!!!!!

میں خود بھی اپنے آپ کو سمجھا نہیں پا رھا تھا، اور دھران کا بھی پروجیکٹ مکمل ھوچکا تھا، اور تقریباً کافی اسٹاف جدہ کے نئے اسٹیڈیم کے پروجیکٹ پر ٹرانسفر بھی ھوچکے تھے، یہاں بھی مجھے چار سال سے زیادہ قیام کو ھوچکے تھے، اور مجھے بھی آخر میں یہاں سے تمام حساب کتاب ختم کرکے واپس جانا تھا، لیکن ایک دو نئے پروجیکٹ یہاں کے ایک نذدیکی کے علاقے الھفوف میں مل جانے کی وجہ سے مجھے کچھ عرصہ کیلئے یہاں دھران میں ھی روک دیا گیا تھا، مگر میرا دل اب بالکل ھی نہیں لگ رھا تھا، میں نے فوراً ھی وہاں پر اپنی کمپنی کی انتظامیہ سے درخواست کی کہ میرا تبادلہ واپس پاکستان کردیا جائے، لیکن انتظامیہ نے منظوری نہیں دی بلکہ انھوں نے مجھے مستقل فیملی ویزے کی پیشکش دے دی اور ساتھ ھی فیملی کے سال میں آنے جانے کا ھوائی جہاز کا ٹکٹ اور ساتھ ھی رھائش اور میڈیکل کی سہولت بھی دینے کا وعدہ کیا، مگر تنخواہ میں اضافے کیلئے نئے ایگریمنٹ تک انتظار کرنے کیلئے کہا گیا جس کیلئے شاید ابھی ایک سال اور باقی تھا، میں نے انکار کردیا، میں مزید ایک سال تک انتظار نہیں کرسکتا تھا،!!!!!

آخر میں یہی فیصلہ ھوا کہ میں اپنی اس سال کی چھٹی گزار کر آجاؤں اس کے بعد تنخواہ کے بارے میں فیصلہ کریں گے، میں نے بھی اسی کو بہتر جانا اور چھٹی چلا گیا، اور پھر اپنے بچے اور بیگم کے ساتھ اور والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ کچھ دن ھنس بول کر گزارے، لیکن اس دفعہ چھٹیوں میں وہ بات نہیں تھی، کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ پھر واپس اکیلے جانا ھے اور نہ جانے وہاں پر کیا فیصلہ ھو، شادی سے پہلے تو انسان کسی نہ کسی طرح گزار لیتا ھے، لیکن شادی کے بعد اکیلے کہیں بھی رھنا بہت ھی مشکل ھوتا ھے، لیکن کئی لوگ ایسے بھی میں نے دیکھے جو اپنے بچوں سے ملنے کئی کئی سال تک اپنے گھر نہیں جاتے، اور نہ جانے کس مجبوری کے تحت اتنا بڑا دل کر لیتے ھیں،!!!!!

اس دفعہ بھی چھٹی گزار کر آ تو گیا لیکن دل بالکل نہیں لگ رھا تھا، 1982 کے سال کا آخیر تھا سردیوں کے دن تھے، اور بس میں نے آتے ھی جب بالکل برداشت نہیں ھوسکا، تو انتظامیہ کو ایک اپنے پاکستان تبادلے کی درخواست دے دی، جواب یہ ملا کہ کہ متبادل اسٹاف کے آتے ھی آپ کی درخوست پر غور کیا جائے گا، اور اسی طرح کرب و الم کے عالم میں تین مہینے مزید گزر گئے، مجبوری تھی اور ادھر اپنی بیگم سے بھی گلہ شکوے سے بھر پور خط و کتابت جاری تھی، والدین نے بھی یہی کہا کہ بہتر ھے کہ اپنا تبادلہ پاکستان کروالو،

میری کچھ طبعیت بھی بہتر نہیں تھی، نیا سال 1983 کا مڈل بھی شروع ھونے والا تھا لیکن انتظامیہ پر میری تبادلے کی درخواست پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا، اب میں نے ہفتہ میں دو تین وھیں پر ڈاکٹر سے میڈیکل چھٹیاں لینی شروع کردی، اور دیر سے دفتر جانے لگا، وھاں کے پروجیکٹ مینیجر کو شاید میری حالت پر رحم آیا، انھوں نے بھی سفارش کردی کہ میں اس حالت میں یہاں کام کرنے کے کہ قابل نہیں ھوں فوراً ھی پاکستان ٹرانسفر کیا جائے، کچھ اللٌہ تعالیٰ کو بھی منظور ھوا کہ مجھے کہا گیا کہ آپکا ٹرانسفر راولپنڈی کردیا گیا ھے کیا آپکو منظور ھے، وہاں کے افسران بالا حضرات یہ سمجھے کہ شاید میں راولپنڈی جانے سے انکار کردونگا، کیونکہ میرے تمام گھر والے مکمل طور پر کراچی میں ھی رھائش پزیر تھے، مگر میں نے فوراً حامی بھر لی، اور اس ظرح سال کے مڈل تک میں نے اپنا حساب کتاب لے کر کراچی پہنچ کر ھی سکون کا سانس لیا،!!!!!

کراچی پہنچتے ھی میں نے تیزگام سے راولپنڈی کیلئے ائرکنڈیشنڈ سلیپر کے تیسرے دن کی دو ٹکٹ کی سیٹیں کرالی، بیگم اور اپنے بیٹے کے ساتھ پھر ایک اور اتفاق کہ کافی دنوں بعد پھر اپنی پسندیدہ ٹرین تیزگام سے سفر کرنے کا اتفاق ھورھا تھا،!!!!

آج پھر میں تیزگام سے راولپنڈی کیلئے سفر کررھا تھا، مگر اپنی بیگم اور بچے کے ساتھ، 1983 کا سال اور مہینہ شاید مئی یا جون کا تھا، گرمیؤن کے دن تھے، اس لئے ائرکنڈیشنڈ سلیپر میں سفر کررھا تھا، مجھے اپنے بچے کی زیادہ فکر تھی، میں کبھی خود کبھی بچپن سے اسی تیزگام میں اپنے والدین کے ساتھ سفر کرتا رھا، اور آج میرا بیٹا جو تقریباً ڈیڑھ سال کا ھونے والا تھا آج وہ اپ ھمارے ساتھ اسی تیزگام میں سفر کررھا ھے، مگر تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ کہ وہ ائرکنڈیشنڈ بوگی میں سفر کررھا ھے، جس میں بہت سکون ھے، کوئی بھی باھر کی آواریں نہیں آرھی، کھڑکی مکمل ظور پر بند ھے، بس باھر کا منظر دیکھ ھی سکتے ھیں، کوئی آواز سن نہیں سکتے، اور نہ ھی کھڑکی سے کسی کو آواز دے سکتے ھیں، بس ٹرین جب چلتی ھے تو بہت ھی آھستہ اسکی مدھم سی کھٹ کھٹا کھٹ کی سر سنائی دیتے ھیں، !!!!!

خیر وہ بات نہیں تھی، کیونکہ مجھے تو باھر کی آوازوں میں دلچسپی تھی، ایک چھوٹا سا ایک کمپارٹمنٹ ھی تھا، دروازے کو بھی لاک کرکے رکھا ھوا تھا، مسافروں کا بھی کوئی شور نہیں تھا، لگتا تھا کہ اپنی ھی ایک دنیا ھے، بس اپنے بچے سے کھیلتے خوش گپیاں کرتے ھوئے وقت کو پاس کررھے تھے، کبھی دروازے پر دستک ھوتی تو سامنے یا تو ٹکٹ چیکر ھوتا یا ڈائیننگ کار کا ویٹر، اور کوئی شور شرابا نہیں تھا، ضرورت کی چیزیں سب موجود تھیں، بس ویٹر سے کھانے کے وقت کچھ لنچ ، ڈنر ایک دفعہ صبح کا ناشتہ منگوالیا تھا، ایک دو دفعہ چائے بھی منگوالی تھی، دوسرے دن تیزگام لاھور کے اسٹیشن پر تھی، اور جب وھاں سے چلی تو مزید چھ یا سات گھنٹے میں راولپنڈی پہنچ گئی،!!!!!!

آج میں تیزگام کے سفر کو زیادہ طول نہیں دونگا، کیونکہ اس سفر میں اپنی ایک پہچان، اپنی سوچ، اپنی ایک امنگ نہیں نظر آئی، وہ خوشی وہ مسرت مجھے دکھائی نہیں دی، میں خود حیران پریشان تھا کہ مجھے وہ اس سفر میں اپنا پن نظر نہیں آرھا تھا جبکہ میرے ساتھ میری بیگم اور ایک ھنستا مسکراتا سا بچہ بھی تھا لیکن نہ جانے کیوں ایک عجیب سی گھٹن محسوس ھورھی تھی، !!!!

وجہ جو مجھے نظر آئی وہ یہ تھی کہ میں آج سب سے الگ تھلگ سفر کررھا تھا، ایک ائرکنڈیشنڈ سلیپر کے کمپارٹمنٹ میں، جو کہ چاروں طرف سے سیل بند تھا، سوائے ٹریں کی ھلکی سی کھٹ کھٹا کھٹ سنائی دے رھی تھی، لوگوں کا ھجوم بھی آس پاس نہیں تھا، شیشے کی کھڑکی بھی بند، باھر کی آواز اندر نہیں آسکتی تھی، اسٹیشن کی گھما گھمی نظر تو آتی تھی لیکن بے آواز تھی، چیزیں بیچنے والے باھر آوازیں لگا رھے تھے لیکن بند شیشے سے ھم باھر تو دیکھ سکتے تھے لیکن باھر سے وہ لوگ ھمیں دیکھ نہیں سکتے تھے، اپنے لوگوں سے یہ کیسی دوری تھی اپنی ثقافت سے جڑے ھوئے ان سادہ لوح لوگوں سے ھم لوگ بہت ھی دور ھوتے جارھے تھے،!!!!

آج کیونکہ اب اتنی حیثیت بڑھ گئی تھی، کہ ھر باحیثیت آدمی کو صرف اپنی سہولت نظر آتی تھی، کسی عام آدمی کی زندگی سے کوئی غرض نہیں تھا، وھی عام ادمی جو غریب ضرور گے لیکن اس کے دل میں ایک عزم ایک جوش ھے، اسکی زندگی میں ایک خوشی ھے وہ جس بھی حالت میں ھے ھر لمحہ کو دوسروں کیلئے وقف کردینا چاھتا ھے، وہ ھر اپنی خوشی کو دوسروں میں بانٹنا چاھتا ھے ھر ایک کو عزت اور احترام سے ادب سے دیکھتا ھے، لیکن آج جس کے پاس کچھ تھوڑا سا بھی پیسہ آجائے تو وہ ان سب خوشیوں سے اپنا منہ موڑ لیتا ھے اور ھر کسی کی خوشی کو چھین کر اس پر قبضہ کرنا چاھتا ھے، اور جب انہیں ان لوگوں کی ضرورت ھوتی ھے تو وہ انہی عام لوگوں کے گھروں پر دستک دیتے ھیں، بھیک مانگتے ھیں، صرف ایک ایک ووٹ کیلئے،!!!!

خیر بات ھورھی تھی راولپنڈی کے اسٹیشن کی جہاں تیزگام پہنچ چکی تھی، میرا ایک دوست مجھے لینے آیا ھوا تھا، جسے میں نے پہلے سے ھی اطلاع دی ھوئی تھی، جبکہ ابھی تک کوئی رھائش کا بندوبست نہیں ھوا تھا، مگر اس نے وعدہ کیا تھا کہ جب میں وہاں پہنچ جاؤں تو مکان تلاش کرلیں گے، فی الحال وہ ھمیں اپنے گھر لے گیا، اور کچھ دن تک ان کے گھر ویسٹریج کے ایک علاقے میں ٹہرے رھے، اور میں مکان کی تلاش کے ساتھ ساتھ ڈیوٹی پر بھی جارھا تھا، بڑی مشکل سے ایک مکان ٹینچ بھاٹہ میں ایک چھوٹا اچھا مکان مل گیا، نیچے مکان مالک اور انکی فیملی رھتی تھی اور اوپر ھم نے500 روپے کرایہ پر مکان لے لیا تھا، جو آج کل چھ ھراز تک کرایہ پر مل جائے تو بھی غنیمت ھے، اور اس وقت تنخواہ 2500 تک تھی، 1983 میں بھی کہتے تھے کہ مہنگائی ھے، کیونکہ جب 1972 میں میرا ٹرانسفر یہاں ھوا تھا تو اس وقت یہی مکان 50 روپے کرائے پر باآسانی سے مل جاتا تھا، مگر اس وقت تنخواہ 200 سے 300 تک مل جاتی تھی اور آرام سے گزارا ھوجاتا تھا، لیکن اب تو 20 ہزار روپے بھی تنخواہ ھو تو گزارا نہیں ھوتا،!!!!!

بہرحال اس تنخواہ میں گزارا مشکل سے ھوتا تھا، جو کچھ بھی ساتھ سعودیہ سے پیسے ملے تھے، یہاں سب برابر ھی ھوگئے، وہاں پہنچنے کے ایک سال بعد 1984 فروری میں ایک ھماری بیٹی کا اضافہ ھوگیا، اسی دوران ایک دوسرے مکان جو دفتر کے نذدیک تھا شفٹ ھوگئے، جس کا کرایہ 600 روپے تک تھا اور تنخواہ میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں ھوا تھا، شاید 300 روپے تک بڑھ چکے تھے، اور اب تو چھوٹا بھائی بھی یہیں ساتھ ھی تھا اسے بھی یہاں ایک ادارے میں سروس مل گئی تھی،!!!!! اور وہ ھمارے ساتھ ھی رہ رھا تھا،!!!!!

1985 کے درمیان ایک چھوٹی سی بات پر غصہ میں 15 سال کی اچھی خاصی نوکری چھوڑ دی، اور مجھے واپس کراچی واپس آنا پڑا اور ایک رینٹ اے کار میں ملازمت ملی لیکن تنخواہ 2500 روپے تھی، اس دفعہ مجھے بہت تکلیف اٹھانی پڑی، مجھے اپنی پچھلی نوکری کو چھوڑ کر بہت ھی پریشانیاں اٹھائیں، لگی لگائی روزی کو اس طرح چھوڑنا اللٌہ کو بھی ناگوارگزرتا ھے،میں چار سال تک بہت ھی مشکلات اور تکلیفوں سے دوچار رھا جو میں اگلی نشست میں بیان کرونگا، اپنے دوستوں سے یہی التجا ھے کہ بغیر کسی وجہ کہ نوکری چھوڑ دینا اچھی بات نہیں ھے، کہ میں نے چار سال تک جو پریشانیاں اٹھائیں، وہ میرا دل ھی جانتا ھے،!!!!!

میں نے یہ بہت غلطی کی تھی کہ جذبات میں آکر اتنی پرانی سروس چھوڑدی، مگر جس دن نوکری چھوڑی اسی دن شام کو دفتر میں اسلام آباد سے ایک دوست کا ٹیلیفون آگیا، کہ انکے آفس کی کراچی کی برانچ میں ایک اکاونٹنٹ کی جگہ خالی ھے، یہ دوست بھی میرے ساتھ اسی کمپنی میں تھا اور بہت پہلے ھی یہاں سے جا چکا تھا، نہ جانے اسے کیسے پتہ چلا کہ میں نے یہ سروس چھوڑ دی ھے،!!!!!

میں اسی دن دوست کے ھیڈ آفس اسلام آباد پہنچا اور اس نے اپنے اکاونٹس منیجر سے ملا دیا، بس انہوں نے دو چار باتیں کیں اور تنخواہ 2500 روپے پتائی اور انکی کمپنی جو ایک انٹرنیشنل رینٹ-اے- کار کمپنی تھی، اور اتفاق دیکھئے اسی دن انہوں نے مجھے تقرری کا لیٹر بھی دے دیا اور ساتھ ھی اسلام آباد سے کراچی کا ھوائی جہاز کا ٹکٹ بھی تھما دیا، اور تاکید کی کہ میں فوراً ھی کراچی پہنچتے ھی وہاں کے منیجر کو رپورٹ کروں، میں نے کہا کہ مجھے یہاں سے اپنا فائنل حساب کتاب بھی لینا ھے اور اس کے لئے مجھے کم از کم دو دن درکار ھیں، لیکن وہ نہیں مانے کہنے لگے کہ وہاں پر آپکا کل پہنچنا بہت ضروری ھے ورنہ کسی اور نے اگر ڈیوٹی پر رپورٹ کردی تو ھمارے لئے مشکل ھو جائے گی، کیونکہ ھم نہیں‌چاھتے کہ وہاں پر ھماری مرضی کے بغیر کسی کی تقرری ھو،!!!!!

