وزن بتائیے

فاعلن ۔ متدارک
چاہتے چاہتے چاہتے چاہتے
بھائی سے بھائی کے کچھ تقاضے بھی ہیں
اس طرح رمل میں بھی اس کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔
چاہتے تھے ہم کہ تم سے عشق کی شروعات ہو
باقی استاد ہی بہتر بتاسکتے ہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
فاعلن درست ہے، وہاب کی بات بھی درست ہے۔ رمل میں ابتدا ’فاعلاتن‘ سے ہو رہی ہے۔ اور فاعلن اسی کا رکن ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
یہ بائنری سسٹم تو مجھے نہیں آتا۔ ’شبِ معراج‘ شبے معراج‘ کی طرح باندھا جائے تو ’مفاعیلن’ یا ’فعولن فعل‘
اور محض ’شب معراج‘ کی صورت ہو تو۔ ’فاعیلن÷فاعیلان‘ یا فعلن فعل، یا مفعولان
مطلب یہ نکلا کہ بغیر مصرع کے جہاں اس کا استعمال ہوا، یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کا وزن کیا ہو گا۔
 
فاعلن ، فاعلاتن ۔فاعلات
رمل اور متدارک میں استعمال ہوسکتا ہے۔ بحر مضارع میں فاعلات کی صورت میں استعمال ہوسکتا ہے۔
کارواں کے دل سے (رمل)
کارواں جب گیا (متدارک)
اور میر کارواں ہے (مضارع)
 

الف عین

لائبریرین
وہاب کی مثالیں یہ ثابت کر رہی ہیں کہ محض ایک لفظ سے یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کا کیا وزن ہو گا، کہ ایک ہی لفظ کو بھی مختلف اوزان میں باندھا جا سجتا ہے، کوئی حرف گرا کر، یا سالم۔
کارواں۔۔ کا تو ایک ہی وزن ہے: فاعلن (جو فاعلاتن کا جزو ہے، جیسے وہاب کی مثال سے واضح ہے، ’کارواں ہے‘ فاعلاتن
باندھا اور باندھنا میں نون غنہ اور ساتھ ہی ھ تقطیع نہیں ہوتی۔ اسے صرف ’بادا‘ (فعلن) یا ’بادنا‘ (یا فاعلن) باندھا جا سکتا ہے۔ اور مصرع میں پوزیشن کے حساب سے یہ دونوں الفاظ کسی بڑے کل کا بھی حصہ ہو سکتے ہیں۔
وہاب، ایک طرف تو یہ خوشی ہوئی کہ تم پھر فعال ہو گئے ہو عرصے کے بعد، اس کے علاوہ یہ بھی کہ عروض میں بھی علم رکھتے ہو جس سے میں مکمل واقف نہیں۔ یہ کئی بار کہہ چکا ہوں لیکن یار لوگوں نے استاد بنا رکھا ہے یہاں۔ میں تو محض عملی آدمی ہوں، یہ سب تھیوری بالائے طاق رکھ دیتا ہوں۔ افاعیل کی شد بد ہی عملی طور پر کافی ہے۔ بہر حال تقطیع میں بھی تم میری مدد کر سکتے ہو، کہ وارث تو آج کل محض شکریہ کا بٹن دبا کر چلے جاتے ہیں (وہ بھی آنے کی صورت میں)
 

محمد وارث

لائبریرین
پہنچا کا وزن کیا ہے؟

فعلن یا دو سببِ خفیف یا 2 2
اس میں نون غنہ کا کوئی وزن نہیں ہے لیکن جو ہ ہے وہ ہائے ہوز ہے دو چشمی ھ نہیں سو وزن رکھتی ہے۔ لہذا اسکا عروضی متن ًپہچا ً اور وزن فعلن ہے۔

دل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے
بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے
 

محمد وارث

لائبریرین
اندھیرا کا عروضی متن ً ا دیرا ً اور وزن فعولن یا 1 2 2 ہے کیونکہ اس میں نون غنہ ہے جسکا کوئی وزن نہیں اور دو چشمی ھ کا بھی کوئی وزن نہیں۔

چراغِ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے
ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ لفظ اندھے میں نون غنہ نہیں ہے بلکہ نون معلنہ ہے یعنی اس میں نون واضح بولا جاتا ہے سو اس میں نون کا وزن محسوب ہوگا۔

اس زلف پہ پھبتی شبِ دیجور کی سُوجھی
اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی

اندھے کا وزن فعلن 22 اور اندھیرے کا فعولن 221 بندھا ہے۔

اسی طرح لفظ اندھیر میں نون معلنہ ہے سو وزن رکھتا ہے

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
 

الف عین

لائبریرین
یہاں نون معلنہ ہے، چنانچہ رنگ کا وزن ’فعل‘ ہوگا،اسی حساب سے ’رنگا‘ فعو اور رنگنا ’فاعلن‘ ہوں گے۔
 

متلاشی

محفلین
جناب ان الفاظ کے وزن بتائیں ۔
تمہیں ، شہر، صِرف ، معلوم ، دوست،(اعشاری نظام کے ساتھ) شکریہ
 

محمد وارث

لائبریرین
جناب ان الفاظ کے وزن بتائیں ۔
تمہیں ، شہر، صِرف ، معلوم ، دوست،(اعشاری نظام کے ساتھ) شکریہ

تمہیں - تُ مے - فَعِل 1 2 ﴿نون غنہ کا کوئی وزن نہیں﴾ اور اسکا دوسرا وزن بھی جائز ہے جو کہ یوں ہے
تمہیں - تُ مِ فَ عِ 1 1 ﴿نون غنہ کا کوئی وزن نہیں اور ے گرا دی﴾ جیسے مومن ﴿تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو﴾

شہر - شہ، ر فاع 2 1 ﴿دوسرا حرف یعنی ہ ساکن ہے﴾

صرف - صر، ف فاع 2 1 ﴿دوسرا حرف یعنی ر ساکن ہے﴾

معلوم - مع لو م مفعول - 2 2 1

دوست - دو س - فاع 2 1 ﴿جہاں اوپر تلے تین ساکن حرف آ جائیں جیسے دوست میں واؤ، سین اور ت تینوں ساکن ہیں تو تیسرا ساکن خود بخود گر جاتا ہے یا ختم ہو جاتا ہے، عروض و تقطیع میں اس کا کوئی وزن نہیں ہوتا، اسی طرح کے دیگر الفاظ گوشت، پوست﴾
 
Top