بیگم اور دونوں بچے تو ایک ھفتہ قبل ھی کراچی کسی تقریب کے سلسلے میں جاچکے تھے، اور مجھے یہاں چھٹی نہیں مل رھی تھی، اور یہی وجہ تھی کہ مجھے نوکری چھوڑنی پڑی، دوسرے دن صبح پرانی کمپنی سے جلدی جلدی حساب کتاب لے کر، اور اپنے چھوٹے بھائی کو جو میرے ساتھ ھی رھتا تھا، اسکے حوالے تمام سامان حوالے کیا، اس ہدایت پر کہ اگر اچھی قیمت ملتی ھے تو بیچ دینا ورنہ کراچی میں کارگو کروا دینا، جلدی جلدی میں دو سوٹ کیس میں جو کپڑے اور ضروری چیزیں تھیں، انہیں پیک کیا، اور اسلام آباد ائرپورٹ پہنچ گیا، سب کو اظلاع پہلے ھی دے چکا تھا، اور سب وہاں حیران تھے، کہ میں بذریعہ ھوائی جہاز آرھا تھا، کیونکہ اندرونی ملک یہ میرا پہلا ھوائی سفر کا اتفاق تھا،!!!!

کراچی ائرپورٹ سے جیسے باھر نکلا تو دیکھا کہ ایک باوردی ڈرائیور اس رینٹ-اے-کار کا ایک بورڈ لئے کھڑا تھا، جس پر میرا نام لکھا تھا، میں نے اسے ھاتھ سے اشارا کیا اس نے فوراً ھی مجھے سلام کیا اور مجھ سے سامان کی ٹرالی لے لی، اور پارکنگ کی طرف چل پڑا، میں بھی اسکے پیچھے، اور تمام گھر والے بھی ائرپورٹ پر موجود تھے، سب سے ملا، اور سب حیران کہ میں نے پہلی مرتبہ سوٹ اور ساتھ ٹائی لگا رکھی تھی، سب گھر والے بھی پریشان کہ ایک تو سوٹ ٹائی میں ملبوس اور دوسرے کسی کمپنی کی گاڑی مجھے لینے آئی تھی، گھر والے تو سوزوکی پک اپ میں آئے تھے، کچھ تو میرے ساتھ بیٹھ گئے، اور میرا سامان کو ڈرائیور نے ایک سوٹ کیس تو اپنی کار میں ڈالا اور دوسرا سوٹ کیس اور باقی سامان پک اپ میں رکھ دیا، اور پھر گھر کی طرف روانہ ھوگئے،!!!!!
 
بھولی بسری یادیں،!!!!! دوسرا حصہ،- 7- نئی ملازمت اور دوسرے بیٹے کی پیدائش اور مشکلات

کراچی ائرپورٹ سے جیسے باھر نکلا تو دیکھا کہ ایک باوردی ڈرائیور اس رینٹ-اے-کار کا ایک بورڈ لئے کھڑا تھا، جس پر میرا نام لکھا تھا، میں نے اسے ھاتھ سے اشارا کیا اس نے فوراً ھی مجھے سلام کیا اور مجھ سے سامان کی ٹرالی لے لی، اور پارکنگ کی طرف چل پڑا، میں بھی اسکے پیچھے، اور تمام گھر والے بھی ائرپورٹ پر موجود تھے، سب سے ملا، اور سب حیران کہ میں نے پہلی مرتبہ سوٹ اور ساتھ ٹائی لگا رکھی تھی، سب گھر والے بھی پریشان کہ ایک تو سوٹ ٹائی میں ملبوس اور دوسرے کسی کمپنی کی گاڑی مجھے لینے آئی تھی، گھر والے تو سوزوکی پک اپ میں آئے تھے، کچھ تو میرے ساتھ بیٹھ گئے، اور میرا سامان کو ڈرائیور نے ایک سوٹ کیس تو اپنی کار میں ڈالا اور دوسرا سوٹ کیس اور باقی سامان پک اپ میں رکھ دیا، اور پھر گھر کی طرف روانہ ھوگئےَ!!!!!

تمام گھر والے حیران پریشان ھوگئے کہ یہ کیا ماجرا ھے، ایسی آؤ بھگت اور وہ بھی نئی کمپنی کی جانب سے، شاید کوئی بڑی افسری کی نوکری مل گئی ھے، مجھے تو صرف اکاونٹنٹ کی ھی نوکری ملی تھی، میں نے بھی سب کے سامنے ذرا اپنی گردن اکڑا لی، گھر پہنچ کر میں نے کمپنی کے ڈرائیور کو کچھ دیر رکنے کے لئے کہا، گھر پر ایک پیالی چائے پی کر اور سب سے مل کر اسی کار میں بیٹھ کر آفس پہنچ گیا، وھان کے منیجر سے ملاقات ھوئی، بہت ھی نفیس انسان تھے،!!!

باقی اسٹاف سے بھی ملاقات ھوئی، کوئی زیادہ اسٹاف نہیں تھا 20 کے قریب ڈرائیور حضرات تھے، اور ھر ایک پاس شیڈیول کے مطابق کاریں تھیں ایک ھمارا کاونٹر ایک 5 اسٹار ھوٹل میں تھا، منیجر اور اکاونٹنٹ کے علاوہ ایک ایڈمن اسٹنٹ ایک اکاونٹس کلرک، اور ایک سپروائیزر اور 6 کاونٹر اسٹنٹ تھے، اور ایک چوکیدار بھی تھے جو رات کو تمام کاروں کی دیکھ بھال پر مامور تھے، جو مختلف اوقات میں ڈیوٹی انجام دیتے تھے، بہرحال سب سے ملاقات کرائی گئی سب پہت اچھے تھے، مجھے سب سے مل کر خوشی ھوئی،!!!!

کافی رات تک وھاں کا نطام دیکھتا رھا اور اسلام آباد سے بھی کچھ تھوڑا بہت سمجھ کر آیا تھا، سارے سسٹم کو سمجھنے میں مجھے ایک ھفتہ لگا، اور پھر شروع ھوگیا، اور اللٌہ کے کرم سے وھاں کا بزنس بھی بڑھتا گیا، میری تنخواہ ایک سال میں بڑھا دی گئی اور ساتھ ھی عہدہ بھی بڑھا دیا گیا، میرے کام سے انتظامیہ بھی خوش تھی، بس خوش وہ لوگ نہیں تھے، جن کی اوپر کی آمدنی میری وجہ سے کھٹائی میں پڑگئی تھی، انہیں میری ترقی سے بھی کچھ حسد سی ھو گئی تھی اور مجھے یہ بالکل قطعی علم نہیں تھا کہ مجھ سے کچھ لوگ نالاں بھی ھیں، اور میرے خلاف سازشوں کا جال بن رھے ھیں، اور گروپ بندی خاموشی سے ھورھی تھی، اور میں بالکل بے خبر اپنے کام میں مصروف تھا!!!!!

اسی دوران 5 نومبر 1985 ھمارے یہاں ایک اور بیٹے کی پیدائش ھوئی، جس کا نام سید دانش رکھا گیا، لیکن افسوس کہ اس کی پیدائش کے فوراً بعد ھی وہ بہت سخت بیمار ھوگیا جسے شاید سوکھے کی بیماری کہتے ھیں، اور اس کی پیدائش کے تقریباً 6 مہینے تک ھم دونوں میاں بیوی اسے گود میں اٹھائے اٹھائے نہ جانے کتنے ڈاکڑوں حکیموں، یہاں تک کہ عالموں اور مولویوں سے رجوع کیا اس کے علاوہ دو تین اسپتال میں بھی یہ ننھی سی جان داخل رھی، لیکن ھر طرف سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا آخرکار سب نے صاف جواب دے دیا کہ اس کا بچنا پہت مشکل ھے بس اللٌہ سے دعاء کریں،!!!!!!

جہاں تک بیماری کا تعلق ھے، اسکے لئے علاج اور معالجہ کی سہولت کو بروئے کار ضرور لانا چاھئے، علاج سنت بھی ھے، اور دل کو ایک اطمنان بھی حاصل ھوجاتا ھے، لیکن کئی دفعہ بہت سے واقعات ایسے بھی رونما ھوئے ھیں کہ بغیر علاج کے بھی شفا ملی ھے اور کئی ایسے بھی واقعات دیکھنے میں آئے ھیں، جو کافی علاج کے بعد بھی افاقہ نہ ھوا، اور اللٌہ توکل سے ھی وہ بیماری ختم ھوگئی، اور کئی تو وفات بھی پا گئے، جہاں علاج معالجہ کا حکم ھے، وہاں بعض علاج میں ناکامی کے بعد اللٌہ تعالیٰ کے مکمل یقین اور دعاؤں کے ساتھ عقیدت سے بھی شفا ملی ھے !!!

میرا دوسرا بیٹا جو پیدا ھونے کے چھ ماہ بعد تک مسلسل بیمار رھا اور ھم نے ان چھ مہینوں کے دوران تمام بڑے ھسپتالوں، بہترین ڈاکڑوں، مستند طبیبوں، کے علاؤہ عاملوں، مولویوں، دیسی ٹوٹکے اور جو کچھ بھی ھم سے ھوسکتا تھا ھم نے سب آزمالئے، لیکن کہیں بھی اسکی صحت بہتر نہ ھو پائی اور روز بروز وہ بلکل کمزور ھوگیا، دو تین دفعہ تو کئی کئی دن اسپتالوں میں داخل بھی رھا اور سب نے بالآخر یہ شبہ ظاھر کردیا، کہ یہ اس کا بچنا بہت مشکل ھے بس کوئی اللٌہ تعالیٰ کی طرف سےمعجزہ یا دعاء ھی اس کو بچا سکتا ھے، اور سونے پر سہاگہ کہ آخر میں اسے خسرہ کے دانے نکل آئے، جس سے تو رھی سہی امید بھی ختم ھوگئی تھی، اور ھم بس کرگئے اور جو علاج چل رھا تھا ھم نے بند کردیا اور یہ واقعہ میری زندگی کا سب سے بڑا صبر آزما دور تھا، مگر ھم میاں بیوی پھر بھی اللٌہ کی ذات سے مایوس نہیں ھوئے، اور ھم نے بس اللٌہ تعالیٰ سے دعاؤں پر ھی اکتفا کیا،!!!!!

اور آپ یقین جانے کہ خسرہ کے دوران اسکی بے ھوشی اور سکتے کا عالم ایسا تھا کہ اکثر نے تو اس کے لئے موت کی دعاء مانگی کہ اس کو اس مشکل سے اللٌہ تعالیٰ نجات دلادے، مگر اگر اسے کچھ ھوجاتا تو یہ ھم دونوں کے لئے یہ بہت مشکل تھا کہ اپنے آپ کو سنبھال سکتے، شاید پاگل ھی ھوجاتے، میری بیوی کی حالت تو پہلے سے ھی بالکل غیر تھی، مگر ھم دونوں نے صرف اور صرف اللٌہ تعالیٰ کی ذات سے ھی امید رکھی اور اس بات کا مکمل یقین بھی رکھا کہ وہ ھمارے بیٹے کو اپنے حبیب (ص) کے صدقے شفا ھی دے گا،!!!!!

اور جیسے ھی خسرہ کے دانے مندھم پڑے میرا بیٹا آھستہ آھستہ ٹھیک ھونا شروع ھوگیا، اور چند ھی دنوں میں بالکل صحت مند ھوگیا، سبحان اللٌہ کیا اللٌہ کی شان تھی، جو کسی علاج سے ٹھیک نہیں ھو سکا وہ اللٌہ کی دی ھوئی ایک دوسری بیماری کے بعد ایک معجزے کی طرح ٹھیک ھوگیا، اس نے ھم سب کی تڑپ آہ اور فریاد سن لی تھی،!!!!!

اس مشکل کے وقت میں مجھے اپنی نئی نوکری کو بھی دیکھنا پڑتا تھا، بیٹے کے ٹھیک ھونے کے بعد آھستہ آھستہ سروس پر بھی کنٹرول ھوتا چلا گیا، اور اچھی خاصی کامیابی بھی حاصل کرلی تھی اور 1986 کے درمیان میں ایک سال مکمل ھونے کے بعد تنخواہ میں بھی اضافہ ھوگیا، اور 1989 میں مجھے وھاں کا اسسٹنٹ منیجر بنا دیا گیا لیکن کچھ لوگوں کو میری اس ترقی سے حسد اور مایوسی بھی ھوئی، کیونکہ کچھ لوگوں کی آوپر کی آمدنی میں بہت کچھ کمی ھوگئی تھی، اس لئے انہوں نے میرے خلاف ایک مہم کا آغاز بھی کردیا، جس کی وجہ سے مجھے بعد میں بہت سے نقصانات بھی اٹھانے پڑے، نوکری چھوڑنی پڑی اور ساتھ ھی معاشی حالات بہت خراب سے خراب ھوتے چلے گئے، ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میرے پاس میرے اسی چھوٹے بچے کیلئے دودھ کے پیسے بھی نہیں تھے،!!!!!!

1985 کا سال میرے لئے بہتر ثابت نہیں ھوا، اور یہ حالات میرے ساتھ 1989 تک تقریباً 4 سال بہت ھی پریشان کن رھے، ایک تو وجہ جو میرے سمجھ میں آئی کہ ایک لگی لگائی 14 سال کی بہترین سروس کو جذبات میں آکر چھوڑ دی، اور دوسری بات 1983 میں سعودی عرب سے واپسی کے بعد روزہ اور نماز کی پابندی بھی چھوڑ دی، صرف جمعہ کی نماز مسجد میں جاکر پڑھ لیتے تھے، باقی اگر موڈ ھوا تو پڑھ لی ورنہ نہیں،!!!!

بیٹے کی پیدائش کے بعد اسکی 6 ماہ تک بیماری میں پریشانی کے دن گزرے، اسکے ٹھیک ھوتے ھی آفس میں سازشوں کا جال میرے خلاف چلا، کیونکہ سب کے کھانے پینے کا سلسلہ بند ھوچکا تھا، کمپنی کو اس کی وجہ سے فائدہ ھورھا تھا، جس کی وجہ سے تین چار لوگ اپنی نوکری سے ھاتھ دھو بیٹھے، جس میں سے ایک منیجر صاحب جو نئے نئے آئے تھے ان کا بھی پتہ صاف ھوگیا، جبکہ وہ ان لوگوں میں قطعاً شامل نہیں تھے، اور بہت ھی اچھے ایماندار انسان تھے اور ایک اچھے گھرانے سے تعلق بھی تھا، اور میرے اچھے دوست بھی تھے،جس کا مجھے بہت ھی زیادہ افسوس ھوا،!!!!

اور پھر مجھے ان کی جگہ وہاں کا منیجر بنادیا، جس کی وجہ سے چند اور پرانے مالکان کے منہ چڑھے لوگ جو ابھی تک کمپنی میں موجود تھے، اور اچھی پوزیشن میں بھی تھے، وہ میرے سامنے تو بہت اچھے تھے لیکن میرے پیچھے مجھ سے میری ترقی ھونے پر حسد کرنے لگے ھے، اور ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جو لوگ نکالے جاچکے تھے، وہ ان کی اوپر کی آمدنی کا ایک ذریعہ بھی تھے، میں تو بس اپنی اس پریشانیوں کو اپنے ساتھ لئے صبر اور شکر کے ساتھ نوکری کرتا جارھا تھا،!!!!

اس کے علاؤہ اسی سروس کے دوران گھر کے حالات کچھ ایسے خراب ھوئے کہ والد صاحب اور ایک مجھ سے چھوٹے بھائی کے علاؤہ سب لوگ مجھ سے ناراض رھنے لگے، بچے کی بیماری میں کچھ اتنا زیادہ قرض چڑھ گیا تھا کہ آدھی سے زیادہ تنخواہ تو آفس سے جو قرضہ لیا ھوا تھا اس میں ختم ھوجاتی تھی، باقی جو باھر سے بھی کافی قرضہ لیا ھوا تھا، وہ بھی ساتھ ساتھ اتار رھا تھا، گھر میں کچھ بھی اپنی تنخواہ سے نہیں دے پاتا تھا، جس کی وجہ سے ایک بھائی اور والد کے علاوہ سب بہن بھائی اور ساتھ دوسرے رشتہ دار بھی مل کر مجھے برا بھلا اور طعنے دینے لگے تھے، والدہ بے چاری خاموش تھیں لیکن دوسروں کی باتوں ‌میں آچکی تھیں اور سارا الزام میری بیوی اور میرے تینوں بچوں پر آرھا تھا، میں اسی پریشانی میں بہت سخت بیمار ھوگیا جس کے لئے ذمہ دار بھی میری بیوی اور بچوں کو ٹہرایا گیا، جس کی وجہ سے میری بیگم اپنے تینوں بچوں کو لے کر واپس اپنے والدین کے گھر منتقل ھوگئیں، دفتر سے مجھے چھٹی لینا پڑی، ایک دن میری کچھ زیادہ ھی طبیعت خراب ھوئی اور ساتھ ھی مجھ سے چھوٹے بھائی کی شادی بھی طے پاگئی، تو والد صاحب فوراً ھی میرے سسرال گئے اور میری بیگم اور بچوں کو ساتھ لے آئے،!!!!!

میری طبیعیت بھی کچھ سنبھلنے لگی تھی، اور میرے بچے بھی میرے ساتھ تھے میں اپنے بچوں سے بہت پیار کرتا تھا، گھر میں ایک بار پھر چھوٹے بھائی کی شادی کا زور شور تھا، اس گھر میں ایک بہو اور آگئی وہ رشتہ میں پھوپھی زاد بھی تھی، اسکی بہت آؤبھگت ھورھی تھی، میری بیگم بھی اس کی خدمت میں لگی رھی، اور ساتھ سب کا خیال رکھنا اپنے بچوں کو سنبھانا، ھر کام وہ بہت ھی سلیقے سے کررھی تھی گھر کا ماحول ایک بار پھر بہت اچھا ھوچکا تھا، مجھے بھی سکون تھا دفتر کی پریشانی الگ تھی لیکن گھر میں ھنسی خوشی دیکھ کر مجھے بہت اطمنان تھا، اور دونوں بہویں گھر میں بہت خوش تھیں دونوں مل جل کر اپنی نندوں اور دیوروں کے ساتھ گھر میں ایک خوشگوار ماحول بنائے ھوئے تھیں،!!!

اس وقت میں، والد صاحب اور مجھ سے دو چھوٹے بھائی سروس کررھے تھے اور ایک بھائی ابھی پڑھ رھا تھا اور دو چھوٹی بہنیں بھی زیرتعلیم تھی، باقی دو بہنوں کی شادیاں ھوچکی تھیں، ھم سب ملا کر آٹھ بہن بھائی تھے، اور گھر میں سب ھنسی خوشی تھے، لیکن باھر کے رشتہ داروں اور اڑوس پڑوس کی عورتوں کو یہ ھنستا بستا گھر دیکھا نہ گیا، وہ حیران پریشان کہ اتنا آگ لگانے کے باوجود بھی اس گھر میں اب تک جھگڑا کیوں نہیں ھوا،!!!!

جیسے ھی میں آفس سے گھر پہنچتا گھر میں پہلے سے موجود کچھ تو مجھ سے کہتیں کہ،!!! ارے بیٹا تمھاری بیوی تو اس طرح مشقت کرتے کرتے اپنی حالت خراب کر لے گی، دیکھو نا چھوٹی بہو تو گھر کا کوئی بھی کام کاج نہیں کرتی، بس ھم نے یہی دیکھا کہ سارا دن بے چاری لگی رھتی ھے اور ھم سے تو بات کرنے کا وقت ھی نہیں ملتا ھے بےچاری کو ،!!!!

اور مجھے اپنی بیگم سے پتہ چلتا کہ وہی عورتیں دوسری بہو کو پرانی بہو کے خلاف اکساتی رھتیں ھیں اور کچھ تو ھماری اماں کے کانوں میں دونوں بہوؤں کے خلاف کاروائی کررھی ھوتیں تھیں، مگر میں اور میری بیگم نے آپس میں یہی تہیہ کیا ھوا تھا کہ کسی کی بھی باتوں کا کوئی اثر نہیں لیں گی، اور اسی طرح وقت گزرتا رھا، دفتر کے حالات میں اور بھی خرابی آتی جارھی تھی، گھر میں کچھ بھی پیسے میں نہیں دے پارھا تھا، جس کی وجہ سے کچھ حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ دفتر میں میرے خلاف لوگوں کی سازش مکمل طور سے کامیاب ھوگئی، اور ادھر گھر میں ایسے حالات کشیدہ ھوئے کہ مجھے والد صاحب نے اجازت دے دی کہ میں باھر کہیں اور مکان کرایہ پر لے لوں، میں اور میری بیگم تو یہ بالکل نہیں چاھتے تھے، لیکن مجبوری بھی تھی، ایک دن تو کچھ زیادہ ھی جھگڑا ھوا، ایک تو میں دفتر سے پریشان گھر پر آیا ادھر گھر کا ماحول بگڑا ھوا تھا،!!!

مجبوراً میں نے اپنے ایک دور کے رشتہ دار کے یہاں ٹیلیفون کیا کہ مجھے چند دنوں کیلئے ایک اپنا کمرہ دے دیں، انہوں نے فوراً حامی بھر لی اور میں نے اپنی بیگم کے ساتھ ملکر تین سوٹ کیسوں میں ضرورت کے کپڑے وغیرہ ڈالے اور کچھ ضروری سامان سمیٹا اور والد صاحب ستے اجازت لی اور مجھ سے چھوٹے بھائی نے میرے سامان کو پیک کرنے میں مدد کی اور ٹیکسی لے کر آیا اور ھمارے ساتھ نئے گھر تک چھوڑنے بھی آیا، وہاں اوپر کی منزل میں ایک اچھا خاصہ کمرہ تھا، اسی میں کچھ صاف صفائی کرکے کہیں سے دو گدے اور چادریں دو تکئے لے کر آیا اور زمیں پر بچھا دیئے رات کا کھانا بازار سے لے کر آیا اور چھوٹے بچوں کے لئے دودھ ڈبل روٹی اور کچھ ضرورت کی چیزیں لے کر آیا، اور رات کسی نہ کسی طریقے سے گزاردی، اور صبح صبح دفتر چلا گیا،!!!!

1986 کے سال کا آخیر دور چل رھا تھا، پہلی دفعہ اپنے گھر سے علیحدہ ھونا پڑا، تین چھوٹے بچوں کا ساتھ تھا، بڑا بیٹا 5 سال کا ھونے والا تھا، اس سے چھوٹی بیٹی جو 3 سال کی تقریباً ھوچکی تھی اور اس وقت چھوٹا بیٹا ایک سال کے لگ بھگ ھوگا،!!!!

سب سے پہلے اپنے بیٹے کو ایک نزدیکی پرائویٹ اسکول جس کا نام فلبرائیٹ گرامر اسکول تھا، اس میں داخل کرایا، یہاں آنے کے دوسرے دن ھی میرا چھوٹا بھائی میرا سارا سامان بمعہ فرنیچر اپنے دوستوں کی مدد سے یہاں ایک ٹرک میں لے آیا، جبکہ میری بیگم اس بات سے راضی نہیں تھیں، کہ ایک آدھ ہفتے کے بعد ھم واپس گھر چلے جائیں گے، لیکن والد صاحب اس بات پر راضی نہیں تھے، انہوں نے یہی کہا کہ یہ ھمیشہ کا مسئلہ رھے گا بہتر ھے کہ میں گھر سے دور ھی رھوں، کیونکہ انہوں نے پہلے بھی اپنی تمام تر کوششیں کرڈالیں، کہ دوسری بہو بیگم کے آنے بعد گھر کا ماحول بہتر ھوجائے، لیکن یہ ممکن نہ ھوسکا اور گھر میں جھگڑے بڑھتے چلے گئے،!!!!!

اور مجھے یہاں گھر پر سب کچھ سنبھالنا مشکل ھورھا تھا، والدین سے الگ ھوکر رھنا بہت مشکل مرحلہ تھا، صبح صبح اپنے بیٹے کو اسکول چھوڑنا اور پھر بس میں بیٹھ کر دفتر جانا، دوپہر میں بیگم ھی بیٹے کو اسکول سے لے آتی تھیں، میں شام کو گھر آتا تو کچھ نہ کچھ پریشانی سامنے کھڑی ھوتی تھی، تنخواہ ایڈوانس میں ھی لے لیتا تھا اور مہینہ ختم ھونے سے پہلے ھی سب تنخواہ برابر ھوجاتی تھی، روز بروز قرضہ بھی بڑھتا جارھا تھا، سودا سلف خود ھی لے کر آنا، بچوں ‌کے دودھ اور کھانے پینے کا خاص طور پر خیال رکھنا، اور کبھی کوئی بیمار ھے تو کبھی کوئی، ہفتہ میں تین چار دن ڈاکٹر کے کلینک پر رات کو لائن میں کسی نہ کسی بچے کو گود میں لئے بیٹھا ھی رھتا تھا، ساتھ بیگم بھی اکثر بیمار رھتی تھیں، اور چھوٹے بچوں کا ساتھ بچوں کی شرارتیں بھی اس وقت اچھی نہیں لگتی تھیں،!!!!!

اکثر رات کو میں دفتر سے دیر تک ھی گھر پہنچتا تھا، دفتر میں بھی ایک ٹینشن چل رھی تھی، گھر آتے ھی کوئی نہ کوئی مسئلہ درپیش رھتا، میں بہت ھی تھک جاتا تھا، دفتر سے آتے آتے ڈیڑھ گھنٹہ بھی لگ جاتا تھا، اس تھکن کے باوجود بھی مجھے مجبوراً کبھی کبھی بچوں پر ترس آجاتا اور مجبور ھو کر بچوں کو کسی نزدیکی پارک میں گھما پھرا کر لے آتا، بیگم کی طبیعیت کچھ زیادہ ھی خراب رھنے لگی تھی، 1987 کا سال شروع ھو چکا تھا اور پھر ایک نئے مہمان کی آمد آمد بھی تھی، بیگم کو اس حالت میں ‌سنبھالنا بھی مشکل تھا، کبھی کبھی ھماری ساس صاحبہ آکر دیکھ جاتی تھیں، اور ھماری دو چھوٹی سالیاں ایک شاید 10 سال کی تھی اور دوسری تقریباً 12 سال کی تھی وہ دونوں اپنے اسکول سے چھٹی کرکے یہاں آجاتیں اور گھر کو اور بچوں کو سنبھالتی تھیں، بہت ھی مشکل آن پڑی تھی،!!!!!

ھمارے گھر سے صرف چھوٹا بھائی اور والد صاحب کبھی کبھی آجاتے تھے، اس کے علاوہ اور کوئی نہیں آتا تھا، بہت ھی سخت رنجشیں چل رھی تھیں، اور دوسرے رشتہ دار اور محلہ دار سب بہت خوش تھے، کیونکہ وہ ھمیں گھر سے علیحدہ کرنے میں کامیاب ھو گئے تھے، مکان مالک جو ھمارے رشتہ دار تھے وہ بھی تھوڑا بہت خیال کرلیتے تھے، لیکن کہاں تک ان کے بھی چھوٹے چھوٹے بچے تھے، اب تو روز بروز بیگم کی طبیعیت کچھ زیادہ ھی بگڑنے لگی تو میں نے یہی فیصلہ کیا کہ سسرال کے نزدیک ھی مکان لے لوں، تاکہ بیوی بچوں کی طرف سے کچھ تو بے فکر ھوجاؤں، اور پھر وہاں سے دفتر بھی نزدیک تھا،!!!!!!!

انسان ایک طرف کی جنگ لڑسکتا ھے اگر چاروں طرف سے پریشانیاں کا رخ اپنے طرف ھو تو سنبھالنا بہت مشکل ھوجاتا ھے، اور یہ بھی حقیقت ھے کہ جب انسان اپنے رب سے دور ھوتا چلا جاتا ھے تو تمام مشکلات گھیرے میں لے لیتی ھیں، اور کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے،!!!!!

یہی کچھ صورتِ حال کچھ میری بھی تھی، اب تو یہ حال ھوگیا تھا کہ جو جمعہ کی نماز پڑھتا تھا، اس سے بھی غافل ھونے لگا، پریشانیوں میں الجھ کر بس شاید پاگل ھونے کی حد تک تجاوز کرچکا تھا، میں اب اپنے سسرال کے نذدیک شفٹ ھوچکا تھا، اس طرح مجھے ایک طرف سے کچھ سکون حاصل ھوچکا تھا، اب میں نے تھوڑا دفتری معاملات میں جو مشکلات پیش آرھی تھیں، اس کی طرف میں نے تھوڑا سا دھیان دینے کی کوشش کی تو پتہ لگا کہ چند ایک لوگوں کا رویہ میرے ساتھ کچھ بدلا بدلا سا نظرآرھا تھا،اور کچھ زیادہ غور سے جائزہ لینا تو معلوم ھوا کہ میرے خلاف ھی انہوں نے آہستہ آہستہ ایک محاذ بنانا شروع کردیا ھے،!!!!!

یہ سب کچھ ایک ڈرائیور نے جو انتہائی ایماندار اور میرے بھروسے کا آدمی تھا، اس نے مجھے ساری روداد سے آشنا کرایا، میں نے بھی اس سے یہی کہا کہ اگر تم میرا بھلا چاھتے ھو تو تم بھی انہی میں شامل رھو، ایک تو اس میں ‌تمھاری بھی بہتری ھے کہ وہ تمھیں تنگ نہیں کریں گے، دوسرے کہ ان کی ھر حرکت پر نظر رکھو، اور مجھے خاموشی سے ان کی ھر بری حرکت کے بارے میں مجھے اطلاع دیتے رھو، میں یہ چاھتا ھوں کہ کم از کم کمپنی کو کسی قسم کا نقصان نہ ھو، چند لوگ اپنے مستقل گاھکوں سے مل کر کمپنی کو نقصان پہنچانے میں لگے ھوئے ھیں، جس کا میں نے اندازہ لگایا کہ وہ اپنی تنخواھوں سے چار گنا زیادہ پیسہ کما رھے ھیں، مگر مجھ سے نالاں اس لئے ھیں کہ میں ان کی اس اوپر کی آمدنی کی راہ میں ایک رکاوٹ بنتا چلا جارھا تھا،!!!!!

دو ایک نے مجھے ایک اچھی خاصی رقم ھر مہینے دینے کا لالچ بھی دیا، اور اس کے علاوہ تحفے تحائف بھی دینے کی کوشش کی، لیکن میں نے مکمل طور سے انکار کردیا، ایک دو دفعہ تو مجھے دوپہر کے کھانے کی دعوت پر بھی لے گئے، اور مجھے سمجھانے کی کوشش بھی کی، کہ اس طرح پابندی لگانے سے کوئی فائدہ نہ ھوگا، اور بھی دوسرے طریقے کار ھیں، جس میں آپ کچھ نہیں کرسکتے، لیکن آپ کی وجہ سے کچھ آسانیاں پیدا ھو جائیں گی، کچھ مہربانی کریں، میں نے ان سے کہا کہ میں نوکری چھوڑ سکتا ھوں لیکن مگر انتظامیہ کا بھروسہ توڑ نہیں سکتا،!!!!!!

وہ لوگ بھی مجھ سے تنگ آگئے، آخرکار انہوں نے مجھے کئی طریقوں سے بلیک میل کرنے کی کوشش کی، لیکن قدرتی کامیاب نہ ھوسکے، ادھر گھر پر ھمارے یہاں ایک اور مہمان کا اضافہ بیٹی کی صورت میں ھوا، اور ادھر میری تنخواہ میں بھی اضافہ ھوگیا، میری اپنی پوری کوشش تھی کہ محنت اور ایمانداری سے اس ادارے کو چلاؤں، لیکن میرے راستے میں رکاوٹیں بہت تھیں،!!!!

اسی مشکل اور تکلیف دہ سازشوں سے بچتا بچاتا میں اپنی ھر ممکن کوششوں کے ساتھ کام کو لے کر چل رھا تھا، اور ساتھ ھی میں نے چند نئے ایماندار لوگوں کی بھرتی بھی کرائی، لیکن ان لوگوں نے ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا، بلکہ چند ایک کو اپنی سازش میں ‌شریک بھی کرلیا، میرے اپنے بھروسے کے آدمی ان کے ساتھ شامل ھوگئے، مگر میں نے ھمت نہیں ھاری، اور انہیی لوگوں کی نئی نئی چالبازیوں کے درمیان اپنے آپ کو لے کر چلتا رھا،!!!!

ایک بڑے پروجیکٹ کے لئے ھماری کمپنی کو ایک کام ملا، جس میں ھر ایک اپنی اپنی ڈیوٹیاں ھمارے ایک منیجر صاحب نے سمجھا دیں تھیں، اور وہ بہت ھی اچھے انسان تھے، میں اس وقت سینئر اکاونٹنٹ کے عہدے پر فائز تھا، اور میرے ساتھ دو اسٹنٹ تھے، ایک باھر کی وصولی میں لگا رھتا اور دوسرا میرے ساتھ میری مدد کرتا تھا اور دونوں ‌بھی بہت اچھے تھے، باقی فیلڈ میں کافی لوگ تھے جو مختلف دمہ داریوں پر اپنی ڈیوٹیاں نبھا رھے تھے، اس پروجیکٹ پر ھمارے منیجر صاحب اور انکی پوری ٹیم شامل تھی، جس میں سے چند ایک نے گھپلا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور کامیاب بھی رھے جس کا اندازہ مجھے ھوگیا تھا، میں نے منیجر صاحب کو اس بات کی اطلاع بھی دی لیکن انہوں نے میری بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا، وہ سب کو ھی ایماندار سمجھتے تھے، یہ پروجیکٹ تو زبردست کامیاب بھی ھوا، مگر چند ایک نے بدنظمی اور بے احتیاطی کی وجہ سے کافی فائدہ بھی اٹھایا،!!!!!!!

جب میرے پاس ان تمام ٹھیکیداروں کے بل آئے، تو میں نے دیکھا کہ ان بلوں کے ساتھ تمام شواھدات کی مستنند دستاویزات نہیں تھیں اور جس پر میں نے اعتراض کیا اور رقوم کی ادائیگی کرنے سے انکار کردیا، بلکہ اس کی مکمل تحقیقات کے لئے انتظامیہ کے علم میں ایک رپورٹ پیش کردی، اس کے نتیجے میں انتظامیہ کی طرف سے ایک تحقیقاتی ٹیم پہنچ گئی اور انہوں نے تمام اپنی مکمل تحقیقات اور شواھدات کے ساتھ اعلیٰ انتطامیہ کو پیش کردیں، اور تمام بلوں کی رقوم کی ادآئیگی کو روکنے کا حکم دے دیا، اور سارے بل وغیرہ شاید عدالتی کاروائی کیلئے انتظامیہ نے اپنے قانونی مشیر کے حوالے کردیئے گئے، اور ساتھ ھی کچھ چند ایک فیصلوں کے ساتھ منیجر صاحب اور ان کے ایڈمن اسسٹنٹ کو معطل کردیا گیا جبکہ دونوں ‌بالکل بے قصور تھے، اور جن کی حرکتیں تھیں وہ اس ادارے میں موجود ھی رھے، بلکہ انکو تو اس پروجیکٹ کی شاندار کامیابی پر اسپیشل بونس دئے گئے، مجھے بھی بونس سب سے زیادہ ملا اور اس کے علاوہ مجھے وھاں کے اسسٹنٹ منیجر کے عہدہ پر ترقی دے دی گئی اور ساتھ ھی منیجر کے عہدے کے مطابق تنخواہ میں مزید اضافہ کردیا گیا اور مجھے اپنی مرضی سے اپنے اسٹاف میں بھرتی کی اجازت دے دی گئی،!!!!!

میں نے مزید اچھے اچھے ایماندار اور مہنتی لڑکوں کو اس ادارے میں روشناس کرایا، کچھ کو نکال بھی دیا لیکن ان لوگوں کے ساتھ میں کچھ نہیں کر سکتا تھا جو فیلڈ میں تھے اور کمپنی کے بزنس کا دارومدار بھی انہی لوگوں کی وجہ سے تھا، اور وہ ساتھ ساتھ کمپنی کو لوٹ بھی رھے تھے اور ساتھ ھی کمپنی کے نفع میں کمی بھی پہنچا رھے تھے، مگر ان لوگوں کو میری ترقی دیکھی نہیں گئی، اور وہ تو پہلے ھی میرے خلاف تھے اب اس میں کچھ مزید اضافہ ھوگیا تھا، مجھے انہوں نے تنگ کرنا شروع کردیا تھا،!!!!!!

اسی طرح اسی ماحول میں رھتے ھوئے میں نے 1989 ستمبر کے مہینے تک وقت گزارا اور اپنی سروس کے دوران سالانہ چھٹی تک نہیں‌ لی اب میں بہت تھک چکا تھا، میں نے چھٹی کی درخوست پیش کی جو منظور ھوگئی، اپنی ذمہ داریاں ایک اپنے فیلڈ کے سپروائزر کو دے کر موقع سے فائدہ اٹھاتے ھوئے میں اپنی بیگم اور بچوں سمیت کمپنی کے خرچے پر چھٹیاں گزارنے کیلئے پھر اسی میری پسندیدہ ٹرین تیزگام سے لاھور روانہ ھوگیا، میرے ساتھ چار بچے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں، اور اس دفعہ میرا پروگرام لاھور شہر گھومنے کے علاوہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات سوات کالام اور مری نتھیا گلی ایبٹ آباد بھی گھومنے کا تھا،!!!!!!! ‌
 
بھولی بسری یادیں،!!!!! دوسرا حصہ،-8- نئی ملازمت کے آخری دن اور نکل پڑے گھومنے،!!!!!!

اسی طرح اسی ماحول میں رھتے ھوئے میں نے 1989 ستمبر کے مہینے تک وقت گزارا اور اپنی سروس کے دوران سالانہ چھٹی تک نہیں‌ لی اب میں بہت تھک چکا تھا، میں نے چھٹی کی درخوست پیش کی جو منظور ھوگئی، اپنی ذمہ داریاں ایک اپنے فیلڈ کے سپروائزر کو دے کر موقع سے فائدہ اٹھاتے ھوئے میں اپنی بیگم اور بچوں سمیت کمپنی کے خرچے پر چھٹیاں گزارنے کیلئے پھر اسی میری پسندیدہ ٹرین تیزگام سے لاھور روانہ ھوگیا، میرے ساتھ چار بچے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں، اور اس دفعہ میرا پروگرام لاھور شہر گھومنے کے علاوہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات سوات کالام اور مری نتھیا گلی ایبٹ آباد بھی گھومنے کا تھا،!!!!!!! ‌

تیزگام کا سفر تو ھمیشہ ھی سے مجھے پسند تھا اور ھر بار میں نے سفر کیلئے تیزگام کو ھی ترجیح دی، میں نے اپنا تفصیلی پروگرام پہلے ھی سے اپنی کمپنی کو دے دیا تھا، اور کراچی، لاھور، اسلام آباد میں ان کی برانچیں تھیں، اور پاکستان ٹورزم اور اچھے رسٹ ھاؤسس کے علاؤہ ھر بڑے ھوٹل سے سیر و تفریح کی غرض سے آنے والوں کیلئے ان کے بزنس تعلقات ھر علاقے میں بھی تھے، اور یہ تمام ادارے اس کمپنی کے اسٹاف کو رعائیتاً سہولتیں بھی مہیا کرتے تھے اور اب بھی ویسا ھی ھے، کیونکہ ھماری کمپنی رینٹ اے کار کے علاؤہ انٹرنیشنل طور پر ٹورز اینڈ ٹریول کا بزنس بھی عروج پر تھا، اور دنیا بھر سے ٹورسٹ پاکستان میں گھومنے پھرنے کی غرض سے ھماری کمپنی سے ھی رابطہ کرتے تھے،!!!!!!

میرا پروگرام بھی ایک مکمل ٹور پیکیج ھی تھا جو اس کمپنی کی ایک اسٹاف سہولتوں میں سے ایک تھا جس سے ھر سال فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا، جب ھم لاھور کے اسٹیش سے باھر نکلے، تو باھر ھی ایک باوردی ڈرائیور ھماری کمپنی کا ایک چھوٹا سا سائن بورڈ لے کر کھڑا تھا جسے میں نے پہچان لیا اس سے مصافحہ کرنے کے بعد اس نے ھمیں اپنی کار تک لے جانے میں راہنمائی کی، اور قلی سے سامان ڈگی کھول کر رکھوایا، اور باقی سب سکون کے ساتھ کار میں بیٹھ گئے، اچھی بڑی ائرکنڈیشنڈ کار تھی اور وھاں کے منیجر نے خاص طور سے میرے لئے بھیجی تھی، اسٹیشن سے سیدھا ھمیں ڈرائیور نے ایک ھوٹل میں پہنچایا جہاں پر ھمارے لئے پہلے سے ھی کمرے بک تھے، اور ھمیں بڑے شاھانہ طور سے ایک پروٹکول کے ساتھ ھوٹل کے کمروں تک لے جایا گیا، اور ڈرائیور نے پوچھا کہ وہ کس وقت حاضر ھوجائے، میں نے اسے شام کا وقت دیا تاکہ جب تک ھم کچھ آرام کرلیں اور کچھ ناشتہ بھی کرلیں، بھوک بھی سخت لگی ھوئی تھی،!!!!

یہ تو سچی بات ھے کہ پہلی مرتبہ زندگی میں اس طرح کی عیاشی ھورھی تھی، ھمیں تو ھوائی جہاز کا بھی ٹکٹ مل جاتا، لیکن ھمارے سالے صاحب اور انکی نئی نویلی دلہن بھی ساتھ تھیں، اور اس وقت ان کے لئے ٹکٹ علیحدہ سے خریدنا پڑتا، اس لئے ٹرین سے ھی سفر کرنے کو غنیمت جانا، لاھور میں دو دن کا رکنے کا پروگرام تھا، ھوٹل بھی بہت خوبصورت تھا اور کمرے بھی سجے سجائے جو ھم کبھی خوابوں میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے، ھمیں دو کمروں کی اجازت تھی، اس لئے ایک کمرہ ھم نے نئے شادی شدہ جوڑے کو دے دیا تھا اور دوسرے ساتھ کے کمرے میں ھم اپنے چار بچوں کے ساتھ تھے، جو اس وقت چھوٹے چھوٹے سے تھے،ان کے لئے ھوٹل والوں نے بچوں کیلئے اکسٹرا بیڈ بھی ڈال دیئے تھے،!!!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ

ناشتے کے بعد سفر کی تھکان کی وجہ سے اس دن ایسے سوئے کہ شام کو ھی آٹھے وہ بھی ٹیلیفون کی گھنٹی کی آواز پر جو کہ کافی دیر سے بج رھی تھی، دوسری طرف ھماری ڈیوٹی پر معمور ڈرائیور تھے، جو کہ وقت مقررہ پر پہنچ چکے تھے، اب دوپہر کے کھانے کا تو ٹائم نہیں تھا، لیکن بھوک تو لگ رھی تھی، سوچا چلو باھر ھی کھالیں گے، جلدی جلدی تیار ھوئے، اور بیگم نے بچوں کو تیار کیا، برابر کے کمرے سے بچوں کی مامی اور ماموں کی نئی نویلی جوڑی کو بھی بچے پہلے ھی آٹھا چکے تھے، جلدی جلدی ھم سب ھوٹل کی لابی میں پہنچے، اور ڈرائیور کی راہنمائی میں کار کی طرف چل دیئے، میں اپنے بڑے دو بچوں کو لے کر آگے بیٹھا اور پیچھے میری بیگم ایک چھؤٹی بچی کو گود میں لئے اور چھوٹے بیٹے کو مامی نے گود میں بٹھا لیا اور ماموں بھی ساتھ بیٹھ گئے، بچوں کی عمریں 2 سال سے لے کر 8 سال تک کی تھیں، اور ھر ایک میں ڈیڑھ یا دو سال کا فرق تھا، ستمبر 1989 کا زمانہ تھا موسم بھی خوشگوار ھی تھا،!!!!

سب سے پہلے کھانے کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں پہنچے، ڈرائیور کو بھی کہا لیکن انہوں نے معذرت کرلی، بھوک سب کو لگی ھوئی تھی، کھا پی کر وھاں سے سب سے پہلے بادشاھی مسجد کی طرف گئے، مسجد میں داخل ھونے سے پہلے میں گیٹ کے ساتھ علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی، تصویریں بھی ساتھ ساتھ کھینچتے رھے، پھر اسکے بعد مسجد کے سامنے لال قلعہ کے اندر داخل ھوئے اور مغل بادشاھوں کے فن تعمیر کے حیرت انگیز شاھکار کو دیکھا اور قلعہ کے اندر خاص طور سے شیش محل کا اچھی طرح سے جائزہ لیا، اندر کے میوزیم کی نادر نمونے دیکھے، وھاں سے پیدل ھی گھومتے ھوئے ایک بڑی سڑک پار کرتے ھوئے اپنے چھوٹے سے قافلے کے ساتھ مینار یادگار پاکستاں کی طرف نکل گئے، جہاں کہ پاکستان کی قرارداد 1940 کو منظور ھوئی تھی، اوپر جانے کی ھمت تو نہیں ھوئی، لیکن باھر ھی سے اس کا نظارہ کیا اور تصویریں بھی کھینچیں، اور اس کے اطراف کے گارڈن میں کچھ دیر بیٹھ کر کار میں انارکلی بازار میں چلے آئے، لاھور کا اس وقت کا بہت ھی خوبصورت اور مشہور بازار تھا، خیر آج بھی اسی طرح اسکی رونق ھے، مگر اب تو بہت سارے ماڈرن شاپنگ سینٹر بن چکے ھیں،!!!!!

انارکلی بازار سے ھوتے ھوئے ھمیں ڈرائیور علامہ اقبال پارک لے گئے جو کہ بہت ھی خوبصورت پارک تھا اور کچھ فاصلے پر ریس کورس پارک میں یا اس کے قریب ھی رنگ برنگے اترتے چڑھتے فوارے چل رھے تھے رات کا وقت تھا تو اور بھی خوبصورت لگ رھےتھے، اس کے علاوہ رات گئے تک کار میں ھی گھومتے رھے اور ڈرائیور جو ایک ھماری فیملی ممبر کی طرح ھی تھے، انہوں نے لاھور کی ھر مشہور جگہ گھمانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اسی دوران داتا دربار میں بھی حاضری دی اور اس طرح وقت کا پتہ ھی نہیں چلا اور آدھی رات ھوچکی تھی، فوراً ھی ھوٹل واپس پہنچے، اور ڈرائیور کو کل صبح 10 بجے کا آنے کہہ کر اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے، خوب تھک چکے تھے، ایسے سوئے کہ صبح سورج نکلنے کے کافی دیر بعد آنکھ کھلی،!!!!

پھر جلدی جلدی تیار ھوکر ھوٹل کے باھر نکلے تو ڈرائیور صاحب اپنی کار چمکا کر تیار کھڑے تھے، ناشتہ سے فارغ ھوتے ھی ھم وھاں سے سیدھے شالامار باغ گئے، پھر دریائے راوی کے پار انارکلی اور آصف جاہ کے مقبروں کو دیکھتے ھوئے اور بھی لاھور کے تاریخی شہر کئے کئی مغل بادشاھوں کی یادگاروں کی سیر کی، اس کے علاوہ ایک ھمارے جاننے والوں کے گھر بھی پہنچے جو “چوبرجی“ کے قریب ھی رھتے تھے،جہاں رات کا کھانا انھوں نے بڑے اھتمام سے ھمارے لئے تیار کیا جسے ھم نے بڑے شوق سے کھایا تین چار دنوں بعد ھمیں گھر کا کھانا نصیب ھوا، وھاں سے سیدھا ھم واپس ھوٹل پہنچے اور دوسرے دن ھمیں بذریعہ بس راولپنڈی روانہ ھونا تھا، اس لئے ڈرائیور نے ھمیں دوسرے دن صبح صبح بس اسٹینڈ پر چھوڑ کر الوداع کہا، وہ بہت ھی اچھے مخلص انسان تھے، انہوں نے ھمارے لاھور کے قیام کے دوران یہ بالکل محسوس نہیں ھونے دیا کہ ھم کسی اجنبی شہر میں ھیں، وھاں لوگ بھی بہت ھی زندہ دل اور بہت ھی ملنسار تھے، جہاں جہاں گئے ھمارا بہت ھی اچھی طرح سے پیش آئے، اور مہربان اور شفیق رویہ کا برتاؤ رکھا یہ لاھور کا دورہ میں اپنی زندگی میں کبھی نہیں بھول سکتا ھوں، !!!!!!

تیسرے دن ھم لاھور سے بذریعہ بس راولپنڈی پہنچے، اور وہاں سے ٹیکسی کرکے اسلام آباد کے ایک گیسٹ ھاؤس پہنچے جہاں پر ھمارے لئے ایک چھوٹا سا دو کمروں کا اپارٹمنٹ بک تھا، وھاں پہنچ کر تازہ دم ھوئے اور دوپہر کے کھانے کا آرڈر دے دیا، کھانا کھانے سے پہلے ھی میں نے وہاں کے اپنے دفتر کے ہیڈ آفس سے رابطہ کرکے اپنے آنے کی اطلاع دی اور پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت اپنے پروگرام کی تفصیل انکو بتائی، انہوں نے پہلے ھی سے ھمارے لئے ایک اچھی بڑی ائرکنڈیشنڈ کار ایک ڈرائیور کے ساتھ تیار کرکے رکھی تھی، اس دن تو وقت زیادہ ھوچکا تھا، بس اسلام آباد کی ھی سیر کی جس میں سب سے پہلے فیصل مسجد گئے، پھر دامن کوہ پہاڑوں کے اوپر پہنچے، اور جناح سپر مارکیٹ اور ارجنٹیئنا پارک اس کے علاوہ ارد گرد کے مقامی جگہوں اور پارکس کے علاوہ راول ڈیم ، شکرپڑیاں ساتھ ھی آبپارہ کے ساتھ یاسمین گارڈن بھی خوب تسلی سے گھومے پھرے اور پھر دوسرے دن کا پروگرام بھی ڈرائیور کو بتا کر گیسٹ ھاؤس میں اپنے اپنے کمروں جاکر سو گئے،!!!!

رات کا اکثر ھم بس کچھ لائٹ سا ھی کھا لیتے تھے، کوئی کھانے کا خاص اھتمام نہیں کرتے تھے، یا اگر کسی جاننے کے یہاں چلے گئے تو مشکل ھوجاتا تھا کیوں وہ لوگ تو اچھا خاصہ اھتمام کرتے تھے، اور پھر گھر کا کھانا تو ھم بہت شوق سے ھی کھاتے تھے، دوسرے دن سے ھمارا بہت ھی لمبا پروگرام تھا،وادی سوات کالام اور ایبٹ آباد، نتھیا گلی اور واپسی میں مری کے علاقہ جات بھور بن، گھوڑا گلی، جھیکا گلی اور موڑہ شریف جانے کا تھا، ڈرائیور کو تمام ھدائتیں دے چکا تھا اور اسے تمام راستوں اور ھماری رھائیش کی سہولتوں کے بارے مکمل علم تھا، اور بچوں کے ماموں اور مامی بھی بہت خوش تھے کیونکہ ان کا ھنی مون بہت ھی خوبصورت طریقے سے چل رھا تھا،!!!!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ

شکر ھے کہ صبح صبح سب کو اُٹھانے میں کوئی دقت نہیں ھوئی، کیونکہ گزشتہ رات خوب گھوم پھر کر تھک گئے تھے اس لئے سب کو بہت‌ گہری نیند آگئی تھی، اور جلد ھی سو گئے تھے، ویسے بھی اس وقت عشاء کے بعد زیادہ تر اسلام آباد میں سناٹا ھی ھوجاتا تھا، ابھی ھم ناشتہ کی تیاری ھی کررھے تھے تو ڈرائیور صاحب گاڑی لے کر آگئے، سب نے دو بڑے ھینڈ بیگ میں اپنی اپنی ضرورت کی استعمال کی چیزیں اور پہنے کے کپڑے وغیرہ رکھ لئے تھے، ناشتے سے فارغ ھوتے ھی سامان کار کی ڈگی میں رکھا، اور اگلے سفر کیلئے تیار ھوگئے، ڈرائیور کو بھی ھمارے پاکستان کے تمام خوبصورت علاقوں کے راستوں کا بخوبی علم تھا، اور میں ان کا نام بھول گیا ھوں بہت ھی اچھے انسان تھے، انہوں نے ھمارے ساتھ ایک ھی فیملی کی طرح بہت اچھا وقت گزارا،!!!!!

اسلام آباد سے نکلے تو آب پارہ سے ھوتے ھوئے زیرو پوانٹ سے راولپنڈی کی طرف نکلے مری روڈ سے ھوتے ھوئے، اپنے ان تمام علاقوں کو دیکھتے ھوئے بھی جارھے تھے جہاں ھم نے ایک کافی عرصہ گزارا تھا، کمیٹی چوک سے نکل رھے تھے تو دائیں ھاتھ پر ایک سڑک راجہ بازار اور موتی بازار کو جارھی تھی اور بائیں ھاتھ پر موتی محل سینما اور ایک اور سینما تھا، آگے نکلے تو لیاقت باغ کو اپنے سیدھے ھاتھ کی طرف پایا اور اس ھاتھ کی طرف سنگیت سینما اور ریالٹو سینما کو دیکھا، اور آگے کی طرف مریڑ چوک کی طرف کو ایک ریلوئے پل کے دو موھری والے پل کے نیچے سے نکلے، اور سیدھا صدر بازار کے علاقے میں پہنچ گئے، وھاں سے کچھ راستے کے لئے کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری کی، اور کھانے پینے کی ساری ذمہ داری ھمارے بچوں کے ماموں نے لی ھوئی تھی، کیونکہ ان کا پہلا پہلا ھنی مون جو تھا، بڑے خوش تھے، وہ اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ اور ھمارے دو چھوٹے بچوں اور ان کی اماں یعنی ھماری بیگم اور میں ڈرائیور کے ساتھ ھی زیادہ تر اپنے دو بڑے بچوں کے ساتھ ھی تمام سفر میں بیٹھا رھا،!!!!!

صدر کینٹ بازار سے نکلے تو پشاور روڈ پر ھماری کار نے رخ اختیار کیا اور اسی موڑ پر میں نے اپنے بچپن کے کینٹ پبلک اسکول کو دیکھا اور اپنے بچپن کی یادوں میں کھو گیا، ابھ ان یادوں میں ھی کھویا ھوا تھا کہ سیدھے ھاتھ کی طرف ریس کورس گراونڈ کو گزرتے ھوئے دیکھ رھا تھا اور بائیں ھاتھ کی طرف قاسم مارکیٹ کا علاقہ تھا جہاں میرا پچپن کھیل کود میں گزرا تھا وہ دن یاد آگئے جب ھمارے والد ھم دونوں بہن بھائی کی انگلی پکڑ کر ھر شام کو پیدل گھر سے ریس کورس گراونڈ میں گھمانے لے جاتے تھے، ساتھ ساتھ میں سب کو اپنی بچپن کی یادوں کے بارے میں بتاتا بھی جارھا تھا، آگے بائیں ھاتھ پر ریڈیو پاکستان کو دیکھا اور اس سے پہلے ایک سڑک جس کا نام چیرنگ کراس تھا، اس کو دائیں طرف گزرتے ھوئے دیکھا جو ویسٹریج کے علاقے کی طرف جاتی تھی، کچھ اور آگے بڑھے تو میرا پہلے کا دفتر نظر آیا جو تین منزلہ تھا اور رھائیش بھی ساتھ ھی تھی، جہاں شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کے وقت کی خوبصورت اور خوشگوار یادوں کا سامنا ھو گیا جو چوھڑ کا علاقہ کہلاتا تھا، وھاں کچھ دیر کیلئے رکے اور چند اس وقت کے ملنے والے خاندان سے ملے جو بہت ھی شفیق اور مہربان لوگ تھے، بہت مشکل سے انہوں نے اجازت دی، انہوں نےچائے اور کچھ ناشتہ کا بندو بست کیا ھوا تھا، اس مختصر وقت کی ملاقات کیلئے وہ لوگ بہت ناراض ھوئے، واپسی پر تفصیلی ملاقات کا وعدہ کیا اور وھاں سے نکل پڑے،!!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ

یہاں پنڈی میں کالج روڈ پر ھماری بیگم کی خالہ کا گھر تھا، وہ ایک اچھی خاصی پرانی حویلی ٹائپ کی تھی، نیچے خالہ اور انکی ساس اور انکی اماں بی اور ساتھ نند اور دو دیور نیچے رھتے تھے، اس کے علاوہ خالہ کے جیٹھ اوپر کے حصے میں اپنے بچوں کے ساتھ رھتے تھے، شروع شروع میں شادی کے بعد سعودی عرب سے 1983 میں جب میرا ٹرانسفر ھوا تھا تو کچھ دنوں کے لئے میں بیگم اور پہلا بیٹا (جس کی عمر اس وقت 8 مہینہ کی تھی)، کے ساتھ اوپر کے ایک کمرے میں بھی رھے تھے، جب مکان مل گیا، تو وھاں سے ٹنچ بھاٹہ چلے گئے تھے، ھماری خالہ کا اب انتقال ھوچکا ھے، اللٌہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے، آمین،!!!! بہت ھی مہمان نواز تھیں اور خاص طور سے میرا بہت خیال رکھتی تھیں، انکے بھی اس وقت چھوٹے چھوٹے پانچ بچے تھے،
آج تو ماشااللٌہ سب کی شادیاں بھی ھوگئی ھیں،!!!

ان کے یہاں ھم اکثر ویک اینڈ پر آجاتے تھے، میں تو خالو کے ساتھ باھر انکے ساتھ دوستوں کی طرف نکل لیتا تھا، اور ھماری بیگم خالہ کے ساتھ اڑوس پڑوس کے یہاں چلی جاتیں یا پھر وہ لوگ یہاں آجاتیں بہت ھی اچھا وقت گزرا تھا، میں خالہ کی وہ مہمان نوازی کبھی نہیں بھول سکتا تھا، اکثر کبھی کبھی وہ بھی ھمارے یہاں آجاتیں، اور عید کی نماز پڑھ کر ھم سب ایک ھی جگہ ھمارے گھر اکھٹے ھوجایا کرتے تھے، اور ھم سب ملکر خوب اچھی طرح عید کی خوشیاں دوبالا کیا کرتے تھے،!!!!

کالج روڈ پر ان کا گھر تھا اور وھاں سے موتی بازار، راجہ بازار، تو بہت ھی نزدیک تھے، راجہ بازار سے تو اکثر گھر کا سودا سبزی گوشت وغیرہ لیتے تھے اور موتی بازار ھم اکثر ملکر وھاں عید کی تیاری کیلئے اور ویسے بھی موتی بازار اکثر آنا جانا رھتا ھی تھا، اور واقعی جب ھم وھاں جاتے تو ھماری خالہ وھاں کے دھی بڑے اور چاٹ ضرور کھلاتی تھیں، مجھے بھی وھاں کہ دھی بڑے اور چاٹ بہت پسند تھے اور ھماری بیگم تو وھاں کے دہی بڑے اور چاٹ کی دیوانی تھیں، انہی کے گھر سے مجھے یاد ھے کہ تانگہ میں بیٹھ کر کبھی بھاپڑا بازار بھی جاتے تھے اور کبھی ھم کمیٹی چوک جہاں کی مچھلی فرائی تو بہت ھی لاجواب تھی اور کمیٹی چوک سے کچھ ھی فاصلے پر مری روڈ کے ساتھ ھی قصرشیریں مٹھائی کی دکان تھی جس کی مٹھائیاں سب سے زیادہ مشہور تھیں،!!!!

کبھی کبھی ویسے ھی ٹہلتے ھوئے لیاقت باغ بھی پہنچ جاتے تھے، وھاں کے آڈیوٹوریم میں کئی اسٹیج شو بھی دیکھے اور اس وقت بہت ھی معیاری اسٹیج شو ھوا کرتے تھے، کالج روڈ سے ھر طرف جانے کیلئے کئی راستے تھے، اور وھاں سے اگر دور جانا ھو تو زیادہ تر تانگہ میں ھی بیٹھ کر جاتے تھے، جیسے صادق آباد، رحماں آباد، سٹلائٹ ٹاؤن، فیض آباد، وغیرہ تک جو مری روڈ پر ھی واقع تھے، صدر بازار اور ایوب پارک جو مور گاہ شیر شاہ سوری کی جرنیلی سڑک پر واقع ھے، اکثر گھومنے کیلئے چلے جاتے تھے، اس کے علاؤہ اسلام آباد کیلئے ھم ویگن یا بسوں کے ذریعے ھی جاتے تھے، اور مری گھومنے کیلئے بھی ویگن اور بس کے زریعہ ھی سفر کرتے تھے، پنڈی میں رھنے والوں کیلئے یہی فائدہ تھا کہ ھر جگہ جانے کیلئے کافی سہولتیں اور ٹرانسپورٹ کا بہت ھی اچھا انتظام تھا، اور اب تو موٹر وے کی وجہ سے بھی سفر کافی آسان ھوگیا ھے، اور ڈائیو کی بسیں تو بہت ھی زیادہ آرام دہ بھی ھیں اور موٹر وے کا سفر تو ایسا لگتا ھے کہ جیسے ھم کہیں یورپ میں سفر کررھے ھیں، !!!!!!!

یہ تو وہاں کی کچھ پرانی یادیں تھیں، جو کہ یہاں سے گزرتے ھوئے وہ یادیں تازہ ھوگئی تھیں،!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ
چلئے پھر اپنی کہانی وہیں سے شروع کرتے ھیں جہاں سے ھم پنڈی سے باھر نکلے،!!!!!!

جہاں شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کے وقت کی خوبصورت اور خوشگوار یادوں کا سامنا ھو گیا جو چوھڑ کا علاقہ کہلاتا تھا، وھاں کچھ دیر کیلئے رکے اور چند اس وقت کے ملنے والے خاندان سے ملے جو بہت ھی شفیق اور مہربان لوگ تھے، بہت مشکل سے انہوں نے اجازت دی، انہوں نےچائے اور کچھ ناشتہ کا بندو بست کیا ھوا تھا، اس مختصر وقت کی ملاقات کیلئے وہ لوگ بہت ناراض ھوئے، واپسی پر تفصیلی ملاقات کا وعدہ کیا اور وھاں سے نکل پڑے،!!!!!

آگے جیسے ھی بڑھے تو ھمارے بائیں طرف کوہ نور ٹیکسٹائل ملز کو گزرتے ھوئے دیکھا، بہت ھی پرانی یہ ٹیکسٹائل ملز ھے، جو سہگل برادران سے تعلق رکھتی ھے، ھمارے اس طرح کے تاجر برادری جنہوں نے اپنی خدمات پاکستان کی معاشی حالات کو سدھارنے کے لئے وقف کی ھیں، اگر ان سب کو اور اچھے بہتر وسائل اور سہولتیں حکومت کی طرف سے اور عوام کو تعاون حاصل رھے تو ھمارے ملک کی فلاح بہبود اور ترقی کے لئے یہ ھماری تاجر برادری بہت کچھ کرسکتے ھیں، ورنہ تو یہ بھی غیر قانونی وسائل کو استعمال میں لاکر ملک کی سلامتی کو نقصان بھی پہنچاسکتے ھیں،!!!!!

پشاور روڈ پر ھماری کار دوڑی چلی جارھی تھی اور راستے میں ھم تمام آس پاس کے گزرنے والے مناظروں سے لطف اندوز بھی ھورھے تھے، خوب گب شپ اور ھنسی مذاق بھی چل رھا تھا، ترنول کے موڑ کے ساتھ ساتھ گولڑا شریف کا موڑ بھی ھم نے اپنی نظروں کے سامنے گزرتے ھوئے دیکھا، یہ ساری جگہوں کی معلومات وقفہ وقفہ سے جناب ڈرائیور صاحب ھمیں بتاتے جارھے تھے، بہت ھی نیک اور شریف انسان تھے ایک ھماری اپنی فیملی کی طرح ھی ھمارے ساتھ تھے، اور ھر جگہ اور ھر اس علاقے سے منسلک تمام معلومات ھمیں پہنچا بھی رھے تھے، ان کو کمپنی نے پٹرول اور راستہ کیلئے گاڑی کے اخراجات بھی دیئے تھے، میں نے کئی دفعہ انہیں پیسے دینا چاھے، لیکن انہوں نے انکار کردیا، جواباً یہی کہا کہ آپ ھمارے بڑے سینئر اسٹاف ھیں اور کراچی سے آئے ھیں، آپ ھمارے مہمان ھیں، اور کمپنی مجھے آپ کی خدمت کے لئے تنخواہ اور اس کے علاؤہ خاص مراعات باھر کے دورے کیلئے روز کے حساب سے الگ الاونس بھی دیتی ھے، اور کار کے اخراجات کے لئے الگ سے، اس کے علاوہ ھر ھوٹل میں جہاں گیسٹ کو لاتے ھیں کھانے پینے کے علاوہ مفت رہائیش کا انتظام لازمی ھوتا ھے،!!!! مجھے ان کی ایمانداری اور اس ظرح کی مخلصانہ مہمانداری پر بہت ھی زیادہ خوشی ھوئی، کھانا تو جہاں وہ ھمارے ساتھ ھوتے ھم سب مل جل کر کھانا کھاتے، حالانکہ انہوں نے منع بھی کیا، لیکن وہ ایک طرح کے اپنی فیملی ممبر کی طرح تھے، ھمارے اسرار پر انہوں نے ھمارے ساتھ کھانا شروع کیا لیکن کئی جگہوں پر انہوں نے ھمارے منع کرنے کے باوجود بھی اپنے پاس سے خرچہ بھی کیا، انکا آزاد کشمیر سے تعلق تھا اور پنڈی میں مستقل رھائیش پزیر تھے اور ھماری کمپنی میں عرصہ 5 سال سے ڈرائیور اور اسپشل گائیڈ کے فرائض انجام دے رھے تھے، اور وہ اس کمپنی میں بہت ھی خوش تھے،!!!!!!!

خوب ساتھ باتیں کرتے ھوئے، ھم حسن ابدال پہنچے، وھاں پر کچھ شاید کھانے پینے کیلئے رکے تھے، وہاں سے ایک طرف واہ فیکٹری کے علاقے کی طرف جاتا ھے، اور اس سے پہلے ٹیکسلا کی طرف سڑک رواں دواں تھی، حسن ابدال میں سکھوں کے مقدس مقامات ھیں، اور ٹیکسلا میں میں پرانے بدھ مذہب کے کھنڈرات اور ایک بڑا میوزیم بھی ھے، جسے ھم پہلے بھی دیکھ چکے ھیں، اس کے علاوہ واہ فیکٹری کے علاقے میں ہیوی میکینیکل کمپلیکس فیکٹری اور بڑی چھاونی بھی ھے اور مغل بادشاھوں کے زمانے کی اثار قدیمہ کی تعمیرات نادر نمونے موجود ھیں، وھاں پر ایک مغلوں کے زمانے کا مغل واہ گارڈن بھی ھے، وہاں سے ھوتے ھوئے مختلف علاقوں سے گذرتے ھوئے، ھم نوسہرہ کے اٹک کے پل پر پہنچے جو ایک پرانا اور تاریخی پل ھے وہاں کچھ دیر رکے اور پھر مردان کی طرف ھماری کار نے رخ کیا، مردان پہنچ کر کچھ دیر کیلئے وہاں پر کھانے کیلئے رکے، وہاں کا کڑھائی گوشت اور چپل کباب سے لطف اندوز ھوئے، بہت ھی ذائقہ دار پکا ھوا تھا، آپکو زیادہ تر کڑھائی گوشت اور چپلی کباب کے پکوان بہت ھی ذائقہ دار سرحد کے علاقوں میں ھی ملیں گے، اس کے علاوہ یہاں کی پشاوری چائے جو کیتلیوں میں ملتی ھے، وہ بہت ھی مزیدار اور پینے کا ایک الگ ھی لطف آتا ھے،!!!!!!

مردان کے علاقے سے نکلے تو ھم سوات کی حسین وادیوں میں پہنچ گئے، شام ھونے والی تھی سردی کچھ بڑھتی جارھی تھی، فوراً ھی ھم نے بچوں کو گرم کپڑے پہنائے، اور خود بھی پہن لئے، ڈرائیور ھمیں ایک جگہ جس کا نام مرغزار تھا وھاں لے گئے وہاں پر والئے سوات کا سفید محل دیکھا جو اب ایک ھوٹل میں تبدیل ھوچا تھا، وھاں پر ھی ھمارے ٹہرنے کا انتظام تھا، معمول کے مطابق وہان پر دو کمروں میں ھم لوگ پہلے ھی کی ترتیب سے پہنچ گئے، بہت ھی گرم خوبصورت کمرے انگیٹھیاں لگی ھوئی، یہاں پہنچ کربہت تھک چکے تھے، اس لئے سب کمبلوں میں گھس گئے، اور ایسے سوئے کہ صبح ھوئی تو ھی آنکھ کھلی،!!!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ

ناشتہ سے فارغ ھو کر ادھر ادھر پہاڑوں میں چہل قدمی کی، مرغزار کے اس علاقے میں سفید محل کے آس پاس کی خوبصورت وادیوں کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ جیسے ھم کسی طلسماتی جگہ پر آگئے ھیں، یہ میرے لئے تو پہلا موقعہ تھا، صبح صبح وادیوں میں پرندوں کی چہچہانے کی آوازیں کانوں میں ایک سریلی میٹھی سر بکھیر رھی تھیں اور ایک سحر انگیز منظر اور رومان پرور کا سا سماں چاروں طرف پھیلا ھوا تھا، دل چاھتا تھا کہ انہی حسین وادیوں میں کھو جائیں، دل تو نہیں چاھتا تھا کہ وہاں سے واپس جائیں، لیکن مجبوری تھی کیونکہ ابھی ایک لمبا سفر باقی تھا، اور بھی حسین اور خوبصورت مناظروں کو دیکھنے کی دل میں ہل چل مچی ھوئی تھی اور خوب سے خوب تر کی تلاش تھی،!!!!!

مرغزار سے نکلے تو سیدھا سوات کے مین بازار میں پہنچے، وھاں کچھ دیر کیلئے گھومے کچھ وھاں کی ھاتھ کی بنی ھوئی چیزیں دستکاری کے خوبصورت نمونے اورخوبصورت تراشے ھوئے ھیرے بھی دیکھے، ھمارے سالے صاحب کو ان قیمتی پتھروں سے کچھ زیادہ ھی لگاؤ تھا، اور کچھ خریداری بھی کی، وھاں سے ھوتے ھم “میاں دم“ کے علاقے میں پہنچے اور وھاں کہ پاکستان ٹورزم کے ھوٹل میں کچھ دیر رک کر چائے کا آرڈر دیا اور وھاں سے تمام سوات کے علاقوں کی خوبصورتی کو اپنی انکھوں میں سماتے رھے، کیا حسین مناظر تھے، ھر جگہ کا اپنا ھی ایک حسن تھا، وہاں سے نکلے تو سیدو شریف میں کچھ دیر گھوم کر مینگورہ کے ساتھ دریائے سوات کے کنارے ھم کچھ دیر کیلئے گاڑی ایک طرف کھڑی کی اور دریا کے کنارے آس پاس کی خوبصورت وادیوں کے حسن میں کھوئے رھے، نہ جانے پھر کب ھمیں قسمت لے کر آئے، مینگورہ میں کافی دیر تک ٹھرے، اور کھانا وغیرہ کھایا، اس کے بعد کالام جانے کیلئے ڈرائیور ھمیں لے کر چل پڑے، راستہ میں خواجہ خیلہ سے ھوتے ھوئے مدین اور بحرین کی وادیوں کے پاس تھوڑی دیر کیلئے رکے، وہاں بھی شور مچاتے ھوئے دریاؤں اور ان پر لٹکے ھوئے رسیوں کے جھولتے ھوئے پلوں کو دیکھا، بہت ھی خوبصورت مناظر کی عکاسی کررھے تھے،!!!!!!

مدین اور بحرین میں وہاں کے دریاؤں کی تازہ مچھلی بھی کھائی، کچھ اچھی خاصی ٹھنڈ بھی تھی، اور گرما گرم تلی ھوئی مچھلی مھا شیر اور ٹراونٹ مچھلی کے ذائقے نے تو اور بھی ماحول کو گرما دیا تھا،!!!!!

وھاں کچھ دیر رکے اور پھر کالام کیلئے روانہ ھوگئے، ھم چاھتے تھے کہ شام سے پہلے وہاں پہنچ جائیں، لیکن افسوس تو یہ ھوا کہ آگے جانے کے راستے بارش کی وجہ سے مٹی کے تودے گرنے کے باعث بند ھوچکے تھے، وھان سے ھم نے اپنا سفر مختصر کیا اور مایوسی کی حالت میں وہیں سے واپسی ھوئی، اور مینگورہ سے ھوتے ھوئے ھم شارع ریشم کی طرف نکل پڑے، اونچے اونچے پہاڑوں کے ساتھ ساتھ سلک روڈ اور ساتھ ھی دریائے سوات بھی ایک خوبصورت مناظر پیش کررھا تھا، اب ھمارا رخ ایبٹ آباد کی طرف تھا، شام ھوچکی تھی “بیشام‘ کے پاکستان ٹوریزم کے ایک چھوٹے سے مرکز میں کچھ منہ ھاتھ دھو کر تروتازہ ھوئے اور وہان سے ھم ایبٹ آباد کیلئے روانہ ھوگئے، رات ھوچکی تھی ھم سب بہت تھک چکے تھے صبح صبح کے نکلے ھوئے، کہیں بھی آرام نہیں کیا، رات گئے تک ھم آیبٹ اباد پہنچ چکے تھے جہاں ھمارے جاننے والے رھتے تھے، تھوڑی سی تلاش کے بعد ان کا گھر مل گیا، وہ لوگ تو بہت ھی زیادہ خوش ھوئے، اور رات کے کھانے کا خاص طور سے بندوبست کیا، کھا پی کر عورتیں اور بچے تو الگ ھی آپس میں مصروف گفتگو رھیں، اور ھم دونوں بھی سب کے ساتھ بیٹھک میں گپ شپ کرتے رھے،اور وہیں پر ھم نے رات بسر کی تھکے ھوئے تھے نیند کا غلبہ تھے خوب سوئے، صبح کافی دیر میں اٹھے،!!!!!

یہ سب لوگ ھماری سسرال کے پڑوسی تھے جو کراچی میں رھتے تھے، اور ان سے بہت اچھے تعلقات تھے، اب بھی کراچی میں آنا جانا رھتا ھے، اور اب تو ھمارے ایک اور سالے صاحب کی شادی ایبٹ آباد کی ھی ایک فیملی میں ھوئی ھے، جو ھندکو زبان اچھی طرح بولتے ھیں، !!!! دوسرے دن دوپہر کے کھانے سے فارغ ھوکر انہوں نے ھمیں ایبٹ آباد کی سیر کرائی، ایبٹ اباد بھی پہاڑوں میں گھرا ھوا خوبصورت علاقہ ھے، مری اور سوات کی طرح خوبصورت وادیاں ھیں، اس وقت بھی اچھی خاصی ٹھنڈ تھی، پھر اس دن تو ویسے ھی گھومتے پھرتے شام ھوگئی تھی تو دوسرے دن ایبٹ آباد سے ھم نے نتھیا گلی جانے کا پروگرام بنایا، اور وہاں سے مری کے علاقے بھوربن اور جھیکا گلی کی طرف رخ کرنا تھا، کیونکہ جھیکاگلی میں بھی ھمارے پرانے جاننے والے رھتے تھے، اور شام تک ان کے گھر پہنچنا چاھتے تھے، ھمارے ڈرائیور صاحب بھی ماشااللٌہ بہت ھی پہاڑوں میں گاڑی چلانے کے ماھر تھے، اور ان تمام پہاڑی علاقوں کی کافی معلومات تھیں، اور انہیں کی وجہ سے ھم سب نے اس یادگار سفر سے خوب اچھی طرح لطف آٹھایا، !!!!!!!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ
 
بھولی بسری یادیں،!!!!! دوسرا حصہ،-9- نئی ملازمت کے آخری دن اور گھومنے کا آخری دور،!!!

یہ سب لوگ ھماری سسرال کے پڑوسی تھے جو کراچی میں رھتے تھے، اور ان سے بہت اچھے تعلقات تھے، اب بھی کراچی میں آنا جانا رھتا ھے، اور اب تو ھمارے ایک اور سالے صاحب کی شادی ایبٹ آباد کی ھی ایک فیملی میں ھوئی ھے، جو ھندکو زبان اچھی طرح بولتے ھیں، !!!! دوسرے دن دوپہر کے کھانے سے فارغ ھوکر انہوں نے ھمیں ایبٹ آباد کی سیر کرائی، ایبٹ اباد بھی پہاڑوں میں گھرا ھوا خوبصورت علاقہ ھے، مری اور سوات کی طرح خوبصورت وادیاں ھیں، اس وقت بھی اچھی خاصی ٹھنڈ تھی، پھر اس دن تو ویسے ھی گھومتے پھرتے شام ھوگئی تھی تو دوسرے دن ایبٹ آباد سے ھم نے نتھیا گلی جانے کا پروگرام بنایا، اور وہاں سے مری کے علاقے بھوربن اور جھیکا گلی کی طرف رخ کرنا تھا، کیونکہ جھیکاگلی میں بھی ھمارے پرانے جاننے والے رھتے تھے، اور شام تک ان کے گھر پہنچنا چاھتے تھے، ھمارے ڈرائیور صاحب بھی ماشااللٌہ بہت ھی پہاڑوں میں گاڑی چلانے کے ماھر تھے، اور ان تمام پہاڑی علاقوں کی کافی معلومات تھیں، اور انہیں کی وجہ سے ھم سب نے اس یادگار سفر سے خوب اچھی طرح لطف آٹھایا، !!!!!!!!!!

یہ ضلع ہزارہ کے اطراف کے علاقے تھے، خوبصورت پہاڑوں اور لمبے لمبے چیڑ کے درختوں سے گھرے ھوئے، ان کے ساتھ ساتھ چلتی ھوئی شاراہیں بہت ھی ایک جادوئی طلسماتی منظر پیش کرتی ھیں، اللٌہ تعالیٰ نے ھمارے ملک میں ھر جگہ اتنا حسن اور خوبصورتی عطا فرمائی ھے، لیکن ھمیں اپنے ملک کی کوئی قدر نہیں ھے، انہیں خوبصورت مقامات سے ھوتی ھوئی، ھماری گاڑی بہت احتیاط سے بل کھاتی ھوئی سڑکوں پر چل رھی تھی، اور ھم سب انھی خوبصورت مناظروں سے لطف اندوز ھو رھے تھے، اگلا مقام ایوبیہ تھا، جسے نتھیا گلی بھی کہتے ھیں، وہاں پہنچتے پہنچتے ٹھنڈ تو اور زیادہ ھی بڑھ گئی،!!!!

وہاں پر کیبل لفٹ چئیرز کا انتظام تھا، سب لوگ باری باری لفٹوں میں بیٹھے، کیا بات تھی اتنی اونچائی کے مقام پر ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ پر جانے والی یہ لفٹ چیر جب بادلوں میں سے گزرتی تھی، تو بہت ھی زیادہ لطف آتا تھا، اب تو یہ لفٹیں مری میں گھوڑا گلی کے مقام پر بھی لگ چکی ھیں اور آج کل کیبل چیر کے لئے یہاں آنے کی ضرورت بھی نہیں ھے، لیکن ایوبیہ نتھیا گلی کا اپنا ایک الگ ھی حسن ھے، ایک تو سب سے اونچی جگہ پر ھے، اور اگر آپ کو کہیں بھی برف جمی ھوئی نہ ملے، تو یہاں ضرور ھی برف سفید چادر کی طرح جمی ھوئی نظر آئے گی، یہاں ھم کچھ زیادہ دیر تک نہیں رکے اور مری کی طرف نکل گئے، کیونکہ ھم چاھتے تھے کہ شام سے پہلے پہلے مری پہنچ جائیں، کیونکہ وہاں ھم نے کسی کے یہاں قیام کرنا تھا یہ بھی ھمارے بہت پرانے جاننے والے تھے، ھم اکثر ان کے یہاں ھی کچھ دن ضرور قیام کرتے تھے، ان کا گھر جھیکا گلی کے علاقے میں پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹے سے گاؤں “سانٹھی“ میں تھا، ان کے گھر کے سامنے دوسرے پہاڑ پر پیرموڑہ شریف کا مزار ایک چاند کی طرح چمکتا ھوا صاف نظر آتا تھا، اور رات کو سالانہ عرس کے موقع پر وہاں خوب رونق ھوتی تھی،!!!!!

جھیکا گلی کے علاقے پر پہنچتے ھی روڈ کے کنارے سے ایک چھوٹی سی پگڈنڈی “سانٹھی“ نام کے ایک چھوٹے سے گاؤں کی طرف جاتی تھی، اور یہ راستہ کچھ خطرناک بھی تھا، اگر کسی کا پیر پھسل گیا تو بس سونچ لیں کہ نیچے ہزاروں فٹ کی کھائی تھی، وہاں پر اس وقت کوئی ٹیلفون یا موبائل کی سہولت نہیں تھی، ورنہ ھم پہلے ھی آنے کی اطلاع دے دیتے، بہرحال سب ویسے ھی بہت تھکے ھوئے تھے، مزید پہاڑ کے نیچے اترنا تو ایک بہت بڑا کٹھن مرحلہ تھا، ھم سب کچھ دیر کیلئے سڑک کے کنارے ھی پگڈنڈی کے موڑ پر ھی چادر بچھا کر بیٹھ گئے، دونوں لیڈیز تو لیٹ گئیں، اب فیصلہ یہ کرنا تھا کہ نیچے اترا جائے یا اوپر ھی مری کے کسی ھوٹل میں ٹہرا جائے،!!!!!!

اتفاق سے اسی گاؤں کی طرف جانے والے مل گئے، جو انہیں بھی جانتے تھے، انہوں نے ھمیں وہاں تک کی راہنمائی کی پیش کش کی، اور پھر ھم تیار ھوگئے، لیکن نوبیاہتا جوڑا نیچے اترنے سے گھبرا رھا تھا، اسلئے انہوں نے واپس اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرلیا، اور دوسرے دن کے آنے کا وعدہ کرکے اسی کار میں واپس چلے گئے اور اسی وقت ھم اور ھمارے بچے اپنے آپ کو سنبھالتے ھوئے پہاڑ کے نیچے اترنے کی کوشش کررھے تھے،!!!!!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ

بچے تو گود میں آنے کو تیار ھی نہیں تھے، ساتھ راہنمائی کرنے والوں نے ھمارے ھاتھ کا سامان اٹھا رکھا تھا، اور ایک نے ھماری چھوٹی گود کی بچی کو اٹھایا ھوا تھا، بڑے بیٹا اور بیٹی جو 8 اور 6 سال کے تھے وہ تو خود ھی تفریح کرتے ھوئے اتر رھے تھے، ان کے بعد کا ایک بیٹا جو تقریباً اس وقت 4 سال کا تھا، وہ میری گود میں نیچے اترنے کے لئے مچل رھا تھا، آج میں یہ سوچتا ھوں کہ یہ چاروں بچے اب بڑے ھو چکے ھیں دو کی تو اب شادیاں بھی ھو چکی ھیں، لگتا ھے کہ یہ سب کل کی سی بات ھو، وقت کیسے اتنی جلدی گزر گیا کہ کچھ پتہ ھی نہیں چلا، کل تک جب میرے بچے میری انگلی پکڑ کر چلتے تھے، پچھلے دنوں وہ میری بیماری کے دوران وہ مجھے سہارا دے کر سیڑھیوں پر چڑھا رھے تھے، اور وہ دونوں میرے بیٹے آج قد میں مجھ سے بھی بڑے ھیں، کیا شان ھے میرے رب کی، سبحان اللٌہ !!!!!!

دونوں بڑے بچوں کو بھی ایک تفریح مل گئی تھی، جگہ جگہ وہ ٹہر جاتے اور پھولوں ‌پر بیٹھی ھوئی تتلیوں کو پکڑنے کی کوشش کرتے، اور میں ڈرتا رھتا کہ ان کا پیر سلپ نہ ھوجائے، مگر انہیں کسی بات کی فکر ھی نہیں تھی، کیونکہ وہ چھوٹی سی پگڈنڈی آگے چل کر تو بہت ھی خطرناک ڈھلان کی شکل اختیار کر چکی تھی، میں تو بس پیچھے پیچھے دونوں بچوں کو ڈانٹتا ھوا جا رھا تھا، اور ھماری بیگم بھی بہت محتاط ھوکر چل رھی تھیں، مگر کچھ غصہ میں بھی نظر آرھی تھیں، اور میں تیسرے نمبر کے بیٹے کو گود میں اٹھائے ھوئے ھانپتا ھوا پہاڑوں کی ڈھلان کی طرف آہستہ آہستہ اتر رھا تھا شکر تھا کہ ابھی کچھ شام کی ھلکی سی روشنی باقی تھی اور سورج کی آخری کرنیں جدا ھوتی ھوئی نظر آرھی تھیں،!!!!!

بالآخر ھانپتے کانپتے ھم اپنے مطلوبہ مقام “سانٹھی“ تک پہنچ گئے، وہاں پر بھی وہ سب اپنے گھر سے باھر آگئے اور ھمیں پہچاننے کی کوشش کرنے لگے، جیسے ھی انہوں نے پہچانا ایک شور مچ گیا، اپنی پہاڑی زبان میں “چھوٹے شاہ جی کراچی سے آگئے“ سارے خوش ھوگئے، سردی تو بہت تھی کپکپی لگی ھوئی تھی، فوراً انھوں نے مہمانوں کا کمرہ کھولا انگیٹھی پہلے ھی سے جل رھی تھی، کمرے کے بیچوں بیچ انگیٹھی تھی اور چاروں طرف پلنگ رضائیوں سے لدے ھوئے، میں اور دو بچے میں ایک بستر میں گھس گئے اور ھماری بیگم دوسرے پلنگ پر باقی دونوں چھوٹے بچوں کے ساتھ رضائی کو چاروں طرف سے لپیٹ لیا، تیسرے پلنگ پر میزبان فیملی تھی اور سب خیر خیریت معلوم کررھے تھے،!!!!!

کیونکہ کافی عرصہ بعد ملاقات ھوئی تھی، اس لئے سب کو بہت ھی خوشی ھورھی تھی، بجلی تو تھی، کمرے میں ایک بلب اور ایک ٹیوب لائٹ جل رھی تھی، سب لوگ خاطر مدارات میں لگ گئے، کوئی تو انہی کے باغات کے پھل سیب، بگو گوشہ، ناشپاتیاں لارھا تھا کوئی خشک میوہ جات، ھمارے بچے بھی ان کے بچوں کے ساتھ ھی کمرے میں ایک دوسرے سے باتیں کررھے تھے، مگر ھمارے بچے ان کی زبان سمجھ نہیں پارھے تھے، بار بار میرے پاس آتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے رھے، شاید کھانا پکانے کی تیاری بھی ھورھی تھی، دروازہ کھلتا تو سامنے تندور جلتا ھوا نظر آرھا تھا اور ساتھ ھی ایک کھلا باورچی خانہ دکھائی دے رھا تھا، جہاں دو عورتیں لکڑی کے چولہے پر ایک بڑی مٹی کی ھانڈی میں کچھ پکاتی ھوئی نظر آرھی تھیں، بھوک بھی شدید لگی ھوئی تھی، اور باھر سے پکتے ھوئے کھانوں کی سوندھی سوندھی خوشبو نے تو اور بھوک میں چار چاند لگا دئے تھے، !!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ

یہاں کے سیدھے سادے پرخلوص لوگ کتنے مہمان نواز ھوتے ھیں، گھر پر کوئی بھی آتا ھے تو اس کے آگے پیچھےخاطر مدارات میں لگ جاتے ھیں، کاش ھم سب کے دلوں میں بھی یہی محبت جذبہ خلوص ھو، اسی کمرے میں نیچے دستر خوان بچھا کر کھانا لگایا گیا، گرم گرم کھانوں سے بھاپ نکل رھی تھی، ایک طرف سبزی شاید پکی تھی اور ایک پلیٹ میں مرغی نظر آرھی تھی، اور سلاد کے ساتھ پودینہ کی چٹنی، اور پھر گھر کے تندور کی تازہ تازہ گرم گرم روٹیاں سوندھی اپنی ایک روائتی مہک کے ساتھ، کیا خوشگوار ماحول تھا، کتنے ھی مزیدار ذائقےدار کھانے کسی شاھی دسترخوان کے اعلیٰ ذائقوں سے کم نہیں تھے،!!!!!!

کھانے سے فارغ ھوئے تو ذرا دروازہ کھول کر اھر جھانکنا چاھا تو سرد ھوا کے جھونکے نے واپس اندر آنے کیلئے مجبور کردیا، اندر کمرہ گرم تھا، میں نے فوراً ھی اپنی جیکٹ پہنی کانوں پر پشاوری ٹوپی ڈالی اور ایک گرم مفلر لپیٹ کر پھر سے قدم باہر نکالا، اب کچھ غنیمت تھا، لیکن پھر بھی سردی پیروں کی طرف سے لگ رھی تھی، مگر میں تو باھر کے مناظر کو دیکھتے ھی سردی کو تو بھول ھی گیا،رات ھوچکی تھی تمام آس پاس کے پہاڑون پر ایسا لگتا تھا کہ ساری کائنات کے ستارے ان پہاڑوں میں جگمگا رھے ھیں، ھر گھر کی کھڑکیوں دروازوں سے روشنیاں چھن چھن کے باھر کے فضا کو چمکدار بنائے ھوئے تھیں، دوسرے پہاڑ کی جانب پیر موڑہ شریف کی درگاہ بھی روشنیوں سے جگمگا رھی تھی اور پہاڑوں میں ‌وہاں سے سریلی مست قوالیوں کی گونج چاروں طرف گونج رھی تھی، دل یہی چاہ رھا تھا، بس اس طلسماتی منظر سے کبھی بھی دور نہ رھوں،!!!!!!!

اندر کمرے سے آوازیں آرھی تھیں، شاید مجھے بلارھے تھے کیونکہ اندر کی انگیٹھی پر رکھی ھوئی کیتلی میں‌ چائے پک چکی تھی، اور پھر کھانے کے بعد ان سرد علاقوں میں گرم گرم چائے کا اپنا ایک الگ ھی مزا ھے، یہاں آکر تو میں سب دفتر کی ٹینشن، شہر کے بے ہنگام شور کو بھول چکا تھا، میں تو بس یہی چاھتا تھا کہ کہ یہاں کے ھر ایک یادگار لمحہ کو اپنی آنکھوں میں سما لوں، نہ جانے پھر کب یہاں آنے کا موقع ملے گا، !!!! باتیں کرتے کرتے کافی رات ھوگئی، اور اسی طرح پتہ ھی نہیں چلا کہ کب سب اپنے اپنے بستروں میں لحافوں میں گھس کر خوب گہری نیند سوگئے، صبح صبح کھڑکی کی درزوں سے سورج کی کرنیں پھوٹتی نظر آئیں تو میری آنکھ کھل گئی، باھر پرندوں کی آوازیں اور بھی مجھے باہر جانے کیلئے بےچین کررھی تھیں،!!!!

دروازے کو آہستہ سے کھولا، سورج نکلا ھوا تھا، ٹھنڈ ابھی تک زیادہ تھی لیکن دھوپ کی وجہ سے کچھ شدت میں کمی تھی، کیا خوبصورت منظر تھا، پہاڑوں کے بیچوں بیچ کھڑا ھوا چاروں طرف ان خوبصورت مناظروں سے میں لطف اندوز ھورھا تھا، تمام پہاڑ ھرے بھرے لمبے لبے طویل چیڑ کے درخت بہت ھی خوبصورت منظر پیش کررھے تھے اور میرے سامنے چاروں طرف مختلف پھلوں کے درخت لگے ھوئے تھے، ناشتہ سے فارغ ھوکر ھم سب مل کر اور مزید نیچے کی طرف نکلے وھاں پر پانی کے جھرنے اور چشمے بہہ رھے تھے کیا حسین مناظر تھے، یہ ستمبر کا مہینہ تھا اور یہ سب کچھ تیں مہینے بعد سفید برف کی چادروں میں چھپ جانے والا تھا، قدرت بھی اس پیاری دھرتی پر کیا کیا رنگ بکھیرتی ھے، سبحان اللٌہ!!!!!!!!!

ابھی اوپر مین روڈ بھی جانا تھا کیونکہ دوپہر کو ھمارے سالے صاحب اور انکی نوبیہاتا دلہن سے جو وعدہ کیا تھا کہ وہ لوگ دوسرے دن ھمارا جھیکاگلی کے اس موڑ پر انتظار کریں گے، اور میں نے یہ سوچا بھی تھا کہ کچھ پکانے کیلئے تازہ گوشت اور قیمہ وغیرہ بھی اوپر سے خرید لائیں گے، اور ساتھ ھی کچھ چاول اور مصالہ جات بریانی وغیرہ بنوانے کیلئے، اور کچھ میزبان کے بچوں کیلئے کچھ تحفے تحائف بھی خریدنے تھے، پھر اسی طرح اوپر چڑھنے لگے ساتھ میں وھاں کے بس ایک دو بندے ساتھ وھاں کے چند بچے بھی تھے اور میرا بڑا بیٹا ساتھ تھا جو تقریبا 8 سال کا تھا، اسے بھی میری طرح خوب گھومنے پھرنے کا شوق تھا، اوپر چڑھنا تو واقعی بہت مشکل مرحلہ تھا، لیکن وہان کے مقامی بچے تو اچھلتے اچھلتے تیزی سے چڑھتے جارھے تھے، اور میرا بیٹا بھی انہی کے جیسے چھلانگیں مارتا ھو جارھا تھا، اور میں پیچھے سے چیختا ھی جارھا تھا اور اسے تو کوئی فکر ھی نہیں تھی، وہ اپنے ھم عمر بچوں کے ساتھ خوب خوش خوش پہاڑ پر چڑھتا جارھا تھا،!!!!!

اوپر جیسے ھی ھم پہنچے تو واقعی وہ دونوں بمعہ کار کے ھمارا انتظار کررھے تھے، میں نے تو ان کو بچوں کے ساتھ نیچے بھیج دیا، اور میں ڈرائیور کے ساتھ مری کے میں بازار چلا گیا، میرے ساتھ وہاں کے ایک میزبان کے بھی ساتھ ھی تھے، وھاں سے تازہ گوشت قیمہ اور ضرورت کی تمام چیزیں خریدیں اور پھر واپس جھیکاگلی کی طرف آگئے مری سے تقریباً چار یا پانچ کلومیٹر کا فاصلہ ھی ھوگا، وہاں پر نیچے جانے کے موڑ پر ھی اتر گئے کار کا روکنا بھی صحیح نہیں تھا، کیونکہ پارکنگ کا مسئلہ تھا، اس لئے ڈرائیور کو کل دوپہر کا آنے کا کہہ کر انہیں رخصت کردیا، سامان تو دوسرے نے اٹھایا ھوا تھا، میں تو بس جھاڑیاں پکڑ پکڑ کر نیچے اتر رھا تھا، کبھی کبھی میں جگہ جگہ رک کر تھوڑا آرام بھی کرلیتا تھا، آخر ایک گھنٹے بعد ھے گھر تک پہنچ ھی گئے، اور بس صحن میں چارپائی پر دھوپ سیکنے بیٹھ گیا اور قدرتی نظاروں میں پھر گم ھوگیا، ساتھ ھی میرے سالے صاحب بھی، وہ تو میرا دوست بھی تھا، نئی نئی شادی کراکر میرے ساتھ ھی آگئے تھے، اور انہوں نے بھی خوب لطف اٹھایا،!!!!!!

ھم خوب باتیں کرتے رھے، ھماری بیگمات وہاں کی عورتوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف اور ساتھ ھی دوپہر کے کھانے کی تیاری بھی کررھی تھیں، اس صحن کے نیچے بھی جانوروں اور ذخیرہ گندم اور چارے کے اسٹور اور کمرے بنے ھوئے تھے جہاں انہوں نے بھینسیں بکریاں رکھی ھوئی تھی اس کے علاوہ مرغیاں تو کافی ادھر چلتی پھرتی نظر آرھی تھیں، کچھ تو اپنے چوزوں کے ساتھ دانہ چگ رھی تھیں، اور کبھی کبھی بادل بھی ھمارے ساتھ آس پاس ھی گھوم رھے ھوتے تھے جس سے کچھ نمی کا احساس ھوتا تھا، کھانا بن رھا تھا شہری اور گاؤں کی عورتیں دونوں مل کر کھانے پکانے میں مصروف تھیں، اور بچے اپنے ھم عمر دوستوں کے ساتھ ادھر ادھر گھومتے پھر رھے تھے،مجھے ڈر بھی لگ رھا تھا کہ اپنے بچے کہیں ادھر ادھر پھسل کر نیچے نہ گر جائیں، مگر ان کو کوئی پرواہ بھی نہیں تھی!!!!!!

نوبہاتا جوڑے نے بھی خوب پہلی مرتبہ ان خوبصورت پہاڑوں کے حسین طلسماتی نظاروں کا لطف اٹھایا، وھاں کے زیر زمین پانی کے چشموں کی اور اوپر سے چھنا چھن شور میں گرتے ھوئے جھرنوں اور چھوٹے آبشاروں کی خوبصورتی اور حسن کا زندگی میں پہلی بار نزدیک جاکر جائزہ لیا، اس کے علاؤہ وہاں کے خوبصورت مناظر میں اور بھی خوب لطف آتا جب ھلکی ھلکی پھوار پڑنا شروع ھوجاتی، اور عورتیں اور بچے تو سردی کی پرواہ کئیے بغیر ھی بارش میں خوب تفریح لیتے تھے، یہ تمام وادیاں سردیوں میں مکمل طور سے برف میں ڈھک جاتی ھیں، اور یہ مقامی لوگ ان دنوں محفوظ مقامات پر نقل مکانی پر مجبور ھوجاتے ھیں، مگر صرف اپنے ھی خرچے پر، یہ لوگ ھمارے ملک کے لئے کتنی محنت کرتے ھیں، لیکن ان کی پریشانیوں کا حال کوئی ان کے گھر جاکر کوئی ان سے پوچھے کہ موسموں کی ھر تکلیف سہنے کے باوجود یہ اپنے ملک کی قوم کیلئے پھل فروٹ اور دنیا کی نعمتیں ھم تک پہنچانے کے لئے ھر سال ان موسموں کی ناقابل برداشت صورت حال میں بھی کتنی خدمت کرتے ھیں، لیکن ان کو اس کا معاوضہ انہیں نہ ھونے کے برابر ملتا ھے، منڈی کے بڑے بڑے ٹھیکیدار یہاں آکر اپنی مرضی کی بہت ھی چند گنے چنے نوٹوں کے عوض زبردستی تمام باغوں کے مالک بن بیٹھتے ھیں اور پھل پکنے کے بعد سب کچھ توڑ کر لے جاتے ھیں، یہ لوگ بس دیکھتے ھی رہ جاتے ھیں، اگر یہ لوگ خود منڈی تک جائیں تو ان کو ان کا اپنا مال بیچنے کی اجازت نہیں ملتی، بلکہ ان سے غنڈوں کے ذریعے مال کو لوٹ ھی لیتے ھیں، یہی حال دوسرے کسانوں کا بھی ھوتا ھے،!!!!

اتنا دکھ ھوتا ھے ان سب کی روداد سن کر ان کے بچوں کے لئے اچھی تعلیم اور صحت کیلئے کوئی بھی اچھے مراکز نہیں ھیں، جو بھی فلاح و بہبود کے ادارے ھیں ان لوگوں کی آڑ میں پیسہ بٹور رھے ھیں، اور وہ صرف اپنے ھی مفاد کیلئے اپنی ھی جیبیں بھر رھے ھیں،!!!! ھم نے وھاں پر اتنے لذیذ اور خوش ذائقہ سیب، بگوگوشہ،ناشپاتی کے علاوہ املوک اور دوسرے پھل بھی دیکھے اور کھائے بھی، جو انھوں نے خاص طور سے پہلے سے ھی اپنے ذخیرہ اسٹور میں رکھے ھوئے تھے جو میں نے اپنی زندگی میں شہروں میں کسی بھی فروٹ مارکیٹ میں نہیں دیکھے، نہ جانے یہ ٹھیکیدار لوگ ان سے ان کی محنت سے حفاظت کئے ھوئے پھلوں کو کہاں بیچ آتے ھیں جو قوم کو کھانے کو میسر نہیں ھیں، اللٌہ تعالیٰ ان کو ان ظالم ٹھیکیداروں سے بچائے، آمین،!!!!!

دوسرے دن جب ھم ان سے جدا ھورھے تھے تو میزبان کے تمام گھر والے آنسوؤں سے رو رھے تھے، اور ھمیں بھی ان سے بچھڑ کے بہت دکھ ھورھا تھا، ان کی میزبانی میں کوئی شک نہیں اپنوں سے بھی بڑھ کر ھماری جس خلوص دل سے خاطر مدارات کیں، اس کا صلہ کوئی بھی نہیں دے سکتا سوائے اللٌہ تعالیٰ کے،!!!! وہ ھمیں دعائیں دے رھے تھے، اور ھم سب ان کا شکریہ ادا کرتے ھوئے وداع ھورھے تھے، اوپر ھانپتے کانپتے پہنچے تو وہاں فوراً ھی سرد ھواؤں کے جھکڑ شروع ھوگئے، ھم سب اوپر کانپ رھے تھے حالانکہ سب نے گرم کپڑے اور شالیں لپیٹ رکھی تھیں اور ابھی تک ڈرائیور گاڑی لے کر نہیں پہنچا تھا، ھمارے ساتھ آئے ھوئے میزبان جو ھمارا سامان بھی اٹھا کر لائے اور ساتھ کافی پھل فروٹ بھی باندھ کر تحفے میں دئیے، اس خوش دل میزبانی کو میں اپنی زندگی میں کبھی بھول نہیں سکتا،!!!!

کچھ ھی دیر میں گاڑی بھی آگئی سامان وغیرہ کار کی ڈگی میں رکھا اور وہاں سب کو الوداع کہتے ھوئے روانہ ھوگئے، پہلے تو کچھ دیر کے لئے بھور بن کے جنگلات کی طرف نکلے اور کار میں رھتے ھوئے ھی باھر سے ھی دیکھا، کیونکہ ٹھنڈی ھوائیں چل رھی تھیں، باھر نکلنے کی ھمت کسی میں بھی نہیں تھی، وھاں سے واپس اسلام آباد کیلئے روانہ ھوئے بیگمات کے اصرار پر مری کے سنر میں اپر مال اور لوئر مال روڈ کی سیر کرائی، مگر سرد ھواؤں اور جھکڑ کی وجہ سے زیادہ رکنا محال ھورھا تھا، اس لئے فوراً ھی وھاں سے جانے میں ھی بہتری سمجھی، ورنہ تو شاید سب کی قلفی جم جاتی، مری سے نکلے تو گھوڑا گلی کے پاس کچھ دیر کیلئے چائے پینے کیلئے رکے، دوپہر کا کھانا اور ناشتہ بھی ایک ساتھ ھی ھم لوگ کھا پی کر ھی گھر سے نکلے تھے، اس لئے صرف چائے پر ھی اکتفا کیا، اس سے کچھ جسم میں حرارت محسوس ھوئی، ورنہ تو منہ پر ناک بھی غائب نظر آتی تھی، اور ھاتھ پاؤں بھی سن ھوچکے تھے،!!!!!

وہاں سے آگے نکلے تو پھر ھلکی ھلکی پھوار شروع ھوگئی تھی، اور ھمارے ڈرائیور صاحب بھی بل کھاتی ھوئی سڑک ہر بہت ھی محتاط ھو کر آہستہ آھستہ گاڑی چلارھے تھے، جیسے جیسے ھم پہاڑوں سے نیچے آرھے تھے، سردی کی شدت میں کمی ھوتی جارھی تھی، جب “چھتر“ کا علاقہ آیا تو کچھ دھوپ کے آثار دکھائی دئیے تو جان میں جان آئی، کچھ دیر کے لئے وہاں کے موسم کا بھی لطف اٹھایا، دھوپ کا مزا لیا اور ساتھ ھی وہاں کی ایک ندی کے پاس بیٹھ کر آس پاس کی حسین وادیوں کو آخری بار للچائی ھوئی نظروں سے جائزہ لیتے رھے، یہ علاقہ بالکل پہاڑوں کی آخری ڈھلان کا حصہ تھا، وہاں سے پہاڑوں کی اونچی اونچی چوٹیاں نظر آرھی تھیں،!!!!!

وہاں سے بھی بالآخر روانہ ھوگئے، موسم بہت ھی خوشگوار ھوچکا تھا، سیدھا ھم اسلام آباد کے اپنے گیسٹ ھاؤس میں پہنچے، بہت ھی زیادہ تھک چکے تھے شام ھو چکی تھی، سامان وغیرہ کار سے نکالا اور کمروں میں رکھ دیا، اور ڈرائیور بھائی صاحب کا بہت ھی شکریہ ادا کیا، انہوں نے جس طرح ھمیں اپنی فیملی سے زیادہ خیال کیا اور اپنا سمجھ کر ھمیں ھمارے ملک کے خوبصورت اور حسین تر علاقوں کی سیر کرائی، جس کا احسان ھم زندگی بھر نہیں بھول سکتے، آج بھی جب ھم وھاں کی تصویروں کو دیکھتے ھیں، تو ساری یادیں تازہ ھوجاتی ھیں، اور ھم اپنے ان بھائی کو اور ھمارے تمام میزبانوں کو دل سے ھمیشہ یاد کرتے ھیں اور بہت دعائیں دیتے ھیں، اللٌہ تعالیٰ ان سب کو صدا خوش رکھے اور جائز خواھشات کی تکمیل کرے،!!!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ

میں اپنا یہ سفر اپنی زندگی میں کبھی بھی نہیں بھول سکتا، کیونکہ یہ سفر میری زندگی کا طویل ترین سفر تھا، ساتھ میری چھوٹی سی فیملی بھی تھی، اور پہلی بار مجھے پاکستان کے خوبصورت علاقوں کا دیدار نصیب ھوا، جو کہ میں اپنے خوابوں میں بھی تصور نہیں کرسکتا تھا،!!!!!

ھمارا ملک پاکستان کتنا خوبصورت ھے، دنیا میں سیاحت سے دلچسپی رکھنے والے اس کے حسن اور خوبصورتی کی تعریفیں کرتے ھیں، اور ھم اس کے بارے میں کیا سوچتے ھیں،؟؟؟؟ محبت تو بہت کرتے ھیں لیکن عملی طور پر بے قدری کررھے ھیں،!!!!!
 

چاند بابو

محفلین
ارے واہ انکل جی میں تو سمجھا تھا کہ آپ ابھی تک تعارف سے زمرے سے نہیں نکلے لیکن یہاں تو آپ نے اچھی خاصی گلکاری شروع کر رکھی ہے۔ بہت خوب اور شکریہ
 
ارے واہ انکل جی میں تو سمجھا تھا کہ آپ ابھی تک تعارف سے زمرے سے نہیں نکلے لیکن یہاں تو آپ نے اچھی خاصی گلکاری شروع کر رکھی ہے۔ بہت خوب اور شکریہ


بہت شکریہ چاند بابو،!!!!!
یہ تو "بھولی بسری یادیں" کا دوسرا حصہ تھا، چابد بابو،!!!!!!

پہلا حصہ آپ نے پڑھا یا نہیں،؟؟؟؟؟ وہ تو شادی سے پہلے کے حیرت انگیز واقعات سے بھر پور ھے، جو آپ نے اپنی زندگی میں ایسا شاید کبھی نہیں دیکھا ھوگا، اور کبھی ھماری بے ربط شاعری کی طرف بھی تو تشریف لائیں، جہاں "کلام ارمان" آپکا انتظار کررھا ھے، اس میں آپکی اصلاح بھی چاھوں گا،!!!!!

خوش رھیں،!!!!!
 
شمشاد بھائی،
میری یہ کہانی تو بالکل ہی گمنام ہوگئی، اس پر کوئی تبصرہ بھی نظر بھی نظر نہیں آرہا ہے،!!!! نئے پڑھنے والوں کے لئے تو مشکل ہی ہوگا،!!!!
 

شمشاد

لائبریرین
میں نے تو پڑھی تھی لیکن آپ کے ترتیب وار سلسے میں خلل نہ پڑے، اس لیے یہاں تبصرہ نہیں کیا۔
 
شکریہ شمشاد جی،!!!!
میرا کہنے کا مطلب یہ تھا کہ نئے پڑھنے والوں کے لئے یہ کس طرح ممکن ہوگا کہ وہ اس کہانی کو نظروں کے سامنے دیکھ سکیں،؟؟؟؟
 
شمشاد جی،!!!!!
اب تو آپ سمجھ گئےہونگے، میں نے اس اپنی خاص خودنوشت سوانح عمری کے لئے اپنے دستخط میں بھی ربط کی نشاندھی کردی ہے، امید ہے کہ آپ ان تینوں لنکس کو کسی ایک جگہ چسپاں کردیں تو نئے پڑھنے والوں کو تلاش کرنے کے لئے کچھ آسانیاں ہوجائیں گی، اور میں بھی اس سلسلے کو مزید آگے بڑھا سکوں گا،!!! کیونکہ جب چہرہ سامنے رہتا ہے، یادیں بھی تازہ دم رہتی ہیں،!!!!!!
خوش رہیں،!!!
 

نبیل

تکنیکی معاون
بہتر یہ رہے گا کہ تبصرہ جات کو علیحدہ تھریڈ میں منتقل کر دیا جائے تاکہ اس موضوع کے تسلسل میں فرق نا پڑے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
میں نے ابھی دیکھا ہے، یہاں پر تبصروں سے متعلق تھریڈ موجود ہے۔ شمشاد بھائی سے درخواست ہے کہ وہ باقی تبصرے بھی اسی تھریڈ میں ضم کر دیں۔
 
دیکھئے وقت کا کیا پتہ چلتا ہے، کہاں پہلے زندگی کی معاشی مصروفیت نے وقت کو بالکل مقید رکھا اور اب یہ ہوا کہ معاش کی تلاش کی وجہ سے وقت ہی نہیں مل رہا،!!!!

ہر طرف قدرت کے کھیل ہیں، تمام ڈوریں تو اوپر والے نے پکڑ رکھی ہیں،اپنی زندگی کے ہر موڑ سے گزرے ہمیں تو اوپر والے کا ہی راج نظر آیا، ہرمنظر کشی کا جیسے وقت کا تعین پہلے سے ہی کررکھا ہو،!!!

اسکی ڈور سے جان چھڑانا تو بہت مشکل ہے، اپنی زندگی میں ہر قسم کی منصوبہ بندی یعنی پلانگ تو بہت کی لیکن سب بے سود ثابت ہوئیں، ہوا وہی جو اوپر والے نے چاہا، مگر جو اس نے چاہا وہی کامیاب رہا، ایک بات تو ہے کہ اسکے ہر فیصلے میں کوئی نہ کوئی مصلحت پوشیدہ رہتی ہے،!!!!!!۔۔۔۔۔۔۔
 
بھولی بسری یادیں،!!!!! دوسرا حصہ 10- نئی ملازمت کے آخری دن اور گھومنے کے آخری دور کا اختتام،!!!

میں اپنا یہ سفر اپنی زندگی میں کبھی بھی نہیں بھول سکتا، کیونکہ یہ سفر میری زندگی کا طویل ترین سفر تھا، ساتھ میری چھوٹی سی فیملی بھی تھی، اور پہلی بار مجھے پاکستان کے خوبصورت علاقوں کا دیدار نصیب ھوا، جو کہ میں اپنے خوابوں میں بھی تصور نہیں کرسکتا تھا،!!!!!

ھمارا ملک پاکستان کتنا خوبصورت ھے، دنیا میں سیاحت سے دلچسپی رکھنے والے اس کے حسن اور خوبصورتی کی تعریفیں کرتے ھیں، اور ھم اس کے بارے میں کیا سوچتے ھیں،؟؟؟؟ محبت تو بہت کرتے ھیں لیکن عملی طور پر بے قدری کررھے ھیں،!!!!!

کیا کیا کہیں کس کس پر روئیں، صرف اگر ھم اپنے بچوں پر ھی ایک سنجیدگی سے نظر ڈالیں تو خود بخود معلوم ھوجائے گا کہ ھم اپنے بچوں کو کن غلط راستوں پر ڈال رھیں ھیں،!!!!!

کل ھی میں اپنے پیارے وطن سے واپس آیا ھوں، اور سوچتا ھوں کہ ھم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دے رھے ھیں، اب تو ھم اتنی ترقی کرگئے ھیں، کہ بچے بچے کے پاس موبائل فون ھے، اور وہ اس کے ذریئے دن رات فضول باتوں اور مختلف بے کار اسکیموں میں sms کرکے اپنی زندگی کا قیمتی وقت برباد کررھے ھیں، اور ھر بچہ روزانہ تقریباً ایک ایک سو روپے کے کارڈ استعمال کرکے اپنے والدین کی محنت کی کمائی پر پانی پھیر رھا ھے، اور جہاں سے اسے رقم کی طلب میں دقت پیش آتی ھے تو ناجائز طور سے رقم حاصل کرنے کی کوشش کرتا ھے، اور ھم والدین خاموش تماشائی بنے ھوئے ھیں اور اپنے ھاتھوں سے ھی اپنی اولاد کو اپنے سامنے تباہ و برباد ھوتے ھوئے دیکھ رھیں ھیں،!!!!

جاری ہے،!!!!!
 
بھولی بسری یادیں،!!!!! دوسرا حصہ 10- نئی ملازمت کے آخری دن اور گھومنے کے آخری دور کا اختتام،!!!

میں اپنا یہ سفر اپنی زندگی میں کبھی بھی نہیں بھول سکتا، کیونکہ یہ سفر میری زندگی کا طویل ترین سفر تھا، ساتھ میری چھوٹی سی فیملی بھی تھی، اور پہلی بار مجھے پاکستان کے خوبصورت علاقوں کا دیدار نصیب ھوا، جو کہ میں اپنے خوابوں میں بھی تصور نہیں کرسکتا تھا،!!!!!

ھمارا ملک پاکستان کتنا خوبصورت ھے، دنیا میں سیاحت سے دلچسپی رکھنے والے اس کے حسن اور خوبصورتی کی تعریفیں کرتے ھیں، اور ھم اس کے بارے میں کیا سوچتے ھیں،؟؟؟؟ محبت تو بہت کرتے ھیں لیکن عملی طور پر بے قدری کررھے ھیں،!!!!!

کیا کیا کہیں کس کس پر روئیں، صرف اگر ھم اپنے بچوں پر ھی ایک سنجیدگی سے نظر ڈالیں تو خود بخود معلوم ھوجائے گا کہ ھم اپنے بچوں کو کن غلط راستوں پر ڈال رھیں ھیں،!!!!!

کل ھی میں اپنے پیارے وطن سے واپس آیا ھوں، اور سوچتا ھوں کہ ھم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دے رھے ھیں، اب تو ھم اتنی ترقی کرگئے ھیں، کہ بچے بچے کے پاس موبائل فون ھے، اور وہ اس کے ذریئے دن رات فضول باتوں اور مختلف بے کار اسکیموں میں sms کرکے اپنی زندگی کا قیمتی وقت برباد کررھے ھیں، اور ھر بچہ روزانہ تقریباً ایک ایک سو روپے کے کارڈ استعمال کرکے اپنے والدین کی محنت کی کمائی پر پانی پھیر رھا ھے، اور جہاں سے اسے رقم کی طلب میں دقت پیش آتی ھے تو ناجائز طور سے رقم حاصل کرنے کی کوشش کرتا ھے، اور ھم والدین خاموش تماشائی بنے ھوئے ھیں اور اپنے ھاتھوں سے ھی اپنی اولاد کو اپنے سامنے تباہ و برباد ھوتے ھوئے دیکھ رھیں ھیں،!!!!
 
شمشاد جی،!!!!
اگلی قسط کی تحریر پوسٹ کرتے وقت مندرجہ ذیل مسیج آرہا ہے،!!!!

ذیل کی خرابی واقع ہوئی ہے:

Please enter a message with no more than 10000 characters.
 
Top